انسان حیوانِ ناطق ہے۔ لیکن انسان جنم لیتے ہی نہیں بولتا۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ انسان تجربے اور مشاہدے سے آگے بڑھتا ہے۔ لڑکپن اور جوانی کے تجربات اسے سکھاتے ہیں۔ جو انسان سبق سیکھنا جان جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ "لفظ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے" ؛ ایسے انسان شعور کی اعلی منزلیں طے کرلیتے ہیں اور فاتح عالم بھی بن جاتے ہیں۔ یہ تحریر الفاظ کی گورکھ دھندے کو سمجھانے کی ایک کوشش ہے۔