Muhammad Asif Raza 1 year ago
Muhammad Asif Raza #events

جنگ جو نہیں ہونی چاہیے تھی؛ مگر کیوں؟

India and Pakistan came into being in 1947 after partition of British India and both the countries have been in conflict continuously since then. The two countries again again tested military muscles after Pahalgam terror attack on 22 April. India started Operation Sindoor on 7 May 2025; which was challenged by Pakistan with Operation Bunyanun Mursoos on 10 May 2025. This write up in Urdu "جنگ جو نہیں ہونی چاہیے تھی؛ مگر کیوں؟" is an opinion about the same conflict.

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

اک جنگ جو نہیں ہونی چاہیے تھی؛ مگر کیوں؟

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟

استاذالغزل مرزا اسد اللہ خان غالب نے اوپر کی شعر میں فرمایا ہے کہ ہم جس کائنات میں بستے ہیں؛ وہاں ہر فلکیاتی جسم بشمول ہماری یہ زمین گردش میں ہیں اور سب ایک دوسرے کی گرفت کئے ہوئے ہیں؛ اور اس کھیل میں صبح و شام کا سفر جاری رہتا ہے؛ اور اس سفر میں کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہی رہتا ہے؛ سو انسان ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر کیا تردد کرے؟ مگر حضرت انسان خود بھیی کسی نہ کسی قسمت کے چکر اور اپنی چالکیوں کے پھیرے میں گوندھا رہتا ہے۔ قسمت کے ایسے پھیروں اور چالکیوں کے گھن چکر میں ایک، اپنے لیے فائدہ حاصل کرنے کی دوڑ بھی ہے۔ ظلم اور استبداد کی داستان تب بنتی ہے، جب ذاتی یا قومی فائدے کی تگ و دو جنگ کے دھانے پر پہنچ جاتی ہے۔ کوئی بھی جنگ ہو؛ آخر کار ختم ہوہی جاتی ہے؛ اور بعد میں آنے والے انسان اس کی کھوج کرتے ہیں تو یہ جان کر حیران ہوجاتے ہیں کہ اس جنگ میں ’’لہوولعب‘‘ اور ’’فسق وفجور‘‘ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اس ’’لہوولعب‘‘ اور ’’فسق وفجور‘‘ کے داستان کے مرکزی کردار اپنے خول میں قید افراد تھے جن کو پاگل خانے میں ہونا چاہیے تھا مگر وہ سنگھاسن کے مقام پر فائز تھے؛ سو قوم نے بھگتا کہ صدیوں اس کی گونج جاری رہی۔ زیادہ دور نہ جائیں؛ ابھی کل ہی کی بات ہے جو جنگ عظیم اول اور دوم اس زمین نے بھگتا ہے۔

خالقِ کل نے اس زمین پر حضرتِ آدم اور نکی اولاد کو کسی اور مقصد کے لیے بھیجا تھا مگر وہ ’’لہوولعب‘‘ اور ’’فسق وفجور‘‘ میں پڑ گئے۔ حالانکہ قوت بصارت سے دیکھی جانے والی دنیا میں کای کیا خوبصورتی ہے اور ہماری اس زمین پر پہاڑ کی چوٹییاں ایک موسم میں چمکتی ہوئی برف میں ڈھکی ہوتی ہیں؛ پھر دوسرے موسم میں یہ برف پگھلتی ہے؛ چشمے بن کر نیچے بہتی ہے؛ ندی نالیوں سے بہہ کر دریا بن جاتی ہے اور سمندر کی طرف دوڑتی ہے۔ برف کے پگھلنے سے صرف چوٹی نہیں بلکہ پورا پہاڑ سامنے آجاتاہے، جنگل نظر آتے ہیں اور ہوائیں چلتی ہیں؛ اور طوفان جنم لیتے ہیں۔ چشمے گیت گاتے ہوئے وادی میں اترتے ہیں تو انکی سطح پر اچھلتے کودتے پانی کے قطرے موتیوں کی مانند انکھوں کو خیرہ کردیتی ہیں۔ ایسی ہی نظاروں کی زمین ہے، سلسلہ کوہ ہمالیہ؛ قراقرم اور ہندوکش اور جنت نظیر کشمیر؛ مگر کوتاہ بین انسانوں نے اپنی خواہشات کے بھینٹ چڑھایا ہے اس زمین کی رونق کو اور اس میں بسنے والی مخلوقات کو؛ جس میں کشمیری بھی شاممل ہیں۔

ایک سانحہ اور اس پر آگ کا آلاو

مقبوضہ کشمیر کے تفریحی مقام پہلگام میں ہونے والا واقعہ مورخہ 22 اپریل 2025 بروز منگل کی شام ہوئی واردات ایک سانحہ تھا؛ جو غیر انسانی ذہن کا اختراع تھا اور ضروری تھا کہ اس کے محرک افراد کا سراغ لگایا جاتا۔ اس دہشت گردی کے واقعہ میں 27 افراد کی ہلاکت قابل پرزور مذمت تھی اور ہر ذی شعور پر لازم تھی۔ مگر ہندوستان کی حکومت پر غالب آرایس ایس کے بغل بچے نریندر مودی اور اس کے دیگر سیوم سیوک سنگھوں کے لیے مسلمان اور پاکستان دشمنی کا ایک نادر موقع تھا؛ سو انہوں نے ایسا ہی کیا جس کی ان سے توقع تھی؛ پاکستان سے جنگ۔ یہلگام واقعہ ایک سانحہ تھا؛ اور پھر اس پر ہوا آگ کے آلاو کا بندوبست؛ نفرت کی جلتی آگ پر چھڑکاو کیا؛ تکبر اور غرور میں بسی زبانوں سے آہنکاری تیل کی بارش کی گئی۔ لگتا تھا کہ بھارت میں سانحہ پہلی دفعہ ہوا تھا؛ کیا اس سے قبل ایسی وارداتوں میں خود بھارتی تنظیم "را" اور آرآیس ایس ملوث نہِں رہی ہیں؟ مگر پہلگام واقعہ کی ساری سازش کا بہاو پاکستان کی جانب کیا گیا اور ساری دنیا اس میں بہہ گئی کہ سب ہی کی عقل ماری گئی۔ نفرت اور عناد کی آگ انسانوں کی عقل کھا جاتی ہے؛ سچ ثابت ہوا۔

اس ماہِ مئی6/7 کی رات کو بھارت نے اپنے تئیں پاکستان کے اندر دہشتگردی کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اب دنیا کے دفاعی ماہرین اس رات کی حقیقت کو جان رہے ہیں۔ اس رات کو پاکستان ائیرفورس اور انڈین ائیر فورس کے تصادم کو دنیا کی سب سے بڑی ڈاگ فائٹ مانا جا رہا ہے۔ اس رات بھارتی فضائیہ نے چھ شہروں میں معصوم پاکستانی سویلینز پر قیامت توڑی؛ مگر صرف دو ہی منٹ میں پاکستان ائیرفورس کے طیارے حرکت میں آ چکے تھے اور فضا میں خوفناک ڈاگ فائت شروع ہو چکی تھی۔ صرف 59منٹ کا اعصاب شکن معرکہ ہوا جس میں پاکستان ائیرفورس نے پانچ طیارے شکار کئے۔

الیکٹرونک وارفیئر کی بہترین منزل از تھامس کیتھ

بصری رینج کے اندر کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ ایک بھی ڈاگ فائٹ نہیں۔ ایتھر، ایویونکس بمقابلہ ایویونکس، حالات سے متعلق آگاہی بمقابلہ سنترپتی، بصارت بمقابلہ فریب میں پوری جنگ آشکار ہوئی۔ آی اے ایف انڈین ائیر فورس کے پائلٹوں نے بہادری سے پرواز کی، نظم و ضبط کے ساتھ اپنے کردار ادا کیے، اور ہر وہ چیز آزمائی جس کے لیے انھوں نے تربیت حاصل کی تھی: زمین کو گلے لگانا، زمینی بے ترتیبی کا استعمال کرتے ہوئے، جارحانہ چالبازی کو انجام دینا۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب آپ کا ریڈار بھوتوں کو دیکھتا ہے اور آپ کے میزائل اندھے ہوجاتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی "میٹیور"، "میکا "،" آر-۷۷ " کے لیے بنائی گئی تھی، نہ کہ "پی ایل- ۱۵ ای "، "اس کے " اور "اے ای ایس اے" سیکر، ڈوئل پلس موٹر، اور "ایل پی آئی" پروفائل کے ساتھ جو آپ کے "آر ڈبلیو آر" کو کبھی متحرک نہیں کرتی ہے۔ انہیں کاک پٹ میں شکست نہیں ہوئی۔ جنگ کے فن تعمیر میں انہیں شکست ہوئی۔

بھارتی مبصرین نے پائلٹ کی غلطی کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ایک چینی آفٹر ایکشن پیپر واضح تھا: ڈی اے-۲۰ برقی مقناطیسی میدان جنگ کا گمنام ہیرو تھا۔ یہ اکیلے ہی وی ایچ ایف گارڈ اور "وی او آر/ ڈی ایم ای" کو بیک وقت خالی کر سکتا تھا جبکہ براہموس میزائلوں کو کورس یعنی راستے سے دور کرنے اور ایس ۴۰۰- مداخلتوں کو کالعدم کرنے کے لیے گگن بڑھانے کے سگنلز کو دھوکہ دے سکتا تھا۔ جیمنگ جیومیٹری نے ایک ہی ہوا سے چلنے والے نوڈ کی طرف اشارہ کیا۔ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ لیکن سب نے محسوس کیا۔

مئی 7 کی جنگ نے جو بات بے دردی سے ظاہر کی وہ یہ ہے کہ فضائی طاقت اب پلیٹ فارم کی بالادستی کے بارے میں نہیں رہی۔ پی اے ایف نے کم طیارے میدان میں اتارے۔ لیکن اس نے نظریے کو میدان میں اتارا۔ اے ای ڈبلیو+سی ای سی+ ویایل آراےاےایم+ای ڈبلیو اب نظریہ یا مفروضہ نہیں ہے۔ یہ موت ہے پھانسی ہے۔ اور یانگ ژیانزی کا مقالہ اب تصدیق شدہ ہے: ایویونکس کی بالادستی ڈاگ فائٹنگ کو متروک کر دیتی ہے۔ رفتار، رینج، اسٹیلتھ، ان میں سے کوئی بھی فرق نہیں رکھتا اگر آپ دیکھ نہیں سکتے، ہم آہنگی نہیں کر سکتے، اور فرار نہیں ہو سکتے۔

ایک میزائل ایل او سی کو عبور کرنے سے پہلے جنگ ختم ہو چکی تھی۔ ہندوستان کی معیشت پاکستان سے چار گنا زیادہ ہے۔ اس کا بیڑا عددی اعتبار سے برتر ہے۔ یہ رافیل اڑتا ہے۔ یہ ہار گیا۔ کیونکہ یہ سپیکٹرم کا مالک نہیں تھا۔ کیونکہ یہ اسٹیل کو الیکٹرانک میدان جنگ میں لے آیا۔ کیونکہ خودمختاری جی ڈی پی کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ سگنل کے غلبہ کے بارے میں ہے۔

پاکستان کے نظریے کے مصنفین اس جنگ کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کریں گے کہ کلو ہرٹز میں خودمختاری محفوظ ہے۔ اس خاموشی کو ہتھیار بنایا جا سکتا ہے۔ وہ انکار، دھماکہ نہیں، مہارت کی حقیقی علامت ہے۔ نمبر 24 سکواڈرن اس صبح آخری بار اترا، ان کے انجن ہینگروں کے ساتھ نیچے گھوم رہے ہیں جو اب بھی ۱۹۶۰ ء کی دہائی کی کینبرا نوز آرٹ کے حامل ہیں۔ جب ہندوستان نے مگ- ۲۱ اڑایا تو وہ جام کر رہے تھے۔ جب رافیل اپ گریڈ ڈیسالٹ لائن سے باہر ہو جائے گا تو وہ اب بھی جام کر رہے ہوں گے۔

جنگ کیوں نہیں ہونی چاہیے؟

اوپر کی تحریر کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی فضائیہ کو یہ جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے تھی؛ مگر شاید وہ ہندوتوا کے سنگھوں کی مانند رام کی رتھ یاترا کی کہانیوں کے ماننے والے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ فضائیں انکی ہیں اور پاک فضائیہ کسی اور نگری کے شاہین تھے۔ کیا پاکستان کی مسلح افواج کمزور ہیں اور دشمن کو ناکوں چنے نہیں چبوا سکتیں؟ سنہ 2019 کے پلوامہ حادثہ کے بعد ونگ کمانڈر ابھی نندن کے جہاز کے حادثے سے سبق نہیں سیکھا گیا کہ نریندر مودی نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت تمغہ جو دےدیا تھا۔ فوجی معاملات میں سیاست کی ملاوٹ سے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ مزید جان لیا ہوگا جب پاکستان فضائیہ نے 10 مئی کی صبح بھارتی سرحدوں کو روند ڈالا۔ "آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں" مگر کیا پاکستان اور ہندوستان کی عالی دماغ کوئی سبق حاصل کریں گے؟

کیا ہم انسان یہ اقرار نہیں کرسکتے ہیں کہ جنگ ایک سنگین مسئلہ ہے؟ کیا ہم یہ بات اچھی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی؟ آج کے جدید دور میں جب بھارت اور پاکستان ایٹمی طاقت ہیں؛ کیا ہم جانتے ہیں کہ اس ماحول میں جنگ خود ایک دشمن ہے؟ اور اس میں کوئی ایک فاتح نہیں ہوسکتا؟ مگر اس کے باوجود جنگ کیوں لڑی گئی؟ کیا اس جنگ سے دہشت گردی کے مسئلے کے حل کی تلاش میں کوئی مدد ملی؟ آخر ہم کب سیکھیں گے؟ کیا امن کے راستے کا سفر ناممکن ہے؟

فلسطینی شاعر اور مصنف محمود درویش نے لکھا تھا کہ ’جنگ ختم ہو گی، لیڈر ہاتھ ملائیں گے، بزرگ خاتون اپنے شہید بیٹے کا انتظار کرے گی، دوشیزہ اپنے محبوب کے لیے سرراہ بیٹھے گی، بچے والد کو دیکھنے کے لیے ترسیں گے، مجھے نہیں معلوم میری زمین کس نے بیچی مگر مجھے معلوم ہے کہ اس کی قیمت کون چکا رہا ہے"۔

قارئین ’’لارڈ آف پلین‘‘ میں یہ کہا گیا ہے:-۔

’’کوئی نہیں جانتا ہم اپنی دوسری مہم کا آغاز کب کریں گے

ہمارے گھوڑے بوجھل ہو چکے،

ہم نڈھال ہیں،

سارا سازوسامان تیار ہے

مگر ابھی تک ہم نکل نہیں پائے ہیں۔‘‘

اختتامی کلمات

برصغیر پاک و ہند کے باسیو؛ ستارے کی چالوں کا جوتشیوں کو پتہ ہوگا؛ اور قسمت کے پھیروں سے نجومیوں کو آشنائی ہوگی؛ اور سیاست کی بساط پر دونوں دیشوں کے نیتاوں مہرے چلیں گے؛ مگر حکمران اشرافیہ کی ناعاقبت اندیشی کا خمیازہ عوام کو برداشت کرنا ہوگا۔ تو کیا حکمرانوں کے بیلٹ بکسوں کو بھر کر ایسے ہی خون آشام اندھے بھوکے نیتاوں کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھاتے رہوگے۔ ہم یہ کہہ کر سکھی نہِیں رہ سکیں گے کہ ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔ فکر کرنے کی گھڑی تو ہمارے سامنے ٹک ٹک کررہی ہے۔ کچھ تو سوچو۔ یہ دشمنی کا ناٹک کب تک چلے گا؟

0
532
Buy Edu Emails

Buy Edu Emails

1782323149.jpg
Vnj Gjb
4 minutes ago
How Iran Changed Geopolitical Dogmas?

How Iran Changed Geopolitical Dogmas?

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
56 minutes ago

Understanding the Digital Experience of Trang chu 789F: A Modern Onlin...

Introduction to Trang chu 789F In today’s rapidly evolving digital world, users are incre...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocIO--ELsve7P9jDqD0SjbksyxfSX6eoZiEzFvDQTYl165_2Ow=s96-c
abdul saboor
3 hours ago
"جولائی4، امریکی یومِ آزادی یا سلطنت کا خاتمہ"

"جولائی4، امریکی یومِ آزادی یا سلطنت کا خاتمہ"

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
3 hours ago
قوم و تہذیب کا عروج و زوال

قوم و تہذیب کا عروج و زوال

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
5 hours ago