The rise and fall of civilizations is a natural process. Civilizations flourish when they achieve excellence in unity, science, and knowledge and literature. However, when these societies succumb to decadence, injustice, and moral degradation, they decline and eventually become a part of history. This write up in Urdu "قوم و تہذیب کا عروج و زوال" is about the three Abrahamic Religions and associated nations and civilization of Judaism, Christianity and Islam.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
قوم و تہذیب کا عروج و زوال
تمام الہامی کتابیں اللہ سبحان تعالی کی جانب سے خود اسکے چنے ہوئے، منتخب شدہ نبی پیغمبر اور رسول کے ذریعے وہ احکامات ہوتے ہیں جو کسی قوم کے لیے زندگی بسر کرنے کے لیے وحی کئے جاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں تین الہامی کتابیں توریت، انجیل اور آلقرآن الحکیم اہمیت کی حامل ہیں۔ مگر یہ تاریخ اور فلسفے کی کتابیں نہیں ہیں۔ بلکہ انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی تھیں۔
قران الحکیم آخری الہامی کتاب ہے اور اللہ تعالی نے اس کتاب میں پچھلی قوموں کے ذکر کے ذریعے آنے والے وقت کے لیے تمام قوموں کو رہنمائی فراہم کردی ہے۔ پورا قرآن مختلف قوموں کے حوالہ جات سے مزین ہے۔ مگر قومِ یہود کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد قوموں (جیسے قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط وغیرہ) کا تذکرہ عبرت اور نصیحت کے لیے آیا ہے، لیکن قومِ یہود (بنی اسرائیل) کا ذکر اس لحاظ سے منفرد اور تفصیلی ہے کہ انہیں ایک طویل تاریخی تسلسل، شریعت اور مسلسل انبیاء کی نعمت سے نوازا گیا تھا۔ قرآنِ پاک میں قومِ یہود کو خاص طور پر موضوع بنانے کی چند اہم ترین وجوہات یہ ہیں:-۔
تاریخی تسلسل اور نمونہ: بنی اسرائیل کی تاریخ میں اللہ کی نعمتوں، ان کی ناشکری، عہد شکنی اور آزمائشوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ قرآن اسے بطورِ مثال پیش کرتا ہے تاکہ امتِ مسلمہ کو معلوم ہو کہ مسلسل احسانات کے باوجود اللہ کی نافرمانی کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔
توحید اور شریعت کی بنیاد: چونکہ یہود پہلے سے ہی اہل کتاب تھے (تورات کے ماننے والے) اور جزیرہ نما عرب میں آباد تھے، اس لیے قرآن نے ان کے عقائد اور طرزِ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ حق اور باطل کے درمیان واضح امتیاز کیا جا سکے۔
منصبِ امامت کی منتقلی: قرآنِ مجید اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کی بار بار کی نافرمانیوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے اب رشد و ہدایت کا منصب آخری نبی حضرت محمد ﷺ اور آپ کی امت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ قوم یہود حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام اور پوتے حضرت یعقوب / اسرائیل علیہ السلام کے بارہ [۱۲] بیٹوں کی نسل سے ہیں۔ قرآن الحکیم میں سورۃ یوسف کو پڑھیں؛ یہ قوم یہود کی ابتداء ہے؛ جو مصر میں آباد ہوگئے تھے۔ اور پھر کئی صدیوں کے بعد حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں بارہ قبیلوں میں بدل گئے تھے۔ اور اللہ تعالی نے اس قوم کے لیے الہامی کتاب توریت نازل کی تھی۔ یہ قوم کچھ عرصے بعد حضرت داود علیہ السلام کے تحت عروجِ اقتدار پر پہنچے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے تحت اوجِ کمال تک پہنچے۔ اور اس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں کیا ہے۔
سورۃ آلِ عمران " اے بنی اسرائیل؛ اے اولادِ یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی ۔ آیت 47
اور" اے بنی اسرائیل؛ اے اولادِ یعقوب؛ یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اور خاص میرا ہی ڈر رکھو" ۔ آیت 40
قومِ یہود ایک بڑی تعداد بن کر ایک موقع پر 12 قوموں اور ریاستوں میں ڈھل گئے تھے اور یوں ایک تہذیب کو جنم دے چکے تھے۔ اور پھرانکی کہانی بھی دنیا کی اور قوموں اور تہذیب کےاصول کے تحت ایک تسلسل بن گئی۔ قوموں کا عروج و زوال فطری اصولوں اور اجتماعی اعمال کے تابع ہوتا ہے۔ عروج کا راز مضبوط اخلاقی اقدار، علم و تحقیق، عدل و انصاف، اور مسلسل جدوجہد میں پوشیدہ ہے، جبکہ زوال کی وجہ اخلاقی گراوٹ، طبقاتی ناانصافی، خود غرضی، اور ماضی کی کاموں پر تکیہ کرنا بنتی ہے۔ تاریخ اور فلسفہ (خصوصاً علامہ اقبالؒ کے افکار اور مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی تعلیمات) کے مطابق، قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب وہ بدلتے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر محنت اور بصیرت سے کام لیتی ہیں۔ اس کے برعکس، جب کوئی قوم اپنی بنیادی اقدار کو ترک کر کے عیش و عشرت اور غلامیِ ذہن میں مبتلا ہو جاتی ہے، تو اس کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ معروف مفکر ابن خلدون کے فلسفۂ تاریخ کے تحت، ہر تہذیب ایک مقررہ عمر (تقریباً 120 سال یا تین نسلوں) سے گزرتی ہے۔ پہلی نسل جدوجہد سے اقتدار حاصل کرتی ہے، دوسری نسل استحکام اور خوشحالی لاتی ہے، اور تیسری نسل عیش و آرام میں پڑ کر تنزلی اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔
تاریخی طور پر، تہذیبوں کا عروج و زوال ایک قدرتی عمل ہے۔ تہذیبیں تب پروان چڑھتی ہیں جب وہ اتحاد، سائنس، اور علم و ادب میں کمال حاصل کرتی ہیں۔ تاہم، جب یہ معاشرے عیاشی، ناانصافی، اور اخلاقی پستی کا شکار ہوتے ہیں، تو ان میں زوال آجاتا ہے اور وہ بالآخر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ابن خلدون کا نظریہ (عصبیت اور زوال): نامور مسلم مؤرخ ابن خلدون نے اپنی کتاب "المقدمہ" میں تہذیبوں کے عروج و زوال کے اسباب کا سب سے پہلے سائنسی اور منطقی جائزہ پیش کیا۔ ان کے مطابق:
عصبیت: قبائلی یا اجتماعی یکجہتی اور جذبہ جو قوموں کو متحد کر کے اقتدار دلاتا ہے۔
عروج: جب یہ لوگ حکمرانی حاصل کر لیتے ہیں اور شاندار تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھتے ہیں۔
زوال: عیش و آرام میں ڈوب جانے سے عصبیت کا خاتمہ ہوتا ہے، جس سے ریاست کمزور پڑ جاتی ہے اور نئی طاقتیں ان کی جگہ لے لیتی ہیں۔
دیگر فلسفے اور اسباب:-۔
مختلف مفکرین نے تہذیبوں کے زوال کے درج ذیل بنیادی عوامل بیان کیے ہیں:-۔
اخلاقی انحطاط: دولت کی ریل پیل، اخلاقی اقدار کا خاتمہ، اور انصاف کا فقدان۔
معاشی زوال: کرپشن، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اور ٹیکسوں کا بھاری بوجھ۔
علمی جمود: جدت پسندی کو ترک کرنا اور تحقیق کی بجائے تقلید کی طرف مائل ہونا۔
بیرونی خطرات: اندرونی کمزوریوں کے باعث بیرونی حملوں کا شکار ہو جانا۔
اللہ سبحان تعالی نے قرآن الحکیم کے ذریعے بہت خوب رہنمائی کر رکھی ہے۔ ایک جگہ قوم یہود کے لیے فرمایا ہے کہ
ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ اَيۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡمَسۡكَنَةُ ۚ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ ۚ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ
"ان پر جہاں کہیں بھی یہ پائے گئے ذلت مسلط کر دی گئی، سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف سے یا لوگوں کی طرف سے کوئی معاہدہ (سہارا) حاصل ہو جائے۔ اور یہ اللہ کے غضب کے سزاوار ہوئے اور ان پر محتاجی تھوپ دی گئی۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے، اور اس لیے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے"۔
مندرجہ بالا آیت قرآن الحکیم کی سورۃ آل عمران کی آیت 112 ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سرکشی، نافرمانیوں اور ان پر نازل ہونے والے عذابِ الہی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ بحیثیت قوم، مسلسل نافرمانی کی روش اختیار کرنے کے باعث قوم یہود پر ذلت اور پستی ہمیشہ کے لیے مسلط کر دی گئی۔ انکو دوسری قوموں سے معاہدوں کا سہارا کام آئے گا۔ اس ذلت سے بچنے کی صرف دو ہی صورتیں رکھی گئیں؛ یا تو وہ دین اسلام قبول کر کے اللہ کے عہد (پناہ) میں آ جائیں، یا اسلامی ریاست کے تابع ہو کر جزیہ ادا کرنے کا معاہدہ (ذمی بننا) قبول کر لیں۔ ایک اہم بات قابلِ غور ہےکہ ان پر یہ عذاب اس لیے آیا کیونکہ انہوں نے احکامِ الہی کا انکار کیا، اللہ کے انبیاء کو ناحق شہید کیا، اور اللہ کی نافرمانی کر کے سرکشی کی حدیں پار کر لیں۔
تاریخی حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم یہود کو انکو پیغمبروں نے انکی کج روی کے باعث اللہ تعالی کی ناراضگی کا بتا دیا تھا اور ہم یہ جانتے ہیں کہ دو دفعہ انکو تاراج کیا گیا؛ ایک دفعہ بختِ نصر نےاور دوسری دفعہ رومی بادشاہ نے۔ اور آخر کے تین نبیوں حضرت ذکریا؛ یحیی اور عیسی علیہ السلام نے خبر دی تھی ؛ جو اوپر قرآن الحکیم کی سورۃ آل عمران کی آیت 112 میں بیان کیا گیا ہے۔ ان ظالموں نے اپنے تئیں ان تینوں کو قتل کردیا تھا۔ حضرت عیسی کے تقریبا" چھ سو سال بعد اللہ تعالی نے آقا کریم محمدﷺ کو مبعوث فرمایا مگر قوم یہود کی اکثریت نے ایمان لانے سے انکار کردیا؛ مقابلہ کیا اور شکست کھائی۔ لیکن دنیا میں کئی سوسال مسلم حکمرانی کے علاقوں میں محکوم بن کے امن کے ساتھ رہے ہیں۔
آج قوم یہود کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ کسی اور قوم یا تہذیب کا سہارا حاصل کریں۔ اور وہ ایسا ہی کررہے ہیں۔ آج سے تقریبا" پانچ سو سال قبل انہوں نے مغربی تہذیب کی بنیاد ڈالی جسے خدا کی ترجمانی سے الگ کیا۔ لبرل، روشن خیال اور ترقی پسند تہذیب۔ یہ یاد رہے کہ اس تہذیب کا مرکز یورپ کو بنایا جو مذہب طور پرعیسائیت کے تحت تھے اور قوم یہود کے دعوی کہ حضرت عیسی کو انہوں نے قتل کیا تھا کہ سبب دشمن تھے۔ تو سب سے پہلے انکے اندر سے مذہب کو باہر کیا تاکہ دشمنی کی بنیاد ختم ہو۔ اور پھر یورپ میں بسنے والے غیر یہودی نسل صیہوںی یہودیوں [ خضر / اشکنازی یہودی ] کو ہوا دی اور یوں ایک ریاست اسرائیل کی بنیاد ڈالی گئی۔
یہ قوم یہود اب شیطانی روح بعل کے بچاری اور دولت کے رسیا ہیں۔ اور اپنے عروج کے لیے دجال کی عبادت کے لیے راسخ ہیں۔ اور بڑی شدت سے اسکا انتظار کررہے ہیں۔ قوم یہود نسلی اور صیہونی دونوں انتے ہیں کہ انکا اصل مقابلہ قوم مسلم سے ہے؛ اس لیے وہ ہر صورت میں دنیائے اسلام کو ابتلاء اور افراتفری کا شکار رکھنا چاہتے ہیں۔ اور ایک ناجائز صیہونی یہودی ریاست اسرائیل کو قبول کروانا چاہے ہیں کہ اس کے ذریعے وہ مسلم قوم کو اپنا دوست بنالیں۔ قوم مسلم کو پتہ ہونا چاہیے کہ قرآن نے اس قوم کو اللہ کی معتوب قوم"ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ" قرار دیا ہے اور جو انکا ساتھ دیگا معتوب ہی ٹہرے گا "ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ"کا مستحق ہوگا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق ایک قدیم مشہور تہذیب "بابل و نینوا" کی تہذیب کے مرکز عراق کے قدیم شہر "اُور" سے تھا، جو دریائے فرات کے کنارے واقع تھا؛ اور اس وقت وہاں کا حکمران نمرود بن کنعان تھا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے خلاف توحید کا پرچم بلند کیا اور نمرود کے بت خانے کے بت توڑ دیے، تو نمرود نے انہیں آگ میں ڈالا تھا؛ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سےٹھنڈی اور سلامتی کا باعث بن گئی تھی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے بعد وہاں سے ہجرت کرکے یروشلم جا بسے تھے۔ قوم یہود آپ علیہ السلام کے پوتے حضرت یعقوب / اسرائیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ اور انہوں نے ایک قوم اور ایک تہذیب بنکر لیونٹ شام کے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیا تھا۔ انکی قومی تہذیبی فطرت نے جب وسیع علاقے میں خرابی پیدا کی تو پہلے ایرانی بختِ نصر اور بعد میں رومی بادشاہ نے انکو راندہ عالم بنا دیا۔ لیکن یہودی تہذیب کی موت سے پہلے انکے بطن سے عیسائیت نے جنم لیا۔
عیسائیت نے مغرب میں یونانی تہذیب کوروند ڈالا۔
یونانی تہذیب (قدیم یونان) دنیا کی قدیم ترین اور بااثر ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ اس کا آغاز تقریباً 2200 قبل مسیح میں بحیرہ روم کے علاقوں سے ہوا۔ یہ تہذیب اپنے فلسفے، جمہوریت، فنِ تعمیر، اولمپک کھیلوں اور سائنسی ایجادات کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ تقریبا" پانچ سو سال پہلے صیہونی یہودیت کے بطن سے ایک فتنہ بلند ہوا؛ اس نے مغرب میں قائم عیسائیت کو دیس نکالا دیا اور ایک خدا کے تصور کو مٹا ڈالا اور جدید روشن خیال ترقی پسند تہذیب کو رواج دیا۔ آج کی دنیا میں حکمرانی کہنے کو مغربی تہذیب کی ہے؛ مگر اصل حکمران دولت مند صیہونی یہودیت ہے۔ جو بعل بت کی روح کی شیطانی قوت کے زریعے دجال کی حکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ مغربی تہذیب دراصل دجالی تہذیب ہے اور اسلامی تہذیب کو اپنا دشمن جانتے ہیں۔
قوم مسلم کو جان لینا چاہیے کہ مقابلہ غیرمسلم، یہودی اور عیسائی سے ہے جو اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی سے الگ ریاستوں کے قائل ہیں۔ اوروہ مسلمانوں کو بھی اسی راستے پر چلانا چاہتے ہیں؛ وہ اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں؛ انکو سنی یا شیعہ سے مسئلہ نہیں ہے۔ اور اللہ تعالی نے بھی ذمہ داری امت محمدﷺ پر ڈالی ہے؛ سنی یا شیعہ پر نہیں۔ اپنا اپنا فیصلہ خود کرلیں۔
A Trusted Destination for Modern Online Gaming