An "Arif" is a true mystic of the time and space and not a matter of metaphysical flights or reclusive withdrawal; rather, it signifies—as a human being and a child of Adam—the negation of the self and the tearing away of the veils of the ego to become a champion of the Truth. Rising above the biases of his own ego, desires, and instincts, the true mystic views the universe through the light of the Creator and boldly proclaims the word of Truth in the face of earthly deities. This write up in Urdu "عارفِ زمانہ: حق کا داعی، ماورائے نفس اور ذات" is an explanation of the concept.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
عارفِ زمانہ: حق کا داعی، ماورائے نفس اور ذات
عارفِ زمانہ مابعد الطبیعاتی پرواز یا گوشہ نشینی کا نام نہیں، بلکہ یہ بحیثیت انسان اور ابنِ آدم، ذات کی نفی اور نفس کے پردوں کو چاک کر کے حق کا داعی بننے کا نام ہے۔ ایک سچا عارف اپنی انا، خواہشات اور جبلتوں کے تعصب سے بالاتر ہو کر کائنات کو خالق کے نور سے دیکھتا ہے اور زمینی خداؤں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرتا ہے۔ وہ خانقاہی جمود کو توڑ کر میدانِ عمل میں اترتا ہے، جہاں علم کی میراث اس کا ہتھیار اور نیابتِ الٰہی کا قیام اس کی منزل بنتا ہے۔ عہدے، اقتدار اور لذاتِ دنیا کی بھوک سے آزاد یہ باعمل وجود جب میدانِ سیاست و حکمرانی میں قدم رکھتا ہے، تو مظلوم کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے قوم کے لیے اپنی ذات کی قربانی پیش کر دیتا ہے۔ اور ایک عام شہری کے لیے اتنا عرفان ضروری ہے کہ وہ جس بھی ملک کا باسی ہو اچھا شہری ہو۔ زیرِ نظر مضمون تاریخِ عالم سے لے کر دورِ حاضر کے سیاسی و حکومتی نظام تک اسی مصلحانہ اور مجاہدانہ عارفانہ کردار کا احاطہ کرتا ہے۔
عام طور پر 'عارف' کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک ایسے شخص کا خاکہ ابھرتا ہے جو مابعد الطبیعاتی دنیا کے اسرار و رموز جانتا ہو یا جس کے پاس کوئی مافوق الفطرت قوت ہو۔ لیکن صوفیانہ فکر میں عارف وہ نہیں جو باطنی آنکھ سے وہ کچھ دیکھے جو عام نظر نہیں دیکھ سکتی۔ صوفیانہ فکر میں "باطنی آنکھ" (بصیرت) کا مطلب ایسی انوکھی چیزیں دیکھنا نہیں ہے جو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ اس کا حقیقی تعلق کائنات اور زندگی کی سچائی کو اس طرح دیکھنے سے ہے کہ ’نفس‘ (انسانی انا یا خواہشات کا مجموعہ) اس منظر کو مسخ نہ کرے۔ بالفاظِ دیگر، حقیقت کو کسی بھی ذاتی ملاوٹ، تعصب اور پسند و ناپسند کے بغیر، اس کی اصل شکل میں دیکھ لینے کا نام ہی معرفت ہے۔
قلب اور بصیرت: ادراک کا اصل مرکز
صوفیاء بصیرت (باطنی ادراک) کا تعلق ’قلب‘ یعنی روحانی دل سے جوڑتے ہیں۔ تصوف میں دل کو محض جذبات اور احساسات کا مرکز نہیں مانا گیا، بلکہ اسے عقل و ادراک اور سمجھ بوجھ کی ایک اعلیٰ صلاحیت سمجھا جاتا ہے۔ یہ دل ایک ایسا لطیفہ ہے جو روحانی مشقوں اور ذکر و فکر سے بالکل شفاف ہو سکتا ہے۔ تاہم، انسانی وجود میں موجود اخلاقی برائیاں جیسے تکبر، حسد، غصہ اور دنیاوی لگاؤ اسے دھندلا دیتے ہیں۔ جب دل دھندلا جائے تو بصیرت ختم ہو جاتی ہے اور انسان ظواہر کے دھوکے میں آ جاتا ہے۔
نفس کی حقیقت اور حقیقت کا بگاڑ
’نفس‘ محض ایک لفظی ’انا‘ (ایگو) سے کہیں بڑھ کر ایک زندہ اور متحرک حقیقت ہے۔ یہ انسان کی وہ بنیادی ذات ہے جو اپنی بے لگام خواہشات، اندھی جبلتوں اور محرکات (امپلسز) کے ساتھ ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔ نفس کی یہ کیفیت نہ صرف انسان کے رویے کو تشکیل دیتی ہے بلکہ حقیقت کے بارے میں اس کی عقل اور سمجھ بوجھ کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ نفس کے غلبے کی وجہ سے کسی کی مخلصانہ نصیحت بھی انسان کو اپنی توہین محسوس ہو سکتی ہے؛ کسی دوسرے کی کامیابی، اپنی ذات کا نقصان اور محرومی لگنے لگتی ہے؛ اور نفسانی خواہش کسی صریحاً غلط اور نقصان دہ چیز کو بھی عقل کے سامنے معقول اور جائز بنا کر پیش کر دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صوفیاء ’تزکیہ نفس‘ (ذات کی پاکیزگی) اور ’محاسبہ‘ (ایمانداری سے اپنا احتساب کرنے) پر سب سے زیادہ زور دیتے ہیں۔ ایک سچا متلاشیِ حق اپنے ہر ردعمل پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے، ٹھہر کر یہ سوال کرتا ہے کہ کسی کی بات یا عمل نے اس کے دل پر اتنا گہرا اثر کیوں کیا؟ یہ ردعمل اس کی اپنی ذاتی کیفیت اور بیماری کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟ صوفیانہ ادب میں اکثر دل کا موازنہ آئینے سے کیا جاتا ہے۔ تکبر، حسد اور مادی لگاؤ دل کی سطح کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اس میں نظر آنے والے کائناتی عکس کو مسخ کر دیتے ہیں۔ لہٰذا، روحانی مشق کا مقصد صرف کتابی علم حاصل کرنا نہیں، بلکہ ان باطنی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو صاف اور شفاف ادراک کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔
علم سے بصیرت تک کا سفر
محض معلومات اکٹھی کر لینے سے انسان بدل نہیں جاتا۔ آپ یہ جانتے ہوئے بھی متکبر ہو سکتے ہیں کہ تکبر غلط اور گناہ ہے۔ آپ صبر کا پورا مفہوم اور اس کے فضائل سمجھتے ہوئے بھی، وقت آنے پر غصے کے زیرِ اثر آ سکتے ہیں۔ علم اس وقت ’بصیرت‘ بنتا ہے جب وہ دماغ کی سطح سے نکل کر دل کی گہرائیوں میں اتر جائے اور انسان کے نقطہ نظر اور کردار کو یکسر بدل دے۔ اس مرحلے پر متلاشی بالآخر نہ صرف یہ دیکھنا سیکھتا ہے کہ باہر کیا واقعہ پیش آیا، بلکہ وہ گہرائی میں جا کر اس شخص (یعنی خود اپنے نفس) کا بھی جائزہ لیتا ہے جس پر وہ کیفیت گزری۔ اس باطنی بیداری کے بعد کسی دوسرے کی کامیابی انسان کے اندر چھپے حسد کو بے نقاب کر دیتی ہے، کسی کی تنقید اس کے اپنے تکبر کو ظاہر کر دیتی ہے، اور مسلسل تعریف کی خواہش شہرت یا دنیاوی پذیرائی سے گہرے لگاؤ کو طشت از بام کر دیتی ہے۔
ایک عارف محض ایک مجرد روحانی فکر یا خیالی دنیا کا حامل نہیں ہوتا، بلکہ وہ عمل کے میدان میں ایک مجاہدانہ اور انقلابی کردار کا مظاہرہ بھی کرتا ہے۔ تصوف کا اصل حسن یہ ہے کہ عارف 'صوفیِ باعمل' ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کائناتی نظام میں انسان کو "خلیفہ فی الارض" (زمین پر اللہ کا نائب) بنایا گیا ہے۔ ایک عام انسان شاید اس منصب کی بھاری ذمہ داری سے غافل ہو، لیکن ایک عارف اس عظیم مقام کو پوری طرح پہچانتا ہے اور اس کے لیے جدوجہد کی راہ میں رہتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ زمین پر عدل و انصاف کا قیام، انسانیت کی خدمت اور رب کے نظام کی پاسداری اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آرام پسندی چھوڑ کر وہ عملی میدان میں اترتا ہے، جہاں اس کی جدوجہد کے مختلف انداز ہو سکتے ہیں۔ کچھ عارفین عملی سیاست اور نظامِ حکومت کا حصہ بن کر معاشرے میں عدل و انصاف کی بنیادیں استوار کرتے ہیں، اور کچھ عارفین میدانِ علم، دانش اور فکر کے شہسوار بنتے ہیں، جو اپنی تحریروں، تقریروں اور فکری رہنمائی سے انسانوں کے دلوں اور دماغوں کو روشن کرتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کے اندر شہرت، عہدے، اقتدار اور لذاتِ دنیا کی بھوک کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ منصب حاصل تو کرتے ہیں، لیکن اس کی حرص نہیں رکھتے۔ وہ دنیا میں رہتے ہیں، لیکن دنیا کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیتے۔ ان کی سیاست، ان کا علم اور ان کی خطابت ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف رضائے الٰہی اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہوتی ہے۔
جب عارف خدا کے نور سے دیکھتا ہے، تو یہ وہ واردات ہوتی ہے جو اس کے تقاضوں کے مطابق قلب پر وارد ہوتی ہے۔ تاریخِ عالم میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں معرفت اور مجاہدانہ عمل یکجا نظر آتے ہیں:۔
۱۔ قبل از اسلام کی مثالیں:
• حمورابی کا قانون (کوڈ آف حمورابی): اسلام سے قبل بابل کے اس بادشاہ کا قانون انسانِ عارف کا کمال معلوم ہوتا ہے۔ اس نے اپنے قوانین کو اپنی انا یا بادشاہت کے تکبر کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے انصاف کے الٰہی نور سے منسوب کر کے کمزوروں، یتیموں اور مظلوموں کو تحفظ دیا۔
• گوتم بدھ : انہوں نے محل کے عیش و آرام اور سلطنت کے عہدے کی بھوک کو یکسر رد کر دیا۔ شدید باطنی مشقت کے بعد جب انہوں نے جان لیا کہ انسانی دکھوں کا سبب "خواہشاتِ نفس" ہیں، تو وہ میدانِ عمل میں آئے اور اپنی پوری زندگی انسانوں کو نفسانی غلامی سے نجات دلانے کے لیے وقف کر دی۔
• سقراط : یونان کا یہ عظیم مفکر جس نے اپنے باطنی الہام کے تابع ہو کر وقت کے مقتدر طبقے کے سامنے حق بات کہی اور سچائی کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا، لیکن اپنی بصیرت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
۲۔ بعد از اسلام اور تاریخِ برصغیر کی مثالیں:-۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ: برصغیر پاک و ہند میں معرفت اور تعلیماتِ تصوف کی سب سے مضبوط اور اولین بنیاد آپ کی ذات ہے۔ آپ نے اپنی معرکہ الآراء تصنیف کشف المحجوب کے ذریعے امت کو یہ سکھایا کہ حقیقی تصوف شریعت کا پابند اور نفسانی خواہشات کی نفی کا نام ہے۔ آپ کا عملی کردار علم اور معرفت کا ایک ایسا مرکز بنا جس نے خطے کے لاکھوں انسانوں کے دلوں کے آئینے کو صاف کر کے انہیں سچائی کی راہ دکھائی۔۔
امام غزالیؒ: جنہوں نے فکری انتشار کے دور میں برسوں تزکیہ نفس کیا اور جب دل کا آئینہ صاف ہو گیا تو میدانِ علم و دانش کے ایسے شہسوار بن کر لوٹے جنہوں نے امت کا رخ بدل دیا۔مجدد الف ثانیؒ: جنہوں نے دربارِ اکبری کے کفر و تکبر کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور عملی سیاست کے ذریعے پورے مغل نظامِ حکومت کا رخ موڑ کر دینِ حق کی اساس کا تحفظ کیا۔۔
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ: مٹی کی خوشبو اور باطنی بصیرت کا حسین امتزاج، جنہوں نے سندھ کی دھرتی سے اپنی شاعری اور کردار کے ذریعے یہ درس دیا کہ خدا کی تلاش دراصل اپنی انا کو مٹانے اور انسانیت سے محبت کرنے میں ہے۔ ان کا کلام انسان کو مادی لگاؤ سے آزاد کر کے باطنی بیداری کی دعوت دیتا ہے۔۔
بابا بلھے شاہؒ: نفس اور سماجی منافقت پر سب سے کاری ضرب لگانے والے عارف۔ انہوں نے اپنے کلام "بلھا کیہ جاناں میں کون" کے ذریعے انسان کو اس کی ظاہری اور نسبی انا (ایگو) سے ماورا کر کے خالص سچائی کو دیکھنا سکھایا۔ وہ مصلحتوں اور سماجی تکبر سے بے نیاز ہو کر سچے حق کے داعی بنے۔۔
سچل سرمستؒ: "سچ کی آواز" بنے والے یہ عارفِ زمانہ انسان کو وہ باطنی آنکھ عطا کرتے ہیں جہاں تمام بیرونی تفریقیں مٹ جاتی ہیں اور صرف حق کا جلوہ نظر آتا ہے۔ ان کی تعلیمات نفسانی بتوں کو توڑ کر انسان کو ذات کی قربانی پر آمادہ کرتی ہیں۔۔
امیر عبدالقادر الجزائریؒ اور شیخ شاملؒ: جنہوں نے استعمار کے خلاف عملی جہاد کی قیادت کی۔ یہ وہ عارف تھے جو راتوں کو مصلوں پر روتے اور دنوں کو گھوڑوں کی پیٹھ پر حق کا دفاع کرتے تھے۔۔
علامہ محمد اقبالؒ: بیسویں صدی کے مفکرِ عارف، جنہوں نے دل کی باطنی آنکھ سے مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن کو دیکھا۔ انہوں نے "فلسفۂ خودی" کے ذریعے بتایا کہ انسان زمین پر خدا کا نائب ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ: جنہوں نے علم اور فکر کے میدان میں اسلام کو ایک مکمل باعمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا اور "خلافتِ ارضی" کے قرآنی تصور کو زندہ کیا۔۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ: قرآن کی بصیرت اور عملِ پیہم کا ایک شاندار استعارہ، جن کا پورا وجود امتِ مسلمہ کے باطنی تزکیے اور خلافت کے قیام کی تڑپ میں گزرا۔۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ: اگر ہم تصوف کی اس تعریف پر غور کریں—یعنی "انا اور نفس کی بھوک سے مکمل آزادی"—تو قائد اعظمؒ اس صدی کے سب سے بڑے باعمل سیاسی عارف ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذات کو کروڑوں مسلمانوں کے مستقبل کے لیے فنا کر دیا اور ایک ایسی مملکتِ خدا داد (پاکستان) کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ہی نیابتِ الٰہی کے اصولوں کے مطابق نظام چلانا تھا۔۔
میدانِ حکمرانی میں عارف ایک ایسا مصلح ہوتا ہے جس کی نظر صرف مادی ترقی یا جغرافیائی حدود پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ انسانوں کی باطنی اور اخلاقی فلاح کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ وہ اقتدار کو طاقت کا سرچشمہ نہیں، بلکہ ایک بھاری امانت سمجھتا ہے۔ آج کے جدید دور میں، جہاں سیاست کو خود غرضی کا کھیل سمجھا جاتا ہے، ایک عام سیاسی ورکر بھی عارف ہو سکتا ہے۔
تاہم، جب ایک عام سیاسی ورکر اس عارفانہ راستے پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے اور ایک ایسے نظام کی تلاش اور انتظام میں نکلتا ہے جو نیابتِ الٰہی کے مطابق ہو، تو عملی دنیا میں اسے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے:-.
1. ذات کی نفی: اسے ہر قدم پر اپنی انا، جلبِ منفعت اور شہرت کی بھوک کو کچلنا پڑتا ہے۔ جب اسے پیچھے دھکیلا جائے یا تنقید کا نشانہ بنایا جائے، تو اس کا نفس مسخ شدہ ردعمل دینے کے بجائے خاموشی اور صبر سے اپنے اندرونی عیوب کا محاسبہ کرتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو مقصد کے سامنے فنا کر دیتا ہے۔
2. علم کی میراث کو اپنانا: وہ اندھی تقلید یا جذباتی نعرے بازی کے بجائے گہرے فکری مطالعے، تاریخ اور آفاقی اصولوں سے اپنی بصیرت کو جلا بخشتا ہے تاکہ حق اور باطل کے باریک فرق کو پہچان سکے۔
3. قوم کے لیے قربانی: وہ الیکشن جیتنے یا ہارنے سے مایوس نہیں ہوتا، بلکہ ایک مثالی نظامِ عدل کے قیام کے لیے اپنی جوانی، اپنے وسائل اور بعض اوقات اپنی جان تک قوم کی فلاح کے لیے قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اس کی یہ قربانی کسی دنیاوی صلے کے لیے نہیں، بلکہ رب کے حضور سرخرو ہونے کے لیے ہوتی ہے۔
۳۔ عالمِ اسلام کی جدید باعمل مثال: ایران کا سیاسی نظام اور رہبری
اگر آج کے دور میں کسی ایسی سیاسی و حکومتی مثال کو دیکھنا ہو جہاں صوفیانہ فکری اساس (عرفان) کو ایک مکمل ریاستی اور سیاسی نظام میں ڈھالا گیا ہو، تو وہ ایران کا نظامِ حکومت اور وہاں کے سپریم قائد آیت اللہ علی خامنہ ای کی مثال ہے۔
• نظامِ ولایتِ فقیہ اور نیابتِ الٰہی: ایران کا سیاسی ڈھانچہ "ولایتِ فقیہ" کے اس تصور پر قائم ہے جہاں ملک کی حتمی رہنمائی ایک ایسے فقیہ (عالمِ دین) کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو نہ صرف شریعت اور علم کا شہسوار ہو، بلکہ اس کا زہد، تقویٰ اور نفس کا تزکیہ اسے دنیاوی لذات سے بے نیاز کر چکا ہو۔ یہ نظام خلافتِ ارضی اور نیابتِ الٰہی کے انتظام کی ایک معاصر کوشش معلوم ہوتا ہے۔
• عارفِ زمانہ حکمران کی استقامت: سپریم قائد کی زندگی عالمی استعماری طاقتوں کے معاشی اور سیاسی محاصرے کے باوجود اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹے رہنے کا نام ہے۔ ایک عارفِ باعمل کی طرح، ان کی پہچان مادی جاہ و جلال، محلات یا ذاتی شہرت کی بھوک سے آزادی ہے۔ انہوں نے عالمی مصلحتوں کو رد کرتے ہوئے مظلومینِ جہاں کی حمایت کی اور یہ ثابت کیا کہ جب سچی معرفت اور ذات کی نفی میدانِ سیاست میں یکجا ہو جائیں، تو انسان دنیاوی خوف سے ماورا ہو کر صرف حق کا داعی بن جاتا ہے۔
تصوف اور بصیرت کا مقصد کسی پوشیدہ، پراسرار دنیا کی سیر کرنا یا کوئی مافوق الفطرت صلاحیت حاصل کرنا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اصل مقصد دل کو اتنا پاکیزہ، صاف اور مصفا بنانا ہے کہ انسان کائنات کو، دوسرے لوگوں کو اور خود اپنی ذات کو کم سے کم مسخ شدہ صورت میں دیکھ سکے—یعنی بالکل ویسا دیکھ سکے جیسی کہ وہ حقیقت میں ہیں۔ باطنی آنکھ کسی دوسرے کو دیکھنے سے پہلے، سب سے پہلے انسان کو اپنی ذات کا عیب دکھاتی ہے، اور پھر اسے "خلیفہ فی الارض" کے منصب پر کھڑا کر کے ایک باعمل مجاہد بنا دیتی ہے۔۔
اس پورے فلسفے کا سب سے اہم اور عملی رخ یہ ہے کہ ایک عام شہری کے لیے بھی اتنا عرفان ہونا ضروری ہے کہ وہ جس بھی ملک کا باسی ہو، وہاں کا ایک اچھا، ایماندار اور ذمہ دار شہری ثابت ہو۔ وہ اپنے نفس کی خود غرضی سے ماورا ہو کر قانون کی پاسداری کرے اور معاشرتی خیر کا سبب بنے۔۔
بالخصوص، پاکستان کے عام شہری کو اتنا عارف ضرور بننا چاہیے کہ وہ اپنے اسلاف کی روحانی اور فکری جڑوں سے کٹ نہ جائے؛ وہ سچل سرمست، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور بابا بلھے شاہ کی تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہ ہو اور ان پر عملی طور پر پیرا ہو۔ جب پاکستان کا عام شہری ان صوفیائے کرام کے سکھائے ہوئے درسِ محبت، رواداری، ذات کی نفی، اور حق پسندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے گا، تو معاشرے سے نفرت، تعصب اور کرپشن کا خاتمہ خود بخود ہو جائے گا۔۔ کیونکہ ہر مسلمان کو ایک عارف ہونا چاہیے اور رسولِ آخر آقا محمدﷺ کا عاشق و غلام ہونا چاہیے۔
جو علم اور بصیرت انسان کو ذات کی نفی کرنے، علم کی میراث کو اپنانے، قوم کے لیے قربانی دینے اور ایک بہترین باعمل شہری بننے پر آمادہ نہ کرے، وہ تصوف نہیں بلکہ محض ایک ذہنی عیاشی ہے۔ اور اس ملک کے شہری بھی محض ایک ہجوم تو کہلائے جاسکتے ہیں؛ قوم نہیں بن سکتے۔
Modern Biomass Station Upgrades for Reliable Power Generation