Muhammad Asif Raza 1 month ago
Muhammad Asif Raza #education

سیال سونا اگلتی ریت میں روحِ امت دفن

The modern architecture of the Middle East—specifically the rise of the House of Saud—is frequently presented as a tale of tribal grit and religious revival. This encapsulates the entire saga of a land where profound sanctity and the sovereignty of the Ummah were bartered away for the lust for oil and reliance on foreign crutches. This fictional story "سیال سونا اگلتی ریت میں روحِ امت دفن" is a symbolic piece of imagery that refers to the discovery of oil (liquid gold) in the Middle East and its profound, sometimes corrupting, impact on the Islamic world (the Ummah).

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


سیال سونا اگلتی ریت میں روحِ امت دفن


"سیال سونا اگلتی ریت میں روحِ امت دفن ہوئی" پچھلی صدی میں عرب سرزمین کی پوری سو سالہ داستان کا نچوڑ ہے، جہاں تیل (سیال سونے) کی ہوس اور غیر ملکی بیساکھیوں کے بدلے ایک عظیم خطے کے تقدس اور امت کی خود مختاری کا سودا کر دیا گیا۔ یہ تمثیلی کہانی حجازِ مقدس میں ابن سعود کی حکومت کے قیام، برطانوی اور امریکی تعلقات، آرامکو کی بنیاد، اور خطے میں تیل کی تجارت کے تاریخی پس منظر پرلکھی گئی ہے۔


سرخ ریت اور خونِ تمنا (۱۹۱۵)

ریاض کے جنوب میں پھیلی لامتناہی ریت پر شام کا تانبے جیسا سایہ پھیل رہا تھا۔ خشک ہوائیں خیموں کے پردوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سا نوحہ پیدا کر رہی تھیں۔ کیپٹن ولیم شیکسپیئر نے اپنی بائیں آنکھ بند کی اور اپنے بھاری کیمرے کے لینز کو گھمایا۔ سامنے لکڑی کی ایک پرانی کرسی پر عبدالعزیز بن سعود بیٹھے تھے—چہرے پر صحرائی دھوپ کی سختی، آنکھوں میں نجد پر حکمرانی کا گہرا خواب اور کندھے پر دھرے ہاتھ میں ایک پرانی خاندانی تلوار۔

کیپٹن نے کلک کیا۔ ایک چمک اٹھی، اور ریت کے اس گمنام قبائلی سردار کا عکس تاریخ کے کاغذ پر ہمیشہ کے لیے قید ہو گیا۔


"ولیم،" ابن سعود نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنے طویل قامت وجود کو سیدھا کیا۔ "تمہارا یہ جادو میرا عکس تو لے سکتا ہے، لیکن میرے دل میں ابلتے ہوئے اس لاوے کو نہیں دکھا سکتا جو میں عثمانیوں کے خلاف پال رہا ہوں"۔۔


شیکسپیئر نے مسکرا کر اپنی فوجی ٹوپی اتاری اور ابن سعود کے برابر آ کھڑا ہوا۔ دو مختلف دنیاؤں کے مرد، جنہیں خون کے رشتے کے بغیر صحرا کی تنہائی نے بھائی بنا دیا تھا۔ "امیر! لندن کو آپ کی تصویر نہیں، آپ کا عزم چاہیے۔ اور میں نے اپنے حکام کو بتا دیا ہے کہ جزیرہ نما عرب کا اصل والی کون ہے"۔۔

چوبیس جنوری ۱۹۱۵ کی وہ صبح بہت سرد تھی۔ جراب کے مقام پر عثمانیوں کے وفادار آلِ رشید کے اونٹ سوار اندھیارے کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ شیکسپیئر برطانوی وردی میں ملبوس، ابن سعود کے سپاہیوں کے ساتھ توپ خانے کی نگرانی کر رہے تھے۔

"۔۔۔ "ولیم! پیچھے ہٹو!" ابن سعود نے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے چیخ کر کہا

لیکن انگریز کیپٹن کے خون میں سلطنتِ برطانیہ کا غرور تھا۔ اگلی ہی سیکنڈ، ریت کے طوفان کو چیرتی ہوئی ایک گولی آئی اور شیکسپیئر کے سینے میں پیوست ہو گئی۔ جب وہ ریت پر گرے، تو ان کی آخری نظر ابن سعود کے چہرے پر پڑی۔ سلطنت کا بانی رو رہا تھا، اور سلطنت کا معمار صحرا کی سرخ ریت میں جذب ہو رہا تھا۔ عمر صرف چھتیس برس تھی۔


دارین کی رسید

شیکسپیئر مر گیا، لیکن لندن کی ضرورت نہیں مری۔ دنیا پہلی جنگ عظیم کی آگ میں جل رہی تھی اور عثمانی سلطنت کو اندر سے توڑنا برطانوی تاج کی اولین ترجیح تھی۔

مورخہ ۲۶ دسمبر ۱۹۱۵ کی سرد رات کو خلیجِ فارس کے ساحل پر ’معاہدہِ دارین‘ کی میز سجائی گئی۔ برطانوی پولیٹیکل افسر نے ایک طویل کاغذ ابن سعود کے سامنے بڑھایا۔

"امیر عبدالعزیز، اس پر دستخط کیجیے۔ اس کے بعد نجد، الاحساء، قطیف اور جبیل آپ کے ہیں۔ اور بدلے میں پانچ ہزار پاؤنڈ ماہانہ کا یہ وظیفہ، جدید رائفلیں اور لندن کا تحفظ بھی"۔۔

ابن سعود نے قلم ہاتھ میں لیا۔ ان کے ذہن میں شیکسپیئر کا ہنستا ہوا چہرہ گھوما۔ انہوں نے ایک پل کو سوچا: کیا اقتدار کی قیمت کسی دوست کا خون اور ایک غیر ملکی وظیفہ ہے؟

مگر تاریخ جذبات سے نہیں، ضرورتوں سے لکھی جاتی ہے۔ قلم چلا، سیاہی بکھری، اور آلِ سعود عالمی نقشے پر ابھر آئی۔ برطانوی سونا اور برطانوی بندوقیں اب ابن سعود کا مقدر بن چکی تھیں۔


جیک کا ظہور اور ریت کا خزانہ (۱۹۳۰)

کچھ ہی برس بیتے تھے کہ صحرا پھر ویران نہیں رہا تھا، وہاں بارود اور فتوحات کی بو تھی۔ ابن سعود اب نجد سے نکل کر ایک بڑی طاقت بن رہے تھے، لیکن برطانیہ کا وظیفہ ان کی گردن کا طوق بنتا جا رہا تھا۔

تب ۱۹۱۷ میں ایک اور انگریز دربار میں داخل ہوا۔ ہیری سینٹ جان فلبی۔ عرف ’جیک‘۔ لیکن وہ شیکسپیئر جیسا جذباتی مہم جو نہیں تھا۔ وہ برف کی طرح سرد اور لومڑی کی طرح تیز تھا۔مسلمان بن کر دھوکہ دینا کتنا آسان اور آزمودہ نسخہ تھا۔ اسلامی تاریخ میں اس مکارانہ حربے کو بار بار آزمایا گیا اور کمال تو یہ ہے کہ ہر بار ہی یہ کامیاب ہوا۔ دھن کی طلب اور عیاشی کا خواب انسان کو کیسے اندھا کر دیتا ہے؛ یہ عبرت کا وہ تماشا ہے جو تاریخ کے چوک پر بار بار دکھتا ہے۔ آقا کریم محمد مصطفیٰ ﷺ نے چودہ سو سال پہلے سچ فرمایا تھا کہ: "میری امت کا فتنہ مال ہے"۔

لیکن لذاتِ دنیا اور اقتدار کے نشے میں مگن حکمران کب ان نبویؐ تنبیہات پر دھیان دیتے ہیں؟


سنہ ۱۹۳۰ کی ایک شام، فلبی نے شاہی مسجد کے صحن میں روایتی منافقت کے ساتھ سر جھکایا، زبان سے کلمہ پڑھا اور وہ ’شیخ عبداللہ‘ بن گیا۔ نجد کے سادہ لوح بدو اور عیاشی کے خواب دیکھتے درباری اس کے اس بہروپ پر نہ صرف یقین کر بیٹھے بلکہ اسے تقدس کا درجہ دے دیا۔ وہ بادشاہ کے اتنے قریب ہو گیا کہ اب دربار کے اہم ترین فیصلے اور سلطنت کی تقدیر اسی کے کان میں سرگوشی سے طے ہوتی تھی۔


ایک تپتی ہوئی دوپہر، طائف کے پہاڑی راستوں پر گرم ہوا کے تھپیڑے کار کی باڈی سے ٹکرا رہے تھے۔ ۱۹۳۰ کی دہائی کی وہ بھاری امریکی کار دھیرے دھیرے بلندی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کار کے اندر ایک سرد، خاموش اور سنسنی خیز تناؤ پھیلا ہوا تھا۔

پچھلی نشست پر شاہ عبدالعزیز بن سعود براجمان تھے، جن کی پیشانی پر اقتدار کا بوجھ واضح تھا۔ ان کے بالکل ساتھ ہیری سینٹ جان فلبی روایتی عربی چغہ پہنے، اپنی عینک کو درست کرتے ہوئے بیٹھے تھے۔

ابن سعود: (ایک گہری اور تھکی ہوئی سانس لیتے ہوئے) "عبداللہ... نجد کی ریت اب ہم سے قربانی مانگ رہی ہے۔ قبائل کو خاموش رکھنے کے لیے سونا چاہیے، اور انگریز اب اپنے پاؤنڈز کی تھیلیوں پر سانپ بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ دارین کا وہ معاہدہ اب ایک قید خانہ لگتا ہے"۔۔

فلبی: (بادشاہ کی طرف جھکتے ہوئے) "یا جلالۃ الملک... لندن اب وہ سلطنت نہیں رہا جو کیپٹن شیکسپیئر کے دور میں تھا۔ وہ بوڑھا ہو چکا ہے۔ وہ آپ کو صرف اتنا ہی وظیفہ دیں گے جتنے میں آپ ان کے محتاج رہیں۔ وہ نجد کو ہمیشہ ایک بھوکا اور پیاسا صحرا دیکھنا چاہتے ہیں"۔۔

ابن سعود: (اپنی عقابی آنکھیں فلبی پر ٹکا دیتے ہیں) "تم ایک انگریز ہو کر اپنے ہی تاج کے خلاف بول رہے ہو؟ شیکسپیئر نے میرے لیے جان دی تھی، اور تم مجھے میرے ہی محسنوں سے بدگمان کر رہے ہو؟"

فلبی: (چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ لاتے ہوئے) "میں اب ولیم شیکسپیئر نہیں ہوں، عالی جاہ۔ میں نے اس صحرا کا نمک کھایا ہے، میں اب شیخ عبداللہ ہوں۔ شیکسپیئر ایک سپاہی تھا، وہ جذبات کی زبان سمجھتا تھا۔ میں ایک مدبر ہوں، میں زمین کی زبان سمجھتا ہوں... اور یہ زمین آپ سے کچھ کہہ رہی ہے"۔۔

فلبی: (کھڑکی سے باہر اس بنجر، خشک زمین کی طرف اشارہ کرتے ہیں) "آپ زمین میں دفن اس خزانے کے اوپر سو رہے ہیں، عالی جاہ، جو دنیا کی سلطنتوں کو خرید سکتا ہے۔ اس ریت کے نیچے پٹرولیم کا ایک ایسا سمندر ہے، جس کی تپش لندن کے محلوں کو پگھلا سکتی ہے۔ یعنی تیل۔ کالا سونا"۔۔

ابن سعود: (مایوسی سے ہنستے ہوئے) "پانی؟ یہاں پینے کو پانی نہیں ملتا، عبداللہ۔ انگریز ماہرین نے پوری ریت چھان ماری ہے، وہ کہتے ہیں یہاں سوائے کھجور کے درختوں اور بدوؤں کے کچھ نہیں ہے"۔۔

فلبی: (آواز کو سرگوشی میں بدل دیتے ہیں) "انگریز جھوٹ بولتے ہیں! وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہاں تیل نکال لیا، تو آلِ سعود ان کے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ وہ آپ کو بھکاری رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن سمندر پار ایک نیا آقا جاگ رہا ہے... امریکی۔ ان کی کمپنیوں کے پاس وہ ٹیکنالوجی ہے جو اس ریت کا سینہ چاک کر کے کالا سونا نکال سکتی ہے۔"

ابن سعود: (فکر مند ہو کر) "اگر میں نے امریکیوں کو دعوت دی، تو لندن اسے اپنی غداری سمجھے گا"۔۔۔

فلبی: (انتہائی فیصلہ کن انداز میں) "جب امریکی ڈالر یہاں بہنا شروع ہوں گے، تو برطانوی پاؤنڈ کی حیثیت ایک ردی کے کاغذ جیسی رہ جائے گی۔ عالی جاہ، سودا بدلیے۔ لندن کے بوڑھے سفیروں کو ان کی رسیدیں واپس کیجیے اور واشنگٹن کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ تاریخ ان کا ساتھ دیتی ہے جو وقت پر اپنے آقا بدل لیتے ہیں"۔۔۔


فلبی نے اپنے ہی ملک کی پیٹھ میں خنجر گھونپا، لیکن مال کے فتنے میں اندھے ہو چکے بادشاہ کا اعتماد ہمیشہ کے لیے جیت لیا۔۔

سنہ ۱۹۳۳ میں جب ’اسٹینڈرڈ آئل آف کیلیفورنیا‘ (جو بعد میں ’آرامکو‘ بنی) نے تیل کا ٹھیکہ حاصل کر لیا، تو برطانوی پاؤنڈ کا قصہ ختم ہو گیا۔ اب شاہی محلوں میں روحِ امت کے سودے کے عوض گرنے والی کھنکھناہٹ امریکی ڈالر کی تھی۔

یہ محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نئے عالمی نظام کا آغاز تھا۔ دنیا کو اب پیکس برٹانیکا سے پیکس امریکانا کا سفر کرنا تھا۔ عالمی بینکاری کے پسِ پردہ بیٹھے لامتناہی طاقتور مہروں، یعنی روتھ شائلڈزکا کھیل اب تبدیل ہو رہا تھا۔ وہ صدیوں پرانی حساب دانی سے جان چکے تھے کہ جنگوں کی آگ میں جھلستا ہوا جزیرہِ برطانیہ اب ان کے سود خور خزانوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ نہیں رہا۔ اب دنیا پر راج کرنے کے لیے امریکہ ایک بہتر اور زیادہ محفوظ ٹھکانہ تھا۔

امریکی ڈالر کو دنیا کی حتمی کرنسی بننے کے لیے ایک لایموت سہارے کی ضرورت تھی، اور ابن سعود کے دستخطوں نے روتھ شائلڈز کے اس خواب کو پورا کر دیا۔ تیل اب صرف ریت سے نکلنے والا ایندھن نہیں تھا، یہ وہ کالا سونا تھا جس نے پیکس امریکانا کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے مضبوط کر دیا اور امتِ مسلمہ کی تقدیر کو نیویارک اور لندن کے ان خزانوں سے باندھ دیا جن کی ڈور براہِ راست ان عالمی ساہوکاروں کے ہاتھ میں تھی۔


حجاز کا زوال اور تاریخ کا قرض

سرزمینِ حجاز مقدس عروجِ اسلام سے اسلامیان کے لیے محترم اور معتبر رہی تھی۔ چودہ سو سال سے مسلمانوں کے دلوں کا مرکز رہنے والا حجاز، جہاں کے گلی کوچوں سے اسلام کی تاریخ وابستہ تھی، اب نجد کے ان جنگجوؤں کے نشاننے پر تھا جو برطانوی سونے اور ہتھیاروں کی طاقت پر آگے بڑھ رہے تھے۔

ریاض کے کچے محل کے دالان میں، جہاں کبھی صرف صحرائی ہوائیں چلتی تھیں، اب برطانوی رائفلوں کے صندوق کھلے پڑے تھے۔ نجد کے وہابی جنگجو، جن کے چہروں پر سختی اور آنکھوں میں ایک خاص قسم کا جنون تھا، ان چمکتی ہوئی بندوقوں کو حیرت اور عقیدت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ اسلحہ انہیں حجاز کو "بدعات" سے پاک کرنے کے لیے ملا ہے۔

ابن سعود نے ایک نئی رائفل اٹھائی، اس کا بولٹ پیچھے کھینچا اور دور افق کی طرف دیکھا، جہاں حجاز کی سرحدیں شروع ہوتی تھیں۔ مکہ، مدینہ، طائف—وہ شہر جو مسلمانوں کے لیے متبرک تھے۔

"امیر!" نجد کے ایک بوڑھے بدو عالم نے، جس کی داڑھی مہندی کے رنگ سے سرخ تھی، ابن سعود کے قریب آ کر دھیمی آواز میں کہا۔ "ہم حجاز پر چڑھائی تو کر رہے ہیں، لیکن یاد رکھیے... وہ اللہ کےرسولؐ کا شہر ہے۔ ہم اغیار کے سونے سے خریدی ہوئی بندوقوں سے وہاں داخل ہو رہے ہیں۔ کیا یہ خدا کی شریعت کے عین مطابق ہے؟"

ابن سعود نے رائفل نیچے کی، ان کے چہرے پر ایک سرد مسکراہٹ ابھری۔ "شیخ! تاریخ نیتیں نہیں، فتوحات یاد رکھتی ہے۔ اگر ہم نے آج حجاز پر قبضہ نہ کیا، تو شریفِ مکہ انگریزوں کے ساتھ مل کر ہمیں نجد کے اس کنویں میں ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گا"۔۔


بوڑھے عالم نے لمبی آہ بھری۔ "خدا اپنی شریعت نہیں بدلتا، امیر! اگر آج ہم نے اغیار کے ساتھ مل کر اپنوں کا خون بہایا، تو یہ کھیل سو سال بعد اپنا رنگ ضرور دکھائے گا۔ یہ تاریخ کا وہ سبق ہے جو کوئی بادشاہ نہیں سیکھنا چاہتا"۔۔


لیکن ابن سعود یہ نہیں جانتے تھے—یا شاید وہ اقتدار کے نشے میں یہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ نجد کے جنگجو، جو خود کو شریعت کا سچا پیروکار کہتے تھے، اس وقت یہ بھول چکے تھے کہ جس سلطنت کی بنیاد غیر ملکی وظیفے اور غیر مسلم طاقتوں کی آشیرباد پر رکھی جا رہی ہو، اس کا انجام کبھی خود مختار نہیں ہو سکتا۔

پھر دنیا نے دیکھا کہ حجاز مقدس کی حرمت پر نجد کے لشکر ٹوٹ پڑے۔ طائف میں خون بہایا گیا، مکہ اور مدینہ کے تاریخی آثار، صدیوں پرانے مقبرے اور نشانیاں اس جنون کی لہر میں مٹا دی گئیں، جسے نجد والے "توحید کا نفاذ" کہہ رہے تھے اور پسِ پردہ بیٹھا انگریز اسے اپنی تزویراتی فتح قرار دے رہا تھا۔

جب مکہ کے دربار میں ابن سعود نے حجاز کی بادشاہت کا تاج اپنے سر پر سجایا، تو انگریز مشیر فلبی ہال کے ایک کونے میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے اپنے پاس بیٹھے امریکی نمائندے کے کان میں سرگوشی کی: "دیکھا تم نے؟ انہوں نے سوچا کہ یہ جنگ انہوں نے اپنے خدا کے لیے جیتی ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ رسید کس کے جیب میں ہے جس کے عوض یہ پورا حجاز انہیں ملا ہے"۔۔


پیٹرو ڈالر کا جال

سنہ ۱۹۵۵ کا سال۔ شاہ عبدالعزیز دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ محلوں میں اب عیش و عشرت اور امریکی ایئر کنڈیشنرز کی سنسناہٹ تھی۔ ریت سے کالا سونا ابل رہا تھا، لیکن اس کی قیمت کا فیصلہ اب واشنگٹن کر رہا تھا۔

فلبی نے آرامکو کے معاہدات کے ذریعے تیل کی قیمت کو امریکی ڈالر سے جوڑ دیا، جسے دنیا نے ’پیٹرو ڈالر‘ کہا۔ اب یہ سارا پیسہ بالواسطہ طور پر وال سٹریٹ کے ان یہودی خزانوں میں اضافہ کر رہا تھا، جو مسلمانوں کے خلاف ہی بارود بن کر برسنا تھا۔ خدا نے مقدس زمین میں ریت کے نیچے سے تیل کا خزانہ نکالا تھا، لیکن ابن سعود نے اس کو امت کے فائدے کے بجائے امریکی طاقت اور یہودی خزانوں کو مضبوط کرنے کے لیے پیٹرو ڈالر کے جال میں جھونک دیا۔

ایک بوڑھا انگریز، جس کے چہرے پر اب سفید عربی داڑھی تھی، محل کے باہر کھڑا تھا۔ یہ فلبی تھا۔ نئے بادشاہ کے کارندوں نے اس کا سامان باہر پھینک دیا تھا۔

"اب تمہاری ضرورت نہیں ہے، شیخ عبداللہ۔ جاؤ، بیروت یا لندن، جہاں جانا ہے جاؤ،" ایک نوجوان شہزادے نے سرد مہر لہجے میں کہا۔

فلبی نے ہنسنے کی کوشش کی، لیکن اس کی آنکھوں میں ویرانی تھی۔ اس نے اس سلطنت کا رخ لندن سے واشنگٹن موڑا تھا، اور آج اسے ایک پرانے فرنیچر کی طرح نکال پھینکا جا رہا تھا۔ اس نے محل کی سیڑھیاں اترتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:۔


"بادشاہو! تم نے مجھے تو نکال دیا، لیکن جس ڈالر کی ہتھکڑی میں تمہاری نسلوں کو جکڑ کر جا رہا ہوں، اسے تم قیامت تک نہیں کھول پاؤ گے۔" وہ گھومتا پھرتا بیروت گیا اور ۱۹۶۰ میں ایک گمنام موت مر گیا۔


رسیدوں کا خسران اور بھوکی دنیا (انجام)۔۔۔

سو سال بعد، کھیل مکمل طور پر پلٹ گیا۔

مشرقِ وسطیٰ کا یہ تزویراتی بحران اب تاریخ کے سب سے ہولناک عالمی غذائی اور معاشی بحران (گلوبل قحط) کا پیش خیمہ بن چکا تھا۔ یمن کی پوری ساحلی پٹی—موچا، ذباب اور حصن مراد—اور قریبی جزیرے اب حوثیوں کے مکمل کنٹرول میں آ چکے تھے، جنہوں نے بحیرہ احمر کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ رہی سہی کسر ڈرون حملوں نے پوری کر دی تھی، جنہوں نے سعودی عرب کی لائف لائن، ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔

سعودی عرب اب تباہ کن انہدام کے دہانے پر کھڑا تھا، کیونکہ وہ اپنے ۹۰ فیصد تیل کی برآمد نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اس سے بھی بڑا المیہ کچھ اور تھا۔

وہ فاسفیٹ یا یوریا کی برآمد بھی نہیں کر سکتے تھے۔ امونیا, سلفر، میتھانول اور پیٹرو کیمیکلز—ان میں سے کسی بھی چیز کی برآمد کا اب کوئی امکان نہیں رہا تھا۔ دنیا بھر کے کھیتوں میں کھاد نہ پہنچنے کی وجہ سے فصلیں مرنے لگیں اور عالمی غذائی پیداوار نصف (50%) رہ گئی۔

محل کے بند کمرے میں، ایک امریکی بینکنگ کنسورشیم کا نمائندہ ہنگامی طور پر سیٹلائٹ فون پر سعودی وزیرِ مال سے مخاطب تھا۔۔

"عالی جاہ! نیویارک اور شیکاگو کے کموڈٹی ایکسچینج کریش کر چکے ہیں۔ بات صرف تیل کی نہیں ہے۔ ایشیا سے لے کر افریقہ تک، کھاد کی قلت سے پوری دنیا ایک ایسے قحط کے دہانے پر ہے جس نے صدیوں سے جنم نہیں لیا"۔۔۔

سعودی وزیر نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، "لیکن ہم نے تو اپنے دفاع کے لیے واشنگٹن کو اربوں ڈالر کے پیٹرو ڈالرز دیے تھے۔ ہماری میزائل بیٹریاں کہاں ہیں؟ ہمارے اتحادی کہاں ہیں؟"۔۔۔

فون کے دوسری طرف سے ایک بے رحم ہنسی گونجی: "ڈالر؟ عالی جاہ، جب دنیا میں اناج ہی نہیں ہوگا، تو کوئی بھی اپنے گندم کے آخری دانے کے بدلے آپ کا ڈالر نہیں خریدے گا۔ آپ کے پیٹرو ڈالر کی رسیدیں اب کاغذ کے ردی ٹکڑے ہیں۔ واشنگٹن اب خود کو بچائے یا آپ کے صحرا کو؟"۔۔

لائن کاٹ دی گئی۔

وزیر نے مڑ کر محل کی اونچی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دور افق پر نجد کی ریت اڑ رہی تھی—وہی ریت جس تلے کیپٹن شیکسپیئر دفن ہوا تھا، اور جس کے اوپر کھڑے ہو کر فلبی نے تیل کے خزانوں کی نشاندہی کی تھی۔

پوری دنیا بھوک سے تڑپ رہی تھی، اور دنیا کو پالنے کا دعویٰ کرنے والا بادشاہ اب خود اپنے ہی صحرا کے پنجرے میں قید ہو چکا تھا، جہاں نہ برطانوی سونا کام آ رہا تھا اور نہ امریکی بندوقیں۔ سیال سونا اگلتی ریت میں روحِ امت دفن ہو چکی تھی، اور تاریخ کا ترازو بالکل سیدھا کھڑا تھا کیونکہ خدا اپنی شریعت کبھی نہیں بدلتا۔


حاصلِ کلام: سنتِ الٰہی اور عدلِ اکبر

پوری دنیا بھوک سے تڑپ رہی تھی، اور دنیا کو پالنے کا دعویٰ کرنے والا بادشاہ اب خود اپنے ہی صحرا کے پنجرے میں قید ہو چکا تھا، جہاں نہ برطانوی سونا کام آ رہا تھا اور نہ امریکی بندوقیں۔ سیال سونا اگلتی ریت میں روحِ امت دفن ہو چکی تھی، اور تاریخ کا ترازو بالکل سیدھا کھڑا تھا کیونکہ خدا اپنی شریعت کبھی نہیں بدلتا۔

خدا کا قانون نام نہاد کلمہ گو یا غیر کلمہ گو میں تفریق نہیں کرتا؛ وہ 'رب العالمین' ہے۔ اس کا فضل، اس کی رحمت اور اس کا کرم کسی خاص قبیلے، خاندان یا تاج کی جاگیر نہیں، بلکہ اس کے حقدار صرف وہی ہوتے ہیں جو اس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہیں اور ان نعمتوں کو خلقِ خدا کے لیے آسانی بناتے ہیں۔

جب ریت سے نکلنے والے اس الٰہی خزانے کو شکرگزاری کے بجائے تکبر، عیاشی اور امت کو ہی بیڑیاں پہنانے کے لیے استعمال کیا گیا، تو کائنات کے منصفِ اعلیٰ نے وہ رسید ہی بدل دی۔ اب صحرا کی تپتی ریت پر صرف ویرانی باقی تھی اور ہواؤں میں صدیوں پرانا وہی ایک جملہ گونج رہا تھا: تاج بدلتے ہیں، آقاؤں کی رسیدیں بدلتی ہیں، لیکن رب العالمین کا قانون کبھی نہیں بدلتا۔



0
196
Dish Network Installers Near Me: Professional Satellite Dish Installation in Sharjah

Dish Network Installers Near Me: Professional Satellite Dish Installat...

1792096270_9bovvqpc4u.png
Al Muhit Al Saafi
1 hour ago
Handyman Services LLC: Your Guide to Home and Property Maintenance

Handyman Services LLC: Your Guide to Home and Property Maintenance

1792096270_9bovvqpc4u.png
Al Muhit Al Saafi
2 hours ago
"A ROADMAP FOR A PEACEFUL WORLD"

"A ROADMAP FOR A PEACEFUL WORLD"

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
2 hours ago
Window Repairman Near Me: Expert Window Repair Guide

Window Repairman Near Me: Expert Window Repair Guide

1792096270_9bovvqpc4u.png
Al Muhit Al Saafi
2 hours ago
Mount TV on Wall Near Me: Expert Tips for Safe TV Installation

Mount TV on Wall Near Me: Expert Tips for Safe TV Installation

1792096270_9bovvqpc4u.png
Al Muhit Al Saafi
2 hours ago