What is a good life? What is the basis for a dignified and beautiful end (death)? Life is a continuous struggle for life and a beautiful end. Writers, poets, and thinkers with thoughts and vision have done a great job in this regards. This write up in Urdu "زندگی خوشگوار توموت بھی حسین چاہیے" is an essay on this aspect of life wrt to poetic references.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful
زندگی خوشگوار توموت بھی حسین چاہیے۔
ایک خوشگوار زندگی کیا ہوتی ہے؟ ایک خوشگوار زندگی ذہنی سکون، بامقصد بامعنی تعلقات، باہم جڑے خاندان، معنی خیز افعال و عملیات اور مثبت سوچ کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ایک بامقصد زندگی میں دولت کی ضرورت تو ہوتی ہے؛ مگر بامعنی زندگی، دولت کی فراوانی کے بجائے درگزر، قناعت، اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنے کا نام ہے۔ ایک متوازن اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے کچھ بنیادی اصولوں کو اپنایا جا سکتا ہے؛ جیسے "قناعت اور شکر گزاری"؛ "صحت مند رشتے"؛ "مثبت سوچ"؛ "مقصد کا تعین" اور "صحت کا خیال:" رکھنا وغیرہ۔
ایک خوشگوار زندگی گذارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کےپاس جو کچھ ہو، اس پر شکر ادا کرے؛ اور لاحاصل مادی دوڑ کے بجائے لمحے موجود محصول دست سےمطمئن رہنا سیکھے۔ اور یہ بھی کہ انسان خلوص نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا اور مثبت سماجی تعلقات استوار رکھنے کا چلن اپنائے؛ اور حتی الامکان منفی خیالات اور بدگمانی سے پرہیز کرے، جو ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سب انسانوں کو زندگی میں کوئی بڑا مقصد یا ہدف رکھنا چاہیے اور اس کے حصول کے لیے مثبت جدوجہد کرنا چاہیے؛ اور اس کے لیے متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش کو معمول بنانا چاہیے تاکہ جسمانی و ذہنی توانائی کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔
ایک باوقار اور حسین انجام (موت) کی بنیاد کیا ہوسکتی ہے؟ ایک باوقار اور حسین انجام (موت) کی بنیاد گہری ذاتی اقدار، روحانی سکون، اور اس احساس پر مبنی ہوتی ہے کہ انسان نے اپنی زندگی بامقصد و بامعنی گزاری ہوتی ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ نقطہ نظر سے اس کے چند اہم ستون یہ ہیں جیسے "روحانی اور ذہنی سکون"۔ یہ انسان کا اپنے خالق سے مضبوط تعلق، توبہ، اور پچھلے تمام معاملات میں صلح جوئی کا جذبہ کارفرما ہونا ہے۔ اس کے لیے بامقصد زندگی اور میراث (لیگیسی) کا بنانا ہوتا ہے؛ جو یہ اطمینان دلاتا ہے کہ انسان نے پیچھے اچھے اعمال، پیار کرنے والے رشتے، اور معاشرے میں مثبت اثر چھوڑا ہے۔
علاوہ اذیں "حقوق العباد کی ادائیگی" بھی اہم جز ہے؛ یعنی انسان نےکسی کا دل نہ دکھایا ہو؛ اورسب لوگوں کے حقوق ادا کیا ہو؛ اور اس کے ذمے کسی کا کوئی مالی یا جذباتی قرض یا بقیہ نہ ہو۔ زندگی مسلسل عروج و زوال ؛ خوشی اور غم سے عبارت ہوتی ہے؛ چنانچہ ضروری ہے کہ انسان صبر اور شکر کو اپنائے؛ اور بیماری یا بڑھاپے کی تکالیف کو خندہ پیشانی سے قبول کرے اور شکر گزار اندازِ فکر اپنائے۔
بے شک! ایک پرسکون اور بامقصد زندگی ہی ایک باوقار اور حسین انجام (موت) کی بنیاد بنتی ہے۔ یہ فلسفہ انسان کو اچھے اعمال اور ذہنی سکون کی طرف راغب کرتا ہے۔خوشگوار زندگی اور حسین انجام کے لیے زندگی ایک جہدِ مسلسل میں بسر ہوتی ہے۔ فکر و نظر کے حامل ادیبوں شاعروں اور مفکروں نے اس ضمن میں خوب کام کیا ہے۔ آئیے ذیل میں کچھ کا موازنہ کرلیتے ہیں۔
ایملی ڈکنسن انگریزی زبان کی محترم اور مشہور شاعرہ ہیں۔ انکی ایک نظم "میں خوبصورت موت مرا" اس مضمون کی مناسبت سے ایک مناسب پیغام رکھتا ہے۔ ذیل میں اس کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔
میں خوبصورت موت مرا؛ لیکن وہ زیاں گیا؛
اپنی قبرمیں جب میں آباد ہوگیا۔
ایک حق کی خاطر موت کے گھاٹ اتار دیا جانے والا؛
ایک ملحقہ قبر میں مدفون، ملا۔
اس نے آہستگی سے یہ پوچھا کہ "مجھے کیوں موت آئی"؟
"خوبصورتی کی خاطر"، میں نے جواب دیا۔
"اور میں - سچائی کے لیے - ہم ایک ہی جیسے ہیں؛
ہم ایک نسل ہیں" اس نے کہا۔
اور اس طرح، رشتہ دارکے طور پر، ایک رات پھرملاقات ہوئی؛
اور ہم مختلف قبروں کے درمیان گھومتے، محوِ گفتگو رہے؛
یہاں تک کہ کائی ہمارے ہونٹوں تک نہ پہنچ گئی؛
اور چھپا لیا - ہمارے نام بھی۔
ایملی ڈکنسن کی نظم "میں خوبصورت موت مرا؛ لیکن وہ زیاں گیا" کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگرچہ خوبصورتی (آدرش، اقدار)اور سچائی جیسے اعلیٰ فکری اثاثہ عظیم ہوتے ہیں، لیکن بالآخر وہ بھی نازک اور عارضی ہوتےہیں۔ موت کے سامنے، انسانی عزائم، قربانیاں، اور یہاں تک کہ ہماری شناخت بھی وقت کے ساتھ ساتھ ناگزیر طور پر مٹ جاتی ہے۔ نظم کہتی کہ یہ دنیا فانی ہے اور وقت اور فطرت تمام شناخت مٹا دے گی۔
ایملی ڈکنسن کی نظم "میں خوبصورت موت مرا؛ لیکن وہ زیاں گیا" ایک واضح یاد دہانی ہے کہ شرافت یا دنیاوی خوبصورتی فطرت طور پر ابدی نہیں ہیں اور لافانی ہونا ممکن نہیں ہے۔ نظم زندگی کے مشترک عنصت "موت " پر ایک مراقبہ کے طور پر کام کرتی ہے؛ کہ کس طرح فطرت کا انتھک پھیلاو آخر کار انتہائی گہرے انسانی اثرات کو بھی مٹا دیتا ہے۔ اس دنیا میں ایک ہی چیز مستقل ہے؛ اور زوال اور اموات اور فطرت ہر چیز پر چھا جاتی ہے؛ اورپیچھے کوئی نشان نہیں رہتا ہے۔
جون ایلیا اردو زبان اور ادب کے ایک طرحدار، بدمست اور اتھرے شاعر ہیں۔ انکی اشعار سامع اور قاری کی فکر میں طوفان برپا کردیتے ہیں۔ جون ایلیا اردو شاعری کی دنیا کا وہ استعارہ ہیں جن کی فکر، فلسفہ اور اندازِ بیاں، احساس اور حقیقت کا ایک سمندر ہے؛ جو قاری یا سامع کو اپنے اندر ڈبو دیتا ہے۔جون ایلیا نے انگریزی شاعرہ ایملی ڈکنسن کی نظم "میں خوبصورت موت مرا" کے مضمون کو ایک ذرا مختلف انداز سے بیان کیا ہے اور کیا خوب کہا کہ :-۔
کتنی گلیاں کتنے راستے کتنے لوگ کتنے چہرے اور انہی راستوں پر چل کر کتنے بچپن جوانی میں ڈھل گئے۔
کتنے دل دھڑکے مگر ان کا کیا جنہیں ان راستوں سے کبھی قبول نہ کیا گیا کبھی کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا
کہتے ہیں قدرت کبھی کسی کو نامکمل نہیں بناتی یہ ہم ہیں جو الگ الگ پیمانے تراش تھے
جب تم 20 سے 30 کے دائرے میں گمو گے تب تمہیں پتہ لگے گا کہ کوئی تعلیم ادھوری کیوں چھوڑ دیتا ہے
کوئی کیوں چھپ رہنے لگتا ہے کسی کو کیوں تنہائی اچھی لگتی ہے کوئی اپنی محبت دوست اور خواب کیوں چھوڑ دیتا ہے
جب تم گھر والوں پر بوجھ بنو گے تو تمہیں پتہ چلے گا کوئی کیوں بدل جاتا ہے
دن گزر جائیں گے اور ان چیزوں کو ترک کر دو گے
جنہیں تم نے عادت بنا رکھا تھا سانس نہیں اتا تھا ان کے بغیر
خواہشات کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو گے
پسندیدہ انسان کو ستاروں کے حوالے کر دو گے
خواب دیکھنا چھوڑ دو گے
اور بالاخر تمہارا حقیقت قبول کرنے کا سفر شروع ہو جائے گا
اور پھر ایک دن تم یہ سب بھی سیکھ لو گے۔
زندگی تمہیں وہ نہیں دیتی جو تم چاہتے ہو بلکہ وہ دیتی ہے جس کی تمہیں ضرورت ہوتی ہے۔
جس دن تمہیں خود کو اپنی خامیاں اپنی تنہائی اور اپنی حقیقت قبول کرنی آگئی
اس دن تم ازاد ہو جاتے
نہ کسی تعریف کے محتاج، نہ کسی کے لوٹ انے کے منتظر، نہ کسی خواب کے غلام؛
بس زندہ اور زندگی جیتے ہوئے۔
اور پھر بھی یہ سب ہو بھی گیا تب بھی؛
ہم سب حسین ترین امیر ترین ذہین ترین اور ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالاخر مر جائیں گے۔
محترم قارئین؛ موت خود زندگی کی ضمانت ہے؛ اس کا مفہوم یہ ہے کہ موت ہی زندگی کے ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔ جب تک انجام (موت) واضح نہ ہو، تب تک زندگی کی قدر نہیں ہوتی۔ موت کی یقینی حقیقت ہی انسان کو زندگی کے ہر لمحے کو قیمتی سمجھنے پر مجبور کرتی ہے۔ بعض صوفیانہ اور فلسفیانہ نظریات (جیسے کہ نہج البلاغہ میں حضرت علیؓ کے اقوال) میں ملتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی محافظ "موت" ہے، کیونکہ یہ انسان کو مقررہ وقت سے پہلے ختم ہونے نہیں دیتی اور اسے سنبھلنے کا موقع دیتی ہے۔ بہت سے مذہبی اور روحانی عقائد میں موت کو خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئی، ابدی زندگی کی طرف سفر کا آغاز مانا جاتا ہے۔
معزز قارئین؛ زندگی کو بھرپور جینا چاہیے اور عمرِ مستعار چار دن خوبصورتی سے بسر کرنا چاہیے؛ ایسا نہ ہو کہ بقول شاعرہ دعا علی یہ کہہ اٹھیں کہ " آخرش میں اپنے اندر کی کمی میں مر گئی"؛ جو ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ شاعرہ دعا علی کا دکھ ہر اس شخص کا غم ہے جو زندگی کی اس نعمت کا صحیح ادراک نہیں رکھتے۔ جب کسی شخص کا خاتمہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے تو اسے خود ساختہ زوال کہا جاتا ہے۔ اپنی شخصی کمیاں یا انتخاب کی خرابی کے نتائج کا سامنا کرنے کا یہ تصور اکثر ادب اور نفسیات میں المناک ناکامی کی وجہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
زندگی کیا صرف سانس لینے کا نام ہے؟ نہیں نا؛ کیونکہ حقیقی زندگی نام ہےاحساس کا؛ خوشی اور غم کو محسوس کرنے کا؛ اور زندگی بامقصد بھی ہونی چاہیے؛ جو کسی نصب العین یا لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ زندگی پیغام دیتی ہے کہ باہم تعلقات کو خوشگوار طور پر قائم رکھا جائے؛ کیونکہ حسنِ زندگی تو دوسروں کی سنگت میں خوشیاں بکھیرنے اور اچھے لمحات بانٹنے کا کام ہے؛ اور شاید اسی لیے مشہور کہاوت ہے کہ "زندگی زندہ دِلی کا نام ہے"۔ اور زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے؛ موت ایک اٹل حقیقت ہے، لیکن خوبصورتی سے گزرے دن، احساس سے معمور دل و دماغ اور باہم محبت کی موجودگی موت کے انجام کو حسین اور گہرا فلسفیانہ بنا دیتی ہے۔ آئیے ذرا جون ایلیا کی ایک غزل کے چند اشعار کو پڑھیں اور سمجھیں۔
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
یہ حقیقت ہے کہ یہ دنیا کی زندگی ایک بےبہا بے شمار رنگوں سے مزین ہے اور زندگی ان رنگوں پر ناچ رہی ہے۔ دنیا کی رنگینیاں، ہنگامے، رونقیں ایک تیز رفتار گردش پہ ہیں؛ یعنی ہر طرف خوشیاں اور مستیاں عروج پر ہیں اور حضرت انسان خود بھی اسے رقص میں شامل ہے۔ ہم انسان بھی بے خودی کے عالم میں زندگی کے رنگ بھرے ہنگاموں اور مستیوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور وقت کی دھن پر ناچ رہے ہیں۔
کتنی دل کش ہو تم، کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
ہے غنیمت کہ اسرارِ ہستی سے ہم
بے خبر آئے ہیں، بے خبر جائیں گے
جناب جون ایلیا محبوب سے مخاطب ہو کر اس سےمحبت کا اعتراف کرتے ہوئےموت کی حقیقت پر افسوس کر رہے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کو 'دل کش' یعنی اپنی طرف کھینچنے والی، اور خود کو 'دل جو' یعنی دل لبھانے والا کہہ کرموت پر افسوس کرتے ہیں۔ مگراس حقیقت کو تسلیم کر کے ایک فلسفیانہ سکون حاصل کر رہا ہے کہ کائنات یا زندگی کے رازوں (اسرارِ ہستی) کی کھوج لگانا لاحاصل ہے۔ وہ اس بات کو غنیمت (نعمت) مانتا ہے کہ ہم اس دنیا میں بغیر کسی ارادے یا علم کے آئے (بے خبر آئے) اور اسی طرح بغیر کسی گہرے فلسفے یا الجھن کے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے (بے خبر جائیں گے)۔
اردو زبان ہی کہ ایک شاعرہ "دعا علی" ہیں جن کا ایک شعر ہے کہ " ایک دن دے گی دغا ایسا کبھی سوچا نہ تھا؛ زندگی کا روپ یہ ہم نے کبھی دیکھا نہ تھا"؛ اور اس شعر میں زندگی کی بے وفائی اور غیر متوقع تلخ حقیقتوں کا ذکر انتہائی جذباتی انداز میں کیا گیا ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ زندگی سے ہمیں بہت سی خوشیوں اور وفاؤں کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ لیکن انسان کو کبھی گمان بھی نہیں ہوتا کہ جس زندگی پر وہ بھروسہ کر رہا ہے، وہ ایک دن اس طرح مایوسی اور دھوکے (دغا) کی صورت میں سامنے آئے گی۔ لیکن زندگی اپنا روپ تو نہیں بدلتی؛ چنانچہ بےخبر انسان اس کی چال دیکھ کر کہتا ہے کہ پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا تھا۔ عام حالات میں زندگی بڑی خوشگوار اور خوبصورت معلوم ہوتی ہے، لیکن جب یہ آزمائش کی گھڑی میں ساتھ چھوڑتی ہے، تب انسان کو اس کے اصل اور بھیانک چہرے کا اندازہ ہوتا ہے۔
زندگی اور موت حقیقت میں ایک ہی سفر کے دو روپ ہیں۔ اس فلسفے کو اردو ادب، تصوف اور تاریخی روایات میں ہمیشہ گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ زندگی ایک عارضی حقیقت ہے، جبکہ موت اس کا حتمی انجام ہے۔
جناب نصیر ترابی اردو زبان و ادب کے مشہور شخصیت ہیں؛ ان کے ایک شعر میں اس مضمون کے رنگ کی عکاسی ہوئی ہے؛ جہاں فانی دنیا میں زندگی کی حقیقت کا گہرا احساس بیان کیا گیا ہے۔ شعر یوں ہے کہ "مٹّی اوڑھ کر سو جائیں گے، ہم بھی ماضی ہو جائیں گے"۔ شاعری میں اس طرح کا احساس اکثر انسان کو اپنی ذات میں جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
اسی طرح ایک اور شعر ہے جس میں بڑی خوبصورتی سے موت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے؛ "اوڑھ لیں گے یہ زمیں چادر کی طرح ایک دن؛ ایک دن مٹی تری خوراک ہو جائیں گے ہم"۔ واہ! کیا خوبصورت اور حقیقت سے بھرپور شعر ہے۔ یہ خوبصورت شعر جناب وسیم ملک کی ایک غزل کے ہیں۔ مٹی کی حقیقت اور زندگی کی بے ثباتی کو کتنے دلسوز انداز میں بیان کیا گیا ہے؛ کہ ایک دن ہم سب کو قبر میں اتارا جانا ہے اور وہ مٹی ہمارے جسم کو کھا جاتی ہے۔
جو سینہ سپر عرصہ ہستی میں ہیں دانش
دشوار نہیں ان کے لیے راہ عدم بھی
یہ خوبصورت اور پُرعزم شعر نامور اردو شاعر احسان دانش کا ہے۔ اس شعر میں شاعر نے استقامت اور بہادری کا فلسفہ بیان کیا ہے۔ جو لوگ زندگی کی مشکلات اور مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں (سینہ سپر ہوتے ہیں)، ان کے لیے موت یا فنا (راہِ عدم) سے گزرنا بھی کوئی مشکل یا خوفناک کام نہیں ہوتا۔یہ شعر انسان کی جراتِ رندانہ اور حوصلے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
معزز قارئین؛ یہ ہمیشہ یاد رکھیے کہ وہی انسان اصل کامیاب ہے جوعزت سے زندہ رہتا ہے اور شاندار طریقے سے مرتا ہے۔ بلاشبہ ایک باوقار زندگی گزارنا اور سرخرو ہو کر اس دنیا سے رخصت ہونا ہی ہر انسان کی سب سے بڑی کامیابی اور تمنا ہونی چاہیے۔ زندگی اور موت کے فلسفے کو بہترین انداز میں بیان کرنا ہو تو یوں کہنا چاہیے کہ انسان کو کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے؛ جو خودداری اور بلند کردار کی علامت ہے۔ اور مقصدِ حیات کو پورا کرنا، بہادری پر قائم رہنا اور ایسی یادگار چھوڑنا کہ لوگ ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ اور روز قیامت پروردگارِ عالم کے سامنے سرخرو ہوں۔
Ecwid Account Seller Scam Case Study: A Complete Expert Guide Online commerce platforms l...
OpenCart Account Verification Scam Analysis: The Complete Expert Guide Online scams have...
Linen Shirts for men offer breathable, lightweight comfort for summer. Explore mens linen...
Buy Where to Get LinkedIn Account Legitimacy Check: The Ultimate Expert Guide LinkedIn ha...
Buy Ready Verified LinkedIn Account Risks: The Complete Expert Guide LinkedIn has become...