یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
The topic reflects the conflict between vested religious leadership and real Islamic principles in the political and religious landscape of Islamic history. The title highlights how the rulers of each era used the people (presentations) of religion to prolong their political goals and power. This write up in Urdu "یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے" is the comparison between Iqbal’s thoughts and Islamic history showing us the path to reform our present by learning from the mistakes of the past."
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بوذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا
اقبال فرماتے ہیں کہ افسوس! آج کا "شیخِ حرم" (مذہبی پیشوا) ان عظیم ہستیوں کے نام، ان کی قربانیوں اور ان کے تقدس کو بازارِ دنیا میں بیچ کر اپنی دکان چمکا رہا ہے۔ وہ عوام کو ان بزرگوں کی زہد و قناعت کے قصے تو سناتے ہیں، لیکن خود عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ یہ تضاد مسلم امہ کو فکری اور اخلاقی طور پر کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ تحریر معلوماتی اور فکری مقاصد کے لیے تحریر کی گئی ہے۔ یہاں اقبال کےافکار اور اسلامی تاریخ کا موازنہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر حال کی اصلاح کا راستہ دکھاتا ہے۔
۱۔ نفاق کا جوہر اور مصلحت پسندی کا مرض
حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا یہ شعر محض ایک روایتی تنقید نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کے اس سب سے بڑے المیے کی نشاندہی کرتا ہے جسے قرآن و حدیث میں "نفاق" کہا گیا ہے۔ نفاق کا مطلب صرف زبان اور دل کا تضاد نہیں، بلکہ یہ وہ گہرا نفسیاتی مرض ہے جہاں انسان مصلحت کو دین اور بے بسی کو تقویٰ کا نام دے دیتا ہے۔ جب ایک مذہبی رہنما (شیخِ حرم) زبان پر تو مقدسات کا نام لیتا ہے لیکن اس کا مقصد صرف اپنے نفس کی ضروریات کو پورا کرنا اور دنیا کمانا ہو، تو یہ نفاق کی بدترین شکل ہے۔ یہ وہ اندرونی دیمک ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
۲۔ غلامی کی نفسیات اور نفاق کا جنم
تاریخ گواہ ہے کہ نفاق کا یہ مرض آزاد اور غیور لوگوں میں نہیں، بلکہ غلامی کے اندھیروں میں پلتا ہے۔
• غلامی کے اثرات: جب بنی اسرائیل (قومِ یہود) مصر میں فرعونوں کی محکوم بنی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آمد تک تقریباً چار سو سال گزرے۔ اس طویل غلامی نے ان کی اجتماعی نفسیات کو مسخ کر دیا۔ غلامی قوموں کے اندر سے غیرت، سچائی اور خودداری کو چاٹ جاتی ہے اور اس کی جگہ بزدلی، لالچ، خود غرضی اور بے بسی کو رواج دیتی ہے۔
• بے بسی اور ظلم کا رشتہ: یاد رہے کہ بے بسی بذاتِ خود ظلم کو ہوا دیتی ہے۔ جب انسان یا قوم ظلم سہنے کو اپنی تقدیر مان لے اور شکوہ کرنے کے باوجود کھڑی نہ ہو، تو وہ منافقت کا شکار ہو جاتی ہے۔ قتیل شفائی نے اسی نفسیات کو خوبصورت شعر میں بیان کیا تھا:۔
قتیلؔ ہم نے اس سا منافق نہیں دیکھا
جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا
یہ منافقت وقت کے ساتھ افراد کی ہڈیوں تک میں سرایت کر جاتی ہے اور قوموں کا جینیاتی حصہ بن جاتی ہے۔
۳۳۔ معجزات کی کثرت اور قومِ یہود کی کٹ حجتی
قرآنِ کریم میں امتِ مسلمہ سے پہلی "خدائی امت" یعنی بنی اسرائیل (قومِ یہود) کا ذکر بہت تفصیل سے آیا ہے۔ یہ تفصیل محض ایک کہانی نہیں بلکہ امتِ محمدیہﷺ کے لیے ایک تازیانہ اور عبرت کا سامان ہے۔
عظیم الشان آغاز: بنی اسرائیل کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام (جن کا لقب اسرائیل تھا) سے ملتا ہے۔ قرآن گواہی دیتا ہے کہ جب حضرت یعقوبؑ کا آخری وقت آیا تو انہوں نے اپنی اولاد سے پوچھا:.
.. "تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟" تو ان کے بارہ بیٹوں نے یک زبان ہو کر کہا تھا: "ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو اکیلا ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار (مسلم) ہیں" (سورہ البقرہ: ۱۳۳)۔
غلامی کی صدیاں اور نفاق کی پیدائش:
تاریخی روایات اور قرآنی مفسرین کے مطابق، حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد (بنی اسرائیل) کے مصر میں داخل ہونے سے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آمد اور ان کے مصر سے خروج تک کا یہ عرصہ تقریباً 400 سے 430 سال کا بنتا ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس طویل عرصے میں سے آخری تقریباً دو سے تین صدیاں بنی اسرائیل نے بدترین فرعونی غلامی اور قید و بند کی صعوبتوں میں گزاریں۔ اتنی طویل غلامی کسی بھی قوم کی نفسیات کو مسخ کرنے اور ان میں منافقت و نفاق پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
جب نفاق رگوں میں خون بن کر بہنے لگے، تو بڑے سے بڑا معجزہ بھی انسان کی روح کو بیدار نہیں کر سکتا۔ قومِ یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں عصا کا اژدہا بننا، یدِ بیضا، اور سمندر کا پھٹ کر راستہ دینا جیسے جلیل القدر معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ لیکن جب عملی جدوجہد اور جہاد کا وقت آیا، تو ان کی رگوں میں دوڑتے نفاق اور بزدلی نے جواب دیا:
"اے موسیٰ! تو اور تیرا رب جا کر لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں" (سورہ المائدہ: ۲۴)۔
عظیم عہد کے بعد، جب یہ قوم مصر میں فرعونوں کی غلامی میں گرفتار ہوئی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آمد تک صدیوں کی اس غلامی نے ان کی نفسیات کو بگاڑ دیا۔ غلامی انسان کی غیرت، سچائی اور خودداری کو ختم کر دیتی ہے۔ اسی طویل غلامی کے نتیجے میں ان کے اندر نفاق، بزدلی اور دنیا پرستی جیسی بدترین خرابیاں پیدا ہوئیں، جن کا ذکر قرآن نے تفصیل سے کیا ہے۔
جب قومِ یہود زوال کا شکار ہوئی، تو ان کے علماء اور مذہبی پیشوا (احبار و رہبان) دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانے لگے۔ وہ تورات کے احکامات کو چند پیسوں کے عوض بدل دیتے تھے، غریبوں کے لیے الگ قانون بناتے اور امیروں کے لیے الگ۔
سورہ التوبہ (آیت ۳۴) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے ایمان والو! بیشک (اہلِ کتاب کے) بہت سے احبار (علماء) اور رہبان (صوفی/پیشوا) لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں"۔
۴۔ مکہ کی صف بندی بمقابلہ مدینہ کا فتنہۂ نفاق
اس تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے بعد جب ہم آقا نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دورِ مبارک کو دیکھتے ہیں، تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے:۔
• دورِ مکہ (خالص ایمان و کفر): مکہ مکرمہ میں تصویر بالکل صاف تھی۔ وہاں صرف دو ہی طرح کے لوگ تھے۔ ایک طرف آقا ﷺ کے وہ سچے غلام تھے جو ہر ظلم سہ کر بھی ایمان پر قائم رہے، اور دوسری طرف قریش کے اعلانیہ منکرین (کفار) تھے جو ظلم ڈھاتے تھے۔ مکہ میں نفاق کا کوئی وجود نہ تھا۔
• دورِ مدینہ (نفاق کا آغاز): جب ہجرتِ مدینہ ہوئی، تو وہاں یثرب میں قومِ یہود کے تین بڑے قبیلے آباد تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو خود آخری پیغمبر کی آمد کی پیشگوئیاں کیا کرتے تھے۔ مگر جب آخری نبی بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے تشریف لائے، تو ان کی انا اور نسلی تعصب آڑے آ گیا۔ انہوں نے انکار تو کیا، مگر کفارِ مکہ کی طرح کھلم کھلا دشمن بننے کے بجائے منافقت کا لبادہ اوڑھ لیا۔
۵۔ الٰہی سنت: غربالِ مدینہ اور تطہیرِ معاشرہ
قابلِ غور بات یہ ہے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے امتحان مکہ کے منکرین کا نہیں لیا۔ منکرین تو محض ایک ذریعہ تھے جنہیں مدینہ النبی ﷺ پر حملہ آور کیا گیا۔ اصل امتحان مدینہ کے اس نئے مسلم معاشرے کا تھا جہاں آقا ﷺ کے حقیقی چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ منافقین بھی بسے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے غزوات کی بھٹیوں کے ذریعے سچے مومنوں کو منافقین سے الگ کرنا سکھایا۔ اور جب نفاق کی بیخ کنی ہو گئی اور مدینہ میں حقیقی اور جانثار مومنوں کی ایک مستحکم تعداد تیار ہو گئی، تب اللہ تعالیٰ نے مکہ کی فتح کا راستہ کھول دیا۔
۶۔ برصغیر ہندوستان کا المیہ: لاشعوری منافقت اور شیخِ حرم کی مجرمانہ غفلت
اس تاریخی اور قرآنی تسلسل کی روشنی میں جب ہم ہندوستان (برصغیر) کی مسلم تاریخ کو دیکھتے ہیں، تو ایک اور ہولناک پہلو سامنے آتا ہے۔ ہندوستان میں مسلم حکمران تو موجود تھے، لیکن یہاں کی اکثریت اور تہذیب مسلم نہیں تھی۔
• شعوری بمقابلہ لاشعوری منافقت: قومِ یہود اور مدینہ کے منافقین "شعوری منافق" تھے (وہ جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے تھے)۔ اس کے برعکس، ہندوستان کے مسلمانوں میں یہ منافقت لاشعوری طور پر پیدا ہوئی۔ یہاں کی مقامی آبادی بت پرستی اور ذات پات کے گہرے ہندووانہ ماحول سے نکل کر کلمہ پڑھ کر ایمان تو لے آئی، لیکن ان کی اسلامی خطوط پر فکری اور اخلاقی تربیت نہ ہو سکی۔ وہ ایمان لانے کے باوجود اپنی نفسیات میں وہی پرانے ہندووانہ رسم و رواج، مصلحتیں اور تضادات ساتھ لائے۔
• تاریخی شواہد (اکبر کا دور اور 1857ء کے بعد کا برطانوی راج): یہ تربیت کرنا "شیخِ حرم" (علماء اور صوفیاء) کا کام تھا۔ مگر بدقسمتی سے ان کی صفوں میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور مجدد الف ثانیؒ جیسے مخلص مصلحین آٹے میں نمک کے برابر تھے۔ اکثریت نے مصلحت، نفاق اور پیٹ پرستی کا راستہ چنا، جس کی دو بڑی تاریخی مثالیں موجود ہیں:۔
1. مغل اعظم اکبر کا دور: اکبر کے دور میں درباری علماء نے اپنے مادی فائدوں اور بادشاہ کی خوشنودی کے لیے "دینِ الٰہی" جیسے فتنے کو جنم دیا اور شریعتِ اسلامی کا سودا کیا۔
2. سنہ1857ء کے بعد انگریز کی سرپرستی: جنگِ آزادی کے بعد جب مسلمان انگریز کے غلام بنے، تو انگریزوں نے ایسے درباری علماء اور خانقاہی گدی نشینوں کی سرپرستی کی جو وظائف، جاگیروں اور خطابات کے عوض برطانوی سامراج کی وفاداری کا درس دیتے تھے اور مسلمانوں کے اندر سے غیرت و جہاد کی روح کو کچل رہے تھے۔
نتیجتاً، برصغیر میں مخلص مومنین کے بجائے "ایک منافق مزاج ہجوم" پروان چڑھا۔ علامہ اقبال اسی المیے کو دیکھ رہے تھے کہ یہی فکری طور پر غیر تربیت یافتہ ہجوم آگے چل کر پاکستان کا شہری بننے جا رہا تھا، جس کے اندر ایمان کا دعویٰ تو تھا لیکن رگوں میں نفاق اور مصلحت پسندی سرایت کر چکی تھی۔
۷۔ آج کا پاکستان: نفاق کا عروج اور اجتماعی بے حسی کا عذاب
اس تاریخی، قرآنی اور برصغیر کی لاشعوری منافقت کا سفر جب آج کے موجودہ پاکستان تک پہنچتا ہے، تو یہ مرض اپنے عبرت ناک عروج پر نظر آتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کی گلی اور محلے میں لالچ، خود غرضی، بے بسی اور ظلم ایک رواج بن چکا ہے—یہ بالکل وہی تصویر ہے جو صدیوں قبل مصر کی غلامی نے قومِ موسیٰؑ کی بنا دی تھی۔ معاشرے کی اخلاقی گرواٹ کا یہ عالم ہے کہ گلی محلوں میں ایسے ہولناک جرائم جنم لے رہے ہیں جن کا تصور بھی محال ہے۔ نفاق کا یہ زہر انسان کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے۔ جب ضمیر مر جائے تو انسان 'مسلمان' صرف نام کا رہ جاتا ہے؛ اس کی عملی زندگی ایک جانور جیسی ہو جاتی ہے جس کا مقصد صرف پیٹ کا دوزخ بھرنا اور حیوانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
اس اخلاقی زوال کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پچھلے پچیس سال سے قومی فوج اور عوام خود اپنے ہی وطن کے اندر ایک لامتناہی داخلی جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث کی واضح روشنی میں جس عسکری اور عوامی قوت کو جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور بیرونی دشمنوں (ہندو، غیر مسلم اور یہود) کے مدمقابل ہونا چاہیے تھا، وہ اپنے ہی خلاف نبردآزما ہے۔ یہ امت اب نفاق کی ایک ایسی دائرہ نما زندگی گزار رہی ہے جو دین اور دنیا، دونوں کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ یہ الٰہی عذاب آج مسلمان قوموں پر سایہ فگن ہے، لیکن مجال ہے جو کسی کے سر پر جوں بھی رینگی ہو؛ غفلتِ سود و زیاں کا یہ انداز تو آسمان نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ بقول اقبال:
وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
۸۔۔ احبار و رہبان سے "شیخِ حرم" تک: اقبال کا اصطلاحی موازنہ
قرآن اور حدیثِ پاک میں قومِ یہود کے انھی دنیا پرست علماء اور پیشواؤں کے لیے "احبار اور رہبان" کا لفظ استعمال ہوا ہے جو الہامی کتاب کا علم تو رکھتے تھے مگر ان کا معاملہ صرف اپنے نفس کی ضروریات اور پیٹ بھرنے تک محدود تھا۔
اقبال نے جب "شیخِ حرم" کا لفظ استعمال کیا، تو دراصل انہوں نے اسی قرآنی تصور کو مسلم معاشرے کے تناظر میں ڈھال کر ایک نئی مسلم اصطلاح بنا دی۔ اقبال کا مقصد یہ بتانا تھا کہ جو ذہنی اور اخلاقی پستی کبھی یہود و نصاریٰ کے احبار و رہبان کا شیوہ تھی (کہ لباس اور دعوے تو الہامی کتاب کے علم کے ہوں مگر نیت صرف اپنے نفس کی ضروریات اور پیٹ بھرنے تک ہو)، بدقسمتی سے وہی بیماری اب مسلمانوں کے "شیخِ حرم" کو لگ چکی ہے۔
علامہ اقبال نے دراصل "شیخِ حرم" کہہ کر اسی قرآنی تصور کو مسلم معاشرے کے تناظر میں ڈھال کر ایک جدید مسلم اصطلاح بنا دی ہے۔ اقبال برصغیر کے مسلم معاشرے پر روتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو نفاق پچھلی امتوں کا مقدر بنا، اور جس نفاق کی بیخ کنی کے لیے دورِ مدینہ میں قرآنی آیات نازل کی گئیں، آج ہمارا شیخِ حرم اسی تاریخ کو دہرا رہا ہے:۔
• وہ منبر سے حضرت ابوذر غفاریؓ کا فقر (گلیمِ بوذر) سکھاتا ہے، لیکن خود قارون کی طرح مادی فائدے سمیٹتا ہے۔
• وہ حضرت اویس قرنیؓ کی دنیا سے بے نیازی (دلقِ اویس) کا وعظ کرتا ہے، لیکن خود جاہ و جلال اور اقتدار کا حریص ہے۔
• وہ حضرت فاطمہ زہراؓ کی چادر (چادرِ زہرا) اور حیا کی باتیں کر کے سادہ لوح عوام کا ذہنی و معاشی استحصال کرتا ہے۔
۹۔ فکری و اخلاقی مرض کا علاج کیا ہے؟
قرآن و حدیث اور فکرِ اقبال کی روشنی میں اس گہرے اندھیرے سے نکلنے کا واحد رستہ درج ذیل تین بنیادی اقدامات میں پوشیدہ ہے:۔
• احساسِ زیاں کی بیداری (احتسابِ نفس): علاج کا پہلا قدم یہ ہے کہ فرد کے اندر یہ شعور بیدار ہو کہ ہم بطورِ قوم اخلاقی طور پر تباہ ہو رہے ہیں۔ جب تک کارواں کے دل میں یہ احساسِ زیاں واپس نہیں آئے گا کہ ہمارا قیمتی سرمایہ (اخلاق، غیرت اور ایمان) لٹ چکا ہے، تب تک سدھار کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ ہر شخص کو ظاہری مذہبی لبادوں سے نکل کر اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔
• "شیخِ حرم" کے سحر کا خاتمہ اور براہِ راست علم: سادہ لوح عوام کو ان نام نہاد مذہبی اور سیاسی پیشواؤں کے چنگل سے نکلنا ہو گا جو مقدسات کا نام بیچ کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھرتے ہیں۔ مسلمانوں کو خود براہِ راست قرآن، حدیثِ پاک اور اسلاف کی عملی زندگیوں کا مطالعہ کرنا ہو گا تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ حقیقی اسلام مصلحت پسندی نہیں بلکہ حق گوئی اور سچے کردار کا نام ہے۔
• لاشعوری ہجوم سے "باکردار جماعت" میں تبدیلی: اسلام صرف چند ظاہری رسومات کا نام نہیں ہے۔ ہمیں ذات پات، لالچ اور ہندووانہ و یہودانہ تہذیبی نفسیات کے اثرات کو لاشعور سے کھرچ کر باہر پھینکنا ہو گا۔ تعلیم اور تربیت کا ایسا نظام اپنانا ہو گا جو بھیڑ چال اور منافق ہجوم پیدا کرنے کے بجائے ایسے افراد تیار کرے جن کا ظاہر اور باطن ایک ہو، جو ظلم سہنے کے بجائے اس کے خلاف کھڑے ہونے کی سکت رکھتے ہوں۔
۱۰۔ حاصلِ کلام (نتیجہ)
تاریخ کا یہ قرآنی آئینہ، دورِ مدینہ کا سبق، برصغیر کا المیہ اور اقبال کا یہ لازوال شعر ہمیں بیدار ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ جب تک کوئی قوم نفاق کی چادر پھینک کر، بزدلی اور مصلحت پسندی کے بتوں کو توڑ کر، دوبارہ اس سچے, بے باک اور مخلص اسلام کی طرف نہیں لوٹتی جو مدینہ کی بھٹی میں تپ کر سونا بنا تھا، تب تک وہ ذلت سے نہیں نکل سکتی۔ دین فروشی اور نفاق کا یہ دھندا اسی وقت بند ہو سکتا ہے جب معاشرہ ظاہری چہروں اور دعووں کے بجائے کردار کو پرکھنے کا شعور پیدا کرے گا۔ پاکستان کو ایک سچی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ہمیں اس لاشعوری منافقت کے ہجوم سے نکل کر باکردار انسانوں کی جماعت بننا ہو گا۔