Muhammad Asif Raza 2 weeks ago
Muhammad Asif Raza #entertainment

نقارہ بجنے سے پہلے

Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Fiction is defined as any creative literary or narrative work that portrays imaginary characters, settings, and events. The human history is all about people who struggle in their lives and make the very stage of life meaningful and purposeful. This write up in Urdu "نقارہ بجنے سے پہلے" is a story based upon the political history of world especially in Muslim countries.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


نقارہ بجنے سے پہلے


کہتے ہیں کہ ملکِ عدن کے سب سے بڑے قلعے میں جب شام ہوتی تھی اور چراغ جل اٹھتے تھے، تو ایک قصہ گو قلعہ کے بڑے بازار کے وسط میں ایک بڑے چبوترے پہ کھڑا ہو جاتا تھا اور جہان بھر کے قصے سناتا تھا، جنہیں سننے کے لیے دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔

اسی طرح ایک رات اس نے شام ہوتے ہی اعلان کرنا شروع کر دیا: "لوگو آؤ! آج کا ایک قصہ سنو۔۔۔ یہ تمہارے جینے کا مقصد بدل دے گا۔۔۔ میں اس کی تم سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگوں گا۔۔۔ آؤ آؤ۔۔۔ یہ عبرت کا قصہ ہے۔۔۔ آؤ اور سنو!"۔۔۔

لوگ حیران تھے کہ آخر قصہ گو آج کیا عبرت انگیز کہانی سنائے گا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس رات چبوترے کے گرد اکٹھے ہو گئے اور بازار میں ایک گہرا سکوت طاری ہو گیا۔


اس نے کہانی سنانی شروع کی: "میرے عزیزو! کہتے ہیں کہ سینکڑوں سال قبل ملکِ یزدگرد میں ایک خاندان حکمران تھا۔ وہ اپنی شوکت اور شان کے نرالے مالک تھے۔ مگر جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، بادشاہت جب نکموں اور عیاشوں کے ہاتھوں میں آتی ہے تو تباہ ہو جاتی ہے، سو ان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ دور دراز سے ایک فرنگی بادشاہ کے فوجی تاجروں کا روپ دھار کر آئے؛ ان کے پاس کچھ جدید طرز کا اسلحہ تھا جس کے سبب انہوں نے یزدگرد کی نالائق اور ٹکڑوں میں بٹی فوج کو شکست دے کر اس پورے ملک پہ قبضہ کر لیا۔

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ملکِ یزدگرد میں ایک دانا پیدا ہوا۔ اس نے بکھری ہوئی قوم کو اکٹھا کیا اور اپنی بہترین تدبیر سے اس غیر ملکی فوج کو اس کا وطن چھوڑنے پہ مجبور کر دیا۔ اس کی سب سے بڑی تدبیر اس کی اپنی قوم کو ایک نظریہ کے تحت ایک قوت بنا دینا تھی؛ اور پھر اس نے اپنی قوم کو اپنے ارد گرد جمع کر کے فرنگی حکمران کے خلاف کھڑی کر دی تھی۔ لیکن اس دانا نے ایک اور بھی عجیب لیکن عظیم کام کیا۔ وہ خود بادشاہ نہیں بنا، بلکہ اس نے قوم کو جمہوریت کا سبق دیا اور سمجھایا کہ انہیں اپنی صفوں میں سے قابل، دیانت دار اور سمجھدار لوگوں کو حقِ حکمرانی دینا چاہیے۔ ابھی وہ یہ سبق سکھا ہی رہا تھا کہ اسے موت نے اچک لیا۔


اس کی قوم ہزاروں سال سے بادشاہوں، راجواڑوں، نوابوں اور علاقائی جابروں کے تحت زندگی گزار رہی تھی؛ اور ان کو صحیح معنوں میں جمہوری تقاضوں، اصولوں، قوانین اور رواجوں کا علم ہی نہیں تھا۔ ان کو خدائے یزدان کی آسمانی حکمرانی کا خواب دکھایا گیا تھا، مگر وہ تو بتوں اور جیتے جاگتے حکمران خداؤں کے تحت زندگی گزارنے والے تھے؛ اور علاقائی جابروں سے حکومت چھیننے کی ان میں ہمت ہی نہیں تھی۔ انہوں نے فرنگی حکمرانوں کے بعد اپنی زمین کے جابروں کو اپنا خدا مان لیا اور سچی بات تو یہ ہے کہ بندوق بردار جابروں سے کوئی تنہا آخر کیسے لڑے؟"۔۔۔۔

قصہ گو نے یہاں رک کر مجمعے پر گہری نظر ڈالی اور اپنے حاضرین سے پوچھا: "اے لوگو! کیا تم تنہا فرداً فرداً اپنے ظالم سے لڑو گے؟"


مجمعے سے خوف اور بے بسی میں ڈوبی ہوئی مختلف آوازیں بلند ہوئیں، مگر قصہ گو جواب کا انتظار کیے بغیر آگے بڑھ گیا۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:۔۔۔


"اس کے بعد وہ ملک افراتفری اور قحط الرجال کا سامان بن گیا۔ دانا کی آنکھیں بند ہوتے ہی اندھیر نگری چوپٹ راج کی بنیاد پڑی۔ اس ملک میں سو طرح کے سیاسی اور انتظامی تجربات کیے جانے لگے۔ نتیجتاً ملک میں قانون نام کا کوئی نشان باقی نہ رہا۔ ملک کے طاقت کے مراکز اور قانون اور انصاف کے عہدوں پر مامور افراد اپنے فرائض کو پسِ پشت ڈال کر ذاتی تعلقات، خاندانی رشتوں یا ناجائز وفاداریوں کو اولیت دینے لگے، تو انصاف کا سرِعام قتل عام ہوا۔ مگر وہاں سب کچھ آئین اور قانون کے نام پہ کیا جاتا رہا۔

اس دور میں 'کوتوال' محض ایک روایتی عہدہ نہیں رہا، بلکہ یہ ریاست کے تمام طاقتور عہدوں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی علامت بن گیا جن کے ہاتھ میں عوام کی تقدیر ہوتی ہے۔ جب ان علامتی کوتوالوں نے اپنے قریبی لوگوں، چہیتوں اور سہولت کاروں کے جرائم پر آنکھیں بند کر لیں، تو معاشرے کا طاقتور طبقہ مزید شیر ہو گیا اور کمزور پامال ہوتا چلا گیا۔

انہیں دنوں میں اس ملک میں ایک 'سپہ سالار رانی' کا نام مشہور ہوا، وہ ملک کی سپاہ کی سالار نہیں تھی بلکہ سپہ سالار کی رکھیل تھی۔۔۔ اس کے کارنامے اور طاقت کا اثر و رسوخ ایسا مشہور ہوا کہ ریاست کے بڑے بڑے منصب دار اس کے اشاروں پر ناچنے لگے۔ چور، لٹیرے اور مجرم اس کی اوٹ میں پناہ لیتے اور جب عام لوگ گلیوں میں نکلتے تو یہ بااثر مجرم ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے: 'سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا!'۔ یوں پورے ملک میں طوائف الملوکی کا راج بن گیا جہاں قانون بازیچۂ اطفال بن چکا تھا۔ ملک کا آئین اور قانون عقل و خرد، منطق اور دلیل کے بجائے کسی طوائف کے کوٹھے پہ ہونے والے عہد و پیمان بن گئے۔۔۔ جو انگ انگ سے ابھرتی خواہشات اور فرمائشوں کے مرہونِ منت ہوتے تھے۔


جب قانون محض ایک کاغذ پہ لکھے حروف رہ گئے اور عقل و خرد اور دلیل و منطق محض اٹکل پچو بن گئے اور انصاف کا ترازو صرف دولت اور طاقت سے ناپنے کا نشان بن گیا اور انصاف مٹ گیا، تو اس اندھیر نگری کے بطن سے دو بڑے خاندان ابھرے۔ انہوں نے اپنی چرب زبانی اور چپڑی باتوں سے معصوم عوام کو لبھایا، انہیں سبز باغ دکھائے اور قوم کی سپاہ کے ساتھ مل کر زور زبردستی کا نظام قائم کیا اور پھر لوٹ مار کا وہ بازار گرم کیا کہ پورے ملک میں ہاہاکار مچ گئی۔ ان دونوں خاندانوں نے ریاستی خزانوں کو مالِ غنیمت سمجھ کر لوٹا اور 'سیاں ہوئے کوتوال' کی ذہنیت کو باقاعدہ ایک خاندانی نظام کے ماتحت بنا دیا۔ قوم پھر سے جمہوری تقاضوں کے تحت غلام بنا دی گئی۔


عوام مایوسی کے گھنے اندھیرے میں ڈوب چکے تھے کہ اسی گھٹن زدہ ماحول میں، ان کی صفوں سے ایک مردِ آہن ابھرا!۔۔۔

ایک ایسا شخص جس کا عزم چٹان کی طرح مضبوط اور ارادہ لوہے کی مانند سخت تھا۔ اس مردِ آہن نے مایوس اور لٹی ہوئی قوم کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی آنکھوں میں امید کے دیے جلائے۔ اس نے عوام کو 'انصاف کی حکمرانی اور ماں کے جیسی ریاست' کا خواب دکھایا اور سکھایا کہ حقیقی جمہوریت کیا ہوتی ہے؟ اس نے بتایا کہ جمہوریت چند خاندانوں کی غلامی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور جہاں میرٹ اور انصاف کے سوا کسی مصلحت کو قبول نہیں کیا جاتا۔ جہاں غریب کا بچہ بھی اپنے فضائل اور محنت سے حکمرانی کا تاج سر پہ سجا سکتا ہے، مگر وہ عوامی خواہشات کے تابع اور خدائے یزدان کے احکامات کی پیروی میں ہوگا۔


مگر ان دو لٹیرے خاندانوں نے جب دیکھا کہ ان کی لوٹ مار کی سلطنت لرز رہی ہے، تو انہوں نے خوف اور مکر کا آخری کھیل کھیلا۔ انہوں نے فرنگی آقاؤں کی خواہشات کے تحت اور ریاست کے بکاؤ کوتوالوں کو ساتھ ملا کر اس مردِ آہن کو سلاخوں کے پیچھے قید میں ڈال دیا!۔۔۔

حکمران اشرفیہ سمجھے تھے کہ زنجیریں اس کی آواز کو دبا دیں گی، لیکن وہ نادان یہ بھول گئے کہ نظریات کبھی قید نہیں ہوتے۔ لوہے کی بھاری ہتھکڑیاں اس مردِ آہن کے جسم کو تو جکڑ سکتی تھیں، مگر اس کے افکار کی پرواز کو قید کرنا ان بکے ہوئے کوتوالوں کے بس میں نہ تھا—وہ قید خانے کی اس تاریک کوٹھڑی میں بھی یزدگرد کے لیے ایک روشن اور سچے سویرے کا خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔


اس مردِ آہن کو راستے سے ہٹانے کے بعد، ان خاندانوں نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے بیرونی طاقتوں کے سامنے سجدہ ریزی کی اور اپنی کرسی کی خاطر ملک کی سلامتی، غیرت اور وقار کا سودا کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک یزدگرد غربت کے اس بھیانک مقام تک پہنچ گیا کہ ملک کا ہر دوسرا شخص غریب بن گیا، جس کے لیے اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کی سوکھی روٹی کا انتظام کرنا بھی محال ہو گیا۔ پورا ملک غیر ملکی قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دب گیا، مگر ان لٹیرے حکمرانوں کی عیاشیاں اور شاندار سواریاں اسی طرح جاری رہیں اور ان کی دولت غیر ملکی بینکوں کے خفیہ کھاتوں میں بڑھتی چلی جا رہی تھی۔"۔۔۔


قصہ گو کی آواز میں اچانک ایک بے پناہ جوش اور جلال ابھرا۔ اس نے مجمعے کے ایک ایک چہرے پر نگاہ ڈالی اور گرجدار لہجے میں کہا:۔۔۔


"میرے عزیزو! سنو اور یاد رکھو! قدرت کا کوڑا اگرچہ دیر سے برستا ہے، مگر جب برستا ہے تو ظالم کو اپنے لرزہ خیز اور المناک انجام سے دوچار ہونا ہی پڑتا ہے۔ یہ کائنات کسی جابر کوتوال کی جاگیر نہیں، بلکہ ایک عادلِ حقیقی کا میدانِ معرکہ کن فیکون ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے۔

شداد، قارون اور فرعون سب طاقت کے نشے میں چور تھے، یہ سب اپنے وقت کے وہ 'کوتوال' تھے جو سمجھتے تھے کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ مگر قدرت کا ایک قانون ہے—'نقارہ بجنے سے پہلے'۔ ہاں! اس آخری عدالت کا نقارہ بجنے سے پہلے پہلے توبہ کر لینی چاہیے، اپنے گناہوں کا ازالہ کر لینا چاہیے اور عوام کا لوٹا ہوا حق انہیں لوٹا دینا چاہیے۔ ورنہ جب مہلت ختم ہو جاتی ہے، تو پھر تباہی آتی ہے... بالکل خاموشی سے، دبے پاؤں، مگر پوری طرح!"۔۔۔


قصہ گو نے ایک لمحے کا توقف کیا۔ بازار میں ہو کا عالم تھا، جیسے سب کو اپنی اپنی تقدیر کا خوف ستا رہا ہو۔ مجمعے کے وسط میں کھڑے ایک بوڑھے، نحیف دکاندار نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھے اور دھیمی آواز میں سرگوشی کی: 'یہ یزدگرد کا فسانہ نہیں، یہ تو ہمارا ہی دکھڑا ہے، یہ کہانی تو شاید ہماری ہی کہانی ہے!'۔۔۔

ہر شخص کا سر اثبات میں ہل رہا تھا کیونکہ اس وقت اس قلعے کے رہائشی بھی بالکل اسی ظلم اور بے بسی کا شکار تھے۔ قصہ گو کا دعویٰ سو فیصد درست تھا، یہ واقعی ایک ہلا دینے والا عبرت انگیز قصہ تھا۔


پھر قصہ گو نے اپنا رخ اس قلعے کے اونچے ایوانوں کی طرف کیا جہاں حکمران اشرافیہ لٹیرے بن کر عیش و عشرت میں مست تھے، اور اس کا لہجہ ایک آخری، اٹل فیصلے کی طرح گونجا:۔۔۔

"لوگو سنو! ایک دن نقارہ بج جاتا ہے اور ایک ایسے دن جب ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا؛ جب وہ اپنے عیش و عشرت کی انتہا پہ تھے تو قدرت کا نقارہ بج گیا!۔۔۔

اور سنو میرے لٹے ہوئے بھائیو! اس ملکِ یزدگرد میں بھی آخرکار وہ گھڑی آ ہی گئی۔ ظلم کے گھڑے بھر چکے تھے، غریبوں کی آہیں آسمان تک پہنچ چکی تھیں اور اس مردِ آہن کی قید نے عوام کے دلوں میں وہ چنگاری سلگا دی تھی جو اب ایک شعلہ بن چکی تھی۔

اور پھر... نقارہ بج گیا!۔۔۔


ہوا کچھ ایسے کہ اس مظلوم قوم کے نوجوان باغی ہو گئے۔۔۔ وہ خوف کی دیواریں پھلانگ کر ظلم کے ان اونچے ایوانوں کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔۔۔ وہ دو لٹیرے خاندان، ان کے فرنگی آقا، اور ان کے بکے ہوئے کوتوال سب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ مکافاتِ عمل کا وہ کوڑا برسا کہ ان کے غیر ملکی بینکوں کے کھاتے، ان کے عالی شان محلات اور ان کی تیز رفتار سواریاں انہیں قدرت کے غیظ و غضب سے نہ بچا سکیں۔ عوام کا سمندر بیدار ہوا، جیل کے دروازے ٹوٹے، مردِ آہن رہا ہوا اور انصاف کی وہ عدالت لگی کہ ظالم اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھوں میں گر کر عبرت کا نشان بن گئے۔


تاریخ کا سب سے بڑا اور تسلی بخش سبق یہ بھی ہے کہ ظلم کا استعارہ کتنا ہی زور آور کیوں نہ ہو، بالآخر المناک انجام سے دوچار ہوتا ہے۔ فرعونوں، نمرودوں اور جابر کوتوالوں کا عروج عارضی ہوتا ہے، جبکہ مکافاتِ عمل کا قانون اٹل ہے۔ انصاف کی پامالی پر رقص کرنے والی طاقتیں آخرکار خود اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھوں میں گر کر عبرت کا نشان بن جاتی ہیں، اور فتح ہمیشہ حق اور سچے انصاف کی ہی ہوتی ہے۔

'سیاں ہوئے کوتوال' کا تکبر عارضی ہے، اور عنانِ اقتدار کو رقاصہ کے آنگن سے نکل کر بالآخر انصاف کی چوکھٹ پر سرنگوں ہونا ہی پڑتا ہے!۔۔۔

اے لوگو! خدا اس قوم کی تقدیر نہیں بدلتا جو خود اپنی تقدیر نہیں بدلنا چاہتے۔۔۔ اور وہ قوم زندہ قوم ہوتی ہے جس کی نوجوان نسل امنگ اور ترنگ کی حامل ہوتی ہے۔۔۔


اے لوگو! جمہوریت میں عوام کو بیدار ہونا چاہیے اور اپنے حق اور فرائض کا کماحقہ ادراک ہونا چاہیے۔ ایک بیدار جمہوری ریاست میں کبھی کسی خاندان کو بادشاہت کا تاج پہننے نہیں دیا جاتا۔ وہ احتساب کا کوڑا ہاتھ میں رکھتی ہے اور حکمرانوں کو سیدھی راہ پہ۔ اور اگر جمہور خود اپنے حق کا دعویٰ نہ رکھے تو خدائے لم یزل پہلے خود اس قوم کو سزا دیتا ہے۔۔۔

کون ہے جو عبرت پکڑے؟ جو عبرت پکڑتا ہے وہی نقارہ بجنے سے پہلے توبہ کر پاتا ہے۔"۔۔۔


قصہ گو خاموش ہو گیا۔ اس نے اپنا جھولا کندھے پر ڈالا اور چبوترے سے اتر کر اندھیرے میں غائب ہو گیا۔

قلعہ عدن کے بازار میں اس وقت چراغ جلتے جلتے دھیمے ہو رہے تھے، مگر لوگوں کے دلوں میں ایک نئی صبح کی امید جاگ چکی تھی۔

رات کا پچھلے پہر ڈھل رہا تھا اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بازار کی گلیوں سے گزر رہے تھے۔ چبوترے کے گرد کھڑے ہر نوجوان کی آنکھ میں اب عزم اور بدلاؤ کا ایک دیا روشن تھا۔ اب خدا جانے کل کا سورج جب دھیرے دھیرے افق سے طلوع ہوگا تو زمین پر کیا رنگ بکھیرے گا؟ کیا ملکِ عدن کے نوجوان کے دل میں امنگ اور ترنگ کی جوت لگے گی؟ لیکن یہ سچ تھا کہ ملکِ عدن کے نوجوانوں کے دلوں میں امنگ اور ترنگ کی جوت اب مقفل لگ چکی تھی، جو اب کسی جابر کے بجھائے بجھنے والی نہیں تھی!۔۔

نقارہ بجنے سے پہلے

ملکِ عدن کے اک قلعے میں، جب بھی شام ڈھلتی تھی

چراغوں کی دھیمی لو میں، اک محفل سجتی تھی

وسطِ بازار چبوترے پر، اک قصہ گو آتا تھا

جہان بھر کے عبرت خیز، وہ قصے سناتا تھا

اک رات پکارا وہ بلند، "لوگو! آؤ سنو فسانہ"

بدل دے گا جو جینے کا، تمہارا ہر اک نشانہ

نہ مانگوں گا میں کوئی اجرت، یہ سودا سراسر مفت ہے

یہ قصہ ہے اک عبرت کا، یہ بیداری کی ایک سفت ہے


کہا اس نے، "تھا سینکڑوں سال پہلے اک دیسِ یزدگرد"

جہاں تھی اک شاہی سلطنت، پر عیش میں تھی وہ غرقِ گرد

نکموں اور عیاشوں کے ہاتھوں، دیس وہ اپنا ہار گیا

فرنگی تاجروں کا لشکر، بندوقیں لے کر مار گیا

مگر اس دیس کی مٹی سے، اک مردِ دانا اٹھ کھڑا ہوا

اک پاکیزہ نظریے سے، وہ قوم کو یکجا کر گیا

نکل گئی فرنگی فوج، جب قوم بنی اک فولاد

پر دانا خود نہ بنا نواب، کیا جمہور کو آباد

وہ سکھا رہا تھا اصول و آئیں، کہ موت نے اس کو اچک لیا

وہ دیس پھر قحط الرجال کے، اندھے کنویں میں جا گرا

وہ قوم جو صدیوں تک رہی، جابر خداؤں کے سائے میں

وہ دانا کا خواب کیا سمجھتی، الجھ گئی اپنے وائے میں

انصاف کا ترازو بکنے لگا، آئیں بساط کی کھیل بنی

کوتوال بن گئے جابر سب، اور قومِ غریب کی جیل بنی

اک 'سپہ سالار رانی' کی، ایوانوں میں تقدیر چلی

کوتوال چہیتا بن بیٹھا، جب طوائف کی تحریر چلی

تب مجرم ہنس کر کہتے تھے، قانون تو ایک تماشہ ہے

"سیاں بھئے کوتوال ہمارے، اب ڈر کاہے کا، کیا اندیشہ ہے؟"

اس طوائف الملوکی سے، دو لٹیرے خاندان ابھرے

چپڑی باتوں سے عوام کو لوٹا، فرنگی آقا کے مہرے

خزانے بن گئے مالِ غنیمت، غریب کا خون نچوڑا گیا

عوام کو نسل و زباں کے نام پر، ٹکڑوں میں توڑا گیا

جب گھٹن بڑھی تو صفوں سے، اک مردِ آہن اٹھ کھڑا ہوا

'ماں جیسی ریاست' کا لے کر، وہ سچا خواب بڑا ہوا

کہا اس نے، "یہ جمہوریت نہیں، یہ تو خاندانی غلامی ہے"

جہاں غریب کا بچہ تاج سجائے، وہی اصل عوامی ہے

پر لٹیروں نے فرنگی کی، مصلحتوں کا جال بنا

مردِ آہن کو زنجیر کیا، اور بکا ہوا کوتوال بنا

ہتھکڑیاں اس کے جسم کو تو، قید خانے میں جکڑ گئیں

پر افکار کی اونچی پروازیں، بکنے سے صاف مکر گئیں

وہ دیس گروی رکھ کر بھی، لٹیروں کی عیاشی جاری تھی

ہر دوسرا شخص تھا بھوکا، جہاں افلاس کی بیماری تھی


تب قصہ گو نے مجمعے پر، اک پرجلال نگاہ ڈالی

اور گرج کر بولا، "سنو لوگو! قدرت کی لاٹھی ہے عالی"

کیا شداد، قارون اور فرعون، بچ پائے تھے اپنے عبرت سے؟

یہ وقت بدلتا ہے ظالم کا، نقارہ بجنے کی مہلت سے

نقارہ بجنے سے پہلے پہلے، توبہ کا در کھلا ہوا ہے

ورنہ جب قدرت کا کوڑا برستا ہے، تو سب کچھ دھلا ہوا ہے

مجمعے میں کھڑے اک بوڑھے نے، تب رو کر دھیمے سے کہا

'یہ یزدگرد کا قصہ نہیں، یہ تو ہمارا ہی ہے ماجرا!'


نقارہ بج گیا!

اور پھر اک دن وہ گھڑی آئی، جس کا ظالم کو وہم نہ تھا

جب عیش کوہی کی انتہا پر تھے، قدرت کا کوئی رحم نہ تھا

نقارہ بج گیا غیب سے، اور قوم کے نوجوان باغی ہوئے

خوف کے موروثی بت ٹوٹے، جب کچلے ہوئے تیاگی ہوئے

کوتوالوں کے ڈنڈے اور گولیاں، عزمِ جواں کو روک نہ سکے

جب لہو بہا گلیوں میں ان کا، تو جابر پاؤں پھونک نہ سکے

ایوانِ ظلم لرز اٹھے، اور لٹیروں کا وہ گڑھ ٹوٹا

عوام کا ایسا سیلاب آیا، کہ بندھن کا ہر پھند ٹوٹا

جیل کے لوہے پگھل گئے، وہ مردِ آہن رہا ہوا

انصاف کی ایسی عدالت لگی، ہر جابر کا منہ سیاہ ہوا

'سیاں ہوئے کوتوال' کا وہ، جھوٹا تکبر ہار گیا

رقاصہ کا آنگن اجڑ گیا، جب حق کا نعرہ مار گیا

سنو لوگو! خدا اس قوم کی تقدیر، کبھی نہیں بدلتا ہے

جو خود اپنی تقدیر بدلنے، کے راستے پر نہیں چلتا ہے

زندہ قوموں کے نوجوانوں میں، اک امنگ اور ترنگ ہوتی ہے

بیدار جمہور کے ہاتھوں میں، احتساب کی ایک امنگ ہوتی ہے


قصہ گو اب خاموش ہوا، اور اندھیرے میں وہ لوٹ گیا

بازار کے چراغ دھیمے تھے، پر دل کا اندھیرا ٹوٹ گیا

رات کا پچھلا پہر تھا اور، ٹھنڈی ہوا اب چلتی تھی

ہر نوجوان کی آنکھ میں اب، بدلاؤ کی جوت جلتی تھی

اب خدا جانے کل کا سورج، کیا رنگ زمیں پر بکھیرے گا؟

کیا قلعہ عدن کا نوجوان، اب ظلم کے راستے گھیرا کرے گا؟

پر سچ تو یہ تھا کہ دلوں میں، اک شمع مستقل جاگ اٹھی

امنگ اور ترنگ کی وہ جوت، جو اب بجھنے سے بھاگ اٹھی!


1
168

Explore Professional Anxiety Counseling and CBT for Insomnia in Prince...

Princeton Psychotherapy Center providses a supportive environment for individuals seeking...

defaultuser.png
therapistnj25
9 minutes ago

Camp Lights

defaultuser.png
LEDADVANTAGE
1 hour ago

PoE 2 Count Geonor Explained: U4GM Survival Guide

Count Geonor is one of the first major challenges in Path of Exile 2, and for good reason....

defaultuser.png
zsdlsd
1 hour ago

Hemp t-shirts

Hemp t-shirts

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJxJu_32MrCOd40bLxxbz_9FgQfkwkEHyXzlcNjohXobe41=s96-c
Krishna Murari
5 hours ago
Copa Airlines Baltimore Office

Copa Airlines Baltimore Office

defaultuser.png
charlottehayes9923
7 hours ago