زندگی ماہ و سال کی کہانی ہے؛ ہر گذرتا دن تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے اور سو یہ زمین پر بسنے والے انسانی تاریخ کی کہانی بن جاتی ہے۔ انسانی تاریخ قوموں کے عروج و زوال کی داستان ہے؛ اس داستان کا اہم ستون ماں ہوتی ہے؛ جس کی کوکھ سے ساری آدم کی اولاد جنم لیتی ہے۔ یہ تحریر ایک ماں کی برسی کے موقع پر لکھی گئی ہے۔ یہ تحریر لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان (ریٹائرڈ) کا اپنی ماں کو خراجِ تحسین ہے۔
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
کرنل کی ڈائری: امی جی! آج بھوک نہیں لگ رہی؟
آج امی جی کی ستائیسویں برسی ہے۔ ان ستائیس برسوں میں کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرا جو ماں کی یاد سے خالی گیا ہو۔ ہر نماز کے بعد والدین کی مغفرت کی دعا تو ہوتی ہی ہے، لیکن روزمرہ زندگی کے ہر قدم پر ان کی یاد ہمیشہ ساتھ ہوتی ہے۔
عمر کے اس حصے میں صبح نیند سے اٹھنے کے لیے ہم موبائل فون پر الارم لگاتے ہیں۔ مگر کبھی ایسا وقت بھی تھا جب علی الصباح ایک میٹھی آواز آتی تھی: "ماں صدقے، چلو اٹھو، نماز پڑھو اور اسکول جانے کی تیاری کرو۔"
امی جی کے بوسے میرے ماتھے پر ایسی تاثیر چھوڑتے تھے کہ رات کو سوتے ہوئے وہ لوری کا کام کرتے۔ ہم بے فکری سے نیند کی وادیوں میں کھو جاتے۔ ہمارے سو جانے تک وہ نا جانے کون کون سی دعائیں پڑھ کر ہم پر پھونکتی رہتیں۔ اور صبح ہوتے ہی وہ اپنے لعل کے ماتھے پر پھر بوسہ دے دیتیں تو ہم تازہ دم ہو جاتے۔
اب صبح دفتر جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو پھر سے اسکول کا زمانہ یاد آ جاتا ہے۔ اسکول کا استری کیا ہوا صاف ستھرا یونیفارم تیار ملتا تھا۔ ٹفن باکس میں ان کے ہاتھ کا بنا ہوا لذیذ اور غذائیت سے بھرپور کھانا وقت پر تیار ہوتا۔ مجھے نہیں یاد کہ ہم کبھی میلے کپڑوں میں، بغیر استری کے یا قمیض کے ٹوٹے بٹنوں کے ساتھ اسکول گئے ہوں۔ وہ ہم سب بہن بھائیوں کے یہ تمام کام اپنے ہاتھوں سے کر کے خوشی محسوس کرتی تھیں۔
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
اسکول اور کالج کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ ہم سب کی ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے نہ صرف حوصلہ افزائی کرتیں بلکہ تیاری بھی خود کرواتیں۔
اسکول سے واپسی پر گھر صاف ستھرا ملتا، دسترخوان پر کھانا تیار ملتا۔ وہ اکیلے یہ سب کچھ کیسے کر لیتی تھیں، یہ راز ان کے ساتھ ہی چلا گیا۔
وہ سلیقہ شعار بھی تھیں اور کفایت شعار بھی۔ مگر سب سے بڑھ کر وہ ایک بہترین میزبان تھیں۔ ان کا حلقہ احباب اور دسترخوان دونوں ہی وسیع تھے۔ وہ مہمانوں کو اللہ کی رحمت سمجھتی تھیں۔
انہوں نے ہمیشہ رشتوں کی قدر کی۔ غم اور خوشی کے مواقع پر دوسرے شہر جانے سے کبھی نہیں گھبراتی تھیں۔ ان کے دم سے ہمارا گھر محلے کا مرکزی گھر بنا رہتا تھا۔ جہاں خواتین اپنے مسائل کے حل اور مشورے کے لیے ہر وقت موجود رہتی تھیں۔
دوسروں کی مدد کے جذبے سے سرشار امی جی نے اپنی صحت کی طرف توجہ نہ دی اور کم عمری میں ہی ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو گئیں۔ پھر ایک دن فالج کے حملے نے ایک ایسی خاتون کو، جس کی پورے دن کی نیند محض چار سے پانچ گھنٹے ہوتی تھی، بستر سے لگا دیا۔ اسی دوران وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
اتنی بیماریوں کے باوجود ان کے لبوں پر ہمیشہ "الحمدللہ" کا ورد رہتا، چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔ جب کبھی ان کا حال پوچھا جاتا تو وہ مسکرا کر کہتیں: "الحمدللہ، بالکل ٹھیک ہوں۔" اپنی اولاد کے سامنے کبھی اپنی تکلیف کا ذکر نہیں کرتی تھیں۔ نا جانے مائیں کس مٹی کی بنی ہوتی ہیں؟
آج صبح ناشتہ کرتے ہوئے میں پھر سے بچپن میں کھو سا گیا۔ ناشتہ سامنے پڑا تھا مگر بھوک مر چکی تھی۔ بچپن میں بھی کبھی کبھی بھوک نہ لگتی تو میں کہہ دیتا: "امی جی، آج بھوک نہیں لگ رہی۔"
لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے۔ وہ بڑے پیار سے مجھے گلے لگا کر کہتیں: "ماں صدقے بیٹا، تھوڑا سا کھا لے۔" اپنے اس پیار میں وہ اپنے ہاتھ سے لقمے بنا کر پوری روٹی ہی کھلا دیتیں۔ اور جب روٹی ختم ہوتی تو ان کے چہرے کی خوشی دیکھنے کے قابل ہوتی۔
کاش آج بھی مجھے وہ میٹھی آواز میسر ہوتی۔ کاش ایک بار پھر سے وہ میرا ماتھا چوم کر کہتیں: "ماں صدقے، کھا لے بیٹا۔"
مگر اب تو صرف یادوں کا دسترخوان بچا ہے۔ اور اس دسترخوان پر بیٹھ کر دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے:۔
اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
امی جی، آج بھی جب بھوک نہیں لگتی تو میں آپ ہی کی یاد میں کھو جاتا ہوں۔ مگر اب نہ تو وہ لقمے بنا کے کھلانے والا ہاتھ میسر ہے، نہ وہ "ماں صدقے" کہنے والی آواز۔ مگر آپ کی دعائیں، آپ کا پیار اور آپ کی مسکراہٹ آج بھی میرے ساتھ ہیں۔
شاید اسی لیے زندگی کی ہر مشکل میں، ہر تنہائی کے لمحے میں، جب دل بھاری ہو جاتا ہے تو بس ایک ہی خیال آتا ہے کہ ماں جیسی کوئی اور نہیں ہوتی۔
جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے
✍️: لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، ریٹائرڈ
کراچی
21 اپریل 2026
Glucotex est un complément alimentaire formulé pour aider à maintenir une glycémie saine,...
Nel contesto digitale attuale, la ricerca di informazioni sanitarie è in continua crescita...