کون غلطی پہ ہے؟
Storytelling is an important tool because it builds emotional connections, helps people remember information, and fosters empathy. Pakistan came into being in 1947 and break up into two in 1971. The fall of Dhaka was an ultimate end of two and half decade of misrule and bad management. This story in Urdu "ایک بےمقصد تمثیل" is about the a person who has some ironic memories of East Pakistan and is observing deteriorating law and order situation.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
کون غلطی پہ ہے؟
کراچی کے ایک اپارٹمنٹ کے بند کمرے میں کمال شہر کی جانب کھلتی کھڑکی پہ کھڑا تھا؛ اور اس کو لگ رہا تھا کہ باہر سڑکوں پر ایک عجیب، جانی پہچانی سنسناہت رقص کر رہی تھی۔ کھڑکی کے شیشے پر ہاتھ دھرے، کمال کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون میں وہی سردی اتر آئی تھی جوسنہ ستر کی دہائی کے اوائل میں، مشرقی پاکستان میں اپنے بچپن کے دنوں میں محسوس کی تھی۔ یہ سرد سنسناہت ایک انجانے خوف کی تھی، یا شاید اس سچ کی، جو اب 55 سال بعد 2026ء میں پوری آب و تاب کے ساتھ اس کے سامنے ننگا کھڑا تھا۔
کمال کو اپنی خالہ کی سنائی ہوئی کہانیاں یاد آ رہی تھیں۔ وہ 1971ء میں ایک بڑھتی عمر کا بچہ تھا جب پدما دریا اور اس کی شاخوں کے کناروں پر بارود کی بو پھیلی تھی۔ اس کے باپ دادا نے قائد اعظم کے اس نظریاتی پاکستان کا ساتھ دیا تھا جس کا خواب انہوں نے 1947ء میں دیکھا تھا۔ انہوں نے مجیب الرحمٰن کے "سونار بنگلہ" کو مسترد کر کے پاکستان کی بقا کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن اس وفاداری کی قیمت بہت بھاری ادا کرنی پڑی تھی۔
خالہ روتے ہوئے بتاتی تھیں کہ 25 مارچ 1971ء کی اس سیاہ رات کو جب "آپریشن سرچ لائٹ" شروع ہوا، تو ڈھاکہ کی فضا ٹینکوں کی گرج اور مشین گنوں کی تراہٹ سے لرز اٹھی تھی۔ تیز سرچ لائٹوں کا اندھا کر دینے والا اجالا پدما کے پانیوں پر موت کا رقص سجا رہا تھا۔ بوڑھے مانجھی، امین الباری جیسے محبِ وطن ملاح—جس نے ضرورت کے وقت اپنی واحد ناؤ فوج کو سپلائی پہنچانے کے لیے وقف کر دی تھی اور جوانوں پر توقیر کے پھول برسائے تھے—اسے پدما کے اسی کنارے پر اپنوں ہی کی گولیوں سے ڈھیر کر دیا گیا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کا نوجوان قلم کار شمس الانام، جس نے کبھی ان وردی پوشوں کی بہادری کے قصیدے لکھے تھے، اپنے ہی نغموں سے شرمندہ ہو کر، اپنی نبض کے لہو سے کاغذ پر فراز کو وہ لرزہ خیز گونج لکھنے پہ مجبور کر گیا تھا؛
"آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے، اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں۔ یہ سپاہی نہیں، یہ پیشہ ور قاتل ہیں۔"۔۔
جب سقوطِ ڈھاکہ کا وہ قیامت خیز دن آیا، تو اسی المیے سے جنم لینے والے واقعات نے کمال کے والدین کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ویسٹ پاکستان کراچی آ بسیں۔ یہ ریاستِ اسلام تھی، ان کا آخری مستقر، ان کی آخری امید۔ جسے اس وقت کے وزیر اعظم نے "نیا پاکستان" کہا تھا۔ وہ شاید ایک بدقسمت ابتداء تھی۔۔۔
اسی کراچی میں کمال بڑا ہوا۔ ماضی کے زخموں کو بھرنے، اپنے والدین کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو جوڑنے اور اس دھرتی ماں سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس نے سپاہ گری کا راستہ چنا۔ اس نے پورے تیس سال—تین طویل دہائیاں—اسی فوج کی وردی پہن کر گزاریں۔ اس نے سیاچن کی برفانی چوٹیوں پر راتیں کاٹیں، ریگستانوں میں پسینہ بہایا، وفاداری کے تمغے سینے پر سجائے اور ہمیشہ اس فخر میں جیا کہ وہ ایک سچا، غیور 'سپاہی' ہے جو اپنے ملک کا دفاع کر رہا تھا۔
لیکن آج، سال 2026ء کی اس حبس زدہ رات میں، کراچی کے اس اپارٹمنٹ میں بیٹھا وہ ریٹائرڈ فوجی افسر اندر سے لرز رہا تھا۔ وقت کا پہیہ گھوم کر بالکل اسی جگہ واپس آ گیا تھا جہاں وہ 1971ء میں تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ تب وہ ایک بچہ تھا جو دور سے دیکھ رہا تھا، مگر آج اس کے اپنے بچے بھگت رہے تھے۔
اس کا جوان بیٹا اور یونیورسٹی میں پڑھنے والی بیٹی، جو سقوطِ ڈھاکہ کے دہائیوں بعد پیدا ہوئے تھے، اس فکری اور جغرافیائی کربناکی سے بالکل ناآشنا تھے۔ انہوں نے تو اپنے باپ دادا کے ماضی کے اس ہولناک کرب کا صرف سرسری سا ذکر ہی سن رکھا تھا—ایک ایسا ذکر جو ان کے لیے محض تاریخ کی کسی پرانی کتاب کا کوئی دھندلا سا صفحہ تھا۔ کمال کے والدین کے لیے ماضی کا زخم کریدنے سے زخم تازہ تو ہوسکتا تھا؛ مگر فائدہ کچھ نہیں دیتا تھا۔۔۔ وہ اسے بھول جانا بہتر جانتے تھے۔ خاص طور پہ کمال کے والد۔
لیکن آج وہ تاریخ کتاب سے نکل کر اور کمال کی ماں خالہ کی زبانی داستان مجسم ہو چکی تھی۔ جب کمال کے بچے شہر کی سڑکوں پر اپنے آئینی حق اور رائے عامہ کے تحفظ کے لیے نکلے، تو انہیں 'غدار' اور 'شرپسند' کہہ کر تشدد کیا گیا۔ شہر میں عام اور خاص کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ دور موجود کے شاعر منصور آفاق نے ایک پرانی نظم کو نیا روپ دیا ہے، جو احمد فراز کے اسی جلال کے قالب میں ڈھالی گئی تھی، کمال کے موبائل اسکرین پر سسک رہی تھی:۔
رائے عامہ کو بوٹوں سے روندا گیا
جیتنے والے زندان میں ڈالے گئے
بیٹیاں لیڈروں کی اٹھا لی گئیں
روشنی پہ اندھیرے اچھالے گئے
اہل حق پہ تشدد کی برسات کی
دیکھنے والی آنکھیں نکالی گئیں
ساری سچی زبانوں کو کاٹا گیا
بیڑیاں عورتوں کو بھی ڈالی گئیں
کمال نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی الماری کھولی، جہاں تین دہائیوں کی سپاہ گری کا حاصل—اس کی استری شدہ وردی اور چمکتے ہوئے تمغے لٹکے ہوئے تھے۔ اس کی رگوں کی سنسناہت اب ایک ہولناک کرب میں بدل چکی تھی۔ اس کے کانوں میں ایک طرف اس کی خالہ کی آواز گونج رہی تھی کہ "بیٹا، ڈھاکہ میں بھی انہوں نے یہی کیا تھا" اور دوسری طرف احمد فراز کا وہ آخری، کاٹ دار مصرعہ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اس کے وجود میں اتر رہا تھا:۔
خون اترا تمہارا تو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں!۔
وہ سر پکڑ کر وہیں فرش پر بیٹھ گیا۔ اس کا دماغ ایک ایسے ہولناک سوال کے بھنور میں پھنس گیا تھا جس کا جواب دینے کی سکت اس میں نہیں تھی۔ وہ سوچنے لگا:۔
"آخر میں نے کیا غلط کیا؟ میرے باپ دادا نے قائد اعظم کے پاکستان کا ساتھ دے کر کیا غلطی کی تھی؟ 1971ء میں کون غلطی پر تھا اور آج کون غلطی پر ہے؟"
اور سب سے زیادہ روح فرسا سوال، جس نے اس کے تیس سالہ فخر کو یکلخت راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا، یہ تھا کہ... اگر یہ وردی پوش سچی زبانیں کاٹنے والے پیشہ ور قاتل ہیں، تو تین دہائیاں اس نے بھی تو اسی سپاہ گری کی نذر کی تھیں... کیا وہ بھی اسی نظام کا حصہ تھا؟
سچا سپاہی کون تھا اور پیشہ ور قاتل کون؟ گناہ گار کون تھا اور بے گناہ کون؟
مٹی کا یہ قرض آخر کس کے خون سے چکایا جا رہا تھا؟
خاموش کمرے میں صرف کمال کے اندر ایک طوفان برپا تھا، ایک کرب تھا، ایک شور تھا؛ اور باہر سڑکوں پر بوٹوں کی دھمک کا وہ دباؤ، جو تاریخ کی غلطیوں کو اجاگر کئے جا رہا تھا۔ کون غلطی پہ ہے؟
یہ سوال بِن جواب رہا تو معاملہ سدھر نہیں سکے گا۔
احمد فراز نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ایک مشہور نظم لکھی تھی؛ “پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں”؛ اور اب منصور آفاق نے دورِ موجود میں جاری ظلم و ستم کو اسی طرز پرایک نظم کی صورت میں ڈھال دیا ہے؛ “پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں”۔
میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں
جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا
آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے
جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے
پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے
یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے
جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے
ٓاج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی
تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں
آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں
اس تکلیف دہ تصویر کشی کو ایک تمثیلی کہانی کی شکل دی گئی ہے۔ اس کا مقصد اصلاح قوم ہے۔