Muhammad Asif Raza 2 months ago
Muhammad Asif Raza #education

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے؟

Allama Muhammad Iqbal is the poet philosopher of East and the subject verse is one of thousand of them and the particular message conveyed by the verse has been explained numerously. This write up in Urdu " قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے؟" is a discussion wrt the subject verse with the help of a famous Sufi’s saying and a devotional poem from famous poet “Jigar”.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے؟


نفسِ مضمون کا مصرع علامہ محمد اقبال کی مشہور نظم "توحید" (جو ضربِ کلیم میں شامل ہے) کے مندرجہ ذیل بند کا حصہ ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قوم کی حقیقی تشکیل اور امت کی رہنمائی (امامتِ کبریٰ) کا فکری اور عملی فلسفہ ملا اور فقیہ نہیں سمجھ سکتے جو صرف مساجد میں دو رکعت نماز پڑھانے تک محدود ہیں۔ اقبال کے نزدیک دین صرف چند ظاہری عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک انقلابی اور عملی نظامِ حیات ہے جو فکری اور عملی اتحاد سے قوموں کو بناتا ہے۔

اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہ

وحدتِ افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے

اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!۔


ہم اپنے نفسِ مضمون پہ گفتگو ایک ذرا دیر کو روک لیتے ہیں۔ اور سرزمینِ برصغیرِ پاک و ہند کی شان صوفیاء کرام سے منقول ایک قول پہ گفتگو کرلیتے ہیں۔ اسلام کے معتبر اور معروف صوفیاء کرام نے اپنی کتابوں میں تصوف کے فلسفہِ تخلیق اور معرفتِ الٰہی کی بنیاد پہ ایک قول تواتر سے نقل کیا اور اس سے نظریات اخذ کیے ہیں۔ وہ قول ہے (میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو میں نے مخلوق پیدا کی تاکہ وہ مجھے پہچانیں)۔ آئیے اس قول سے متعلق ایک گفتگو صوفیاء کرام کے حوالے سے کرتے ہیں۔

شیخِ اکبر ابنِ عربی (رح) نے اپنی مشہور تصنیف ’الفتوحات المکیہ‘ میں اس قول کو کثرت سے استعمال کیا ہے۔

مولانا جلال الدین رومی (رح) نے اپنی مشہورِ زمانہ ’مثنوی معنوی‘ میں اس تصور کو خوبصورت شاعری اور تمثیلات کے ذریعے بیان کیا ہے کہ کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی اللہ کی محبت اور اس کی پہچان کا ظہور ہے۔

امام غزالی (رح) کی کتابوں میں دیگر صوفیاء کرام کی طرح یہ تصور موجود ہے؛ (جیسے احیاء العلوم کے کچھ مباحث) کے فکری تسلسل میں بھی دیکھا جاتا ہے، جہاں کائنات کی پیدائش کا مقصد معرفتِ الٰہی کو بتایا گیا ہے۔

شیخ اسماعیل حقی (رح) نے اپنی مشہور صوفیانہ تفسیر ’روح البیان‘ میں اس قول کے تحت تفصیلی روحانی نکات بیان کیے ہیں۔

متاخرین صوفیاء اور سلاسل میں چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ سلاسل کے کئی بزرگوں (جیسے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شیخ عبدالقادر جیلانی کے افکار کے شارحین) نے بھی اس قول کو معرفت کا مآخذ مانا ہے۔

صوفیاء کے نزدیک اس کا مطلب کیا ہے؟ صوفیاء فرماتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے اللہ کی ذات ایک "چھپا ہوا خزانہ" تھی (یعنی کوئی اسے جاننے والا نہیں تھا)۔ چونکہ اللہ کی صفات (رحمت، خالقیت، محبت وغیرہ) تقاضا کرتی تھیں کہ ان کا ظہور ہو، اس لیے اس نے کائنات اور خصوصاً انسان کو پیدا کیا تاکہ انسان اپنے دل کے آئینے میں اللہ کی پہچان (معرفت) حاصل کر سکے۔


رئیس المتغزلین جگرمراد آبادی کی ایک غزل کے کچھ حمدیہ اشعار میں عشقِ حقیقی کے تناظر میں معنی کا ایک جہان پیش کرتا ہے۔ یہ غزل ذیل میں دی گئی ہے۔ جگر مراد آبادی کی شاعری کا یہ پہلو؛ انہیں ایک عام رومانی شاعر سے بلند کر کے صوفیانہ رنگ عطا کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جگر مراد آبادی کی زندگی کا آخری دور معروف صوفی بزرگ مولانا اشرف علی تھانوی کی صحبت میں گزرا۔ اس بیعت اور توبہ کے بعد ان کی شاعری میں مجازی رنگ کم ہو گیا اور وہ "آتشِ گل" کے دور تک پہنچتے پہنچتے عشقِ حقیقی کے اعلیٰ مقامات پر فائز نظر آنے لگے۔ جب اس پوری غزل کے حمدیہ اشعار کو عشقِ حقیقی (تصوف اور الٰہی محبت) کے تناظر میں دیکھا جائے، تو غزل کے اشعار اِک بالکل الگ اور گہرے معنی پیش کرتے ہیں۔ پہلے غزل پڑھتے ہیں؛ پھر اس کی تشریح دیکھتے ہیں۔


رئیس المتغزلین جگرمراد آبادی کی ایک حمدیہ غزل

یادش بخیر، جب وہ تصوّر میں آ گیا

شعر و شباب و حُسن کا دریا بَہا گیا

جب عِشق، اپنے مرکزِ اصلی پہ آ گیا !۔

خود بن گیا حَسِین، دو عالَم پہ چھا گیا

جو دِل کا راز تھا اُسے کُچھ دِل ہی پا گیا

وہ کر سکے بَیاں، نہ ہَمِیں سے کہا گیا

دِل بن گیا نِگاہ، نِگہ بن گئی زباں

آج اِک سکوتِ شوق، قیامت ہی ڈھا گیا

میرا کمالِ شعر بس اِتنا ہے، اے جگؔر !۔

وہ مجھ پہ چھا گئے، مَیں زمانے پہ چھا گیا


اس غزل کا دوسرا شعر [ جب عشق اپنے مرکزِ اصلی پہ آ گیا؛ خود بن گیا حسین، دو عالم پہ چھا گیا]اس شعر سے اس غزل کا حمدیہ تعلق اور شان پوری دلیل سے واضع ہوتا ہے۔ عشقِ حقیقی کے زاویے سے اس غزل کی صوفیانہ تشریح درج ذیل نکات سے سمجھی جا سکتی ہے:-۔

غزل کا مطلع [ یادش بخیر، جب وہ تصوّر میں آ گیا؛ شعر و شباب و حُسن کا دریا بَہا گیا] کی صوفیانہ تشریح (تصورِ ذاتِ الٰہی) کچھ یوں کرسکتے ہیں کہ جب سالک (روحانی مسافر) کے ذہن و دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے جلووں کا "تصور" پختہ ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر معرفت اور وجد کا دریا بہہ نکلتا ہے۔ "شعر و شباب و حسن"؛ یہاں شباب سے مراد روح کی وہ تازگی اور بیداری ہے جو ذکرِ الٰہی سے حاصل ہوتی ہے، اور حسن سے مراد کائنات میں بکھرے الٰہی جلوے ہیں۔

عشق کا مرکزِ اصلی (وحدت الوجود) غزل کا دوسرا شعر براہِ راست تصوف کے نظریہ وحدت الوجود کی عکاسی کرتا ہے۔ جب عابد کا عشق اپنے "مرکزِ اصلی" یعنی ذاتِ باری تعالیٰ تک پہنچتا ہے، تو عابد اور معبود کا فرق مٹ جاتا ہے (فنا فی اللہ)۔ روح اپنے اصل سے جا ملتی ہے اور کائنات کی ہر شے میں اسے صرف ایک ہی حسن (خدا کا نور) چھایا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

اور یہ شعر [جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا؛ وہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا] کو یوں بیان کرسکتے ہیں کہ معرفت اور الٰہی محبت کے اسرار ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ "کشف" اور دل کی باطنی کیفیت ہے جسے الفاظ کا جامہ پہنانا ناممکن ہے۔

اور مزید یہ شعر [دل بن گیا نگاہ نگہ بن گئی زباںآج اک سکوتِ شوق قیامت ہی ڈھا گیا] کہ جب بندہ اپنے خالق کے حضور مراقبے یا شدید شوق کی حالت میں ہوتا ہے، تو بظاہر وہ خاموش (سکوت) ہوتا ہے، لیکن اس کا پورا وجود (دل اور آنکھیں) پکار اٹھتا ہے۔ یہ خاموشی ہی خدا سے رابطے کی سب سے بڑی زبان بن جاتی ہے۔

مقطع کا شعر [میرا کمالِ شعر بس اِتنا ہے، اے جگؔر!؛ وہ مجھ پہ چھا گئے، مَیں زمانے پہ چھا گیا] کمال عشق حقیقی کی گواہی ہے۔ جگر مراد آبادی کے اس خوبصورت مقطع کی بہت گہری اور صوفیانہ تشریح یوں ہے کہ یہ زاویہ نظر تصوف کے بنیادی تصور "فنا فی اللہ" اور "غلبہِ معرفت" سے بالکل میل کھاتا ہے۔ جب انسان کا دل اور دماغ اللہ کی محبت میں اس طرح مغلوب ہو جائے کہ اس کی اپنی ہستی مٹ جائے (وہ مجھ پہ چھا گئے)، تو پھر اس کی زبان سے نکلنے والے لفظ عام نہیں رہتے۔ وہ دلوں پر اثر کرتے ہیں اور دنیا ان کی گرویدہ ہو جاتی ہے (مَیں زمانے پہ چھا گیا)۔

جگر مراد آبادی کی زندگی کا آخری حصہ زہد، تقویٰ اور صوفیانہ رنگ میں ڈوب چکا تھا، خصوصاً جب وہ خواجہ اصغر حسین اصغر گونڈوی (جو خود ایک صوفی شاعر تھے) کے زیرِ اثر آئے۔ اس دور میں ان کی غزلوں میں حقیقی عشق کا رنگ بہت گہرا ہو گیا تھا۔ اس تناظر میں "وہ" سے مراد ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ جگر کا یہ ماننا تھا کہ شاعری ان کی ذاتی کوشش نہیں، بلکہ خدا کی طرف سے ان کے دل پر ہونے والا القا اور فیضان ہے۔ وہ اپنی شاعری کا کریڈٹ خود لینے کے بجائے اللہ کے فضل اور اس کی ذات کے اپنے دل پر حاوی ہو جانے کو دیتے ہیں۔

جگر مراد آبادی کی صوفیانہ رنگ سے قبل بھی ایک پہچان تھی۔ اور اس رنگ سے نکل کر جگر نے جو سفر کیا اس نے ان کے کلام کا دو آتشہ کردیا۔ تصوف میں کہا جاتا ہے کہ "المجاز قنطرۃ الحقیقۃ" (مجاز حقیقت کا پل ہے)۔ جگر مراد آبادی کی شاعری کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ ان کا شعر مجاز کے راستے سے ہوتا ہوا حقیقتِ اعلیٰ (اللہ کی محبت) تک پہنچتا ہے۔ اس لیے آپ کی بیان کردہ تشریح اس مقطع کے روحانی اور باطنی حسن کو بہت خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہے۔

نوجوانی میں اکثر افراد عشقِ مجاز میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہ جگر کی یہ غزل ایک امید کا پیغام ہے۔

نوجوانی اور عشقِ مجازی کے حوالے سے جگر مراد آبادی کی اس حمدیہ غزل کا ربط ایک نازک جوڑا ہے؛ جو نفسیاتی اور تربیتی لحاظ سے انتہائی خوبصورت اور حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ غزل واقعی مایوسی کی دلدل میں ڈوبے ہوئے نوجوانوں کے لیے ایک امید کا پیغام اور رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے، کیونکہ جگر مراد آبادی نے خود اپنی زندگی میں اس کٹھن راستے کو طے کیا تھا۔ نوجوانوں کے لیے اس غزل میں چھپے امید کے پیغامات درج ذیل ہیں:-۔

نوجوانی میں جذبات کا ابھرنا اور کسی کی محبت (عشقِ مجازی) میں گرفتار ہونا ایک فطری عمل ہے۔ جگر کا یہ کلام سکھاتا ہے کہ محبت انسان کو تباہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے اندر کے سوئے ہوئے فنکار کو جگانے کے لیے آتی ہے۔ اگر اس جذبے کو مثبت رخ دیا جائے، تو یہ انسان کے اندر صلاحیتوں کا "دریا" بہا سکتا ہے۔ انسان شاعری، ادب، فن یا کسی مثبت تعمیری کام میں کمال حاصل کر سکتا ہے۔

جب نوجوان کسی مجازی محبت میں ناکامی یا دل ٹوٹنے کا سامنا کرتے ہیں، تو وہ شدید مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ غزل انہیں بتاتی ہے کہ دل کا ٹوٹنا دراصل انسان کو اس کے "مرکزِ اصلی" (خدا کی ذات) کی طرف موڑنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب انسان کا عشق اپنے اصل مرکز پر آتا ہے، تو اسے سچی کامیابی اور سکون ملتا ہے۔ نوجوانی کا عشق اکثر جلد بازی اور واویلا سکھاتا ہے، لیکن جگر کا یہ شعر [ دل بن گیا نگاہ نگہ بن گئی زباں؛ آج اک سکوتِ شوق قیامت ہی ڈھا گیا] سکھاتا ہے کہ سچی محبت انسان کو صبر، ضبط اور خاموشی (سکوت) سکھاتی ہے۔ یہ خاموشی انسان کے کردار کو مضبوط کرتی ہے اور اسے اندرونی طور پر نکھارتی ہے۔

جگر مراد آبادی کی اپنی نوجوانی شدید عشقِ مجازی، شراب نوشی اور بے راہ روی میں گزری۔ لیکن جب انہوں نے اپنے عشق کا رخ بدلا اور توبہ کی، تو وہ "رئیس المتغزلین" بن کر ابھرے۔ نوجوانوں کے لیے جگر کی زندگی خود ایک سب سے بڑی امید ہے کہ انسان زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنی اصلاح کر کے اپنے اندر کے "حسن" کو دوبارہ پا سکتا ہے اور "دو عالم پہ چھا" سکتا ہے۔

اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہ

علامہ محمد اقبال تنقید کرتے ہیں کہ دینی طبقہ دین کی ان وسیع اور گہری حقیقتوں (اجتماعیت، امامت اور ملت کی تعمیر) سے ناواقف ہے۔ وہ دین کو صرف انفرادی عبادات اور فقہی بحثوں تک محدود سمجھتے ہیں۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ صرف خیالات کا ایک ہونا (وحدتِ افکار) کافی نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ عملی اتحاد (وحدتِ کردار) نہ ہو۔ اگر عمل میں یکجہتی نہ ہو تو فکری اتحاد بھی ادھورا اور کمزور رہتا ہے۔ اس بند میں "امامت" سے مراد صرف نماز کی امامت نہیں ہے، بلکہ پوری انسانیت اور ملتِ اسلامیہ کی سیاسی، اخلاقی اور فکری قیادت ہے۔ جو لوگ زندگی کے بڑے مقاصد اور امت کی شیرازہ بندی سے بے خبر ہوں، وہ قوموں کی رہنمائی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

ہم نے اوپر صوفیاء کرام کا قول پڑھا ہے کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے اللہ کی ذات ایک "چھپا ہوا خزانہ" تھی (یعنی کوئی اسے جاننے والا نہیں تھا)۔ اس نے کائنات اور خصوصاً انسان کو پیدا کیا تاکہ انسان اپنے دل کے آئینے میں اللہ کی پہچان (معرفت) حاصل کر سکے۔ صوفیاء کے رنگ سے جگر کے کلام پہ نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے کہ صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان کا دل ایک آئینہ ہے، جسے اللہ نے اس لیے بنایا تاکہ اس میں اپنی صفات کا عکس دیکھ سکے۔ جب جگر کہتے ہیں کہ "وہ مجھ پہ چھا گئے"، تو اس کا صوفیانہ مطلب یہی ہے کہ شاعر کا دل اب دنیاوی آلائشوں سے پاک ہو کر ایک مصفا (صاف) آئینہ بن چکا ہے، جس پر اب صرف اور صرف ذاتِ الٰہی کا نور اور اس کی معرفت کا غلبہ ہے۔ جب آئینہ مکمل طور پر صاحبِ آئینے کے نور سے بھر جائے، تو انسان اپنی ہستی کی نفی کرکے مقصود اعلی کی طلب میں اللہ تعالی کا بندہ بن کر انسانوں کا امام بن جاتا ہے۔

جگر مراد آبادی نے اپنے اسی صوفیانہ رنگ اور دل کے آئینے میں خدا کے جلوے کو ایک اور جگہ یوں بیان کیا ہے [ جانِ مکرر، حسنِ سراپا، جلوہِ اول، شانِ آخر؛ دل کے آئینے میں آ کر اور بھی کچھ انوار ہوئے] ۔۔۔ یہاں بھی وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ جب وہ "جلوہِ اول" (خدا کا نور) دل کے آئینے میں اترتا ہے، تو انسان کے کلام اور شخصیت میں ایسے انوار (روشنیاں) پیدا ہوتے ہیں جو زمانے کو جادو زدہ کر دیتے ہیں۔ اور پھر اقبال کا کہنا کہ [قوم کیا ہے قوم کی امامت کیا ہے ] ایسے فرد پہ القا ہوجاتا ہے۔

آئیےاب یہاں علامہ اقبال کے فلسفہِ خودی ؛ مندرجہ بالا صوفیانہ فلسفہِ تخلیق اور معرفتِ الٰہی سے انسان کے تصورِ امامت اور پھرجگر مراد آبادی کے مندرجہ بالا رنگِ معرفت کے ساتھ یکجا کرکے سمجھتے ہیں۔ جب انسان "کنزِ مخفی" (چھپے ہوئے خزانے) کی معرفت پا کر اپنے دل کو الٰہی انوار کا مرکز بنا لیتا ہے، تو وہ صرف ایک عام انسان یا شاعر نہیں رہتا۔ وہ اقبال کا "مردِ مومن" یا "عارفِ باللہ" بن جاتا ہے۔ ایسے ہی فرد کے لیے اقبال نے فرمایا تھا کہ اس پر زمان و مکان کے راز اور قوموں کی تقدیریں عیاں کر دی جاتی ہیں۔

اور اسی پس منظر میں اقبال فرماتے ہیں کہ جب انسان خودی کی اس معراج پر پہنچتا ہے تو اسے الہام ہوتا ہے: "قوم کیا ہے، قوم کی امامت کیا ہے؟"۔ جب انسان کا دل جگر کے بقول اللہ کے نور سے مغلوب ہو جاتا ہے ("وہ مجھ پہ چھا گئے")، تو اس کی نظر میں وہ بصیرت پیدا ہوتی ہے جسے حدیث پاک میں فرمایا گیا "مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے"۔ ایسا شخص جب زمانے پر چھاتا ہے، تو وہ محض سستی شہرت کے لیے نہیں، بلکہ قوم کی سچی امامت اور رہنمائی کے لیے چھاتا ہے۔ وہ قوم کی نبض کو پہچان لیتا ہے کیونکہ اس کا اپنا تعلق کائنات کے اصل حاکم سے جڑ چکا ہوتا ہے۔

ہمارا نفسِ مضمون یہ ہے کہ "قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے؟" اور اس کے ساتھ یہ کہنا کہ "اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا، نہ فقیہ" بعد النظر میں درست لگتا ہے۔ کیونکہ ملا و فقیہ شاید اپنے کام میں ماہر ہوں؛ مگر وہ قوم کے نوجوانوں کو قوم کی امامت کا سبق نہیں پڑھا نہیں سکتے کہ انکے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ ہم نے اوپر صوفیاء کرام کا قولِ معرفت پڑھا ہے؛ اور پھر رئیس المتغزلین جگرمراد آبادی کی حمدیہ غزل پڑھی ہے اور اقبال کے پیغام سے یہ سبق پایا ہے کہ قوم اور قوم کی امامت ایک فکری تسلسل مانگتا ہے—جس کے لیے"حدیثِ کنزِ مخفی"، "جگر کا کمالِ عشق" اور "اقبال کا فلسفہِ امامت" آپس میں جوڑنا چاہیے—اگر ہم اپنے نوجونوں کو تصوف، ادب اور خودی کے اسباق سکھا دیں تو یہ ایک بہترین اور نایاب امتزاج بن جائے گا۔

اختتامی کلمات

دنیا میں قوم کا تصور علاقہ، زمین یا رنگ و نسل سے جڑا ہوا ہے مگر اسلام سکھاتا ہے کہ انسان اللہ تعالی کا بندہ ہے اور اقبال نے کہا ہے کہ "مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہان ہمارا"۔ اسلام میں قومیت کی بنیاد "عقیدہ" (لا الہ الا اللہ) ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا مسلمان، چاہے اس کا رنگ گورا ہو یا کالا، زبان عربی ہو یا اردو، وہ ایک ہی امت کا حصہ ہے۔

ہم نے جانا کہ مسلم قوم کیا ہے اور پھر یہ بھی دیکھیں کہ ایک ساری دنیا پہ پھیلی قوم کا امام کون ہوسکتا ہے؟ ہم اپنے فکری سفر میں ایک منطقی اور حتمی انجام تک پہنچ گئے ہیں کہ جگر مراد آبادی کے کمالِ عشق سے شروع ہونے والی یہ بحث جب علامہ اقبال کے فلسفہِ خودی اور امامت سے گزری، تو اس نے کائنات کے سب سے بڑے سوال کا جواب دے دیا: "مسلم قوم کیا ہے اور اس کا اصل امام کون ہے؟"۔

ایک عالمی اور آفاقی مسلم قوم کا امام (لیڈر) کوئی روایتی یا مصلحت پسند شخص نہیں ہو سکتا۔ علامہ اقبال اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، پوری دنیا میں پھیلی اس امت کی قیادت کے لیے ایک خاص کردار، بلند نظر اور فولادی عزم کی ضرورت ہے۔ اقبال نے ایسے عالمی رہنما کو "مردِ مومن"، "مردِ حق" یا "شاہین" کا نام دیا ہے۔ مسلمان اس قوم کا فرد ہے جس کا مرکز اور محور رنگ و خون نہیں بلکہ "لا الہ الا اللہ" ہے۔ اس قوم کا ہر فرد جگر کے اس مصرعے کا مصداق ہونا چاہیے کہ اس کے دل و دماغ پر اللہ کی ذات حاوی ہو ("وہ مجھ پہ چھا گئے")۔صوفیاء کے "کنزِ مخفی" کے فلسفے کے مطابق، اگر انسان کی تخلیق کا مقصد خدا کی پہچان ہے، تو مسلم قوم اس مقصدِ تخلیق کا عملی نمونہ ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس کا کام دنیا میں اللہ کی رحمت، عدل اور علم کا ظہور کرنا ہے۔

جب قوم آفاقی ہو اور پوری دنیا میں پھیلی ہو، تو اس کا امام یا قائد کوئی عام دنیا دار سیاستدان یا بادشاہ نہیں ہو سکتا۔ اس عظیم قوم کی امامت کے لیے اقبال نے جو معیار مقرر کیے ہیں، وہ ایسا شخص ہے جس کا دل الٰہی انوار سے روشن ہو اور جس پر یہ القا ہو چکا ہو کہ "قوم کیا ہے اور قوم کی امامت کیا ہے"۔ وہ دنیا کی کسی مادی طاقت، مال و دولت یا سلطنت سے مرعوب نہ ہو۔ حق بات کہنے اور اس پر قائم رہنے کا حوصلہ رکھتا ہو (مردِ حر ہو)۔ وہ مغرب یا کسی دوسری تہذیب کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو، بلکہ اپنی اسلامی شناخت پر فخر کرتا ہو۔ مسلمانوں کی عالمی قوم کا امام وہی ہو سکتا ہے جو سیاسی شعور، علمی برتری اور روحانی پاکیزگی کا مجموعہ ہو۔ وہ حکمرانی کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے کھڑا ہو۔

کائنات کی تاریخ میں اس ساری دنیا پہ پھیلی قوم کے سب سے پہلے اور حقیقی امام حضورِ اکرم محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے، جو خود "کنزِ مخفی" کے سب سے بڑے مظہر اور کائنات کے لیے رحمت ہیں۔ چنانچہ، اس قوم کا امام اب وہی بن سکتا ہے جس کی خودی رسول اللہ ﷺ کے اسوہِ حسنہ میں مکمل طور پر فنا ہو چکی ہو۔ ملی امامت کا حقدار وہ "مردِ مومن" ہے جو پہلے خود خدا کی محبت میں مغلوب ہو ؛ اورصحیح معنوں آقا محمد کا غلام اور امت محمدیہﷺ کا داعی ہو، تو پھر اس کے دل پر امت کی رہبری کے راز القا ہوتے ہیں، اور پھر وہ اپنی جادوئی شخصیت اور سچے کلام سے پوری دنیا کے دلوں کو فتح کر کے "زمانے پہ چھا جاتا ہے"۔

نعتِ رسول مقبولﷺ

برادران و ہمشیران اسلام؛ یہ ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہے؛ اور اگلے ہفتے عید میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بابرکت دن ہے۔ ضروری ہے کہ ہم آقا محمدﷺ کی غلامی کا طوق پہنے رکھیں۔ رحمت العالمینﷺ کے دامن سے بندھے رہنا ہی ہمارے لیے کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔ اور اللہ تعالی کی تسبیح کے ساتھ آقا محمدﷺ پہ درود و سلام بھیجتے رہیں۔ اور نعت رسولﷺ ایک خوبصورت سلام پیش کرنا ہے۔


خواجہ شایان حسن کی نعتِ رسول مقبولﷺ


حسن اخلاق پیمبر کا سراپا لکھوں

یعنی قرآن مقدس کو میں پورا لکھوں


حسن بے مثل لکھوں علم کا دریا لکھوں

آپ کو شاہ زمن شاہ مدینہ لکھوں


نام احمد کو ہر اک نام سے افضل لکھوں

ذات مرسل کو فرشتوں سے بھی اعلیٰ لکھوں


ان کی باتوں سے اخوت کا سبق ملتا ہے

ان کے اوصاف کو اوصاف حمیدہ لکھوں


سب بھکاری ہیں ترے در کے تو شاہا سب کا

سب غلاموں کا حضور آپ کو آقا لکھوں


شان اقدس میں جو لکھا ہے زمانے بھر نے

لکھنے والوں کے ہر اک لفظ سے اونچا لکھوں


سلسلہ ختم ہوا آپ پہ نبیوں والا

آپ کو ختم نبوت کا وسیلہ لکھوں


پہلے بھیجوں میں درودوں کا وظیفہ ان پر

شان میں آپ کی پھر نعت کا مصرعہ لکھوں


منزل راہ ہدایت کی میں شمع لکھوں

شان میں آپ کی شایانؔ میں کیا کیا لکھوں


غلام محی الدین کی نعتِ رسول مقبولﷺ


تصورات کی جھلمل ترا خیال، کمال !

مرے حسیں! یہ چھلکتا ہوا جمال، کمال !


نزول کرتے ہوئے حرف، والضحی، واللیل

بیان ہوتے ہوئے تیرے خدّوخال، کمال !


حبیب! سرّ ِالف، لام، میم، تیرا وجود

یہی صحیفہ ھے لا ریب و لازوال، کمال !


وہ تیرا عفو، دمِ فتح، کہ ترے دشمن

پکارنے لگے بے ساختہ، کمال ! کمال !


مری جبیں، ترے نعلین، میرا سجدہ ء شکر

حبیب! خواب ہے کیا میرے حسبِ حال، کمال !


ترے زمانے کی نسبت کہا گیا، والعصر

زمیں پہ ثبت ہوئے تیرے ماہ و سال، کمال !


ترا گھرانہ، شہنشاہ ہر دو عالم کا

ترے گھرانے کا ہر فرد، لاج پال، کمال !

اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد🌹

اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد🌹

0
174

Why FC27 Midfield Roles Matter in the U4gm 4-1-4-1

The best meta 4-1-4-1 custom tactics in FC27 should give your striker support without leav...

defaultuser.png
Bauer
24 minutes ago

Symptoms of Pregnancy After Embryo Transfer in IVF

Symptoms of Pregnancy After Embryo Transfer in IVF The IVF journey can bring many emoti...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLJcTJDwi7ZE9mLu9e8iYQBUIPnR2xgaQq4AK0CmGDsUhnI1io=s96-c
Sanya Bansal
29 minutes ago

Mengenal Perubahan Preferensi Pengguna di Era Digital

Mengenal Perubahan Preferensi Pengguna di Era Digital

defaultuser.png
Jimmy
29 minutes ago

Mastering Flower Delivery in Cyber City & Connaught Place

Experience seamless botanical elegance and express same-day floral styling with Sai Flower...

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJBZ4NQ8Zze6lYteCdwdexcC-ckv96SLmQgWYO4UYo4TNxJU6U=s96-c
saiflower03
35 minutes ago

¿Cómo Elegir una Farmacia Fiable para Comprar Cialis Original?

Una farmacia autorizada debe cumplir las normas sanitarias aplicables y garantizar la proc...

defaultuser.png
genericeupills
1 hour ago