یہ مضمون ایک ایسے وطن کی کہانی کو لفظوں کا روپ دینا ہے—جہاں خوشحالی کے چند مصنوعی جزیرے محرومیوں کے ایک وسیع سمندر میں گھرے ہوں—ایک انتہائی نازک، گہرا اور درد مندانہ کام ہے۔ اس میں پیش کردہ گہرے خیالات، تیکھے جملوں، اور کراچی سے لے کر اسلام آباد اور اس کے مضافات (ہری پور، حسن ابدال، گوجر خان) کے تلخ تضادات کو واضع کیا ہے۔ یہ تحریرمحض الفاظ نہیں، بلکہ اس سرزمین کے ہر اس باشعور شہری کے دل کی دھڑکن اور فریاد ہیں جو ایک سچے، منصفانہ اور جمہوری معاشرے کا خواب دیکھتا ہے۔
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
گلشنِ چمنستان میں نشیمن
ایک ادھوری فریاد اور پسماندہ کی آواز
یہ ایک ایسے وطن کی کہانی کو لفظوں کا روپ دینا ہے—جہاں خوشحالی کے چند مصنوعی جزیرے محرومیوں کے ایک وسیع سمندر میں گھرے ہوں—ایک انتہائی نازک، گہرا اور درد مندانہ کام ہے۔ اس میں پیش کردہ گہرے خیالات، تیکھے جملوں، اور کراچی سے لے کر اسلام آباد اور اس کے مضافات (ہری پور، حسن ابدال، گوجر خان) کے تلخ تضادات کو واضع کیا ہے۔ یہ تحریرمحض الفاظ نہیں، بلکہ اس سرزمین کے ہر اس باشعور شہری کے دل کی دھڑکن اور فریاد ہیں جو ایک سچے، منصفانہ اور جمہوری معاشرے کا خواب دیکھتا ہے۔
جب کوئی نظام پستی کی طرف گامزن ہو تو وہ صرف معیشت کو نہیں توڑتا، بلکہ وہ انسانوں کے درمیان ہمدردی کے رشتے کو بھی کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ ہمارے اس اسی (80) سالہ ملک میں، جہاں طرزِ حکمرانی کے نت نئے اور مصنوعی تجربات نے عام آدمی کو ہمیشہ کچلا ہے، وہاں مراعات یافتہ طبقات نے اپنے لیے تنہا خوشحالی کے چند "جزیرے" تراش لیے ہیں۔ ان جزیروں میں سب سے بڑا اور خوبصورت جزیرہ اس ملک کا دارالحکومت، اسلام آباد ہے۔ جب ملک بھر سے ستم رسیدہ, پسماندہ اور ستائے ہوئے لوگ اپنے حقوق کی صدا بلند کرنے اس شہر کی طرف مارچ کرتے ہیں، تو اس چمنستان کے باسیوں کی طرف سے ایک عجیب فریاد اور بیزاری سامنے آتی ہے۔
اہل چمن کی فریاد اور جزیرے کا وہم
اسلام آباد کے ایک عام مراعات یافتہ شہری کی فریاد اکثر یہ ہوتی ہے کہ "ملک بھر سے یہ لوگ ہمارے پرسکون شہر میں احتجاج کرنے کیوں چلے آتے ہیں؟ ان کے دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے ہمارا روزمرہ کا سکون برباد ہوتا ہے، بچوں کے اسکول چھوٹتے ہیں، اور ہماری کاروباری و دفتری زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔" یہ فریاد بظاہر ایک شہری کے بنیادی حقِ سکون پر مبنی دکھائی دیتی ہے، لیکن یہ اس گہری لاتعلقی اور سنگدلی کو بھی بے نقاب کرتی ہے جو ایک ہی وطن کے بھائیوں کے بیچ جنم لے چکی ہے۔
یہ شہری اپنے خوبصورت سیکٹرز، مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن اور چوڑی سڑکوں کے سحر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ شہر محض کوئی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں، بلکہ پورے ملک کا دارالحکومت (کیپیٹل) ہے۔
یہ وہ اعصابی مرکز ہے جہاں بیٹھ کر حکمران اشرافیہ ایسے فیصلے کرتی ہے جن کے براہِ راست اور فوری اثرات یہاں سے سینکڑوں میل دور بسنے والے غریبوں پر پڑتے ہیں۔ جب اس شہر کے بند کمروں میں کوئی پالیسی بنتی ہے، تو اچانک دور دراز کے کسی کچے مکان میں سالن روٹی مہنگی ہو جاتی ہے، کسی دور افتادہ گاؤں میں بجلی اور پانی کا کنکشن کٹ جاتا ہے، اور کسی مزدور کے بچے کے منہ سے نوالہ چھن جاتا ہے۔ جب پسماندہ عوام کے پاس اپنی آواز پہنچانے کا کوئی دوسرا رستہ نہیں بچتا، تو وہ اس مرکزِ اقتدار کا رخ کرتے ہیں جہاں ان کی قسمت کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔
پانچ رویہ شاہراہ کے "عزت مآب" اور تین رویہ کراچی کا سچ
تضاد کی انتہا دیکھنی ہو تو سڑکوں کے پھیلاؤ اور ترجیحات کو دیکھیے۔ اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ، اسلام آباد ایکسپریس وے، پانچ رویہ (5-لین) وسیع و عریض سڑک ہے۔
ہر روز شام کے وقت جب اس جنتِ ارضی کے "عزت مآب" مکین اپنے شاندار اور ٹھنڈے دفاتر سے چھٹی کرکے نکلتے ہیں اور اپنی شاندار پانچ رویہ سڑک پہ ٹریفک جام میں پھنستے ہیں تو کس کا الزام دیتے ہیں؟ مزید برآں یہ کہ اکثر منعقد ہونے والے وی آئی پی موومنٹ یا عام حادثے یا سڑک کی مرمت کی وجہ سے اس پانچ رویہ ایکسپریس وے کی ٹریفک میں چند منٹوں کے لیے پھنس جاتے ہیں، تو ان کا پارہ فوراً چوٹی کو چھونے لگتا ہے۔ اس وقت وہ غصے میں لال پیلے ہو کر ریاست، انتظامیہ، اور ٹریفک پولیس کو گالیاں دیتے ہیں کہ انہیں گھر پہنچنے میں منٹوں اور کبھی کبھار گھنٹوں کی تاخیر کیوں ہوئی۔ وہ اس وقت سسٹم کی ناہلی پر سیخ پا ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہی سسٹم ہے جس کی تعمیر اور حفاظت یہی کرتے ہیں۔
انہیں اپنے پانچ رویہ عیش و آرام، اپنی لگژری گاڑیوں کے ایئر کنڈیشنڈ ماحول اور اپنے پرسکون شام کے معمولات میں چند منٹوں کی تاخیر بھی گوارا نہیں ہوتی۔ لیکن ایک جمہوری ملک میں رہتے ہوئے خود اپنے ہم وطنوں سے اس قدر بیزاری اور ان کے مسائل سے بے خبری کیسے درست کہی جا سکتی ہے؟ اپنے ہم وطنوں سے لاتعلقی اور بے قدری کسی طور پہ جمہوری رویہ نہیں کہا جا سکتا۔
دوسری طرف اس ملک کا معاشی انجن، پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے، جس کی سب سے بڑی مرکزی شاہراہ (نیشنل ہائی وے / شاہراہِ فیصل) صرف تین رویہ (3-لین) ہے۔ کراچی، جو اس ملک کے ریونیو اور کمائی میں سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے، جو پورے ملک کا پیٹ پالتا ہے، اس کا انفراسٹرکچر تین رویہ سڑکوں پر سسک رہا ہے، جبکہ حکم چلانے والے شہر کو پانچ رویہ عیاشیاں میسر ہیں۔
لیکن کراچی کے ایک خاص شہری کا مندرجہ ذیل تبصرہ اور اسلام آباد کے شہری کا مخمصہ ایک ہی طرح کا ہے؛ کیا مخصوص جنت کے جزیروں میں رہنے والے ایک ہی طرح کا مزاج رکھتے ہیں؟
منزل پمپ کا منظر: ایک شریان نما سڑک کے مفلوج ہونے کا احوال
آج صبح 8:50 بجے، جب دفاتر جانے کے رش کے اوقات اپنے عروج پر تھے، مین نیشنل ہائی وے دونوں اطراف سے مکمل طور پر بلاک ہو گئی۔ منزل پمپ چوک، قائدآباد پر ہائی وے کا پورا اسفالٹ سڑک پر امڈ آنے والے انسانوں کے قبضے میں تھا۔ وجہ بالکل روایتی، واضح اور بنیادی نوعیت کی تھی: بجلی اور پانی کی شدید اور طویل معطلی سے تنگ آئے ہوئے مقامی رہائشیوں کا ایک اچانک احتجاج۔
یہ مسائل سو فیصد حقیقی ہیں۔ ان کے پیچھے چھپی عوامی فرسٹریشن مکمل طور پر جائز ہے؛ کوئی بھی انسان صبح کے جھلساتے ہوئے سورج تلے سڑک پر بلاوجہ احتجاج کرنے نہیں نکلتا۔ لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہمارے شہری اور سماجی معاہدے کی بنیادی خرابی کو بے نقاب کرتی ہے۔
ہزاروں ملازمین، مزدور اور مینیجرز سڑک کے اس تپتے ہوئے لوہے پر فوری طور پر قید ہو کر رہ گئے۔ میں بھی ان ہی میں شامل تھا۔ تین طویل اور تھکا دینے والے گھنٹوں تک ہم لوہے اور دھوئیں کے ایک جمے ہوئے سمندر میں بے بس بیٹھے رہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے کام کا پورا دن ضائع ہوتے دیکھتے رہے۔ ہم کبھی اپنی منزلوں تک نہ پہنچ سکے۔ گاڑیوں کا قیمتی ایندھن فضا میں بے دردی سے جلتا رہا، کارپوریٹ اور صنعتی پیداواری صلاحیت صفر پر آ گری، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید ذہنی تناؤ نے ایک ایسا پوشیدہ نقصان پہنچایا جس کا ازالہ کوئی بھی ماہانہ تنخواہ کبھی نہیں کر سکتی۔
یہ شہر کی کوئی معمولی یا ذیلی گلی نہیں ہے۔ مین نیشنل ہائی وے اور منزل پمپ کراچی کی وسیع صنعتی پٹی کی مرکزی شریان کا درجہ رکھتے ہیں۔ فیکٹریاں، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز، دفاتر اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار روزانہ کی بنیاد پر صرف اور صرف اس مخصوص راستے کی بلاتعطل روانی پر منحصر ہوتا ہے۔
اس کے باوجود، اس تین گھنٹے کی طویل معطلی کے دوران، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلدیاتی حکام محض تماشائی بنے کھڑے رہے۔ نہ تو کوئی ٹھوس فیصلہ یا کارروائی دیکھنے میں آئی، نہ سڑک کو فوری کھلوانے کا کوئی انتظام کیا گیا، اور نہ ہی آنے والے مسافروں کو متبادل راستوں کے بارے میں بروقت آگاہ کرنے کا کوئی طریقہ اپنایا گیا۔
بات بالکل واضح ہونی چاہیے: شہریوں کو احتجاج اور اجتماع کا پورا حق حاصل ہے، اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے بارے میں ان کے شکایات کا فوری اور مستقل حل ہونا چاہیے۔ تاہم، ایک میگا سٹی کی سب سے اہم معاشی شریان کو کام کے عروج کے اوقات میں گھنٹوں کے لیے بند کر دینا، اور اس پر انتظامیہ کا کوئی متحرک کردار نہ ہونا، صرف اور صرف اس محنت کش طبقے کو سزا دینے کے مترادف ہے جس کا اس یوٹیلٹی کرائسز (بجلی پانی کے بحران) کو پیدا کرنے میں دور دور تک کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
یہ پورا نظام کا جام ہو جانا چند انتہائی تلخ اور فوری جواب طلب سوالات کو جنم دیتا ہے:
• سیکیورٹی اور گورننس کا بحران: ایک عالمی سطح پر اہم صنعتی گزرگاہ کو بغیر کسی فوری اور منظم سرکاری ردعمل کے گھنٹوں تک مکمل طور پر مفلوج رہنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟
• ہنگامی منصوبہ بندی کا فقدان: ہماری ٹریفک اور میونسپل مینجمنٹ اتھارٹیز کے پاس مسافروں کو بچانے اور اس نازک علاقائی معیشت کو اچانک پیدا ہونے والے تعطل سے تحفظ دینے کے لیے پہلے سے تیار شدہ اور بروقت متبادل پلان کیوں نہیں ہوتے؟
• اس نقصان کا ذمہ دار کون؟ لاکھوں ضائع ہونے والے کام کے گھنٹوں، ضائع ہونے والے ایندھن کے ذخائر، اور اپنے کام پر جانے کی کوشش کرنے والے ہزاروں شہریوں کی ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا حساب کون دے گا؟
کراچی کا یہ محنت کش طبقہ ہی اس پورے شہر کے معاشی انجن کو چلا رہا ہے۔ ہم بہتر منصوبہ بندی, بہتر ردعمل اور بہتر طرزِ حکمرانی کے حقدار ہیں۔ اگر آپ بھی آج قائدآباد کے اس عذاب میں پھنسے تھے، تو جان لیں کہ آپ کا غصہ بالکل جائز ہے اور آپ اکیلے نہیں ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے انتظامی ڈھانچوں سے اس لچک اور کارکردگی کا تقاضا کریں جس کے لیے انہیں عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں دی جاتی ہیں۔
خونِ پسینہ اور شہر کی اوقات
اسلام آباد کے حکمران جو اپنے "مینارہِ ترقی" کی چوٹی سے جابرانہ اور سنگدلانہ حکم صادر کرتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خود اسلام آباد اپنی ذات میں کیا کما کر دیتا ہے؟ یہ شہر صرف حکم چلانا جانتا ہے، یہ خود کوئی دولت یا پیداوار تخلیق نہیں کرتا۔ اس شہر کی بیوروکریسی، اس کے گلشن اور چمن اور اس کی رونقیں دراصل ان مزدوروں اور تاجروں کے خون پسینے کے ٹیکسوں پر پل رہی ہیں جو سارے ملک کے شہروں کی تپتی سڑکوں اور کھیتوں کھلیانوں اور ریگزاروں پر خوار ہوتے ہیں۔
اگر پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام کا ٹیکس، ان کی محنت اور ان کا سستا خام مال اس شہر کے حکمرانوں کو زندہ نہ رکھے، تو اس کے متصل واقع شہروں یعنی ہری پور، حسن ابدال اور گوجر خان کی زمینوں اور شہری زندگی کی کیا اوقات ہے؟ اسلام آباد کا وجود؛ اس کی زمینوں کی قیمت اور رکھ رکھاؤ ملک کے پسماندہ علاقوں اور کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے کماؤ شہروں کی قیمت پر ہی قائم ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے:
کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
گلشن کے آسودہ حال غنچے اپنے پانچ رویہ ایکسپریس وے پر چند منٹ کے جام پر تو چیختے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں دیکھ پاتے کہ ان کے فیصلوں کی مار کھانے والا انسان کس شدید تڑپ اور اضطراب کا شکار ہو کر یہاں تک پہنچا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو انسان میلوں دور سے چل کر، اپنا گھر بار چھوڑ کر، تپتی سڑک پر راتیں گزارنے آیا ہے، وہ کسی شوق یا تفریح کے لیے نہیں آیا۔ یہ طبقہ مظلوم کی تڑپ کو دیکھنے کے بجائے، صرف اپنے تعیشات میں پڑنے والے چند منٹ کے خلل پر روتا ہے، جو ان کی اندھی اور ظالم (بے رحمانہ) ذہنیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
نتیجہ: ایک سانجھے چمن کی ضرورت
اگر اسلام آباد کے مراعات یافتہ طبقے اور حکمرانوں کو، یا ملک کے شہروں کے گیتڈ جزیروں (دیواروں کے پیچھے جزیرے) کے مکینوں کو اپنے شہر کا مستقل سکون عزیز ہے، تو انہیں صرف اپنے "جزیرہِ امن" کی حفاظت اور غریبوں کو گالیاں دینے کا رویہ چھوڑنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک پورے ملک کے سمندر میں اضطراب رہے گا، دارالحکومت کا یہ پانچ رویہ جزیرہ ہو یا کراچی کی صنعتی پٹی، کبھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔
انصاف اور جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا ملک تعمیر کیا جائے جہاں اسلام آباد کے مضافات کے شہر ہری پور، حسن ابدال، گوجر خان اور دیگر بڑے شہروں کے مضافات میں رہنے والے ہر شہری کو شہر کی ترقی اور فیصلوں میں برابر کا حصہ ملے۔ جب ریاست ہر دور دراز کونے میں بنیادی حقوق اور زندگی کی سہولیات فراہم کرے گی، تو کسی کو بھی اپنا گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر راتیں گزارنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ورنہ، مظلوموں کی یہ تڑپ ایک دن ایسا سونامی بن کر اٹھے گی جو مخصوص جزیروں کے چمنستان میں قائم گلشن کی تمام اونچی فصیلوں اور پانچ رویہ شاہراہوں کو بہا لے جائے گی۔