This famous poetic line reflects the poet's intellectual maturity and the sense of reaching that stage in life where one seeks a peaceful and easy refuge, free from weariness and inner conflict. The period following mature age is the final stage of a person's natural life, known as old age; and death follows thereafter. This write up in Urdu "چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر" is an opinion wrt the poetic line of an urdu verse from Munir Niazi.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful
چاہتاہوں میں منیرؔاس عمر کے انجام پر
منیر نیازی (9 اپریل 1928ء - 26 دسمبر 2006ء) اردو اور پنجابی زبان کے ایک ممتاز، منفرد اور مایہ ناز پاکستانی شاعر تھے۔ ان کا شمار بیسویں صدی میں اردو ادب کے اہم اور صاحبِ اسلوب شعرا میں ہوتا ہے۔ منیر نیازی کا اصل نام محمد منیر خان تھا اور وہ بھارتی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان آ گئے اور ساہیوال اور لاہور میں مقیم رہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم خانپور اور ساہیوال سے حاصل کی، جبکہ بی اے کی ڈگری دال سنگھ کالج لاہور سے مکمل کی۔ منیر نیازی نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں غزلیں اور نظمیں کہیں اور دونوں میں یکساں کمال حاصل کیا۔ ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا اسرار، تنہائی، خوف، خوبصورتی اور نوحہ گری کا عنصر نمایاں پایا جاتا ہے۔ ان کے مشہور شعری مجموعوں میں "تیز ہوا اور تنہا پھول"، "جنگل میں دھنک" اور "آغا میں رُکا رہا" شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی لازوال گیت لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔اعزازاتحکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں "پرائڈ آف پرفارمنس" اور"ستارہ امتیاز" سے نوازا۔
چاہتاہوں میں منیرؔاس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو
نفسِ مضمون کا مصرعہ اور مندرجہ بالا معروف اور دل کو چھو لینے والا شعر نامور پاکستانی شاعر منیر نیازی کا ہے، جو عمر کے آخری حصے میں سکون، روانی اور زندگی کی تلخیوں سے رہائی کی شدید آرزو کو ظاہر کرتا ہے۔ شعری پس منظر اور مفہومیہ مصرع منیر نیازی کی اس غزل کا حصہ ہے جس کا مطلع "ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو" ہے۔ اس شعر میں شاعر کی فکری پختگی اور عمر کے اس موڑ کا احساس جھلکتا ہے جہاں انسان تھکن اور کشمکش سے آزاد ہو کر ایک پُرسکون اور آسان سہار ڈھونڈتا ہے۔
جناب شاعر منیرنیازی نے یہ شعر کہہ کر انسانون کی ایک غالب اکثریت کی ترجمانی کی ہے؛ جن کی زندگی ایک جدوجہد اور اتار و چڑھاو کی کہانی ہوتی ہے۔ اگر ہم بوڑھے۔ عمر رسیدہ افراد سے پوچھیں تو اکثر گذرے وقت کو مشکل بیان کریں گے؛ اور"مشکل زندگی سے بیزاری" کا اظہار بھی کریں گے۔ زندگی کی کہانی میں ہر روز کا سورج ایک نیا دن لیکر آتا ہے اور روزمرہ کی تپش، بے منزل دوڑ اور مصائب سے بھرا ہوا دل، انسان کو تھکا دیتا ہے۔ اور اس کے دل میں "آسانی کی آرزو" پیدا ہونا فطری عمل ہوتا ہے۔ تو کسی بھی شخص کا عمر رسیدگی کے عالم میں زندگی میں پیچیدگیوں کے بجائے روانی اور سکون کی خواہش ہونا؛ کوئی انوکھا معاملہ نہیں ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ "عمر کا انجام" تو موت پہ ہوتا ہے؛ اورزندگی کے طویل تجربات، خوشیوں، کامیابیوں؛ یا ناکامیوں اور الجھنوں کے بعد کا پختہ عمر کے بعد کا دور تو شاید قبر کی زندگی کا ذکر ہے۔
پختہ عمر کے بعد کا دور انسان کی طبعی زندگی کا آخری حصہ ہوتا ہے، جس کو بڑھاپا کہتے ہیں۔ اس کے بعد موت آتی ہے، جس کے بعد انسان قبر یعنی برزخ کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ جوانی کے بعد کا دور بڑھاپا کہلاتا ہے۔ جسم کمزور ہو جاتا ہے۔ بال سفید ہو جاتے ہیں۔ موت کے بعد دنیا ختم ہو جاتی ہے۔ روح جسم سے نکل جاتی ہے۔ انسان کو قبر میں رکھا جاتا ہے۔ اس کو عالمِ برزخ کہتے ہیں۔ یہاں اعمال کا اثر کا پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ تو کیا شاعر منیر نیازی اس شعرمیں قبر میں راحت کا ذکر کررہے ہیں؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو کیا ہم جانتے ہیں کہ موت کے بعد کی زندگی کی راحت تو دنیا کی زندگی میں کئے گئےاعمال پہ منحصر ہوتی ہے؟
تو آئیے؛ آج سنہ 2026 میں جدید ڈیجیٹل دور کے مصروف کامیاب انسان کی "آسان زندگی" پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ زندگی کیا ہوگی جو"عمر کے انجام" پہ مشکل نہ ہو بلکہ خوشگوار؛ راحت بخش اور پر سکون ہو۔۔ تو سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ آج سے تقریبا" پچاس سال پہلےمشہور امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ایک انٹریو دیا تھا اور کہا تھا کہ "دنیا میں سب سے زیادہ ناخوش لوگ وہ ہیں جو پانی کی (یعنی پر تعیش مقامات رہن سہن) جگہوں پر رہتے ہیں — فرانس کے جنوبی ساحل، نیوپورٹ، پام اسپرنگس، پام بیچ — ہر رات پارٹیاں، ہر دوپہر گولف، بہت زیادہ شراب پینا، بہت زیادہ باتیں کرنا، بہت کم سوچنا۔ ریٹائرڈ، کوئی مقصد نہیں"۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ "زندگی جس چیز کا مطلب ہے وہ ہے مقصد؛ ایک مقصد، جنگ، جدوجہد ہے - چاہے آپ اسے نہ جیتیں"۔
آج سے پچاس سال قبل کی زندگی اتنی تیز نہیں تھی جتنی آج ہے اور جس قدر آسانیاں آج میسر ہوسکتی ہیں؛ اُس وقت حاصل کرنا آسان نہیں تھا؛ پھر بھی انسان کیا چاہتا تھا اور آجبھی ابن آدم کی خواہش کیا ہے؟ "آیک آسان زندگی"۔ مگر یہ "آسان زندگی" کیوںکر اور کیسے حاصل ہوگی؟ رچرڈ نکسن نے دہائیاں پہلے مغرب تہذیب کے شرارے دیکھ کر یہ کہا تھا کہ "جدوجہد کے بغیر لامتناہی فرصت جنت نہیں ہے- یہ معنی کی سست موت ہے"۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں کسی پلیٹ فارم کوخاموشی سے چھوڑدینا؛ جیسے موت دینا؛ اور مصرفیات سے جلد ریٹائرمنٹ کے خواب، اور لامحدود نیٹ سرفنگ؛ سوشل میڈیا پہ ریل سکرولنگ کی فرصت کی تلاش کے دور میں... نکسن کا قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ "زندگی سے لڑنا وہ ہے جو روح کو زندہ رکھتی ہے"۔ تو ذرا ٹہر کر سوچیے کہ "کیا چیز آپ کو ابھی "جنگ" میں رکھتی ہے — یہاں تک کہ جب آپ یہ تھکاوٹ سوار ہو؟
یہاں قارئین کو مشہر امریک شاعر "ایڈگر البرٹ گیسٹ" کی نظم "ہمت مت ہارو"۔ کا سبق یاد دلانا چاہتا ہوں جہاں شاعر نے کہا کہ "جب معاملہ بگڑ جائے، جیسا کہ وہ کبھی کبھی بگڑ جاتا ہے؛ جب تھکن آپ پر غالب آرہی ہو؛ اور آپ آرام کرنا چاہیں تو کیجیے؛ مگر ہار مت مانیں"۔ زندگی جینے کا یہ سبق کیا ہے اس نظم پہ مزید گفتگو کے لیے اس لنک کو کلک کیجیے: https://blogs.bangboxonline.com/posts/aygr-albr-gys-ky-nthm-mt-mt-aro
انگریزی زبان ہی کے مشہور برطانوی شاعرالفریڈ ٹینیسن نے ایک لازوال نظم لکھ چھوڑی ہے "کراسنگ دی بار" یعنی موت کی "سرحد عبور کرنا"۔ اور نظم میں"سورج غروب" کا اظہار دن کے اختتام کا وہ وقت ہے، جو موت کی علامت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ زندگی کا اختتام پرشور یا اداس رخصتی کے بجائے ایک پرسکون طریقے سےہونا چاہیے کہ یہ خدا سے آمنے سامنے ملنے اور مخاطب ہونےکی امید ہے۔ نظم موت کو ایک پرسکون، غیر متزلزل قبولیت بناتا ہے، اسے خوف کی وجہ کے بجائے اس جگہ پر واپسی کے طور پر دیکھتی ہے جہاں سے وہ آیا تھا۔ اس نظم کی تفصیل پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
https://blogs.bangboxonline.com/posts/alfry-lar-ynysn-ky-nthm-srhd-aabor-krna
ہنری چارلس بوکوسکی ایک جرمن نژاد امریکی شاعر، ناول نگار اور افسانہ نگار تھے؛ انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ آگ کے بیچ سے کتنی خوبی کے ساتھ گزرتے ہیں"۔ ہم اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ زندگی ایک آگ کا دریا ہے اور پُرخار ؛ کھٹن اور مشکل سفر ہے؛ مگر انسان کی فطری خوبی یہ ہوگی کہ وہ اس میں سے کیسے گذرتا ہے؟
مشہورنوبل انعام یافتہ مصنف ہرمن ہیسے (جرمن شہری) کی 1943 میں شائع ہونے والی تصنیف 'دی گلاس بیڈ گیم' میں ایک جگہ لکھا ہے کہ "وہ نظریہ جس کی تمہیں خواہش ہے—یعنی وہ حتمی اور کامل عقیدہ جو تنہا حکمت عطا کرتا ہو—ایسا کوئی وجود نہیں رکھتا۔ اور نہ ہی تمہیں کسی ایسے کامل نظریے کی آرزو کرنی چاہیے، میرے دوست۔ بلکہ تمہیں اپنی ذات کی تکمیل کی خواہش کرنی چاہیے۔ وہ الٰہامی جوہر تمہارے اندر بستا ہے، نہ کہ خیالات اور کتابوں میں۔ سچائی کو جیا جاتا ہے، سکھایا نہیں جاتا"۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ سخت اصول اور بے عیب نصابی کتب آپ کو حقیقی دانائی نہیں دے سکتیں۔ اس کے برعکس، آپ کو اپنی باطنی نشوونما کرنی چاہیے، حقیقی زندگی گزارنی چاہیے اور اپنے روزمرہ کے اعمال کے ذریعے سچائی کو دریافت کرنا چاہیے"۔
یہ ارضی زندگی محض ایک امتحان گاہ کا قیام ہے؛ جہاں ہم انسانوں کو اس زندگی کے سفر کو اس شوق سے گذارنا ہے کہ اس کے اختتام پر اپنے خالق اللہ سبحان تعالی سے ملاقات ہوگی۔ اس نقطہ نظر سے یہ زندگی محبت کا سفرنامہ بن جاتا ہے۔ اور یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ عشق و محبت کی کہانی آسان نہیں ہوتی اور اس راہِ شوق کی منزل کا حصول آسان نہیں ہوتا ہے۔ اگر یہ زندگی کا سفر اللہ تعالی سے ملن کا ہے تو راستہ مشکل تو ہوگا۔ یہ آگ کے دریا کی طرح ہے جس میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور مکمل سپرداری کا تقاضہ ہے کہ اس راستے کو طے کرنے کے لیے خود کو مٹانا پڑتا ہے۔
اصطلاح "آگ کا دریا" عشق کی شدت، تپش اور مصائب کی علامت ہے، اور "ڈوب کے جانا" اس بات کا استعارہ ہے کہ اس میں فنا ہوئے بغیر، خود کو مٹائے بغیر منزل نہیں ملتی۔ زندگی کا سفر "اللہ تعالی سےعشق" ہے کیونکہ اس کی منزل خالق و مالکِ کُل سے ملاقات ہے؛ اور زندگی کی مشکلات اور سختی اس کی راہ کی حقیقت کو واضع کرتا ہے؛ اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالی سے محبت یا عشق کا راستہ کوئی آسان یا پھولوں کی سیج نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک ایسا کٹھن مرحلہ ہے جہاں قدم قدم پر امتحان اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اللہ سبحان تعال کی آخری اور سچی کتاب ہداہت القرآن الحکیم کا پیغام یہ ہےکہ "اللہ رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں"۔ ‘(138سورۃ البقرہ)۔۔
اور مزید رہنمائی یوں کی ہے کہ "اور میں(اللہ) نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے". (سورۃ الذاریات، 56)۔۔
قرآن المجید کا یہ بھی پیغام ہے کہ یہ دنیا جو ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہمارے علم میں آتا ہے، اسے بے چون چرا آنکھیں بند کرکےمان لیں؛ بلکہ ہدایت تو یہ فرمائی ہے کہ کائنات پر غور کرو، سفر کرو، چھان بین کرو، عقل و فکر سے کام لو اور دیکھو کہ تم سے پہلے کی تہذیبوں کا کیا انجام ہوا۔ قرآن کا منہج غیر معمولی طور پر مشاہدے اور تجربے پر مبنی ہے؛ اور یہ مسلسل توجہ کو قابلِ مشاہدہ حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے۔ تو بھلا زندگی گزارنے کے بارے میں واضع ہدایات کیوں نہ دے رکھی ہونگی۔ قرآن الحکیم میں اللہ تعالی نے زندگی برتنے کے واضع احکامات دئیے ہیں کہ کل کی اخروی زندگی آسان ہو۔
موت کے بعد کی زندگی (آخرت) کو بہتر بنانے کے لیے انسان کو اچھے اعمال کرنے چاہیے۔ فرض نمازوں اور عبادات کی پابندی کریں۔ ایسے فلاحی کام کرنا چاہیے جن کا فائدہ مرنے کے بعد بھی جاری رہے، جیسے مسجد بنانا یا کنواں کھودنا۔ اللہ کا ذکر کثرت سے کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ تقاضہ بشریت میں سرزد ہوئی غلطیوں پہ سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے چاہیے، اور اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔
GeogCafe offers specialized Geography tuition in Singapore tailored to help students excel...
Casey Askar: A Look at His Business Career and Public Profile
Good88: Exploring a Modern Platform Built for Convenience, Engagement, and a Better User E...