The Israel is an illegitimate creation of the western powers; which gave rise to conflicts for almost a hundred years in the region. Last Friday Israel attacked Iran and the other day Iran retaliated and fire missiles on many areas; thus shattering the invincibility of Jewish state. This article in Urdu "اسرائیل ایران جنگ؛ کیا اسلام مخالف ہے؟" explores this event in the historical perspective.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
اسرائیل ایران جنگ؛ کیا اسلام مخالف ہے؟
اسرائیل نے جمعہ 13 جون 2025 کو فجر کے وقت اسلامی جمہوریہ ایران پر ایک بڑے پیمانے کا حملہ کیا، جس میں سائنسدانوں، فوجی تنصیبات اور جوہری تحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ اس حملے کی منصوبہ بندی مہینوں سے کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں تین اعلیٰ فوجی کمانڈر، چھ جوہری سائنسدان اور درجنوں اعلیٰ ایرانی افسران ہلاک ہوئے۔
اس کے جواب میں ہفتہ، 14 جون، 2025 کو، ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں آپریشن "سچا وعدہ-3 " شروع کیا اور اسرائیل میں سٹریٹجک اور فوجی اہداف اور مقامات کی طرف بیلسٹک میزائلوں کا ایک سلسلہ داغا؛ جس کا نشانہ اسرائیل کے اندر فضائی اڈے اور فوجی صنعتی مراکز تھے۔ یہ میزائل ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل تھے جو زیادہ دھماکہ خیز وار ہیڈز اور درستگی سے چلنے والے ڈرونز سے لیس تھے۔
یہ جنگ شروع ہوئے اب چار دن ہوچکے ہیں اور امریکی ڈیپ سٹیٹ جس کا بغل بچہ اسرائیل ہے؛ اس جنگ میں کودنے کی تیاری کررہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ جانا جائے کہ اسرائیل ایران جنگ آخر کیوں شروع کی گئی ہے؟ اور اس کے لیے ہمیں سوسال سے تھوڑا زیادہ پیچھے کی طرف سفر کرنا ہوگا۔ تاکہ پس پردہ حقائق کا پتہ لگایا جاسکےاور اس جنگ کے اصل مقاصد پر روشنی ڈالی جاسکے۔
سنہ 1896 عیسوی میں ایک صیہونی یہودی تھیوڈور ہرزل نے جیوش کونسل میں ایک یہودی ریاست اور دنیا پر جیوش کونسل کی حکومت کا منصوبہ پیش کیا؛ جسے" پروٹوکول آف الڈر آف زائنز" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پھر سنہ 1916 عیسوی میں جیوش کونسل کے ایک اہم رکن "رتھ شائیلڈ" کو برطانوی حکومت کی جانب سے ایک یہودی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا گیا۔ اس وقت سرزمین فلسطین سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اور عثمانی سلطان حمید نے یہودیوں کو اس زمین پر آباد ہونے کی سونے کے سکوں کے ساتھ درخواست مسترد کردی تھی۔ پہلی جنگ عظیم 1914-1919 کا صرف ایک نتیجہ تھا؛ سلطنت عثمانیہ کا سقوط اور اسلامی خلافت کا خاتمہ۔ اس خلافت کے خاتمہ کے خلاف صرف ہندوستان کے مسلمان ہی کھڑے ہوئے تھے۔ باقی دنیا کی مسلمان کیا کررہے تھے؟
اب یہاں آگے بڑھنے سے پہلے ایک مشہور امریکی مصنف "مارک ٹوئن" کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کی گواہی کو ایک جھوٹ کے لیے استعمال کیا گیا؛ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسرائیل کا وجود متعدد مفروضات اور اغلاط پر قائم ہے۔ سنہ 1866 میں، نوجوان سیموئیل کلیمینز جس نے قلمی نام "مارک ٹوین" اختیار کیا؛ امریکی یہودیوں کے ساتھ فلسطین کے مذہبی سیاحت کو نکلا۔ اس نے دوران سفر مشاہدات پر تبصرہ نگاری کے لیے معاہدہ کیا۔ دوران سفر اس نے طنزیہ انداز میں یہودی حاجیوں کو"معصومین" کا نام دیا۔
فلسطین میں رہتے ہوئے اس نے جو خطوط لکھے ان کو بعد میں لکھے گئے مضامین کے ساتھ ملایا گیا، جس کا نتیجہ "دی انوسنٹ ابروڈ"، نامی ایک کتاب ہوا؛ جس میں اس عجیب ملک کے بارے میں ان کے تاثرات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ٹوئن نے حج پارٹی کے باقی لوگوں کی طرف سے دکھائی جانے والی مذہبی عقیدت کو مسترد کردیا۔ اس کے ساتھی مسافروں نے رونے اور دعا کرنے کے ہر موقع کا فائدہ اٹھایا، لیکن انہوں نے اپنے آرام گاہ سے نوادرات کو یادگار کے طور پر گھر لے جانے کا موقع بھی نہیں چھوڑا۔ اپنے ساتھی مسافروں کے بالکل برعکس، ٹوئن نے کوئِ مذہبی گیت نہیں گایا۔ مقدس سرزمین میں داخل ہونے کے بعد اور دریا "دان " پر آنکھیں ڈالنے کے بعد، اس نے عزم کیا کہ "اس کے کنارے، اور ندی کے کنارے کھلتے ہوئے اولینڈرز سے مزین ہیں، لیکن اس جگہ کی ناقابل بیان خوبصورتی ایک متوازن آدمی کو آکشیپ میں نہیں ڈالے گی، جیسا کہ شام کی سفری کتابیں کسی کو قیاس کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔"
""جتنا ہم آگے گئے، سورج اتنا ہی گرم ہوتا گیا، اور زمین اتنا ہی پتھریلا، ننگا، ناگوار اور خوفناک ہوتا گیا... شاید ہی کوئی درخت یا جھاڑی کہیں نظر آئے۔ یہاں تک کہ زیتون اور کیکٹس بھی، جو کہ ایک بیکار مٹی کے تیز دوست ہیں، ملک کو تقریباً ویران کر چکے تھے"۔ "فلسطین ویران اور پیارا ہے۔ اور یہ دوسری صورت میں کیوں ہونا چاہئے؟ کیا دیوتا کی لعنت کسی زمین کو خوبصورت بنا سکتی ہے؟ فلسطین اب اس کام کے دن کی دنیا نہیں ہے۔ یہ شاعری اور روایت کے لئے مقدس ہے - یہ خوابوں کی سرزمین ہے"۔"
اس کی تحریر کو خوب اچھالا گیا؛ اور دہشتگرد کاروائیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جب صیہونی یہودی دہشت گردوں نے فلسطینی علاقوں میں چھاپہ مار کاروائی کے ذریعے وہاں کے مقیم فلسطینوں کو قتل کیا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا تو دنیا بھر میں یہ مشہور کیا کہ وہ علاقے غیر آباد تھے اور ثبوت میں مارک ٹوئن کی گواہی پیش کی۔ اس سے یہ سمجھنا غلط نہی ہوگا کہ صیہونی امریکی یہودی سنہ 1866 ہی سے اسرائیل کی زمین پر قبضے کا منصوبہ بنارہے تھے۔
آخری عثمانی سلطان حمید الدین نے یہودی کی سونے کے سکوں سے لدی فلسطین کی زمین پر بسنے کی خواہش رد کی تھی تو کہا تھا کہ القدس کی زمین اسلام کی زمین ہے اور سارے مسلمان جس کے وارث ہیں۔ مگر سنہ 1923 میں کمال اتا ترک نے سقوط عثمانی خلافت کے بعد فلسطین کو ایک عرب زمین کا علاقائی مسئلہ کہہ کر جان چھڑالی۔ اس دوران جگہ جگہ فلسطین کے لوگوں کو پر تشدد طریقوں سے قتل کیا گیا؛ دربدر کیا گیا اور بزور طاقت قبضہ کیا گیا۔ اور بالآخر سنہ 1948 ؛ 14 مئی کو اسرائیل کی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا اور ان علاقوں میں آباد عرب مسلمان فلسطینیوں کو بزورِ طاقت نکال دیا گیا۔ اس پر مزید روشن حقائق جانے ہوں تو ایلان پاپے کی کتاب " اسرائیل کے دس جھوٹے مفروضے" یعنی "ٹین میٹھس ابوٹ اسرائیل" پڑھیں۔ ہر مسلمان کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ فلسطین ایک زمین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے قبلہ اول پر صیہونیت کا غلبہ ہے جو اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔
اس سے ذرا قبل دنیا دوسری عالمی جنگ 1939-1944 سے گذری تھی اور جس کے نتیجے میں امریکہ اور روس کو دنیا کی طاقتور اقوام کے طور پر ہیش کیا گیا۔ اور ایک عالمی نظم و نسق بنام یونائیٹد نیشنز نافذ کیا گیا۔ دنیا کو جمھوریت آزادی اور انسانی حقوق کا چورن بیچا گیا۔ مگر اس کا نشانہ ایشیاء اور افریقہ کے اقوام تھیں۔ ایشیاء کا ایک بڑا حصہ اسلامی ممالک پر مشتمل ہے؛ جو ایک مسئلہ تھا اور جس کو غلامی پر راضی رکھنے کے لیے اسرائیل کو اسلامی مذہب کے دل میں خنجرکے طور پر اتارا گیا۔ اور اپنے قیام سے آج تک اسرائیل نے اپنا کردار بخوبی ادا کیا ہے۔ اسرائیل نے اسلامی دنیا کو جنگ میں الجھائے رکھا اور دہشت گرد اور فسادی روپ میں پیش کیا۔ اور عام مسلمانوں کے درمیان علاقائی تنازوں کو ہوا دی؛ اور فرقہ ورانہ رنگ دیا۔ مگر اس کے اصل روحِ روان امریکہ میں بیٹھے یہودی رہے؛ جو پوشیدہ رہ کر ساری مسلم دنیا کے حکمرانوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح نچاتے ہیں۔ اس حقیقت کو مزید جاننے کے لیے ولیم کار گائے کی کتاب "پان ان دا گیم" پڑھیے۔
اسرائیل کے ارد گرد چار مسلم حکومت قائم کی گئیں؛ شام، اردن لبنان اور مصر؛ اور چاروں نے مل کر اس کے محفوظ کیا۔ ان ممالک نے متعدد جنگیں لڑیں اور بڑی خوبصورتی سے ہار دیں۔ اور ہر دفعہ اسرائیل کی سرحدیں بڑھا دی گئیں۔ ان ممالک نے مسلم امت سے دھوکہ کیا اور یہ خوف بٹھایا کہ اسرائیل ایک ناقابل شکست مافوق الفطرت قوت ہے اور اسرائیل نے یہ پروییگنڈا بڑھایا کہ اسرائیل خدا کی چنیدہ مخلوق یہودی ریاست ہے اور یہ انکا آسمانی حق ہے کہ وہ القدس کے وارث بنیں۔ یہ دعوی اسلام کے بنیادی اعتقادات کے خلاف ہے اور اسلامی دنیا میں اس کے خلاف جزبات بھڑکے ہوئے ہیں؛ مگر تقریبا" سارے کے سارے اسلامی ممالک کے حکمران اشرافیہ مغرب کے غلام ہیں۔ اور جو زیادہ طاقتور ہیں انہوں نے اسرائیل کو تسلیم بھی کررکھا ہے۔ اور اس کا ثبوت غزہ مجاہدین نے 15 مہینے کی جنگ لڑ کر پیش کیا ہے۔
سنہ 1979 عیسوی میں ایران میں امام خمینی نے اسلامی انقلاب کے ذریعے پہلوی بادشاہت کو ختم کیا۔ اس ہی سال افغانستان پر رشین فوج نے قبضہ بھی کیا۔ اور پھر فورا" ہی عراقی فوج نے ایران پر حملہ کردیا؛ حالانکہ اس سے قبل عراقی حکمران صدام حسین رشین بلاک کا حصہ تھا مگر اس جنگ کے لیے امریکی آشیرباد حاصل تھی۔ امریکہ نے ایران عراق جنگ اور افغانستان جنگ سے مسلم دنیا میں فرقہ واریت کو فروغ دیا۔ افغان جنگ کے لیے اسلامی جہاد کو ابھارا گیا؛ جو لڑنے والوں کی شرست میں غلط نہ تھا؛ مگر بعد از فتح انکو دہشتگرد قرار دیاگیا۔ اور ایران کے مجاہدین سے بھڑا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں اسلامی ممالک میں پراکسی وار شروع ہوگئی۔ اس پراکسی وار میں شام اور لبنان کے ذریعے اسرائیل پر بھی حملے کرائے گئے؛ تاکہ انکو شہرت اور پسنددیدگی ملے۔
اب اچانک ہی شام سے شیعہ عسکریت ختم ہوگئی ہے۔ اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی سنی عسکریت [نان سٹیٹ ایکٹرز] کو رسوا یا ختم کیا جارہا ہے۔ پھر اچانک ہی اسرائیل نے ایٹم بم کا بہانہ بنا کر حلمہ کیا ہے اور اب اصل مقصد رجیم چینج ابھر کر آگیا ہے۔ جس طرح امریکہ نے فلپائن میں مارکوس کے بیٹے کو نصب کیا، اسی طرح ایران کے شاہ کا جلاوطن بیٹا صبر سے یہودی آقاوں کے پروں کے نیچے انتظار کر رہا ہے۔ بی بی سی نے کل ہی ایران کے جلاوطن بادشاہ رضا شاہ پہلوی دوم کا انٹرویو کیا ہے، جس میں اس نے کہا ہے کہ ایرانی عوام اب متحرک اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اسے اسلامی حکومت کو ہٹانے کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔ چار دہایوں سے غائب رضا شاہ پہلوی اچانک ہی برساتی کیڑے کی مانند ابھر آیا ہے اور جمھوریت کا راگ آلاپ رہا ہے۔ مقصد ایران کو صرف اسرائیل دوست ملک بنانا ہے۔ اسرائیل کو ایک جائز یہود ریاست مقبول کرانا ہے؛ جس کا قیام دہشت کے ہول ناک خوفناک اقدامات سے ہوا اور جس نے اپنے قومی حیات کے دوران محض آگ اور خون کی ہولی کے سوا کوئی اور کام نہی کیا؛ غزہ کی پندرہ ماہی جنگ نے مڈل ایسٹ کی واحد جمھوری ریاست کے مکروہ چہرے سے نقاب الٹ دیا ہے۔
ساری مغربی دنیا ایک سنگین مغالطے میں بس رہی ہے۔ اس کے ذہین فطین دانشور گفتگو عقل و شعور کے مباحثہ کی کرتے ہیں مگر جب موضوع اسلام؛ اسلامی شعار اور مسلمان افراد کی ہو تو سٹی گم ہوجاتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ اسرائیل ایک عالمی دہشت گرد ملک ہے مگر اسے یونائٹڈ نیشن کی قبولیت حاصل ہے کہ آج سے ہزاروں سال قبل یہود اس زمین پر بستے تھے۔ مگر بسنے والوں کی اکثریت نسلی طور پر قوم یہود کے نہیں ہیں؛ بلکہ اشکانائی یہود ہیں۔ اور بہت سارے آل ابراہیم آل یہود جو مسلمان ہوگئے تھے اور عرب فلسطین جو وہیں ہزاروں سال سے بسے ہوئے تھے اور آج بھی اقوام متحدہ انہیں ایک قوم تسلیم نہی کرتا کہ مغرب اس پر ہمدردی سے ابھی غور کررہا ہے۔ جی ہاں ۷۷ ستتر سال سے غور ہورہا ہے۔
ایک بات اور جان رکھیں کہ ارضِ فلسطین پر یہ قوم یہود کا تیسرا قبضہ ہے اور اس سے قبل یہ دونوں مرتبہ صرف اسی ۸۰ سال ہی حکمران رہیں ہیں۔ اگر تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے اور جس پر خود قوم یہود کو یقین ہے تو ریاست اسرائیل اب محض چند سال اور ہی یہ بدمعاشی کرسکتا ہے اور خدائے لم یزل کے طفیل یہ پھر ہمیشہ کے لیے غائب ہونے والے ہیں۔ مگر شاید یہ بجھتا چراغ جانے سے پہلے خوب تباہی پھیلائے گا کیونکہ اسکا قیام بھی تباہی کے راستے سے ہوا تھا۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست بنائی گی تھی۔ اور اس کا انہدام عالمی امن کے لیے سود مند ہوگا۔
مگر کیا اسلامی ممالک کو کچھ سبق نہیں سیکھنا چاہیے؟ آخر کب تک یہ طفیلیانہ طرز زندگی بسر کی جائیگی؟ اور کب تک اللہ تعالی سے جنگ لڑی جائیگی؟ یہ قوم یہود کا وطیرہ تھا اور اب وقت آگیا ہے کہ کچھ بدلاو لایا جائے۔ مغربی اقوام کی نوآبادیاتی نظام کو اب ترک کرنا ہوگا۔ مغربی دہشت کی طاقت اب زوال پذیر ہے اور ضروری ہے کہ نئے طاقت کے مراکز بنائے جائیں اور ایک یا دو کے بجائے متعدد علاقائی طاقت کے مراکز بنائے جائیں۔ آنے والی صدی ایشاء کی صدی ہے جس کے صرف ایک کونے یعنی چین اور برصغیر ہندوستان میں آج کی دنیا کی کل آبادی آٹھ ارب میں سے چار ارب انسان بستے ہیں۔ یہ معاشی طور پر بھی سب سے مستند قوت ہیں اور دفاعی قوت میں بھی انیس بیس کا فرق رہ گیا ہے۔ ان ممالک کو امن کا راستہ اپنانا ہوگا۔
پچھلی صدی جنگ کی کوکھ سے ابھری تھی اور جنگ ہی کے نذر ہوگئی۔ ماسکو کے چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست شائع کی ہے، جن پر جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکا نے بمباری کی:
جاپان: 6 اور 9 اگست 1945
کوریا اور چین: 1950–1953 (جنگِ کوریا)
گواتی مالا: 1954، 1960، 1967–1969
انڈونیشیا: 1958
کیوبا: 1959–1961
کانگو: 1964
لاؤس: 1964–1973
ویتنام: 1961–1973
کمبوڈیا: 1969–1970
گریناڈا: 1983
لبنان: 1983، 1984 (لبنان اور شام میں اہداف پر حملے)
لیبیا: 1986، 2011، 2015
ایل سلواڈور: 1980
نکاراگوا: 1980
ایران: 1987
پاناما: 1989
عراق: 1991 (خلیجی جنگ)، 1991–2003 (امریکی و برطانوی حملے)، 2003–2015
کویت: 1991
صومالیہ: 1993، 2007–2008، 2011
بوسنیا: 1994، 1995
سوڈان: 1998
افغانستان: 1998، 2001–2015
یوگوسلاویہ: 1999
یمن: 2002، 2009، 2011، 2024، 2025
پاکستان: 2007–2015
شام: 2014–2015
یہ فہرست تقریباً 30 ممالک پر مشتمل ہے۔ چین نے زور دیا ہے کہ "دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ کون اصل خطرہ ہے۔ مغربی میڈیا اور حکومتیں منافقت سے کام لیتے ہیں، اور جب امریکا قتل عام کرتا ہے تو وہ خاموش رہتے ہیں"۔ یہ فہرست اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کے لیے شائع کی گئی، جو امریکا اور مغرب انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عالمی سلامتی کے معاملات میں اپناتے ہیں۔
لیکن اب اسے بدلنا ہوگا۔ پچھلی صدی کا نظام دفاعی ذہنیت کے مرہون منت تھا اور اس کے تحت بلاکس بنائے گئے تھے۔ پاکستان مغربی استعمار سے نجات پانے کے بعد دفاعی ضرورت کے تحت امریکہ کی گود میں جاگرا تھا۔ اور جکڑا گیا تھا۔ آب آزاد روش اختیار کرنی چاہیے۔ پاکستان کو اپنے پڑوسی افغانسان؛ ایران اور ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاع کا معاہدہ کرنا چاہیے؛ جس کی بنیاد ایک اللہ ایک رسول اور ایک کتاب ہونا چاہیے؛ اور چین کے بیلٹ اور روڈ پروگرام کے تحت جڑجانا چاہیے۔ یورپین یونین کی طرح سرحد کو آزاد کریں اور افراد کے آنے جانے کو آسان بنایا جائے۔
Buy How to Avoid PayPal Scams: The Complete Expert Guide PayPal is one of the most widely...
Buy PayPal Scam Prevention Tips: The Ultimate 2026 Guide Online payment platforms like Pa...
Buy PayPal Fraud Prevention Tips: The Complete Expert Guide Online payments have transfor...
Get Verified MoneyGram Account: The Ultimate Expert Guide MoneyGram is one of the most tr...