The World today is eyeing a catastrophe, which if not Armageddon, then WW-3 for sure. However, Islamic world is in turmoil; and only Iran is facing the might of western Zionist forces. This write up in Urdu "دجالی جنگ میں مذاکرات کا دھوکا؟" is an opinion on current situation of US-Israel-Iran War 2026 including a piece from Russian philosopher Alexander Dugin.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
دجالی جنگ میں مذاکرات کا دھوکا؟
دجال سے مذاکرات ؟ — از الیگزینڈر ڈوگن
روسی فلسفی الیگزینڈر ڈوگن نےایک نئے مضمون میں رائے دی ہے کہ ایران امریکہ یا مغرب کے ساتھ سودے بازی نہیں کر سکتا۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والےمذاکرات ایک کھلا جال پے؛ کشیدگی میں اضافے کا جواب اسی شدت کی کشیدگی سے دیا جانا چاہیے، اور یہ کہ تہران کو مذاکرات کی میز پر کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
روسی فلسفی الیگزینڈر ڈوگن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی حقیقی امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکتا؛ وہ اپنے نئے مضمون میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ امریکہ / مغرب کے ساتھ مذاکرات ایک جال ہیں اور اس کا واحد مؤثر جواب باہمی کشیدگی میں اضافہ ہے۔
’ملٹی پولر پریس‘ کے لیے ”آپ دجال کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتے“ کے عنوان سے لکھتے ہوئے، ڈوگن ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ان کے بیان کے مطابق، واشنگٹن نے ایرانی سرزمین پر بمباری دوبارہ شروع کر دی، جبکہ تہران نے بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ مذاکرات شروع ہی سے ناکامی سے دوچار تھے، کیونکہ — شیعہ مابعدالطبیعات سے اخذ کردہ ایک اصول کے تحت — دجال کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا؛ دجال، جو اسلامی عقائدِ آخر الزماں (اسکوٹولوجی) کے مطابق کانے جھوٹے مسیحا اور سب سے بڑے دھوکے باز کی حیثیت رکھتا ہے اور جو مطلق شر کی علامت ہے۔
’کشیدگی میں اضافہ باہمی ہونا چاہیے‘
ڈوگن کے استدلال کا مرکزی نکتہ ایک ایسا اصول ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کا اطلاق ایران کی مغرب کے ساتھ محاذ آرائی اور روس کی اپنی جنگ، دونوں پر یکساں طور پر ہوتا ہے: یعنی کشیدگی میں اضافہ باہمی ہونا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب دشمن کشیدگی بڑھاتا ہے تو دوسری جانب کو بھی جواباً کشیدگی بڑھانی چاہیے؛ صرف اسی صورت میں وہ واقعات کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مخالف فریق کو اپنی شرائط پر یکطرفہ طور پر کشیدگی بڑھانے کا موقع دیا جائے اور خود محض غیر فعال ردعمل تک محدود رہا جائے— ایک ایسی صورتحال جسے وہ جنگ کے دوران مسلط کردہ بیرونی کنٹرول کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ محض تنازعے کو مؤخر کرنا اور مذاکرات کا تاثر برقرار رکھنا ہمیشہ مغرب کے مفاد میں ہی جاتا ہے۔
ڈوگن یہی تنقید ماسکو پر بھی کرتے ہیں؛ وہ روس کی اس بات پر مذمت کرتے ہیں کہ وہ اپنے خلاف جنگ میں مغربی مداخلت کا بھرپور جواب دینے میں ناکام رہا ہے، اور سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کا اپنا ملک ایسے دباؤ کا جواب اسی انداز میں کیوں نہیں دیتا۔
معلوماتی ہتھیار کے طور پر مذاکرات
ڈوگن کے نزدیک خود مذاکرات مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ مسئلہ ان کی تشہیر ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، لیکن صرف اپنے مفاد میں اور کبھی بھی اعلانیہ طور پر نہیں؛ جس لمحے وہ عوامی سطح پر سامنے آتے ہیں، وہ ایک ’معلوماتی ہتھیار‘ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جسے—ان کی نظر میں—صرف مغرب ہی استعمال کرنا جانتا ہے، اور وہ بھی ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے۔ اسی منطق کی بنیاد پر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’پسِ پردہ سفارت کاری‘ (بیک چینل ڈپلومیسی) سے وابستہ شخصیات کا ذکر بھی محاذِ جنگ پر موجود فوجیوں کا حوصلہ پست کر سکتا ہے اور قوم کے عزم کو کمزور کر سکتا ہے۔
وہ ایران کے معاملے میں بھی اسی استدلال کو بروئے کار لاتے ہیں۔ ڈوگن کا کہنا ہے کہ شہید رہنما (کے سوگ) کے موقع پر، مغرب کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں کے خلاف شدید غصے اور لعن طعن کا اظہار کیا گیا — جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے نام شامل ہیں۔ تاہم، وہ مزید کہتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر انہیں اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتے، بلکہ اس مخاصمت کو 'معلوماتی جنگ' (انفورمیشن وارفیئر) کے اس منطقی عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جس کے اصول مغرب خود طے کرتا ہے اور یکطرفہ طور پر ان کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
ڈوگن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی قیادت پر امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد، 'اسلامی انقلابی گارڈ کور' (آئی ار جی سی) نے اندرونی دشمنوں کے اس گروہ کے خلاف کارروائی کی جسے وہ "چھٹا کالم" (سکستھ کالم) قرار دیتے ہیں، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایسے کچھ عناصر اب بھی موجود ہیں۔
***یہ تحریرروسی زبان سے ترجمہ شدہ ڈوگن کے اس بنیادی نظریے پر اختتام پذیر ہوتا ہے: کہ ایران اور روس، دونوں ہی کے لیے مذاکرات کی کھلی میز امن کی راہ نہیں، بلکہ ایک ایسا آلہ ہے جسے مغرب ان ہی لوگوں کے خلاف استعمال کرتا ہے جو اس پر بیٹھنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔***۔
https://www.purewilayah.com/p/you-dont-negotiate-with-dajjal-dugin
سب سے پہلے یہ ذہن نشین رہے کہ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی ہے؛ بلکہ ایران پہ امریکہ اور صیہونی یہودی ریاست اسرائیل نے مل کر 28 فروری 2026 کو حملہ کیا تھا اور پہلے ہی ہلے میں ایران کے روحانی رہنماء سمیت بہت سے معتبر اعلی رہنماوں کو شہید کردیا تھا۔ اور حملے کی ابتداء بچوں کے اسکول پر حملہ تھا جس میں تقریبا" دوسو شہادتیں ہوئی تھیں۔ اس لیے ہر وہ دن جب امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں ناکام رہتا ہے، ایران کی فتح کا دن ہوتا ہے؛ یوں مسلسل پانچ ماہ سے ایران روزانہ کی بنیاد پر فتح یاب ہو رہا ہے۔
تنازعے سے پیچھے ہٹنے کا اسرائیل کا فیصلہ ایران کی فتح ہے۔ لیکن یہ صرف دھوکا ہے تاکہ عرب آبادیوں کو تسلی دی جاسکے یہ اسلام اور یہود کی جنگ نہیں ہے۔ چنانچہ کسی بھی امریکی حملے کے جواب میں ایران کی جانب سے ہر نوع کے امریکی اڈوں پر کیے جانے والے تباہ کن جوابی حملے ایران کی فتح کی علامت ہیں۔
گزشتہ پانچ ماہ کے دوران، اپنے ہی عوام میں ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے جبکہ ایرانی قیادت کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے؛ یہ بھی ایران کی فتح ہے۔ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ امریکی تاریخ کی سب سے غیر مقبول جنگ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت ایران کے ساتھ جنگ کی حمایت نہیں کرتی؛ یہ بھی ایران کی فتح ہے۔
یہ حقیقت کہ روس، چین، شمالی کوریا، عراق، یمن، عمان اور حزب اللہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ایران کی فتح ہے۔ عالمی سطح پر عزت و احترام کا حصول بھی ایران کی فتح ہے۔ امریکہ کا عالمی سطح پر ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا بھی ایران کی فتح ہے۔ حال ہی میں ایک درجن یورپی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کیا جانا بھی ایران کی فتح ہے۔
اسپین اور اٹلی کے ہاتھوں ٹرمپ کی ہزیمت بھی ایران کی فتح ہے۔ نیٹو کا پہلی بار امریکی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرنا بھی ایران کی فتح ہے۔ امریکی زمینی فوج کا پہلی بار امریکی جنگ میں حصہ نہ لینا بھی ایران کی فتح ہے۔ اصفہان پر امریکی کمانڈوز کا ناکام چھاپہ — جو امریکی تاریخ کا سب سے ناکام ترین آپریشن تھا — بھی ایران کی فتح ہے۔ ابراہیمی معاہدوں (ابراہام اکارڈ) کا تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو جانا بھی ایران کی فتح ہے۔
امریکہ یا اسرائیل یا اصل کھلاڑی صیہونی یہودی خود جنگمیں کودے تھے؛ اور اس کے مقاصد خفیہ تھے؛ یہ کبھی امن نہیں چاہتے تھے اور امن محض ایک دھوکا تھے؛ کیونکہ انکو بہت مار پڑی تھی اس لیے وہ طاقت کو مجتمع کرنے کے لیے اور ایران کے خلاف نئی سازش تیار کرنے کے لیے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا تھا۔رمضان کے مقدس مہینے میں شروع کی گئی جنگ کے مقاصد پورے نہیں ہوسکے تھے بلکہ ایران بھاری پڑگیا تھا اور اسلامی دنیا میں یہودی اسرائیل کی وجہ سے نفرت پھیل گئی تھی؛ اب نیا حملہ ایک نئے بہانے سے شروع کیا گیا ہے تاکہ ایران کو اسلامی دنیا میں تنہا کیا جاسکے۔
کیا امریکہ اسرائیل کی جنگ صرف ایران کی طرف سے دجال کے خلاف مزاحمت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے صیہونی دجال / انٹی کرائسٹ کے لیے حملہ آور ہیں اور انہوں نے امریکہ مذہب پرستوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی کا لارا لپاہ دے رکھا ہے۔ اور دجال انسان دوستی کا حوالہ نہیں ہے بلکہ سیاہ ترین جبر اور بربریت کی تباہی کا استعارہ ہے جسکا اظہار پوری شدت سے فلسطین کے غزہ پہ کیا جارہا ہے۔ اس صورت حال میں ایران دجالی قوتوں سے نبرد آزماء ہے۔ اور ایرانکے خلاف ساری قوتین دجالی کہلائیں گی۔
Planting grapes, figs, or pomegranates this season? Save money buying potting soil in bulk...
Découvrez les Jeux les Plus Populaires d'Allrecipes