Muhammad Asif Raza 1 day ago
Muhammad Asif Raza #entertainment

عید کا دن ہے

ALLAH, the All Sovereign, the Most Benevolent and the Most Merciful, has created us with body and soul. Ramazan, the fasting month has been gifted to purify the soul. Eid ul Fitr is an occasion to thank ALLAH for the bounties and Muslims have been celebrating it in befitting manners since the very beginning i.e. days of Hazrat Muhammad (PBUH). This writeup "عید کا دن ہے" is to share the happiness of EID-UL-FITR MUBARAK.


عید کا دن ہے


عید الفطر اسلام کا تہوار ہے جو عین رمضان المبارک کے اختتام پر اللہ سبحان تعالی کی خوشنودی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ؛ خوشی؛ جشن ؛ فرحت اور چہل پہل کے ہیں جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں؛ یعنی روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ عید الفطر کے دن آقا کریم محمدﷺ نے تاکید کی کہ صبح صبح نماز عید سے پہلے کچھ نہ کچھ کھا کر گھر سے نکلنا ہے؛ جو روزے کا سلسلہ کے اختتام ہوتا ہے۔ اس روز اللہ تعالی بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہذا اس تہوار کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے۔


رمضان المبارک کا برکتوں اور رحمتوں والا مہینا ایک عظیم مہمان تھا جس نے روزہ داروں کا بھی اکرام کیا اور انہیں مختلف قسم کی خوشیوں سے سرفراز فرمایا۔ اب یہ نعمت ایک سال بعد آئے گی۔ رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی عید کی رات شروع ہوجاتی ہے، جسے عرف عام میں چاند رات کہا جاتا ہے۔ اور اب تو ایک جشن کا سلسلہ ہی بن گیا ہے جو رمضان کی روح کی منافی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ 


حضوراکرمﷺ نے فرمایا: جو عیدین کی راتوں میں شب بیداری کرکے قیام کرے اس کا دل نہیں مرے گا جس دن کے سب لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے۔(ابن ماجہ) حضوراکرم ﷺ کا فرمان ایک اور جگہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ "جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو ملائکہ راستے کے کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور آواز دیتے ہیں، اے مسلمانو! اس رب کریم کی طرف چلو جو بہت خیر کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔ اے بندو! تمھیں قیام اللیل کا حکم دیا گیا، لہٰذا تم نے اسے بجا لایا، تمھیں دن میں روزے کا حکم دیا گیا، تم نے روزے رکھے اور تم نے اپنے رب کی اطاعت کی؛ لہذا آج تم اپنے انعامات لے لو۔ پھر جب لوگ نماز سے فارغ ہوجاتے ہیں تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے ۔ تمھارے رب نے تمھاری مغفرت کردی۔ اپنے گھروں کی طرف ہدایت لے کر لوٹ جاؤ۔ یہ یوم جائزہ (انعام کا دن) ہے"۔ (الترغیب والترھیب، حدیث نمبر: 1659)


عید کادن نشاط وسرور فرحت وخوشی کادن ہے، جو سال میں دو مرتبہ حاصل ہوتا ہے پہلی خوشی اس کی یہ ہے کہ رمضان شریف کا مبارک مہینہ آیا اس میں خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ عید کے دن دو رکعت نماز واجب ہے جن لوگوں پر جمعہ کی نماز فرض ہے انہیں پر عید کی نماز واجب ہے اور جو شرطیں جمعہ کی نماز کی ہیں وہی عید کی نماز کی ہیں، مگر عیدین میں نماز کا خطبہ نماز کے بعد پڑھا جاتا ہے اور خطبہ کاپڑھنا اور سننا سنن مؤکدہ ہے۔عید کی نماز کیلئے اذان اور تکبیر نہیں۔ بلکہ آفتاب بلند ہونے کے بعد سب مسلمان ایک جگہ جمع ہوں جب سب جمع ہوجائیں تو امام ان کو دورکعت نماز پڑھائے اور اور ہرایک رکعت میں تین زائد تکبیر یں کہے جائیں ان زائد تکبیروں کاکہنا امام اور مقتدی دونوں پر واجب ہےاس کے بعد امام ممبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھیں۔


 رمَضانُ الْمُبَارَک رَحمت ومغفرت اور جہنَّم سے آزادی کا مہینا ہے ،لہٰذا اِس رحمتوں اور برکتوں بھرے مہینے کے فوراً بعد ہمیں عید سعید کی خوشی منانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اور عید الفطرکے روز خوشی کا اِظہار مستحب ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل ورحمت پر خوشی کرنے کی ترغیب تو قراٰنِ کریم میں بھی موجود ہے ۔ عید کے دِن غسل کرنا ، نئے یا دُھلے ہوئے عمدہ کپڑے پہننا اور عطرلگانا مستحب ہے،یہ مستجبات ہمارے ظاہری بدن کی صفائی اور زینت سے متعلق ہیں ۔لیکن ہمارے اِن صاف ،اُجلے اور نئے کپڑوں اور نہائے ہوئے اور خوشبو ملے ہوئے جسم کے ساتھ ساتھ ہماری روح بھی خوب سجی ہوئی ہونی چائیے؛ جو رمضان کو پوری صحت کے ساتھ اکتساب سے روزوں؛ نمازوں اور دیگر عبادتوں میں گذارنا سے ہوتا ہے۔

kaisi khushi leke aaya chand Eid ka

ذیل میں عید کے موضوع پرکچھ اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔


میری تو پور پور میں خوشبو سی بس گئی

اس پر ترا خیال ہے اور چاند رات ہے

وصی شاہ


چھیڑا ہے ایک نغمۂ شیریں بھی کو بہ کو

دل نے ہلال عید کی تائید کے لئے

افروز رضوی


عید کے بعد وہ ملنے کے لیے آئے ہیں

عید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعد

نامعلوم


آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے

راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے

آبرو شاہ مبارک


مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے

محمد اسد اللہ


عید کا دن ہے گلے مل لیجے

اختلافات ہٹا کر رکھیے

عبد السلام بنگلوری


وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو

ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو

مصحفی غلام ہمدانی


جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں

عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی

امجد اسلام امجد


عید میں عید ہوئی عیش کا ساماں دیکھا

دیکھ کر چاند جو منہ آپ کا اے جاں دیکھا

شاد عظیم آبادی


خوشی ہے سب کو روز عید کی یاں

ہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش

میر محمدی بیدار


بچھڑے ہوؤں کو بچھڑے ہوؤں سے ملائے ہے

ہر سمت عید جشن محبت منائے ہے

انسانیت کی پینگ محبت بڑھائے ہے

ہر سال آ کے سب کو گلے سے لگائے ہے

دیجے دعائیں عید کی تیوہار کو نذیرؔ

اک بھیڑ آج آپ سے ملنے کو آئے ہے

نذیر بنارسی

گیت | لائی ہے عید ساتھ | مہناز بیگم | Radio Pakistan

بچوں کی عید

 لوگ کہتے ہیں کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ عید نام ہے خوشیوں کا اور خوشی کے اس تہوار میں چھوٹے بڑے سب ہی محبتیں اور خوشیاں بانٹتے ہیں۔ بچوں کے کھلکھلاتے چہروں پر یہ خوشی بھرپور عیاں دکھائی دیتی ہے۔ بچہ پارٹی کا عید منانے کا انداز اپنا ہوتا ہے؛ چاند رات کو خوبصورت طریقوں جیسے غباروں اور پھولوں سے گھر کو سجاتے ہیں؛ اور بڑوں کے ساتھ مل کر خوب صفائی کا کام کرتے ہیں۔ اور روز عید بڑوں سے عیدی بٹورنے کے بعد میلوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ چنانچہ عید پر گلی محلوں میں میلے سج جاتے ہیں ؛ جہاں بچے عید کو بھرپور انداز میں منانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ 


عید میلوں کی رونق بچے ہوتے ہیں۔ رنگ برنگے چشمے پہنے، چھوٹو پارٹی ٹشن میں نکلتی ہےکہ کیا کیا جھلمل جھم جھم کرتے لباس زیبِ تب ہوتے ہیں؛ خاص طور پر بچیاں کہ گوٹے کناری چوڑیاں، کنگن، ماتھے پر ٹیکہ سجائے؛ مہندی لگائے ہاتھوں میں رنگ برنگے غبارے اور پلاسٹک کے کھلونے لئے بازار اور میلوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ گھوڑے یا اونٹ اور تانگے کی سواری کی جاتی ہے؛ اور میلوں میں جھولوں میں بیٹھ کر اور ٹھیلوں سے نوع نوع کی چیزیں جیسے گول گپے، چاٹ، برگر، آئس کریم کھا کر بڑوں سے ملی عیدی اڑائی جا تی ہے۔ چھرے والی گن سے غبارے پھوڑنے کا رواج آج بھی موجود ہے۔ بچے اپنے ہاتھ سےبنے عید کارڈ اپنے من پسندوں کو دیتے ہیں تو ان کی خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس عید پر راقم کو بھتیجیوں کی جانب سے مندرجہ ذیل کارڈ دیا گیا ہے۔


مائل خیرآبادی کی نظم " بچوں کی عید" پیش کی جاتی ہے۔


عید کے دن کچھ چھوٹے بچے

بھولے بھالے سیدھے سادے


ایک جگہ پر آ کر بیٹھے

اپنی جانچ لگے سب کرنے


آپس میں یوں بولے بچے

کس نے کتنے روزے رکھے


سب سے پہلے بولا دارا

میں نے رکھے پورے بارہ


صفو بولی میرے تیرہ

تم سے ایک زیادہ رکھا


بانو بولی میرے چھ ہیں

بھائی دارا سے آدھے ہیں


ہوں بھی تو میں چھوٹی ان سے

اسی لیے کم روزے رکھے


یوں ہی تھے سب کہتے جاتے

اپنے روزے گنتے جاتے


سنتا تھا سب بیٹھا منا

سوچ کے یوں وہ سب سے بولا


میں نے بھی رکھے ہیں روزے

تم سب سے ہیں زیادہ میرے


سب بولے تم نے کب رکھے

وہ بولا میں نے سب رکھے


اک اک دن میں دو دو روزے

صفو میرے گنو تو روزے


منا کی یہ باتیں سن کر

خوب ہنسے خوش ہو کر بچے


عید تو سچ مچ بچوں کی ہے

یا پھر روزہ داروں کی ہے

مسعودہ حیات کی نظم " بچوں کی عید"۔

عید بہت ہی دھوم سے آئی

بازاروں میں رونق لائی


پہن کے اچھے اچھے کپڑے

بچے اپنے گھر سے نکلے


کپڑے گوٹے اور پھٹے کے

جھلمل کرتے جھم جھم کرتے


عید ملن کو پہنچے گھر گھر

کتنے خوش تھے باہم مل کر


پھینی اور مٹھائی کھائی

میٹھی میٹھی عید منائی


ملے انہیں عیدی کے پیسے

کھیل کھلونے خوب خریدے


جا کر باغ میں جھولا جھولے

دنیا کے سارے غم بھولے


سب نے دل سے عید منائی

مگر ہمیں تو ذرا نہ بھائی


تم جو نہیں تھیں پاس ہمارے

دل بھر آیا غم کے مارے


میری سیمیںؔ میری پیاری

تم کو مبارک عید تمہاری


تم نے منائی خوب یہ عید

ہمیں تمہاری ہوئی نہ دید


ہم تو جب تم کو دیکھیں گے

عید اسی دن کی سمجھیں گے

EID KA DIN HAI GALAY HUMKO LAGA KAR MILYE

مجید لاہوری کی نظم "عید کا دن"۔


زہے قسمت ہلال عید کی صورت نظر آئی

جو تھے رمضان کے بیمار ان سب نے شفا پائی


پہاڑوں سے وہ اترے قافلے روزہ گزاروں کے

گیا گرمی کا موسم، اور آئے دن بہاروں کے


اٹھا ہوٹل کا پردہ، سامنے پردہ نشیں آئے

جو چھپ کر کر رہے تھے احترام حکم دیں آئے


ہوئی انگور کی بیٹی سے ''مستی خان'' کی شادی

کھلے در مے کدوں کے اور ملی رندوں کو آزادی


نوید کامرانی لا رہے ہیں ریس کے گھوڑے

مسرت کے ترانے گا رہے ہیں ریس کے گھوڑے


مبارک ہو کہ پھر سے ہو گیا ''ڈانس'' اور ''ڈنر'' چالو

خلاص اہل نظر ہوں گے ہوا درد جگر چالو


نماز عید پڑھنے کے لیے سرکار آئے ہیں

اور ان کے ساتھ سارے طالب دیدار آئے ہیں


یہی دن اہل دل کے واسطے امید کا دن ہے

تمہاری دید کا دن ہے ہماری عید کا دن ہے

شفا کجگاؤنوی کی نظم " عید"۔

چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہے

خوشی کے گیت سنائیں کہ جشن کا دن ہے

رخوں پہ پھول کھلائیں کہ جشن کا دن ہے

دلوں میں پریت جگائیں کہ جشن کا دن ہے


مگر رکو ذرا ٹھہرو یہ سسکیاں کیسی

خوشی کہ رت میں دکھوں کی یہ بدلیاں کیسی

سنو یہ غور سے مائیں بلک رہی ہیں کہیں

یہ دیکھو بچوں کی آنکھیں چھلک رہی ہیں کہیں

کسی کے عید کے جوڑے میں ہے کفن آیا

کہیں پہ زخموں سے لپٹا ہوا بدن آیا

کوئی تو کھلنے سے پہلے کلی کو لوٹ گیا

کہیں درخت ہی اپنی زمیں سے ٹوٹ گیا

کس نے کر دیے پامال سایہ دار شجر

جڑیں کہیں پہ کٹیں اور کہیں بچے نہ ثمر


کہاں ہیں وہ کہ جو خود کو خدا سمجھتے ہیں

وہ جو کہ امن و اماں کے فسانے کہتے ہیں

وہ جن کے ہاتھ میں رہتا ہے پرچم انساں

ہوئے ہیں ان کے سب افکار امن اب عریاں

اگر ہیں صاحب کردار تو زباں کھولیں

اگر ہیں صاحب ایماں تو پھر وہ سچ بولیں

ہیں مقتدر تو بس اب روک لیں حسام جور

یہ بہتی خون کی ندیاں مصیبتوں کا دور

پہ ان سے کوئی امید وفا کرے کیسے

جو بد دعا ہو مجسم دعا کرے کیسے


جہاں میں چار طرف چیخ ہے کراہے ہیں

ستم رسیدہ دلوں سے نکلتی آہیں ہیں

ہے شور نالہ و آہ و بکا چہار طرف

کہاں کی عید ہے ماتم بپا چہار طرف

منائے کیسے کوئی عید ہر طرف غم ہے

منائے کیسے کوئی عید آنکھ پر نم ہے

سنائے کیسے کوئی گیت ساز ٹوٹ گئے

جگائے کیسے کوئی آس اپنے چھوٹ گئے


مگر یہ عید کا دن بھی تو اک حقیقت ہے

کہ وجہ عید سمجھنا بھی اک عبادت ہے

چلو کہ روتے ہوؤں کو ہنسا کے عید منائیں

کسی کے درد کو اپنا بنا کے عید منائیں

دلوں سے اپنے عداوت مٹا کے عید منائیں

کسی کے لب پہ تبسم سجا کے عید منائیں

صلاح الدین ایوب کی نظم "عید"۔

گاؤں میں عید پھرا کرتی تھی گلیاں گلیاں

اور اس شہر میں تھک کر یوں ہی سو جاتی ہے


پہلے ہنستی تھی ہنساتی تھی کھلاتی تھی مجھے

اب تو وہ پاس بھی آتی ہے تو رو جاتی ہے


کتنی مستانہ سی تھی عید مرے بچپن کی

اب خیالوں میں بھی لاتا ہوں تو کھو جاتی ہے


ہم کبھی عید مناتے تھے منانے کی طرح

اب تو بس وقت گزرتا ہے تو ہو جاتی ہے


ہم بڑے ہوتے گئے عید کا بچپن نہ گیا

یہ تو بچوں کی ہے بچوں ہی کی ہو جاتی ہے


سید ضمیر جعفری کی نظم "عید کا میلہ"۔


لو عید آئی لو دو پلئے میدان میں بھر بازار لگا

ہر چاہت کا سامان ہوا ہر نعمت کا انبار لگا

سب اجلا شہر امنڈ آیا شلوار سجا دستار لگا

اس بھیڑ کے بپھرے طوفاں میں جو ڈوب گیا سو پار لگا

ٹولی کے آگے ٹولا ہے ریلی کے پیچھے ریلا ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے


مرکز رنگیں رعنائی کا چکنا تنبو حلوائی کا

زینہ زینہ زینت سے دھرا ہے تھال پہ تھال مٹھائی کا

گردن اونچی رس گلے کی سر نیچا ہے بالائی کا

حلوائی دام بٹورنے میں سر مونڈ رہا ہے نائی کا

برفی امرتی پیڑا ہے چم چم لڈو گجریلہ ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے


دھندلے ترپالی منڈوے میں ناٹک نوٹنکی آئی ہے

نوبت نقارا سارنگی ڈھولک جھانجن شہنائی ہے

کل سولہ ٹیڈی پیسوں میں کس دھوم کی راس رچائی ہے

لیلیٰ کے لبوں پر سرخی ہے مجنوں کے گلے میں ٹائی ہے

یہ ہنسنے میں من موجن ہے وہ گانے میں البیلا ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے


اک سرکس ٹیڑھا‌ میڑھا سا انجام تو کیا آغاز نہیں

اس ریچھ کے منہ میں دانت نہیں اس باز کی آنکھیں باز نہیں

وہ شیر کہ جس کی مونچھ تو ہے پر جست نہیں آواز نہیں

طوطا بھی خیر سے گونگا ہے شاہیں کو پر پرواز نہیں

دو بندر ٹین کے اندر ہیں ڈربے میں مرغ اکیلا ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے


پگڈنڈی جگ مگ منڈی ہے بانسوں پر تنبو تانے ہیں

کچھ نئے نویلے ہوٹل ہیں کچھ ریستوران پرانے ہیں

ہر ڈھنگ کے سستے کھانے ہیں ہر رنگ کے فلمی گانے ہیں

کچھ چلتے پھرتے چھوٹے چھوٹے گشتی نعمت خانے ہیں

تر حلوہ گرم کڑاہی میں دو لوٹے ہیں اک ٹھیلہ ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے


کیا کوچہ و در کیا کوہ و دمن گلبرگ ہیں سب گلنار ہیں سب

خوشبو میں بسے گلزار ہیں سب رنگوں سے بھرے بازار ہیں سب

بچے تو الھڑ بچے ہیں بوڑھے بھی صبا رفتار ہیں سب

پوشاک میں چوڑی دار ہیں اور اور خوراک میں مرغا مار ہیں سب

ہر سو خوشیوں کا ریلا ہے من منگلا دل تربیلا ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے


لو اک جی دار بساطی نے ہر چیز لگا دی چار آنے

کنگھی جاپانی چار آنے شیشہ بغدادی چار آنے

پتلی سی چھتری کے نیچے مومی شہزادی چار آنے

ہر گڑیا پڑیا باجا کھاجا ریشم کھادی چار آنے

بگلے کی چونچ میں مچھلی ہے کیلے کے ساتھ کریلا ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے


بچے بالے گبرو بوڑھے خوش وقت ہوئے خوش حال ہوئے

جھولوں میں جھول کے پھول بنے فٹ بال بنے بھونچال ہوئے

برقی چکر میں چکرا کر چہکے تو خوشی سے لال ہوئے

اک دھوم دھڑکی پھیرے میں سب پیسے استعمال ہوئے

سندری کے کان میں مندری ہے شوہر کی جیب میں دھیلا ہے

یارو یہ عید کا میلہ ہے

حفیظ جالندھری کی نظم " عید"۔

چاند جب عید کا نظر آیا

حال کیا پوچھتے ہو خوشیوں کا


آسماں پر ہوائیاں چھوٹیں

نوبتیں مسجدوں میں بجنے لگیں


شکر سب خاص و عام کرنے لگے

اور باہم سلام کرنے لگے


ننھے بچے ہیں خاص کر مسرور

کہتے ہیں عید اب ہے کتنی دور


مائیں کہتی ہیں کچھ نہیں اب دور

صبح آ جائے گی یہاں پہ ضرور


آؤ کھا پی کے سو رہو چپ چاپ

آئے گی عید صبح آپی آپ


بچوں کی آنکھ میں ہے نیند کہاں

ہیں انہیں تو چڑھی ہوئی خوشیاں


ہو گئی رات کاٹنی مشکل

کل کے دن پر لگا ہوا ہے دل


بچیوں نے لگائی ہے مہندی

رنگیالی منگائی ہے مہندی


اچھے اچھے بنائے ہیں کپڑے

سب نئے سل کے آئے ہیں کپڑے


بچے بے اعتبار ایسے ہیں

ان کو رکھ کر سرہانے سوئے ہیں


آ گئی نیند سو گئے بچے

بارے خاموش ہو گئے بچے


خواب بھی عید ہی کے آتے ہیں

سوتے سے اٹھ کے بیٹھ جاتے ہیں


صبح صادق کا ہو گیا ہے ظہور

ساری دنیا پہ چھا گیا اک نور


چڑیاں پیڑوں پہ چہچہانے لگیں

عید کے گیت مل کے گانے لگیں


شرق پر جلوہ گر ہوا سورج

آج ہے کچھ نیا نیا سورج


تاج خوب اس نے آج پہنا ہے

سرخ کرنوں کا تاج پہنا ہے


ہر مسلمان باغ باغ ہے آج

آسماں پر ہر اک دماغ ہے آج


صبح اٹھتے ہی سب نے غسل کیا

پہنا اجلا لباس عطر ملا


مائیں نہلا رہی ہیں بچوں کو

خوب بہلا رہی ہیں بچوں کو


بچے خوش ہوں یہی ہے ساری عید

ان کے بچوں کی عید ان کی عید


بچیوں نے بھی سر گندھایا ہے

ماؤں نے خوب انہیں سجایا ہے


جوڑے رنگین سب نے پہنے ہیں

چاندی سونے کے سارے گہنے ہیں


اوڑھنی پر ٹکا ہوا گوٹا

دیکھنا ہے دمک رہا کیسا


بھائیوں کو بلاتی پھرتی ہیں

اپنے کپڑے دکھاتی پھرتی ہیں


ہاتھ مہندی رنگے دکھاتی ہیں

خوش ہیں ہنستی ہیں کھلکھلاتی ہیں


اور لڑکے بھی ہو گئے تیار

سر پہ باندھی ہے لٹ پٹی دستار


خوش نما سب نے سوٹ پہنے ہیں

اور پیروں میں بوٹ پہنے ہیں


کیا جھک کر سلام ماؤں کو

باپ دادؤں کو اور چچاؤں کو


سب سے پیسے جھگڑ جھگڑ کے لیے

روٹھ کر ضد سے اور اڑ کے لیے


ہاتھ میں لکڑی جیب میں رومال

چلتے پھرتے ہیں کیا ٹھمکتی چال


ہو چکی اب تو خوب تیاری

اور سوئیوں کی آ گئی باری


فرش پر بچھ گیا ہے دستر خوان

مل کے بیٹھے ہیں بچے بوڑھے جوان


سامنے ہے بھری ہوئی تھالی

ہیں سویاں بھی خوب رومالی


خوب کھاتے ہیں اور کھلاتے ہیں

یوں خوشی عید کی مناتے ہیں


لوگ سب عید پڑھ کے نکلے ہیں

گویا پروان چڑھ کے نکلے ہیں


خوش ہیں سب اور کرتے ہیں خیرات

لوٹتے ہیں ثواب ہاتھوں ہات


جان پہچان ملتے ہیں اکثر

عید ملتے ہیں سب گلے مل کر


بچے بالے بھی ساتھ ہیں سارے

جو کہ ہیں عید دیکھنے آئے


ان کو میلا دکھاتے پھرتے ہیں

چیزیاں بھی کھلاتے پھرتے ہیں


بچے لٹو ہوئے کھلونوں پر

وہ بھی جھولی میں رکھ لئے لے کر


کیوں نہ ہو کھیل کا یہی سن ہے

اور پھر آج عید کا دن ہے

محمد اسد اللہ کی نظم " عید"۔

دلوں میں پیار جگانے کو عید آئی ہے

ہنسو کہ ہنسنے ہنسانے کو عید آئی ہے


مسرتوں کے خزانے دیئے خدا نے ہمیں

ترانے شکر کے گانے کو عید آئی ہے


مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے


خوشا کہ شیر و شکر ہو گئے گلے مل کر

خلوص دل ہی دکھانے کو عید آئی ہے


اٹھا دو دوستو اس دشمنی کو محفل سے

شکایتوں کے بھلانے کو عید آئی ہے


کیا تھا عہد کہ خوشیاں جہاں میں بانٹیں گے

اسی طلب کے نبھانے کو عید آئی ہے

0
154
Salam Ya Hussain -- Iftikhar Arif (2) -- Bangbox Online

Salam Ya Hussain -- Iftikhar Arif (2) -- Bangbox Online

defaultuser.png
Bang Box Online
1 year ago

Best SEO Services in Ahmedabad

In today's fast-paced digital world, a strong online presence is essential for businesses...

defaultuser.png
monika
1 month ago
How Deep Cleaning Improves Kitchen Safety & Health

How Deep Cleaning Improves Kitchen Safety & Health

defaultuser.png
James Clark
2 weeks ago
White Label Digital Marketing: The Ultimate Guide You Need to Know

White Label Digital Marketing: The Ultimate Guide You Need to Know

defaultuser.png
Shelby
2 months ago
IPL Cricket Betting: Expert Tips and Tricks to Boost Your Bankroll

IPL Cricket Betting: Expert Tips and Tricks to Boost Your Bankroll

1740380370.png
Golden444Co
1 month ago