زندگی کو برتنا سیکھیے
دلی کی گلیوں سے جنم لینے والی مشہور ضرب المثل ہے کہ "سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا۔" طاقت کے مخصوص مراکز سے جڑا یہ جائز یا ناجائز رشتہ انسان کے اندر کا فرعون بیدار کر دیتا ہے۔ لیکن تاریخ ہی سکھاتی ہے کہ اسی دلی میں کوتوال، ان کے سیاں اور مغلیہ سلطنت کے حکمران وقت کے دھارے میں ایسے بہے کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ بڑے سے بڑا عہدہ چاہے ہو کوتوال، بڑے سے بڑا غنی، اور طاقت کا بڑے سے بڑا مرکز بھی انسان کو "دو سانسوں کی مار" سے نہیں بچا سکتا۔ سانسیں رک جاتی ہیں، انسان چلا جاتا ہے، صرف مٹی کا بت قبر میں اتارا جاتا ہے؛ لیکن ایسا تو کچھ ہے کہ لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ یہ زندگی برتنا ہے؛ آئیے اسے سیکھیں۔
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
زندگی کو برتنا سیکھیے
دنیا کی رنگینیوں، چمک دمک اور اندھی دوڑ میں انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ وہ یہاں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔ ہمارے بزرگوں اور صوفیائے کرام نے زندگی کی اس بے ثباتی کو بہت سادہ لیکن گہرے الفاظ میں بیان کیا ہے: "زندگی کی قدر کیجیے، دو ساہواں دی مار اے بندہ، ایویں تھاں تھاں چوڑا ہوندا اے۔" اس ایک جملے میں کائنات کا وہ سب سے بڑا سچ چھپا ہے جسے تسلیم کیے بغیر انسان کبھی حقیقی سکون نہیں پا سکتا۔
ایک انمول امانت اور خدا کا عطیہ
زندگی خدا کا ایک خوبصورت عطیہ ہے، لیکن یہ وہ امانت ہے جو ہر لمحہ آپ کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل رہی ہے۔ ہم جسے وقت کہتے ہیں، وہ دراصل ہماری عمر کی برف ہے جو مسلسل پگھل رہی ہے۔ جو سانس آج میسر ہے، کل شاید صرف ایک گزری ہوئی یاد بن کر رہ جائے۔ انسان اپنی نادانی میں سمجھتا ہے کہ وہ وقت کو گزار رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت انسان کو گزار رہا ہوتا ہے۔ ایک سانس جو اندر گئی اور دوسری جو باہر آئی—اگر ان کے درمیان کا یہ باریک سا رشتہ ٹوٹ جائے، تو انسان کا کھیل وہیں ختم ہو جاتا ہے۔
طاقت کا نشہ اور "کوتوال" کی پشت پناہی
جب انسان کو دنیاوی طاقت، عہدہ یا کسی کا اثر و رسوخ حاصل ہو جاتا ہے، تو وہ اس فانی دنیا کو ہی اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ دلی کی گلیوں سے جنم لینے والی مشہور ضرب المثل ہے کہ "سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا۔" طاقت کے مخصوص مراکز سے جڑا یہ جائز یا ناجائز رشتہ انسان کے اندر کا فرعون بیدار کر دیتا ہے۔ یہ پشت پناہی انسان کو اس وہم میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اب کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، کوئی اسے پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی وہ کسی کے سامنے جوابدہ ہے۔ طاقت کے مرکز میں موجود انسان اکثر خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں۔
تاریخ کی عبرت اور "بیگمات کے آنسو"
لیکن تاریخ ہی سکھاتی ہے کہ اسی دلی میں کوتوال، ان کے سیاں اور مغلیہ سلطنت کے حکمران وقت کے دھارے میں ایسے بہے کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ تاریخ کے اس بے رحم الٹ پھیر کو اردو ادب میں خواجہ حسن نظامی نے اپنی مایہ ناز اور دردناک کتاب ’’بیگمات کے آنسو‘‘ میں محفوظ کیا ہے۔ اس کتاب کا مشہورِ زمانہ باب ’’دُکھیا شہزادی کی کہانی‘‘ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جو شہزادیاں اور کوتوال کبھی دلی کے تخت پر بیٹھ کر خود کو زمین کا خدا سمجھتے تھے، جب وقت کا دھارا بدلا تو وہی شاہی خاندان گلیوں میں دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج ہو گیا۔ وہ دہلی جو دنیا کا مرکز اور حسن و جمال کا انتخاب تھی، جب اجڑی تو وہاں کے غرور کو مٹی میں ملا دیا گیا۔ اسی اجڑی ہوئی دہلی کا نوحہ پڑھتے ہوئے خدائے سخن میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا:
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے باسیو
دلی جو ایک شہر تھا، عالم میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
بڑے شہروں کا المیہ اور دنیا کی بے حسی
دنیا کی بے حسی اور غفلت کا سب سے بڑا ستم یہ ہوتا ہے کہ انسان جب بڑے شہروں کا حصہ بنتا ہے، تو اسے زندگی کی سب سہولتیں ایک حق کی طرح میسر ہوتی ہیں۔ وہ ان آسائشوں کو اپنی مستقل جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔ اس پہ مزید بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان اس فانی دنیا کی محبت اور جدید طرزِ زندگی میں اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا درد بھی بھول جاتا ہے۔ اپنی جھوٹی امارت اور رعب کے نشے میں چور لوگ دوسروں کی مجبوریوں سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اسی انسانی بے حسی، بڑے شہروں کے طبقاتی فرق اور دنیا کی تلخ حقیقت کو راکب مختار نے کتنے دردناک انداز میں بیان کیا ہے:
جب بھوک نے انساں کو چبا کر پرے پھینکا
تب در ہی مقفل تھے ترے شہرِ غنی کے
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب انسان اپنی اوقات (دو سانسوں کا وجود) بھول کر خود کو "غنی" یا سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے، تو اس کے دل سے رحم ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دروازے غریبوں اور ضرورت مندوں پر بند کر لیتا ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ جس دولت، طاقت اور شہری آسائشوں پر اسے ناز ہے، وہ خود ایک عارضی سائے کی طرح ہیں جو کسی بھی وقت ڈھل سکتا ہے۔
حاصلِ کلام
زندگی لمحہ لمحہ پگھلتی برف کی طرح بہت مختصر ہے؛ اس لیے جھوٹی انا کی قربان گاہ پر چڑھ کر اکڑ سے فخر اور تکبر اختیار کرنے کے بجائے عاجزی، محبت اور اچھے اخلاق کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ بڑے سے بڑا عہدہ چاہے ہو کوتوال، بڑے سے بڑا غنی، اور طاقت کا بڑے سے بڑا مرکز بھی انسان کو "دو سانسوں کی مار" سے نہیں بچا سکتا۔ سانسیں رک جاتی ہیں، انسان چلا جاتا ہے، صرف مٹی کا بت قبر میں اتارا جاتا ہے؛ لیکن ایسا تو کچھ ہے کہ لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ یہ زندگی برتنا ہے؛ آئیے اسے سیکھیں۔