زندگی کا دائرہ
Our life is a continuum which goes on like a circle or cycle. The life cycle is about every thing living here on this earth. This write up "زندگی کا دائرہ" in Urdu is about the feelings of this circle of life from poetic expressions.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
زندگی کا دائرہ
زندگی کا دائرہ؛ زندگی کا چکر پیدائش، بقا اور موت کی علامتی نمائندگی سے موسوم ہے۔ زندگی کو ایک دائرے یا چکر کا مظہر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک مستقل بار بار دھرایا جاتا ہے۔ سرکل آف لائف [زندگی کا دائرہ؛ زندگی کا چکر] ایک نظریہ ہے جس کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ ہر جاندار ایک نازک توازن میں ایک حصے کے طور پر موجود ہے۔ یہ راستہ دکھاتا ہے کہ ہر جاندار کو دوسرے سب کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہئے اور اپنے جائز حصے سے زیادہ حاصل کرنے یا قبضہ کرلینے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ ہر جاندار کو آخر کار اس سے کم جانور کھا جاتا ہے۔
زندگی کا دائرہ؛ زندگی کا چکر یعنی سرکل آف لائف کیا ہے ؟ کیچوا مٹی کھاتا ہے اور زرخیز بناتا ہے۔ پرندے کیچوا کھاتے ہیں، پرندوں کو شکاری کھا جاتے ہیں۔ چھوٹے شکاریوں کو بڑے شکاری کھا جاتے ہیں۔ بڑے شکاریوں کو بیماری اور زخم چاٹ جاتے ہیں اور پھر ان کو گدھ کھا جاتے ہیں۔ گدھ کو کثرتِ خوراک یا قلتِ خوراک کھا جاتی ہے اور پھر گدھ کا پنجر مٹی کھا جاتی ہے۔ موت سے زندگی اور زندگی سے موت جنم لیتی ہے۔
آئیے اپنی زندگی سے ایک مثال لیتے ہیں؛ ہم سب کے گھروں میں میز کرسیاں ہوتی ہیں؛ میز کرسیاں بنانے کے لئے لوگ درخت کاٹتے ہیں۔ اور اس سے لکڑیاں بناتے ہیں۔ وہی لکڑی جنگل سے ڈھو کر کسی فیکٹری تک لائی جاتی ہے؛ میز بنانے والی فیکٹری چلتی ہے تو متعدد انسانی گروہ اس سے منسلک زندگی کا رہن آگے بڑھاتے ہیں۔ چمکدار لش پش میز تیار ہوکر مارکیٹ میں آجاتا ہے؛ یہ میز کرسیاں ہمارے گھروں وغیرہ میں پہنچ جاتی ہیں۔ پھر متعدد سال استعمال کے بعد میز کرسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے تو اْسے کباڑیے کو بیچ دیا جاتا ہے۔ کباڑیہ میز کرسیوں کو توڑ کر حصے بخرے کر کے بیچ ڈالتا ہے۔ پھر یہ ایندھن بنا کر جلایا جاتا ہے۔ لکڑی کی راکھ بن جاتی ہے۔ اور یہ راکھ آخر پانی میں بہہ کر زمین میں جذب ہوتی ہے۔ پھر اس کے بعد اس انرجی سے زمین نہ جانے کیا کیا نئی اشیا اْگاتی اْگلتی ہے۔ سو زندگی کا نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور یہ چکر تا قیامت چلتا رہے گا۔
اب آئیے ایک انگریزی نظم کا ترجمہ پڑھتے ہیں ۔
دنیا کے دل میں جہاں سورج بلند ہوتا ہے؛
زندگی کا ایک دائرہ، وسیع آسمان کے نیچے۔
پہاڑ فخر سے بلند ہوتے ہیں، چوٹیوں کو روشنی نے چوما؛
سمندر گرجتے ہیں، رات کا رقص ہوتا ہے۔
پرندہ پھیلے ہوئے پروں کے ساتھ اوپر اڑتا ہے؛
آزادی کی علامت، آسمان کی نہ ختم ہونے والی لہر میں۔
دھرتی پر، صحرا کی گرم گلے؛
جہاں مخلوق اپنی جگہ ڈھونڈتی پھرتی ہے۔
آگ روشن، شدید اور سچی جلتی ہے؛
شعلوں کے ساتھ جو نیلے رنگ کے رنگوں میں رقص کرتے ہیں۔
لہروں کے نیچے، وہیل مچھلی کا گانا پکارتا ہے؛
گہرائی میں گونجتی ہے، جہاں سمندر گرتا ہے۔
ہر کونے میں، ہر زمین میں؛
سورج اور چاند اپنا موقف رکھتے ہیں۔
ہوا اور زمین کے ذریعے، آگ اور سمندر کے ذریعے؛
ہم سب جڑے ہوئے ہیں، ہمیشہ کے لیے آزاد ہیں۔
پہاڑ سے سمندر تک، آسمان سے ریت تک؛
زندگی کا چکر ہاتھ سے بُنا جاتا ہے۔
حکمت کا ایک دائرہ، ہمیشہ کے لیے ہم دیکھتے ہیں؛
پرندے کے پروں میں، سمندر کی دھاڑ میں۔
مگر ہم انسان بڑے نادان ہیں۔ یہ زندگی کا کھیل ایک لطیف دھوکہ ہے کہ ہم سمجھ ہی نہیں پاتے۔ اور اللہ سبحان تعالی کی اس زمین پر جو ایک توازن ہے ہم اس مں اپنے کردار کو صحیح طریقے سے نبھانے میں قاصر ہوتے ہیں۔ ایک مثال سے واضع کیا جاتا ہے کہ کہیں کسی ریاست کے ایک بادشاہ نے کسی شہری کی کسی بات پر خوش ہو کر اسے یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، وہ زمین اس کو الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ھو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔
یہ سن کر وہ شخص چلا پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ھو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاھئے ،مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں،، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاھئے۔ الغرض واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ھے۔ وہ جتنا تیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھا ھے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کی بجائے لگتا تھا پِگلنا شروع ھو گیا ھے۔ وہ شخص دوڑنا شروع ھو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نطر آ رھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ھو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رھا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھا تھا - آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے اسٹارٹنگ پوائنٹ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رھے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا۔
جس جگہ وہ گرا تھا اسی جگہ اس کی قبر بنائی گئی اور قبر پر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا ۔ ۔
"اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اس کی قبر ھے"
اب آخر میں فلم لائین کنگ کا گانا "سرکل آف لائف" کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ گیت زولو زبان میں لکھا گیا اور یہ ترجمہ اس کے انگریزی ترجمہ کا گیا ہے۔
جس دن سے ہم کرہ ارض پر پہنچے؛
اور، پلک جھپکتے ہوئے، سورج میں قدم رکھیں؛
دیکھنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے جو کبھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سے کہیں زیادہ کرنا ہے جو کبھی کیا جا سکتا ہے۔
یہاں لینے کے لیے بہت کچھ ہے۔
اس سے کہیں زیادہ تلاش کرنا ہے جو کبھی نہیں مل سکتا ہے۔
لیکن سورج اونچا ہو رہا ہے۔
نیلم کے آسمان کے ذریعے؛
لامتناہی راؤنڈ پر عظیم اور چھوٹا رکھتا ہے۔
یہ زندگی کا دائرہ ہے۔
اور یہ ہم سب کو منتقل کرتا ہے۔
مایوسی اور امید کے ذریعے؛
ایمان اور محبت کے ذریعے؛
'جب تک ہمیں اپنی جگہ نہیں مل جاتی؛
غیر منقطع راستے پر؛
دائرے میں؛
زندگی کا دائرہ؛
یہ زندگی کا دائرہ ہے۔
اور یہ ہم سب کو منتقل کرتا ہے۔
مایوسی اور امید کے ذریعے؛
ایمان اور محبت کے ذریعے؛
'جب تک ہمیں اپنی جگہ نہیں مل جاتی؛
غیر منقطع راستے پر؛
دائرے میں؛
زندگی کا دائرہ؛
یہ زندگی کا دائرہ ہے۔
اختتامی کلمات
اس زمین پر ہم انسان محض ایک مہمان ہیں۔ یہ زندگی مستعار ہے جس میں ہم نے ماں کی کوکھ سے قبر تک کا سفر کرنا ہوتا ہے۔ ہم اس دنیا میں خالی ہاتھ آتے ہیں اور خالی ہاتھ ہی جاتے ہیں تو پھر اس مستعار زندگی میں اشیاء ک حصول کی ایک بھاگ دوڑ کیوں ہے؟ جیسا کہ اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید کی سورۃ العصر میں فرمایا ہے کہ انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے؛ اور اعمالِ صالحہ میں مصروف رہے اور حق کی تلقین کرتے رہے اور صبر کا دامن تھامے رہے۔ سو اس زندگی کے چکر میں ہمیں نقصان کے بھنور میں نہیں داخل ہونا چاہیے بلکہ نیک اور اچھے کردار کے دائرے میں رہنا چاہیے۔