ہیپی ارتھ ڈے؛ یومِ ارض
Happy Earth Day 2025 یومِ ارض. "Happy Earth Day" is an event on 22nd April, which is celebrated each year and communities across the globe come together to raise awareness about climate change, conservation and the urgent need for sustainable practices. Let's build a safer future and this write up "ہیپی ارتھ ڈے؛ یومِ ارض" is aimed to spread environmental consciousness on Happy Earth Day " یومِ ارض".
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ہیپی ارتھ ڈے؛ یومِ ارض
دنیا بھر میں زندہ ضمیر اور احساس ذمہ داری کے حامل انسانوں نے 22 اپریل کو سالانہ ارتھ ڈے منایا اور اس سلسلے میں متعدد تقریبات منعقد کی گئی۔ ہیپی ارتھ ڈے/ عالمی یوم ارض منانےکی بنیاد ان لوگوں نے رکھی تھی جنہوں نے "بلیو سیارہ" زمین کو زندہ اور محفوظ کرنے کے لیے سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی جستجو کی تھی جو تقریباً آٹھ (08) بلین انسانوں کا گھر ہے اور کھربوں مختلف دیگر جاندار کا بھی جو اپنی آب و ہوا اور ماحول کے اپنے دائرے میں آباد ہیں؛ اور جن کی زندگی ہم سے متاثر ہیں۔
سنہ 1969 میں سان فرانسسکو میں یونیسکو کی ایک کانفرنس میں، امن کے کارکن جان میک کونل نے زمین اور امن کے تصور کے احترام کے لیے ایک دن تجویز کیا، کہ جسے پہلی بار 21 مارچ 1970 کو شمالی نصف کرہ میں موسم بہار کے پہلے دن منایا گیا۔ میک کونل کے تحریر کردہ اس عالمی دن کو منانے کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل یو تھانٹ کے دستخط کردہ ایک اعلان میں منظور کیا گیا۔
انسانوں کے سمندر میں زندہ ضمیر اور ذمہ داری کے احساس کے حامل بہت کم انسان تھے اور ہیں۔ لہذا یوم ارض کی بنیاد ایک تباہ کن واقعہ ہے؛ جو 1969 میں پیش آیا۔ ایک دن بڑے پیمانے پرجنوبی کیلیفورنیا کے ساحل پر سمندر میں ایک جہاز سےتیل کے رساؤ سے لاکھوں گیلن ساحل پر پہنچے اور وسکونسن سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر، ڈیموکریٹ گیلورڈ نیلسن نے اس تیل کے پھیلاو کی جگہ کا دورہ کرنے کے بعد، ایک ملک گیر مہم کا آغاز کیا، جس میں کالج میں ماحولیات کے بارے میں کچھ سکھانے کے لیے کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ جیسا اس سے قبل ویتنام میں جنگ کی مخالفت کرنے والوں نے کیا تھا۔
نیلسن کا خیال اور مہم ارتھ ڈے؛ یومِ ارض بن گیا۔ نیلسن 1960 کی دہائی میں آلودگی پر بڑھتی ہوئی تشویش کی وجہ سے طویل عرصے سے ماحولیات کے بارے میں فکر مند تھا۔ ان ہی سالوں میں مصنف ریچل کارسن کی 1962چھپی کتاب "سائلنٹ اسپرنگ" مقبول ہوئی جو کیڑے مار دوا جیسے ڈی ڈی ٹی اور فوڈ چین پر اس کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں بیسٹ سیلرکتاب تھی جس نے فطرت کے نازک توازن کے بارے میں بیداری پیدا کی۔ نظریات اور کتابیں کسی بھی ترقی پسند اور علم سے چلنے والی قوم میں اہمیت رکھتی ہیں جو امریکہ 1960 کی دہائی میں تھا۔
نیلسن اور دیگر، بشمول کارکن ڈینس ہیز نے پورے امریکہ میں اس سلسلے میں تقریبات منعقد کیں؛ اور کالج کیمپس سے باہر اس خیال کو وسعت دینے کے لیے کام کو متحرک کیا۔ جس کے نتیجے میں ارتھ ڈے کا نام سامنے آیا۔ یوم ارض مبارک! 22 اپریل کو روایتی طور پر یوم ارض کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے؛ اس موقع پر ہم اس زمیں پر جو ہمارا 'نیلے سنگ مرمر' سا حسین ہے اور جس پر ہم عارضی مسافروں کے طور موجود ہیں؛ سو ہم اپنے قیمتی سیارہ گھر اور اس کی بے حد خوبصورتی زندگی کی عزت اور احترام کرنے کے لیے ذرا دیر کو رکتے ہیں، اور فطرت کی عطا کردہ اس مخصوص دنیا کے وسائل کی زیادہ سے زیادہ پہچان کرتے ہیں۔ سنہ 1970 میں پہلے یومِ ارض "ہیپی ارتھ ڈے" کے بعد سے آجتک اس تحریک نے 193 ممالک میں ایک ارب سے زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ یوم ارض 2025 کا تھیم مرکزی خیال ہماری طاقت، ہمارا سیارہ ہے، جو ہر کسی سے قابل تجدید توانائی کے ارد گرد متحد ہونے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ہم 2030 تک صاف بجلی کو تین گنا کر سکیں۔
"ہیپی ارتھ ڈے" یومِ ارض؛ کو ماحولیاتی مسائل اور ان منفی اثرات کے بارے میں خدشات کو تسلیم کرنے کا موقع ہونا چاہیے جو ہم انسانوں کی وجہ سے بگڑتے ہوئے زمینی ماحول پر پڑ رہے ہیں اور اس لیے یوم ارض کو ماحولیاتی آگاہی اور تحفظ کی کوششوں کی حمایت کے اظہار کے لیے منایا جانا چاہیے۔ یومِ ارض "ہیپی ارتھ ڈے" 22 اپریل کو ایک تقریب ہے، جسے دنیا کے انسان ہر سال مناتے ہیں اور دنیا بھر کی کمیونٹیز موسمیاتی تبدیلی، تحفظ اور پائیدار طریقوں کی فوری ضرورت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
یہ سیارہ زمین تمام معلوم کائنات میں اپنی قسم کا ایک واحد ہی ہے؛اور یہ ہمارا ایک ہی گھر ہے۔ آئیے احتیاط سے اس میں زندہ رہیں اور اس پر پھیلی تباہی کا علاج کریں۔ پائیدار حدود سے باہر اس زمین کے وسائل کا استحصال کیا جا رہا ہے، آئیے اسے تبدیل کریں۔ پہلا اور چھوٹے قدم بڑی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ آئیے تخیل؛ عمل اور نتائج سے بھرا ہوا ایک سوچا سمجھا ارتھ ڈے یومِ ارض منائیں۔ ہم ہر طرح سے سرسبز و شاداب ہو سکتے ہیں — یوم ارض مبارک!۔
یو این او کا صحت مند سیارے کے لیے مجوزہ اقدامات
گھر میں توانائی کی بچت کریں۔ ہماری زیادہ تر بجلی اور حرارت کوئلے، تیل اور گیس سے چلتی ہے۔ توانائی کے موثر طریقوں، اوزاروں اور آلات کو استعمال کرکے کم توانائی استعمال کریں۔
اپنے گھر کے توانائی کے ذرائع کو تبدیل کریں اور قابل تجدید ذرائع پر منتقل کریں۔
گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے پیدل چلیں، موٹر سائیکل چلائیں یا پبلک ٹرانسپورٹ لیں۔ اور بہتر صحت اور تندرستی حاصل کریں۔
فضائی آلودگی کو کم کرنے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑی جائیں۔
اپنے سفر میں کمی کرنے پر غور کریں اور اپنے سفر کو ماحول دوست کرنے کا طریقہ سیکھیں۔
وسائل کا استعمال کم کریں، دوبارہ استعمال کریں، مرمت کریں اور ری سائیکل کریں۔ فیکٹری پروڈکٹس اور اشیائے صرف کی کم خریداری ہمارے نقصان دہ کاربن گیس کی پیداوار کو بھی کم کر سکتا ہے۔
زیادہ سبزیاں کھائیں اور خوراک اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعلق سیکھیں۔
کھانا کا ضیاع کم کریں۔ لہذا صرف وہی خریدیں جس کی آپ کو ضرورت ہے، جو آپ خریدتے ہیں اسے استعمال کریں اور جو بھی بچا ہو؛ اس سے کھاد بنائیں۔ کھانے کے ضیاع کو کم کرنے سے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
مقامی انواع کے پودے لگائیں۔ پودے، جانور اور حشرات ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر کیڑے غیر مقامی پودوں کو نہیں کھاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ پرندے اور دیگر انواع خوراک کا ذریعہ کھو دیتے ہیں۔ اس سےحیاتیاتی تنوع متاثر ہوتا ہے۔
اپنے ماحول کو صاف کریں۔ پارکوں، ندیوں، ساحلوں اور اس دیگر مقامی جگہوں کی صفائی میں حصہ لیں۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔ بات کریں اور دوسروں کو بھی کارروائی میں شامل ہونے کی ترغیب دیں۔ یہ تبدیلی لانے کے تیز ترین اور مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے۔
اپنی رقم کو طاقت دیں۔ ہر چیز جس پر ہم پیسہ خرچ کرتے ہیں وہ سیارے کو متاثر کرتی ہے۔ آپ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ آپ کس سامان اور خدمات کی حمایت کرتے ہیں۔ اپنے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے، ان کمپنیوں سے پروڈکٹس کا انتخاب کریں جو وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کرتی ہیں اور اپنے گیس کے اخراج اور فضلے کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے جو آپ کے لیے پنشن فنڈ کے ذریعے لگایا جا رہا ہے، مثال کے طور پر، یہ فوسل فیول یا جنگلات کی کٹائی میں مدد کر سکتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ آپ کی بچت ماحولیاتی طور پر پائیدار کاروباروں میں لگائی گئی ہے آپ کے کاربن فوٹ پرنٹ کو بہت حد تک کم کر سکتا ہے۔
ازابیلا ویلنسی کرافورڈکی نظم "دی ارتھ ویکستھ اولڈ" / "زمین بوڑھی ہورہی ہے"۔
جب پیلاہٹ زدہ اور کرسٹل آنکھ میں؛
میں نے خواب میں سبز جنگلوں کو دیکھا۔
جہاں اونچے اونچے درخت اِدھر اُدھر لہرا رہے تھے؛
اور ان کے سبز سینے جو میں گہرے اور چوڑے تھے؛
میں نے بلیو جے کو چھپا کر گھونسلہ بناتے دیکھا؛
آہ! زمین اس سمے تو جوان تھی۔
ہوائیں تازہ اور بہادر اور دلیر تھیں؛
سرخ سورج گول اور مضبوط تھا؛
کسی نبی کی آواز سرد، بلند اور سرد نہیں تھی؛
میرے جنگل کے اس پار خوابوں کی تعبیریں گھوم رہی ہیں؛
سبز زمین خشک اور بوڑھی ہوتی جاتی ہے؛
وہ کبھی حسین اور جوان تھی !'۔
میں نے داغ دار اور گانٹھوں میں دیکھا؛
رس کی تازہ کاری؛
جب سہمی بہار میں پہلا چھوٹا شگوفہ پھوٹا ہے؛
سورج کی شعاعیں ننگی ٹہنیوں سے چوری چوری گذرتی ہیں؛
میں نے پھولوں کا چمکتکار دیکھا ہے؛
گرمیوں کی شدت کے دنوں میں۔
اور جہاں ایک قدیم بلوط کا درخت لیٹا تھا؛
جنگل کی ندی کے کنارے کنارے؛
میں میٹھےتیز پھوار کے اوپر کھڑا تھا؛
میں نے دھبے والے ٹراؤٹ کو کھیلتے دیکھا تھا؛
میں نے سائے کو ناچتے اور ڈولتے دیکھا؛
اچھلتی کودتی لہر پر اور کائی پر۔
میں نے شاہ بلوط کی شاخوں کو نیچے کھینچا؛
وہ جو ندی کی طرح جھکے ہوئے تھے؛
برف سے چٹکتی ہوئی کلیوں کو دیکھنے کے لیے؛
میں نے میٹھےچشمہ کے پانیوں کو بہتے سنا؛
میرا دل اور میں؛ ہم نہیں جانتے تھے۔
لیکن یہ کہ زمین جوان تھی!۔
مجھے پختہ جنگل میں دیکھ کر خوشی ہوئی؛
جہاں اچانک سورج کی شعاعیں لپٹ گئیں؛
تہہ بہ تہہ کائی دارکھلی جگہ پر؛
بنفشہ اور انیمون کے پھول؛
اپنے کمزور سر ہلائیں اور مجھے سرشار کریں؛
یقیناً زمین جوان تھی!۔
میں نے زندہ جنگلی ہواؤں کی سرسراہٹ کو سنا؛
نئی جڑی ہوئی شاخوں کے درمیان؛
میں نے گہری رنگت کی ہلچل دیکھی؛
دیودار کے سبز ٹکڑوں میں؛
میں نے تیتر کے بلند ہوتے ٹٹرانے کی آواز سنی؛
جب وہ اپنے جواں ساتھی سے الگ ہوکر اُڑا تھا۔
میں نے لمبے تازہ فرنز کو کھابہ بنتےدیکھا؛
مادہ ہرن اور اس کے بچہ کا؛
میں نے سرمئی کبوتر کی ابھری ہوئی چھاتی دیکھی؛
اس کے گھونسلے کے حاشیے سے اوپر؛
جب شمال و جنوب اور مشرق و مغرب؛
طلوع فجر کی سرخیوں نے تمام کو لپیٹ دیا تھا۔
شام ہوئی تومیں لیٹ گیا تھا؛
گھاس کے تکیے پر؛
میں نے گذرتے دن کی جھلک دیکھی؛
سرخ رنگ کے بادبان اور تمام ہم جنسوں پر غلاف دیکھا؛
سنہری آگ کو دور ہوتے دیکھا؛
بلوائی امنڈتےبادلوں کے درمیان۔
میں نے سیاروں کی شاندار پیراکی کو دیکھا؛
اس نیلے سمندر کے چوڑے سینے پر؛
میں نے جادوئی آندھی کی لہروں کو اُڑاتے دیکھا؛
ایلفن کی کہانی میں چاندی کے جہاز کی طرح؛
اس میں تھیں کچھ نایاب اور پیلی پریاں؛
ہلالی پتلاچاند پھسلتا گیا۔
اور بہار کی ہر دھڑکن؛
زنگ آلود ٹہنیوں کے درمیان؛
اس نے ندی کی چاندی کی رگ بھر دی؛
جو کائی دار کونے میں کھلتے ہیں؛
میں نے لڑکپن کو اپنے سینے میں پکارا: 'دیکھو!؛
کتنی تازہ اور جوان ہے زمین!'۔
ہوائیں تازہ تھیں، اور دن صاف تھے؛
جیسے کرسٹل سونے میں سیٹ ہوتے ہیں۔
کوئی صورت نہیں، جو نبی کی چادر سے زیادہ عزیز ہو؛
ان پرانے درختوں کے درمیان سے کھسکتی ہوئی قریب آئی؛
میرے حیرت زدہ کان میں سرگوشی کی کہ؛
'سبز زمین بوڑھی ہو رہی ہے۔'
ارچیبلڈ لیمپ مین کی نظم " ارتھ وائیسز"؛ "زمین کی پکار"۔
ہم نے نہیں سنا آسمانی گولوں کی موسیقی؛
ستارے سے ستارے کا گیت، لیکن آوازیں ہیں۔
انسانی خوشی اور انسانی آنسوؤں سے زیادہ گہری؛
کہ فطرت اپنے عام چلن میں استعمال کرتی ہے۔
ندیوں کا جھرنا، ہواؤں کا کراہٹ، جو بلوط میں تناؤ بھر دے؛
سمندر کے اُٹھان کی گرج، اور
دور سے بجلی کی کڑک و جنگھاڑ؛
یا بارش جو گرمیوں کی رات لمحہ لمحہ برستی ہے۔
یہ آوازیں ہیں، زمین کی پوشیدہ روح کی؛
ان اسرار کو بیان کرتی ہے؛ کہ جس سے وہ گذری ہے۔
اُس کے لیے جو اُن کے بے قابوغم کو سنتا ہے؛
یا بےنام، ناقابلِ تسخیر خوشی ہے؛
جاگ جاتے ہیں خیالوں میں؛ دل میں جاگزیں پنہاں، نقوش
دنیا کی پیدائش اور تخلیق سے پہلے۔
اصغر ندیم سید کی نظم "زمین ایک نظم ہے"۔
آسماں ٹھہرا ہوا نیلا سمندر
اور زمیں سوکھا ہوا دریا
پہاڑوں پر دسمبر آ چکا ہے
نیلگوں گہرا دسمبر
ندیاں برفوں کی چاندی میں چھپی ہیں
منصفوں جیسے معزز یہ پہاڑ اور ان کے ہمسایہ شجر
مرعوب کرتے ہیں
دیہاتی راستوں کے پھول کہتے ہیں
ہمیں گاؤ
نشیبی بستیوں کی گھاس کہتی ہے
ہمیں لکھو
پھٹے کپڑوں میں مخلص لڑکیاں کہتی ہیں
ہم بھی لفظ ہیں
ہم بھی صدا کا ذائقہ ہیں
آسماں ٹھہرا ہوا نیلا سمندر
دودھ پیتا میمنہ لفظ ہے
ساری زمیں پھیلی ہوئی اک نظم ہے
اور میں کبھی بارش
کبھی سوکھا ہوا دریا
کبھی آواز مخلص لڑکیوں کی
ایک نامعلوم شاعر کا کلام
بلبل پرندے کو مار کر
کیا پایا تم نے؟
وہ تو صرف اپنے معصوم بچوں کے لیے
رزق کی تلاش میں نکلا تھا،
شاخ در شاخ اڑتا،
چونچ میں امید کا دانہ لیے،
اپنے گھونسلے کی راہ تک رہا تھا۔
ننھے منّے بچے،
جن کی آنکھوں میں ابھی خواب بھی مکمل نہ تھے،
ماں کی نرم چونچ سے
محبت کا پہلا نوالہ لینے کو بے قرار تھے۔
اب وہ خاموش گھونسلا،
سنّاٹے میں ڈوبا ہے،
نہ وہ سریلی چہچہاہٹ،
نہ ماں کی گرمائی آغوش،
بس ٹھنڈی ہوا ہے
اور انتظار… جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
کیا تم نے سوچا؟
تم نے صرف ایک پرندہ نہیں مارا،
ایک ماں، ایک محافظ،
اور کئی زندگیوں کی خوشی چھین لی۔
کاش انسان صرف طاقتور ہونے پر نہ فخر کرے،
بلکہ رحم دل ہونے پر بھی غور کرے
غیاث متین کی نظم "ایک نظم زمین والوں کے نام"۔
ہوا
کچھ ایسی چلی
کہ خیمے اکھڑ گئے ہیں
غبار ایسا غبار اٹھا
کہ دھول آنکھوں میں جم گئی ہے
چراغ بھڑکیں
تو اس میں ان کا قصور کیا ہے
شمال کی
یہ ہوا
کچھ ایسی شریر و گستاخ ہے
جو بڑھ کر
بھڑکنا ان کو سکھا رہی ہے
جلا رہی ہے
بجھا رہی ہے
ہوا کچھ ایسی چلی کہ خیمے اکھڑ گئے ہیں
چراغ دونوں طرف کے
اتنے بجھے کہ منظر بھی رو رہا ہے
سیہ لبادوں سیہ نقابوں کا راج ہر سو
کہاں کے رشتے
کہاں کے ناطے
کہاں کے رشتے
کہاں کی منزل
چہار سمتوں میں آگ ایسی لگی ہوئی ہے
بجھانا چاہیں تو بڑھ رہی ہے
بدن دریدہ کفن دریدہ پڑی ہیں لاشیں
سروں میں آنچل
بدن سے زیور
اتر چکے ہیں
جو خواب دیکھے تھے ہم نے
وہ خواب
مر چکے ہیں
ہوا کچھ ایسی چلی
کہ خیمے اکھڑ گئے ہیں
ہمارے گھر میں
تمام چہرے تھے روشنی کے
تمام چہروں سے روشنی تھی
وہ غیر تھے
یہ سنا تھا میں نے
مگر میں جن پر
دعائیں پڑھ پڑھ کے پھونکتا تھا
وہ میرا گھر پھونکنے کو آئے
بس ایک دیوار بیچ میں تھی
وہی پڑوسی بھی آئے
خنجر بہ دست آئے
یہ کیسی آندھی چلی کہ چہرے بگڑ گئے ہیں
ہوا کچھ ایسی چلی کہ خیمے اکھڑ گئے ہیں
نہ کوئی اخبار ہے جو کیچڑ میں
پھول جیسا کھلا ہوا ہے
نہ ریڈیو میں خبر کی خوشبو
نہ دور درشن میں ہے وہ منظر
جو مجھ کو
سورج دکھا رہا ہے
عجیب موسم ہے
شہر دل میں
نہ آنکھ اپنی
نہ کان اپنے
نہ پاؤں اپنے
پتہ نہیں ہم
یہ کس کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں
یہ کس کے کانوں سے سن رہے ہیں
یہ کس کے پیروں سے چل رہے ہیں
عجیب موسم ہے
شہر دل میں
زمین والے
تو آج دیکھو
خلا میں گردش لگا رہے ہیں
سمندروں پر
مکان اپنے بنا رہے ہیں
اسی زمیں پر
رشی منی اور نبی بھی آئے
تمام سمتوں کے واسطے
اک پیام لائے
مگر میں اتنا ہی جانتا ہوں
زمین پر ظلم ہو رہا ہے
زمین والے ہی کر رہے ہیں
وہاں فرشتوں نے سچ کہا تھا
مگر خدا جانتا تھا سب کچھ
وہ آج بھی جانتا ہے سب کچھ
وہ آسماں سے
اتر کے
اپنی زمیں پر آئے گا
بھول جاؤ
وہ اپنے ہاتھوں سے
اس زمیں کو
حسیں بنائے گا
بھول جاؤ
چراغ اندر چراغ تم ہو
کتاب اندر کتاب تم ہو
سوال اندر سوال تم ہو
جواب اندر جواب تم ہو
خدا نے روز ازل
جو دیکھا تھا خواب تم ہو
تمہیں سے عزت
تمہیں سے نکہت
تمہیں سے شہرت
زمین کی ہے
بچا سکو تو
اسے بچا لو
زمین والو
زمین والو