Muhammad Asif Raza 1 month ago
Muhammad Asif Raza #education

یادوں کی بارات؛ اسکول کی گھنٹی

Sir Syed Public School Tipu Road Rawalpindi is a prime educational Institution of the city, since its establishment in 1956. Then it was the only private English Medium school of the area. It was established by Aligarh University Old Boys Association of Pakistan for the purpose of instigating and cultivating "Aligarh Spirit". This write up in Urdu "یادوں کی بارات؛ اسکول کی گھنٹی" is about the School Bell and the man behind the ringing of that bell.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


یادوں کی بارات؛ اسکول کی گھنٹی


کل اتفاقاً راولپنڈی کے ٹیپو روڈ سے گزر ہوا تو گاڑی کی رفتار دھیمی ہو گئی۔ دور سے گھنٹی بجنے کی صدا کانوں سے ٹکرائی... ٹن... ٹن... ٹن! گھڑی پر نظر پڑی تو دوپہر کا ٹھیک ایک بج رہا تھا۔ وہ سر سید پبلک اسکول میں چھٹی کے وقت کی گھنٹی بج رہی تھی۔ اس گھنٹی کی آواز نے مجھے پلک جھپکتے ہی دہائیوں پیچھے میرے بچپن کے سنہری دنوں میں پہنچا دیا۔

کچھ لوگ زندگی میں کوئی کتاب نہیں پڑھاتے، مگر اپنے کردار اور عمل سے نسلوں کی تربیت کر جاتے ہیں۔ اس سمےمیرے ذہن کے دریچوں میں ہمارے اسکول کے وقت کے سچے محافظ، محترم پرنسپل شفیع منصور صاحب کے مخلص چپراسی "محمد خان" کا باوقار چہرہ گھوم گیا۔ وہ انسان جو خود استاد نہیں تھا، مگر جس نے ہمیں بغیر کوئی کتاب پڑھائے اپنے عمل سے زندگی کے دو سب سے بڑے سبق سکھائے—وقت کی پابندی اور ڈسپلن!۔ سرسید پبلک اسکول، ٹیپو روڈ راولپنڈی کے مخلص خادم 'محمد خان' بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے جن کا ڈسپلن، وقت کی پابندی، چمکدار پشاوری چپل اور خوشگوار رویہ آج بھی ہمارے دلوں پر نقش ہے۔

لیکن اس دن جو گھنٹی بج رہی تھی، اسے سن کر یوں لگا جیسے اسے محمد خان ہی بجا رہے ہوں! وہی مخصوص تسلسل، وہی جانی پہچانی گونج۔ مگر اگلے ہی پل حقیقت نے سر اٹھایا کہ محمد خان کا تو بہت سال قبل انتقال ہو چکا تھا۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن اس گھنٹی کی آواز نے ماضی کا ایک بند جھروکہ کھول دیا اور میری یادداشت میں یادوں کی ایک بارات ابھر آئی۔

محمد خان... کیا خوبصورت، باوقار اور پررونق چہرہ تھا۔ میری نظروں کے سامنے ان کا وہی روایتی سراپا گھوم گیا۔ وہ ہمیشہ شلوار قمیض پہنتے تھے، زیادہ تر سرمئی رنگ کی، اور پاؤں میں ہمیشہ پشاوری چپل ہوتی تھی۔ سردیاں ہوتیں تو وہ چپل کے ساتھ موزے پہن لیتے، لیکن مجال ہے کہ ان کی چپل پر کبھی مٹی نظر آئی ہو؛ وہ ہمیشہ چمکدار اور پالش شدہ ہوتی تھی۔ ایک پرانی گھڑی ان کے بائیں ہاتھ پر بندھی ہوتی تھی، جس کے بارے میں ہم بچوں کا خیال تھا کہ یہ سیدھی ریڈیو پاکستان کے ٹائم سے ملی ہوئی ہے۔ گرمیوں میں پورے ساڑھے سات بجے اور سردیوں میں ٹھیک آٹھ بجے صبح کی پہلی گھنٹی بجتی۔ مجال ہے کہ کبھی ایک سیکنڈ کی بھی دیر سویر ہوئی ہو۔


محمد خان...محترم پرنسپل شفیع منصور صاحب کے دفتر کے باہر بیٹھتے تھے اور پورے اسکول کے وقت کے سچے محافظ تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ محمد خان ہمارے اسکول کے پرنسپل کے تعلیمی نظام اور اس کے مقاصد میں گوندھا ہوا ایک ایسا ہیرا تھا، جو بغیر ہمیں کوئی کتاب پڑھائے، روزانہ زندگی کا سب سے قیمتی سبق پڑھا رہا تھا۔ وقت کی پابندی، ڈسپلن کا معیار، لباس کی پابندی، بہترین وضع قطع، ہمیشہ چمکدار پالش شدہ پشاوری چپل، متانت کی چال، چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ، اپنے کام سے کام رکھنا اور بغیر کسی تعطل کے ہر لمحہ اپنے دھیان کو ڈیوٹی پر مجتمع رکھنا—یہ وہ خاموش تربیت تھی جو وہ اپنے عمل سے ہماری نسلوں میں منتقل کر رہے تھے۔ کچھ مجھ سے بھی پرانے ساتھی بتاتے ہیں کہ محمد خان اسکول کا بس بھی چلایا کرتے تھے۔

اس اسکول کی زندگی میں محمد خان کی گھنٹی کے تین وقت بڑے بامعنی اور سنسنی خیز ہوا کرتے تھے:-۔

پہلا وقت صبح اسکول کی ابتداء کا تھا۔ وہ تینوں گھنٹیاں شاید مسلسل ایک منٹ تک بجائی جاتی تھی۔ صبح کی گھنٹی پہ جیسے ہی محمد خان کا ہتھوڑا رکتا تھا، اسکول کا بڑا لوہے کا گیٹ ایک بھاری آواز کے ساتھ بند ہو جاتا تھا اور بعد میں آنے والے 'لیٹ' گنے جاتے اور سزا کے سزاوار ٹھہرتے تھے۔ چنانچہ جب تک وہ گھنٹی بج رہی ہوتی تھی؛ اسکول کے باہر سے دوڑ دوڑ کر بچے دروازے سے اندر کی جانب بھاگتے تھے۔۔ اس وقت کی دوڑ اولمپک کی ایک بھیڑ کی دوڑ لگتی تھی۔

دوسرا یادگار وقت 'ریسس' یعنی آدھی چھٹی کے اختتام کا ہوتا تھا۔ سر پرنسپل کے آفس سے تقریبا" سو قدم پہ گھنٹی لٹکی ہوتی تھی۔ جب ہم پرائمری جماعت میں تھے، تو آدھی چھٹی میں فٹبال کا کھیل بچوں کے ہجوم کی وجہ سے اکثر 'ہینڈ بال' بن جایا کرتا تھا۔ بیس پچیس منٹ کے اس وقفے میں تین چار سو بچے ایک ہی میدان میں؛ ایک ساتھ کھیل رہے ہوتے تھے، اس لیے باقاعدہ گول ہونا نامکن ہوتا تھا۔ ایسے میں ہم اپنے ایک ساتھی کی ذمہ داری لگاتے تھے کہ وہ محمد خان پہ نظر رکھے کہ جیسے ہی وہ آدھی چھٹی کے اختتام کی گھنٹی بجانے کی لیے قدم بڑھاتا تھا؛ تو ہم گیند کو ہر صورت میں اپنے قبضےمیں لینے کی کوشش کرتے تھے؛ کیونکہ وہ گھنٹی بھی ایک منٹ تک بجتی تھی۔ اور اس وقت ہماری پوری کوشش ہوتی کہ ہماری ٹیم کا سب سے تندرست اور طاقتور ساتھی فٹبال کو گود میں اٹھائے اور کسی نہ کسی طرح مخالف کے گول میں پہنچا دے۔ اس وقت وہ کھیل امریکی رگبی بن جایا کرتا تھا؛ کہ اس آخری ایک منٹ کی گھنٹی میں صرف وہی ایک موقع ملتا تھا، کیونکہ گھنٹی ختم ہوتے ہی ہر صورت کلاس میں پہنچنا لازمی ہوتا تھا۔

اور تیسرا وقت، وہ پورے دن کا سب سے جادوئی وقت ہوتا تھا—یعنی اسکول کی پوری چھٹی کی گھنٹی!۔

جیسے ہی محمد خان کا ہتھوڑا اس چمکدار گھنٹی پر آخری بار بجتا، پورے اسکول میں جیسے ایک خوشی کا زلزلہ برپا ہو جاتا تھا۔ کھٹ کھٹ بستے بند ہوتے، زپیں چڑھتیں، اور "چھٹی ہے!" کا ایک پرجوش شور فضا میں گونج اٹھتا۔ بچے دیوانہ وار تیز بھاگتے دوڑتے اسکول کے بڑے گیٹ کی جانب لپکتے، جہاں باہر لینے کے لیے آنے والے بڑے تانگوں یا سائیکلوں کے ساتھ کھڑے ہوتے؛ اس وقت گاڑیاں کم کم ہی ہوتی تھیں۔۔ لیکن مجھ سمیت زیادہ تر بچے پیدل ہی دوڑتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کی جانب ایک انوکھی ریس لگاتے تھے۔

لیکن ہم اس قدر جلدی میں کیوں ہوتے تھے؟ وہ اسکول سے بھاگنے کی جلدی صرف پڑھائی سے فرار نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا پیار تھا۔ گھر پر ماں انتظار کر رہی ہوتی تھیں، اور کچن سے گرما گرم، تازہ پکی ہوئی روٹیوں کی خوشبو ہمارا استقبال کرنے کے لیے تیار ہوتی تھی۔ ماں کا وہ مسکراتا ہوا چہرہ اور وہ گرما گرم روٹیاں ہی ہماری اس روزانہ کی ریس کا اصل انعام ہوا کرتی تھیں۔

ٹیپو روڈ پر کھڑے کھڑے مجھے یاد آیا کہ میرے چھوٹے بھائی نے مجھے بتایا تھا کہ محمد خان کی ملازمت کا آخری دن کتنا یادگار تھا۔

جب اس آخری دن کی صبح کی پہلی گھنٹی محمد خان نے بجائی تھی، تو اس کی گونج میں اداسی نہیں، بلکہ ایک الگ ہی جوش و خروش تھا۔ اس دن محمد خان کے ساتھ اس کا جوان سال بیٹا کھڑا تھا، جو فخر سے دیکھ رہا تھا کہ اس کے والد کو اسکول میں کتنا احترام اور محبت مل رہی تھی۔ اسکول کا بچہ بچہ اور ایک ایک استاد جانتا تھا کہ وہ محمد خان کی چالیس سالہ ملازمت کا آخری دن تھا۔ وہ صبح کی گھنٹی سب کے لیے ایک یاد دہانی تھی کہ آج اسکول کا ایک اہم ستون رخصت ہونے والا ہے، لیکن سب کو یہ اطمینان بھی تھا کہ اس کے بعد وقت کی پابندی کی یہ سعادت ان کا بیٹا ادا کرے گا۔

پھر جب دوپہر کا ٹھیک ایک بجا، تو تمام طلبہ، اساتذہ اور خود پرنسپل صاحب اسمبلی گراؤنڈ میں جمع ہو چکے تھے۔ اب لکڑی کا ہتھوڑا محمد خان کے بیٹے حارث خان کے ہاتھ میں تھا۔ حارث خان نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا، گہرا سانس لیا، اور لکڑی کا ہتھوڑا ہاتھ میں اٹھا کر اپنی زندگی کی پہلی گھنٹی بجائی: ٹن... ٹن... ٹن! طلبہ و طالبات نے گھنٹی کی ہر گونج کو گنا اور پھر خوشی و جوش سے نعرے لگائے اور تالیاں بجائیں، جس میں اساتذہ اور خود پرنسپل صاحب بھی شامل ہو گئے۔ محمد خان کے چہرے پر فخر اور طمانیت کی عکاسی صاف دکھائی دے رہی تھی کہ ان کی وراثت محفوظ ہاتھوں میں چلی گئی تھی۔


ٹیپو روڈ پر گزرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ وقت نے حارث خان کی بجائی ہوئی گھنٹی میں اور اس کے والد محمد خان کی گھنٹی میں فرق مٹا دیا تھا! وہی مہارت اور وہی ڈسپلن تھا، تب ہی تو مجھے دور سے ہی اپنے بچپن کی گھنٹی کی یاد آ گئی تھی اور یوں لگا تھا جیسے محمد خان خود آج بھی وہاں موجود تھے۔

گاڑی میں بیٹھے بیٹھے جب میں نے ماضی اور حال کے اس ملاپ کو جیا، تو میرا دل ایک عجیب سے سکون اور امید سے بھر گیا۔ محمد خان اس دم ہم میں نہیں تھے، لیکن ان کا برتا گیا ڈسپلن ان کے بیٹے کی صورت میں آج بھی اسکول کی دھڑکن بن کر گونج رہا تھا۔

چچا محمد خان ہمارے اسکول کے واحد نائب قاصد نہیں تھے۔۔۔ ایک قدرے نوجوان طارق بھائی بھی ہوا کرتے تھے؛ اور اسکول کے سارے باہر کا کام وہی کیا کرتے تھے۔۔ انکی زیادہ تر یادوں میں وہ اپنی سائیکل کے ساتھ ہی وارد ہوتے ہیں۔۔۔ ہمارے وقتوں مں وہ وائس پرنسپل مس خالدہ پروین کے دفتری تھی۔ اور میڈم خالدہ کی ڈانٹ کھانے کے بعد باہر آکر مسکرا کر حوصلے پانے میں انکا کردار لاثانی تھا۔ اگر شرارتی بچوں کے والدین صرف طارق بھائی سے میڈم کے کمرے میں برپا ہونے والا تمام ماجرہ سن لیتے تو گھر لیجا کر خوب درگت بناتے۔۔۔ میڈم خالدہ کے چھوٹے سے دفتر سے باہر ساری کاروائی صاف سنائی دیتی تھی۔۔۔

اللہ کریم سر سید پبلک اسکول کے ہمارے مرحوم اساتذہ اور دیگر ملازمین جیسے محمد خان کی مغفرت فرمائے اور ان سبکی بے لوث خدمات کا اجر عظیم عطا فرمائے؛ آمیں ثم آمین۔

جب ہمارے تعلیمی ادارے اور اسکول کمیونٹی کی خدمت کرنے والے ہر فرد کے لیے—چاہے ان کا کردار یا عہدہ کچھ بھی ہو—وقار، محبت اور احترام کے اس جذبے کو نسل در نسل اس طرح پروان چڑھاتے ہیں، تو یقیناً ہمارے معاشرے اور مستقبل کے بارے میں پرامید ہونے کی ہر وجہ موجود ہوتی ہے۔


1
181
What Factors Decide the Rate of Interest for Personal Loan Applications Today?

What Factors Decide the Rate of Interest for Personal Loan Application...

defaultuser.png
Priyanka Sharma
40 seconds ago
Startup Patent Attorney: Build Long-Term IP Strategy | EVLG

Startup Patent Attorney: Build Long-Term IP Strategy | EVLG

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocKXJvcwRRhJFjF9RJi16esF-EtupL2FLaoJZLv0INPoa9NIIQ=s96-c
EVLG
6 minutes ago

Facials Jupiter Residents Can Book Without Sitting in Traffic

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLCmoecIG-PEuEoiAYr1u60SFoOz5h_pZbd9ve6sCwybVmeMA=s96-c
Yannick
9 minutes ago
When Is Circumcision Recommended for Children and Adults?

When Is Circumcision Recommended for Children and Adults?

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJqzWx_1eGGFOlUCGrNXYp8le0p3UKnIXSPDpE_sS6ICuwT3A=s96-c
Gm irfan
23 minutes ago
The War of Sanctions

The War of Sanctions

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
28 minutes ago