تہذیب و ثقافت کا عروج و زوال
Civilization refers to the recognition and definition of a human society; which includes social practices, cultural colors, and the level of development of industry and crafts. Any human society can experience periods of rise and fall of social and cultural systems. This write up in Urdu "تہذیب و ثقافت کاعروج و زوال" takes up the subject wrt two poems; "She Walks in Beauty" by Lord Byron and an Urdu Poem "اگر تم دیکھ پاو تو" by Ahmad Farhad
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
تہذیب و ثقافت کاعروج و زوال
تہذیب سے مراد ایک انسانی معاشرہ کی پہچان اور تعریف ہوتی ہے؛ جس میں سماجی طور طریقے، ثقافتی رنگ و بُو اور صنعت و حرفت کی ترقی کی سطح شامل ہوتی ہے؛ اور جس کی خصوصیات میں شہری و دیہی زندگی، منظم حکومت کی صورت اور سطح، اور زندگی کی پیشہ وری کی تقسیم شامل ہوتی ہیں۔ اس میں انفراسٹرکچر، مواصلاتی نظام (بشمول تحریر و تقریر) اور مشترکہ ثقافتی شناخت جیسے پہلو بھی شامل ہوتے ہیں۔
کسی بھی تہذییب کی نمائندگی اس کے شہری اور دیہی معاشروں میں رائج سماجی اور ثقافتی روایات کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسی شناخت ہوتی ہے؛ جو اس کے معاشرے میں کسی فرد یا گروہ کا انفرادی اور اجتماعی تعلق اور باہم سمجھ بوجھ کا اظہار ہوتا ہے اور انکو احساس دلاتا ہے کہ وہ کون ہیں؟ شہری اور دیہی زندگی میں انسانی روایات کی تشکیل سماجی عوامل اور ثقافتی اثرات دونوں سے ہوتی ہے؛ جو مختلف پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے، بشمول ذاتی خصائص، سماجی کردار، ثقافتی پس منظر، اور زندگی کے تجربات، متاثر کرنے والے رویے، اصولوں اور تعاملات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ روایات سے مشترکہ ثقافتی شناخت پیدا ہوتی ہے۔
مشترکہ ثقافتی شناخت سے مراد باہمی تعلق کا احساس ہوتا ہے جو کسی معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ محسوس کرتے ہیں؛ اور ایک جیسے ثقافتی پس منظر، اقدار اور طرز عمل کا اشتراک کرتے ہیں۔ یہ معاشرتی اور انفرادی شناخت کا ایک اہم پہلو ہے؛ اور اس سے عقائد، طرز عمل، اور سماجی تعاملات کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہ مشترکہ شناخت اکثر روایات، رسوم و رواج، زبان اور ایک اجتماعی تاریخ کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے؛ اور یہ معاشروں میں اتحاد اور تعلق کے احساس کو فروغ دیتی ہے۔
کوئی بھی انسانی معاشرہ سماجی اور ثقافتی نظام کے عروج و زوال کے ادوار کا تجربہ کر سکتا ہے؛ اور اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ عروج و زوال کی وجہ کچھ تبدیلیاں ہوتی ہیں جو مختلف عوامل سے متاثر ہوتی ہیں؛ بشمول اقتصادی تبدیلیاں، ماحولیاتی تبدیلیاں، تکنیکی ترقی، اور دوسری ثقافتوں کے ساتھ تعامل۔ سماجی ثقافتی عوامل لوگوں کے احساسات، اقدار، عقائد، طرز عمل، رویوں اور تعاملات کو متاثر کرتے ہیں۔ مثالوں میں سماجی طبقات، مذہبی عقائد، دولت کی تقسیم، زبان، کاروباری طرز عمل، سماجی اقدار، کسٹمر کی ترجیحات، سماجی تنظیم، اور کام کے تئیں رویہ شامل ہیں۔
شاعری اکثر اپنے وقت کی سماجی اور ثقافتی اقدار کے آئینہ کے طور پر کام کرتی ہے، جو کسی خاص معاشرے کے اقدار، عقائد، رویوں اور تجربات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر، اپنی برادریوں کے ارکان کے طور پر، اپنے اردگرد کی دنیا سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں، ان کا کام سماجی اصولوں، اقدار اور جذبات کی تشکیل اور عکاسی کر سکتا ہے۔ شاعری معاشرے کے سماجی اور ثقافتی عروج و زوال کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعروں کے کلام میں ثقافتی اظہار سے معاشروں میں ہونے والی تبدیلی کی شکل اور کسی خاص وقت اور جگہ کے تجربات کو گرفت میں لیا جاتا ہے۔
آئیے اب ذرا دو مختلف زمانوں، دو مخلتف معاشروں اور دو مختلف زبانوں میں کی گئی شاعری پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسے بدلتے وقت کا ساتھ مختلف تہذیبوں میں اثرات جنم لیتے ہیں؟ تو پہلے انگریزی زبان کے شاعر نواب جارج گورڈن بائرن کی نظم پڑھتے ہیں۔
لارڈ بائرن کی نظم "شی واکس ان بیوٹی" / "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے"۔
وہ حسنِ مجسم چلتی ہوئی وارد ہوئی؛ جیسے رات؛
بادلوں کے بغیر، تاروں سے بھرے آسمانوں میں داخل ہوتی ہے؛
اور اس طرح کہ سب تاریکیوں میں ایک تنہا روشنی؛
اس کے جلو میں، اس کی آنکھوں کی چمک؛
اس طرح جیسے کومل روشنی سے آنکھ جھپک جائے۔
جس سے روشن دن بھی ماند پڑجائے۔
ایک سایہ زیادہ نہیں، ایک کرن کم نہیں؛
ملبوس میں لپٹےادھورے پن سے حسن ماند نہ ہوا؛
اس کے کالے بال اس کے وجود کا طواف کریں؛
یا نرمی سے اس کے چہرے پر لہرائیں؛
وہ چہرہ، جہاں خیالات کا میٹھا پن جھلکتا ہے۔
کتنا پاکیزہ؛ کتنا حسن آور مسکن ہے۔
اور اس گال پر، اور اس پیشانی پر؛
اتنا نرم، اتنا پرسکون، پھر بھی کتنا فصیح پرور؛
وہ مسکراہٹیں جو جیت جاتی ہیں، وہ چتون جو روشن ہے؛
نیکی میں بسر کئے دنوں کا اظہار ہیں؛
ایک پرسکون ذہن؛ جو تابع ہے؛
اس دل کا؛ جس میں معصوم پریم بستا ہے۔
جارج گورڈن بائرن ایک انگریز شاعر تھے۔ "شی واکس ان بیوٹی" / "وہ چلتی پھرتی مجسم حسن ہے" ان کی مشہور نظموں میں سے ایک ہے۔ جسے لارڈ بائرن نے 1814 میں لکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 11 جون 1814 کو بائرن نے لندن میں ایک تعزیاتی محفل میں شرکت کی۔ مہمانوں میں بائرن کے فرسٹ کزن سر رابرٹ ولموٹ کی اہلیہ مسز این بیٹرکس ولموٹ بھی تھیں۔ بائرن اس موقع پر اس خاتون کی غیر معمولی خوبصورتی سے متاثر ہوا، اور اگلی صبح نظم لکھی گئی۔
لارڈ بائرن نے اس عورت کی خوبصورتی کے جوہر کو جذباتی انداز میں بیان کیا۔ اس نظم میں اس نے اپنی ممدوح کے جسمانی خدوخال کے مخصوص تفصیلات کو بیان نہیں کیا۔ بلکہ پوری نظم میں صرف اس کے کالے بال کا ذکر کیا۔ (یہ اس بات کا مظہر ہے کہ اس زمانے میں کسی تعزیتی محفل میں خاتون مناسب لباس میں آتی تھیں)۔ اور اس کا محض چہرہ ہی کھلا ہوا تھا۔ بائرن نے اپنی نظم میں بنیادی طور پرجسمانی خوبصورتی پر توجہ مرکوز نہیں کی (جہاں صرف چہرہ ہی کھلا تھا)؛ چنانچہ نظم میں ظاہری خوبصورتی کا باطنی خوبصورتی سے تعلق کو واضع کیا گیا۔ اور کہا گیا کہ درحقیقت عورت کی ظاہری صورت اور باطنی خوبی دونوں مدغم ہیں۔ شاعر نے اس نظم میں اپنے ممدوح کی دلکش کشش اور پاکیزگی پر توجہ مرکوز کی اور کہا کہ ایک سندر سپلتا اسے گھیرے رکھتی ہے؛ اسے شاندار ہیولہ عطا کرتی ہے؛ جیسے وہ مجسم حسن ہے۔ جیسے وہ بے عیب ہے؛ ایک مکمل سندرتا۔
اس نظم سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج سے دو سو سال قبل انگلستان کی معاشرتی زندگی میں مرد و عورت کی مخلوط محفل کم ہوتی تھیں۔ اور خواتین گھروں سے باہر بےحجاب نہیں گھوما کرتی تھیں۔ وگرنہ نواب بائرن اس اچھنے کا شکار کیوں ہوتا؟ اس وقت تک عورتوں کی بے مہابا آزادی کی تحریک فیمنسٹ موومنٹ بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ اور اس وقت تک خواتین کو جمھوری ملکوں میں بھی ووٹ کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ چنانچہ وہ ورک فورس کا حصہ بھی نہیں بنی تھیں۔ اس وجہ سے نفس کی بھوک سرعام بازار کا حصہ نہیں بنا تھا۔
لارڈ جارج بائرن کی نظم کے بہت بعد میں نیوزی لینڈ میں سنہ 1893 عیسوی میں پارلیمانی انتخابات میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق ملا۔ اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد مگربی اقوام کی ثقافت اور سماج میں تیزی سے بدلاو آیا۔ مثال کے طور پر لان ٹینس کا کھیل اس وقت سے آجتک بہت مقبول ہے۔ ذیل میں خواتین کا انگلینڈ کے مشہور سالانہ ویمبلڈن میں شریک خواتین کا ڈریس ہی دیکھ لیجیے۔ ہالی وڈ مغربی تہزیب کا بہت مضبوط استعارہ ہے۔ اس کی پچھلی صدی کے اوائل کی فلموں میں خواتین کی عکاسی اور آج کی تصویر پر ہی غور کرلیجیے؛ فرق معلوم ہوجائے گا۔ خواتین نے آزادی کے نام پر بےحجابی کو عام کیا ہے۔
آج کی دنیا میں بےحجابی بہت مقبول ہوچکا ہے اور خواتین نے خود پر بلا تشدد طاری کرلیا ہے۔ فلم، ٹیلی وژن اور اب سوشل میڈیا خواتین کی آزاد روی میں خوب کردار ادا کررہا ہے۔ اور دنیا بھر میں ہالی وڈ کریز مقبول ہورہا ہے۔ کیا "پریٹی وومن اور انڈیسنٹ پروپوزل" جیسی فلموں نے مغربی تہزیب کی عکاسی نہیں کی ہے؟ لیکن مغربی تہذیب نے اپنا ثقافتی رنگ تیسری دنیا کے ممالک پر زبردستی بھی مسلط کیا ہے۔ اور اس کا اثر شاعری میں بھی جھلک رہا ہے۔ ذیل میں نوجوان شاعر احمد فرہاد کی نظم "اگر تم دیکھ پاو تو" پیش کی جاتی ہے۔
احمد فرہاد کی نظم "اگر تم دیکھ پاو تو"۔
اگر ٹانگوں کے دو شاخے کے بیچوں بیچ لٹکے اس ہوس انگیز پنڈولم سے الٹے منہ لٹکنے سے زرا فرصت ملے تو سوچ لینا ۔
اس دو شاخے سے زرا اوپر کو ایسا چاک ہے جس پر تمہاری بانجھ مٹی نو مہینے خون پی کر شکل کے کوزے میں اتری تھی
اگر دل چھاتیوں کو نوچنے بھنبھوڑنے کی خواہشوں کے بار سے تھوڑی خلاصی لے تو بائیں سمت تھوڑا غور کرنا
تمہیں اک دل دکھائی دے گا جس میں بس ازل سے
مرد کی جھوٹی محبت کا ہیولہ رقص کرتا ہے
اگر ہونٹوں کو دانتوں سے چبانے کاٹنے اور مسخ کرنے کی ہوا سر سے نکل جائے تو ان ہونٹوں کے پنوں پر لکھی تحریر پڑھنا
تم خداوں کا تکلم بھول جاو گے
اگر جوتی پہ رکھے رکھے تھک جاو تو عورت کو زرا پلکوں پہ رکھ کر دیکھ لینا
تمہیں شبھ ساعتوں کے خواب آئیں گے
اگر مردانگی کا خبط شریانوں کی نہریں چھوڑ دے تو ان میں کچھ انسانیت کا شہد بھر دینا تمہارے دل کی پتھریلی زمینوں پر حیا کی فصل اترے گی۔
اگر وحشت کا بادل آنکھ کے پردے سے چھٹ جائے
تو تھوڑی دیر سچائی کی نیلی دھوپ میں احساس کی چھت پر ٹہلنا
تمہیں للچاتی رانوں چھاتیوں کولہوں لبوں اور جھولتی کمروں کی شہوت گیر دھند سے پار
اک تقدیس میں مہکا ہوا موسم دکھائی دے گا جس کا نام عورت ہے
اگر آنکھوں سے زیر ناف رکھے بت ہٹا کر دیکھ پاو تو تمہیں محسوس ہو گا
کہ عورت جسم سے ہٹ کر بہت کچھ ہے
اگر تم دیکھ پاو تو
اختتامی کلمات
احمد فرہاد کی نظم ایک تکلیف دہ ثقافتی رنگ کو ظاہر کررہی ہے۔ یہ ظاہر کررہی ہے کہ آج کے مرد کے لیے عورت محض ایک جسم رہ گئی ہے؛ جو اس کے نفس کی بھوک مٹانے کا حوالہ بن گیا ہے۔ اسے عورت کی روح اور اس کی عزت و عفت کا لحاظ نہیں رہا ہے۔ آج مرد عورت کو اپنی وحشت مٹانے سے سوا کسی اور مطلب سے نہیں دیکھتا۔ یہ رواج معاشرے کی بنیاد کو ہلا گیا ہے اور اگر اسے روکا نہیں گیا تو تہزیب ایک تماشہ ہی رہ جائے گا۔ اور مذاق بن کر رہ جائے گا۔ اوپر کی دو نظمیں انسانی تہذیب اور ثقافت کے عروج اور زوال کا مظہر ہیں اور احمد فرہاد کی نظم ایک چیخ ہے کہ شاید کسی طرح دلوں کو چیر جائے اور معاشرہ اپنی خود کشی سے باز آجائے...