تہذیبِ نفس اور کمال و زوالِ انسان
تہذیب نفس ایک بہترین وظیفہ ہے جسے اللہ تعلی نے اولاد آدم کے لیے تجویز کیا ہے۔ انسانی فلاح و رست گاری تزکیہ نفس میں ہے ۔ اور محرومیت و شکست پیروئی نفس میں ہے ۔ یہ تحریر "تہذیبِ نفس اور کمال و زوالِ انسان" فیس بک پیج The Tourist Nest" پر موجود مضمون "تہذیبِ نفس اور انسانیت کا جمال: ایک فکری مطالعہ" سے متاثر لکھی گئی ہے۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
تہذیبِ نفس اور کمال و زوالِ انسان
تمہید
کسی بھی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرزِ زندگی اور طرزِ فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ چنانچہ زبان، سماجی رشتے، رہن سہن، فنون لطیفہ، علم و ادب، فلسفہ و حکمت، عقائد و افسوں، اخلاق و عادات، رسوم و روایات اور خاندانی و دیگر تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔ ہر خاندان قبیلہ اور قوم کی ایک تہذیبی شخصیت ہوتی ہے جو اس کا پہچان بن جاتی ہے۔ تہذیبی شخصیت کے کچھ عناصر آفاقی سچ کی مانند مشترک ہوتے ہیں؛ چنانچہ بعض پہلو سب تہذیبوں میں ملتے جلتے ہیں، لیکن بعض ایسی انفرادی خصوصیتیں ہوتی ہے جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے الگ اور ممتاز کرتی ہیں۔ ہر قوم اپنی تہذیب کے انفرادی خصوصیات سے پہچانی جاتی ہے۔
علامہ محمد اقبال نے اس بات کو اظہر من شمس کردیا جب فرمایا کہ
اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی
اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسَب پر انحصار
قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری
انسانی معاشرت کی تشکیل میں علم، تہذیب، اخلاق، اور رویوں کا کردار محض ظاہری سجاوٹ کا نہیں بلکہ روحانی بالیدگی کا ستون ہے۔
معاشرے کی اصل بنیاد ان اقدار پر استوار ہوتی ہے جو صرف کتابوں میں قید نہیں رہتیں بلکہ دلوں میں زندگی پاتی ہیں اور معاشرے کی ترقی کا ستون بن جاتی ہیں۔
فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل ترقی وہ ہے جو انسان کے باطن کو نکھار دے؛
اور باطن وہی چمکتا ہے جہاں محبت، وفاداری، رواداری اور احترام کی روشنی موجود ہو۔
مشاہدہ اور استدلال
مرد کے لباس میں عورت کی صفائی کا عکس؛
عورت کے لباس میں مرد کی مردانگی کا ظہور؛
اور لڑکیوں کے لباس میں ماں کے اخلاق کی جھلک۔
مندرجہ بالا تینوں مظاہر انسانی تعلقات کے اس لطیف مگر گہرے فلسفے کی نمائندگی کرتے ہیں کہ انسان کی شناخت اس کے ظاہری وجود میں نہیں بلکہ اس کے پس پردہ تعلقات کی گہرائی میں پوشیدہ ہے۔
انسانی فطرت کا یہ اٹل اصول ہے کہ ہر عمل اپنے پیچھے ایک باطنی محرک رکھتا ہے۔
مرد کی نفاست، عورت کی عظمت، لڑکی کی شرم و حیا — یہ سب ان رشتوں کی آئینہ داریاں ہیں جو انسان کے شعور اور لاشعور میں رچے بسے ہوتے ہیں۔
پس، لباس محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ رشتوں کی کہانیوں کا ملبوس ہے۔
جذبہ انسانی وجود کا اصل محرک ہے؛ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جذبات ہی انسانی وجود کو عمل پذیر کرتے ہیں۔ جذبات کے دو پہلو ہیں ایک مثبت اور دوسرا منفی؛ مثبت کا تعلق روح سے اور منفی کا تعلق نفس سے ہے۔ محبت، شفقت، اَدب، احترام اور بردباری مثبت پہلو ہیں؛ جبکہ حسد، غصہ اور نفرت دراصل منفی جذبات ہیں۔ جذبہ بذاتِ خود منفی نہیں ہوتا؛ جذبات کا محرک اسے منفی بنا دیتے ہیں؛ جو منفی ہوتے ہیں۔ جذبات کے منفی پہلوؤں کو مثبت پہلو میں تبدیل کرنا علم الاخلاقیات میں تہذیب النفس کہلاتا ہے؛ چنانچہ ہم حسد کی جگہ رشک، غصہ کی جگہ تادیب اور نفرت کی جگہ تنقید برائے اصلاح کرکے نفس کی جڑوں سے امڈتے جذبات میں ہر قسم کی آلائش کو دور کر سکتے ہیں۔
تہذیب اور تعلیم: ایک فطری مکالمہ
تہذیب محض تعلیمی سندوں کا نتیجہ نہیں؛
یہ تو اس فطری تربیت کا نام ہے جو ماؤں کی گود، باپ کی شفقت، بزرگوں کی نصیحت، گھروں کے صحن، اور محلے کی چہل پہل میں پروان چڑھتی ہے۔
ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ادب و آداب کی تعلیم بغیر رسمی درسگاہوں کے حاصل کی ۔
جہاں استاد کی عزت بغیر تنبیہہ کے سکھائی گئی؛
والدین کی خدمت بغیر نصیحت کے جذب کی گئی؛
اور محلے دار کا احترام بغیر کسی مذہبی دلیل کے ایمان کا حصہ بن گیا۔
منطق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر کوئی قدر نسل در نسل بغیر مکتوب علم کے منتقل ہو رہی ہو تو یہ اس قدر کی فطری سچائی پر سب سے بڑی دلیل ہے۔
محبت، عزت، وفاداری — یہ انسانی شعور کا لازمی جزو ہیں؛
ایسی حقیقتیں جو کسی کتاب کے محتاج نہیں، بلکہ فطرت کے الہام سے دلوں پر نازل ہوتی ہیں۔
تہذیبی فلسفہ: ایک داخلی تجزیہ
اگر ہم تہذیب کو فلسفیانہ پیمانے پر پرکھیں تو یہ دو بنیادی ستونوں پر کھڑی نظر آتی ہے:
اخلاقی فطرت
اجتماعی شعور
اخلاقی فطرت وہ قوت ہے جو انسان کو اپنی حدود کا شعور عطا کرتی ہے،
اور اجتماعی شعور وہ حس ہے جو انسان کو دوسروں کے حقوق کے احترام پر مجبور کرتی ہے۔
ہمارے بزرگوں نے نہ حیاتیات کے اصول پڑھے، نہ معاشرتی معاہدوں کے مفصل بیانیے؛
مگر ان کے رویوں میں ایسا توازن اور حسن تھا کہ انہوں نے عملی طور پر ہمیں انسانیت کا اصل مفہوم سکھا دیا۔
یہ تربیت درحقیقت انسانی فطرت کے ان اصولوں کی فعلی تفسیر تھی جو کتابوں میں محض الفاظ کی صورت محفوظ ہیں۔
تہذیب میں کچھ سنہری اصول ہوتے ہیں جو درحقیقت اخلاقیات پر منتج ہوتے ہیں اور غیر متبدل ہوتے ہیں۔ ایسےغیر متبدل اخلاقیات انسان کے اندر موجود فِطری قوت ہے۔ تمام تہذبوں میں اور تمام انسانی معاشروں میں بلکہ تمام مذاہب میں یہ یکسانیت و عالمگیریت پائی جاتی ہے۔
’’دوسروں کو تکلیف نہ دو تاکہ دوسرے بھی تمہیں تکلیف نہ دیں‘‘ ( پیغمبرِ اسلام حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم)۔
’’دوسروں کے لئے وہی کرو جو تم چاہتے ہو کہ دوسرے تمہارے ساتھ کریں‘‘ (حضرت عیسٰی علیہ السلام )۔
’’تم اپنے ہمسائے سے محبت کرو، جیسا کہ تم اپنے آپ سے کرتے ہو‘‘ ( حضرت موسٰی علیہ السلام)۔
’’یہ کام کا اْصول ہے، دوسروں کے ساتھ وہ نہ کرو جو تم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ بھی کیا جائے‘‘( مہا بھارت )۔
’’جو تمہیں اپنے لئے پسند نہیں ہے، وہ دوسروں کے لئے نہ چاہو‘‘( کنفیوشس)۔
ثقافتی زوال اور فکری خلاء
انسانیت کی مجموعی تاریخ میں بالعموم اور گزشتہ دوصدیوں میں بالخصوص انسان نے مختلف علوم و فنون اور زندگی کے تمام شعبوں مثلاً سیاست، معیشت، تمدن، معاشرت، صحت اور تعلیم وغیرہ میں خوب ترقی کرلی ہے اور جدید ایجادات و اکتشافات نے زندگی کے دامن کو سہولتوں، لذتوں، راحتوں اور آسائشوں سے بھر دیا ہے۔ آج کے انسان کو زیادہ مطمئن ومسرور ہونا چاہیے تھا اور اجتماعی زندگی کے مسائل کو کم ہونا چاہیے تھا مگر دنیا میں بدامنی اور فتنہ و فساد بڑھ گیا ہے اور معاشروں میں امن و سکون مفقود ہوگیا ہے۔
آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ علم کے انبار تو بڑھ گئے، مگر اخلاقی قامت گھٹ گئی۔
انسان کا اخلاقی کردار ہی وہ واحد سرچشمہ ہے جس سے اس کے، معاشی، سیاسی اور تمدنی اعمال کے چھوٹے چھوٹے چشمے جاری ہوتے ہیں۔
اظہار کی سہولت بڑھ گئی، مگر تعلقات کی معنویت کم ہو گئی۔
ایسا کیوں ہوا؟
کیونکہ ہم نے تہذیب کو نصابی موضوع سمجھ کر اس کی روح کو نظر انداز کر دیا۔ اور نفس پرست بن گئے ہیں۔
نفس پرست افراد کا معاشرہ فحاشی و عریانی، بے حیائی، حسد، بغض، کینہ نفرت، انتقام، غیض و غضب، مفاد پرستی، دولت کی ہوس، لوگوں کے حقوق کی پامالی، خیانت، حرام و ناجائز کا ارتکاب، اور روز مرہ کے معاملات میں بدیانتی کا مرتکب نظر آتا ہے۔
تہذیبِ نفس اور تزکیہ نفس کا کام ایسا ہے جس سے دین و دنیا کی ساری بھلائیاں وابستہ ہیں۔
مری نظر میں یہی ہے جمالِ زیبائی
کہ سربسجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک
اقبال
فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اقدار کا اصل استحکام صرف رسمی تعلیم سے نہیں بلکہ دل کی زمین پر کاشت کی گئی تہذیبی تربیت سے آتا ہے۔
جب تک تعلقات میں محبت بے غرض نہ ہو؛
جب تک عزت مفاد سے پاک نہ ہو؛
جب تک وفاداری سود و زیاں سے آزاد نہ ہو۔
تب تک انسانیت کا حقیقی جمال ابھر نہیں سکتا۔
اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں راستہ دکھایا ہے
’’ اور (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (صحیح) زندگی ہے۔ کاش! وہ لوگ(یہ راز) جانتے ہوتے۔ ‘‘ (العنکبوت، 29: 64)
حضورنبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’دنیا کی محبت ہر خطا کی بنیاد ہے۔‘‘ (کنزالعمال، 3: 79، رقم: 6114)
بقول اقبالؒ
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اُس میں ہے آفاق
اختتامیہ اور دعا
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُنّاری
زمان ہے نہ مکاں لا اِلٰہ الّا اللہ
اقبال
پس، آج بھی اگر ہمیں اپنی تہذیب کو زندہ رکھنا ہےاور ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے؛ چنانچہ ہمیں اپنی فطری سچائیوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔
والدین، رشتہ دار، اساتذہ، بزرگ، محلے دار — یہ محض رشتے نہیں، انسانیت کی عمارت کے بنیادی ستون ہیں۔
ان کی عزت کرنا محض ایک اخلاقی فرض نہیں بلکہ انسانی وجود کی بقا کی شرط ہے۔
ہم ان بزرگوں کے مقروض ہیں جنہوں نے ہمیں سکھایا کہ
ادب، محبت، وفا اور عزت محض الفاظ نہیں؛
بلکہ وہ سانسیں ہیں جن کے بغیر انسانی رشتہ مردہ ہو جاتا ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں:۔
اللہ رب العزت ان زندہ ضمیروں کی حفاظت کرے؛
اور ان بزرگوں کی مغفرت فرمائے جو ہمیں یہ لازوال ورثہ دے کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آمین ثم آمین
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرمِ رازِ درُونِ مئے خانہ
اقبال
This article has been written with the help of material posted on FB Page (The Tourist Nest) as "تہذیبِ نفس اور انسانیت کا جمال: ایک فکری مطالعہ" with the permission of the author.