Th history of the world is the story of human civilizations established by mankind. The mankind is the special creation bestiwed with enormous capacity, capability and talent and the best of all is the desire and efforts for seeking knowledge. The knowledge is the bench mark for rise and fall of an individual or nation. This write up in Urdu "تہذیبِ علم وعروج آدم: ابنِ خلدون اور قومی ترقی" is about the rise and fall of a nation as explained by Ibn-e-Khaldun.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
تہذیبِ علم وعروج آدم: ابنِ خلدون اور قومی ترقی
امریکی خواب اور ابنِ خلدون کا قانون: پچھلی صدی میں امریکی قوم کو ایک خواب دکھایا گیا تھا، جسے تاریخ "امریکن ڈریم" کے نام سے یاد کرتی ہے۔ امریکی عوام نے اسے محض ایک خوشنما نعرہ نہیں، بلکہ اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر اپنایا تھا۔ یہ خواب مسلسل، پرعزم محنت اور علم کے بلبوتے پر بدترین حالات سے نکل کر اپنی تقدیر خود بدلنے کا خواب تھا۔ تاریخ دان اور عمرانیات کے بانی ابنِ خلدون نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف "مقدمہ" میں قوموں کے ارتقا، عروج اور زوال کا ایک ابدی چکر (سائیکل) بیان کیا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ سلطنتوں کی بنیاد وہ "پہلی نسل" رکھتی ہے جو سختیوں، محرومیوں اور چیلنجز کے ملبے سے جنم لیتی ہے اور اپنی بے پناہ محنت سے بلندی کا سفر شروع کرتی ہے۔ مئی 1933 میں امریکہ کے قصبے گائیمون (اوکلاہوما) میں رہنے والی ایک بیوہ ماں کورا ہارگرو اور ان کا بیٹا ارل ہارگرو اسی خلدونی فلسفے اور امریکی خواب کی زندہ جاوید مثال بن کر ابھرے۔
معاشی بدحالی اور تقدیر بدلنے کا جنونجس امریکہ کو آج دنیا ایک مستحکم، مضبوط معاشی اور فوجی سپر پاور کے طور پر دیکھتی ہے، 1930 کی دہائی میں وہ 'گریٹ ڈپریشن' (شمالی امریکہ کی شدید معاشی بدحالی) اور 'ڈسٹ باول' (مٹی کے ہولناک طوفان) کی زد میں تھا۔ ہر طرف غربت، بھوک اور بے بسی کا راج تھا۔ لیکن یہ اسی امریکہ کی کہانی ہے جو اس وقت اپنی تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزرتے ہوئے، کمزوری سے طاقت کی طرف بلندی کا سفر شروع کر رہا تھا۔
ان جفاکش امریکیوں میں 45 سالہ بیوہ ماں کورا ہارگرو بھی تھی، جو خود تو پڑھ لکھ نہیں پائی تھی لیکن اپنے بیٹے ارل ہارگرو کو ہر مادی ضرورت سے پہلے علم کی روشنی دلانا چاہتی تھی۔ کورا ہارگرو زیادہ پڑھ لکھ نہ سکنے کے باوجود یہ راز جانتی تھی کہ اسے محنت سے قطرہ قطرہ سمندر بنانا ہوگا اور پورے لگن اور ہمت سے اپنے بیٹے کو تعلیم دلانا ہوگی تاکہ اس کا بیٹا اس ارتقائی چکر کو شروع کر سکے جو قوموں کو عروج بخشتا ہے۔
عین منزل پر آخری رکاوٹاس کا 17 سالہ بیٹا، ارل ہارگرو، اپنے پورے خاندان میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے والا پہلا لڑکا بننے جا رہا تھا۔ اس نے زندگی کی ہر سختی جھیلی تھی، مٹی کے طوفانوں کا مقابلہ کیا تھا، اور دن رات ایک کر کے خود کو اس قابل بنا لیا تھا کہ وہ تعلیمی اسناد حاصل کر سکے۔ اب وقت تھا اس کی برسوں کی انتھک محنت کے پھل کا—اس ڈگری کو حاصل کرنے کا جو ایک بہتر مستقبل کے لیے اس کا فخر اور ثبوت بننے والی تھی۔
مگر عین منزل پر پہنچ کر ایک آخری اور غیر متوقع دشواری حائل ہو گئی۔ ارل کے پاس مناسب جوتے ہی نہ تھے جنہیں پہن کر وہ اسٹیج پر جاتا! پرانے جوتے اتنے پھٹ چکے تھے کہ ان کے تلوے تاروں سے بندھے ہوئے تھے اور اسکول کے پرنسپل نے صاف کہہ دیا تھا: "ارل، تم ننگے پاؤں اسٹیج پر ڈگری لینے نہیں چڑھ سکتے۔" ریلیف اسٹور پر اس کے سائز کے جوتے دستیاب نہیں تھے اور کورا کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ بازار سے نیا جوتا خرید سکے۔
جوتوں کا نہ ہونا یا پرنسپل کا یہ سفاک جملہ ایک بڑی اور تکلیف دہ رکاوٹ ضرور تھا، لیکن ارل اور اس کی ماں کے اندر علم حاصل کرنے اور ڈگری لینے کا جنون اس رکاوٹ سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔ وہ دونوں جانتے تھے کہ ان کی زندگی کی تقدیر اسی علم سے بدلے گی، اس لیے وہ اس آخری موڑ پر ہار ماننے یا اپنے راستے سے بھٹکنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
وسائل کا نعم البدل: ماں کا ہاتھاس کٹھن موڑ پر کورا کو گلی میں پڑا ہوا ایک پرانا، گھسا ہوا 'فائر اسٹون' ٹائر ملا۔ اس کے پاس کوئی جدید اوزار نہیں تھے، سوائے کچن کے ایک عام سے چاقو اور پرانی آری کے۔ دو دن تک وہ تپتی دھوپ میں بیٹھ کر اس سخت ربڑ کو کاٹتی رہی۔ اس کی انگلیوں سے خون رسا، ہاتھ چھل گئے، لیکن اس کی آری نہ رکی۔ اس نے ارل کے پاؤں کے ناپ کے دو تلوے تراشے، اوپر کے حصے کے لیے چارے کے پرانے تھیلے کا کینوس لگایا اور بیلنگ تار سے ان سب کو آپس میں سی دیا۔ وہ جوتے بھاری تھے، بدصورت تھے اور چلتے وقت لکڑی کے فرش پر "تھپ، تھپ" کی عجیب آواز پیدا کرتے تھے۔
گریجویشن کے دن جب ارل کا نام پکارا گیا اور وہ انہی ٹائر سے بنے بھاری جوتوں کو پہن کر لکڑی کے اسٹیج کی طرف بڑھا، تو فرش سے "تھپ، تھپ" کی آواز سن کر ہال میں بیٹھے کچھ لڑکے ہنس پڑے۔ ارل نے شرمندگی سے سر جھکانا چاہا، لیکن پھر اچانک وہ ہنسی تھم گئی اور ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ سب کی نظریں سامنے کی صف میں بیٹھی کورا پر گئیں، جو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس، اپنے بیٹے کو اسٹیج پر دیکھ کر فخر سے آنسو بہا رہی تھی۔ اس کے کام سے تھکے اور زخمی ہاتھ اس کی گود میں تھے، لیکن اس کا سر اونچا تھا۔ ہال میں موجود ہر شخص کو احساس ہو گیا تھا کہ یہ جوتے غربت کی نشانی نہیں، بلکہ دنیا کی سب سے عظیم محبت، خام مال پر کی گئی محنت اور علم کے جنون کی علامت ہیں۔ ارل نے فخر سے اپنا سر اٹھایا اور اپنی ڈگری وصول کی۔
کامیابی اور اصل حقیقت کا ادراکارل ہارگرو کا محنت کا یہ عزم اس کے ترقی کے ہر سفر میں اس کے ہمراہ رہا۔ وہی ارل ہارگرو آگے چل کر اوکلاہوما سٹی کے سب سے بڑے گیراج کا بانی بنا۔ اس نے اپنی زندگی میں بڑی کامیابیاں دیکھیں، لیکن اپنے دفتر کی سب سے خوبصورت شیلف پر اس نے ہمیشہ ان ٹائر والے جوتوں کو سجائے رکھا۔ وہ جانتا تھا کہ انتھک محنت اور خود اپنی ذات کی حقیقت کا ادراک ہی اس کا اصل سرمایہ ہے، اور اس سرمائے کو اس نے زندگی بھر کبھی نہیں چھوڑا۔ جب بھی کوئی نوجوان اس کے پاس آتا اور وسائل کی کمی کا رونا روتا، تو ارل اس شیلف کی طرف اشارہ کرتا اور کہتا: "میری ماں نے یہ ٹائر سے بنائے تھے تاکہ میں اسکول سے گریجویٹ کر سکوں۔ اس لیے آج کے بعد کبھی میرے سامنے یہ بہانہ مت بنانا کہ تم زندگی میں کچھ اس لیے نہیں کر سکتے کیونکہ تمہارے پاس 'صحیح جوتے' (بہترین حالات) نہیں ہیں"۔
سیاسی تناظر اور "دی گریٹسٹ جنریشن"یہ کہانی صرف ایک کورا ہارگرو یا ارل ہارگرو کی نہیں ہے، بلکہ لاکھوں امریکی اس سفر میں روانہ ہوئے اور امریکہ کو ایک عظیم قوم بنایا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2024 عیسوی میں اپنی صدارتی مہم کے لیے "میگا" (میک امریکہ گریٹ اگین) کا نعرہ لگایا تھا، تو ان کا اشارہ دراصل انہی افراد اور محنت کش طبقے کی جانب تھا جو اس امریکی خواب کے سفر میں کہیں پیچھے رہ گئے تھے؛ جس کی وجہ سے امریکہ ایک عظیم ریاست بنا تھا یعنی علم اور صنعت کی ترقی کا سفر۔ اسی صدارتی مہم میں ان کے ہمنواؤں میں اوکلاہوما کا ہارگرو گیراج کا موجودہ مالک پیٹر ہارگرو بھی شامل تھا، جو اپنے خاندانی ورثے اور اسی نظریاتی محنت کا امین ہے۔
ان جفاکش لوگوں نے علامہ ابنِ خلدون کا نظریہ سچ ثابت کر دیا کہ جب کوئی قوم یا نسل اس حد تک محنت، علم اور عزم کو اپنا شعار بنا لیتی ہے، تو وہ کمزوری سے بلندی کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے۔ 1930 کی دہائی کے اسی ملبے، فاقہ کشی اور ٹائر کے جوتوں سے امریکہ کی وہ نسل نکلی جسے تاریخ دان "دی گریٹسٹ جنریشن" (عظیم ترین نسل) کہتے ہیں۔ اسی نسل نے آگے چل کر دوسری جنگِ عظیم کا رخ بدلا، کارخانے کھڑے کیے، ٹیکنالوجی ایجاد کی اور امریکہ کو عالمی افق پر سپر پاور بنا کر لا کھڑا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابنِ خلدون کا یہ قانون تاریخِ عالم پر ہر دور میں صادق آیا ہے۔ مشہور مؤرخ جیمز میک ڈوگل نے اپنی کتاب "ورلڈز آف اسلام؛ اے گلوبل ہسٹری" میں لکھا ہے کہ جب اسلامی تہذیب عرب کے صحراؤں سے نکل کر ایشیا اور افریقہ میں پھیلی، تو ان کے پاس مادی آسائشیں یا "صحیح جوتے" نہیں تھے، لیکن ان کے پاس علم کا جنون تھا۔ عباسی دور میں بغداد اور اس کا "بیت الحکمت" علم کا وہ عالمی اسٹیج بنے جہاں مسلمانوں نے سائنس، ریاضی اور فلسفے میں وہ ایجادات کیں جنہوں نے دنیا کا رخ بدل دیا۔ یہ بدویوں کی "پہلی نسل" تھی جس نے علم کو اپنا سرمایہ بنایا اور کمزوری سے بلندی کا سفر طے کیا۔
لیکن تاتاریوں کے لائی تباہی کے بعد مسلمانوں نے علم کا معیار بھلا دیا۔۔۔ وہ تحقیق، ایجاد اور فکری ارتقا کے راستے سے ہٹ کر جمود اور آسائش پسندی کا شکار ہو گئے۔ نتیجتاً، ابنِ خلدون کا قانونِ زوال حرکت میں آیا، اور پھر فطرت کا کوڑا ان پہ پڑا اور وہ نو آبادیاتی غلامی (نوآبادیاتی) کا شکار ہو گئے۔ جب انہوں نے علم اور محنت کا اصل سرمایہ چھوڑ دیا، تو دنیا کی امامت بھی ان سے چھن گئی۔
تحریکِ پاکستان: علم اور وژن کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست ابنِ خلدون کا یہی اصول 1947 میں قائم ہونے والے ملک پاکستان پر بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔ پاکستان کی بنیاد مادی دولت، سرمائے یا خاندانی جاگیروں پر نہیں رکھی گئی تھی۔ تحریکِ پاکستان کا اصل ایندھن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم اور اس دور کے اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان رہنما تھے۔ علم کی بنیاد پر مسلم قومیت کا دوبارہ ابھار فطرت کے اسی کوڑے اور غلامی کے اندھیرے سے نکلنے کے لیے، بیسویں صدی میں ایک بار پھر علم کو ہتھیار بنایا گیا۔ سنہ1947 میں قائم ہونے والا ملک پاکستان اسی فکری بیداری کا نتیجہ تھا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، اور سردار عبدالرب نشتر جیسے اکابرین نے 'صحیح جوتوں' یا آسان حالات کا انتظار نہیں کیا، بلکہ زوال زدہ مسلم برِصغیر میں علم اور وژن کو اپنا اوزار بنا کر دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست تخلیق کر دی۔ یہ وہ نسل تھی جس کے پاس شاید زوال پذیر مسلم برِصغیر میں مادی وسائل محدود تھے، لیکن علم کی طاقت اتنی مضبوط تھی کہ انہوں نے دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست تخلیق کر دی۔ علی گڑھ کے نوجوانوں اور مسلم رہنماؤں نے 'صحیح جوتوں' یا آسان حالات کا انتظار نہیں کیا، بلکہ اپنے علم اور نظریے کو اپنا اوزار بنایا۔
موجودہ چیلنج: پاکستان کا المیہ
مگر جب ہم آج کے پاکستان اور اس کی قیادت پر نظر ڈالتے ہیں، تو ابنِ خلدون کا قانونِ زوال اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ ابنِ خلدون کے مطابق، جب کسی قوم کی تیسری یا چوتھی نسل عروج پا لیتی ہے، تو وہ اس محنت اور علم کو بھول جاتی ہے جس کی بدولت ان کے بزرگوں نے وہ مقام پایا تھا۔ وہ عیش و عشرت، بہانوں اور مادی دولت کے حصول میں لگ جاتی ہے۔ جہاں بانیانِ پاکستان کو ان کے علم، دیانت، اور فکری بصیرت کی وجہ سے دنیا مانتی تھی، وہیں آج کے چوٹی کے رہنما صرف اور صرف اپنی ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت اور خاندانی اثاثوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی علم، تحقیق، یا صنعتی ترقی کے لیے نہیں جانا جاتا۔ قوم علم اور صنعت کی ترقی کے اس سفر سے بھٹک چکی ہے جو کسی بھی ریاست کو عظیم بناتا ہے۔
حاصلِ کلام
چاہے وہ مئی 1933 میں ٹائر کے جوتے پہن کر اسٹیج پر چڑھنے والا ارل ہارگرو ہو، بغداد کے بیت الحکمت کا مسلم سائنسدان ہو، یا 1947 میں پاکستان بنانے والے علی گڑھ کے طالب علم ہوں—تاریخ کا اصول اٹل ہے۔ قومیں تب تک عظیم رہتی ہیں جب تک ان کا معیار علم، عزم اور انتھک محنت ہوتا ہے۔ اور قومیں تب زوال پذیر ہوتی ہیں جب ان کا معیار علم کے بجائے ناجائز مادی دولت بن جاتا ہے۔ ارل ہارگرو کے ٹائر والے جوتے؛ علامہ محمد اقبال کا پیغامِ خودی اور قائدِ اعظم کا وژن ہمیں یہی یاد دلاتے ہیں کہ اگر کسی قوم کو دوبارہ بلندی کی طرف سفر شروع کرنا ہے، تو اسے بہانوں کا آسرا چھوڑ کر دوبارہ علم کی بنیاد پر اپنی حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا؛ اور بغیر کسی بہانے کے علم کی تحصیل کی طرف سفر شروع کرنا ہوگا۔ قوم کے ہر فرد کو علم کی تحصیل کو اپنا جنون بنانا ہوگا۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم و کریم ہے؛ اللہ تعالی نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ اللہ تعالی نےعلم کے ذریعے دلوں کو منور کیا اور علم کے حاملین کو حکمت و بصیرت سے سرفراز فرمایا۔
اللہ تعالی نے قرآن المجید کی سورۃ البقرہ کی آیت 269 میں فرمایا ہے کہ
"اللہ جسے چاہتا ہے حکمت (دانائی اور سمجھ بوجھ) دیتا ہے، اور جسے حکمت مل گئی، اسے بیشک بہت زیادہ بھلائی مل گئی، اور نصیحت صرف عقل والے ہی مانتے ہیں۔"
پھر سورۃ الفاطر کی آیت 28 کا ایک حصہ یوں بیان ہوا ہے کہ
" اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بیشک اللہ غائب و غالب (عزت والا) اور بڑا بخشنے والا ہے۔"
اور سورۃ المجادلہ کی آیت 11 کے ایک حصے میں علم والے کے درجات سے متعلق فرمایا ہے کہ
"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم دیا گیا ہے، اللہ ان کے درجات بلند فرمائے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔"
اوپر کی ان تینوں خوبصورت اور پرحکمت آیات کو اگر ہم یکجا کر کے سمجھیں، تو ہمیں علم، حکمت اور ایمان کا ایک نہایت جامع اور خوبصورت تعلیمی و تربیتی نظام (سسٹم آف لائف) ملتا ہے۔ ان ارشادات کو ملانے سے درج ذیل عظیم پیغامات حاصل ہوتے ہیں۔۔۔
:1. حقیقی کامیابی کا سفر: ایمان سے علم، اور علم سے حکمت تک، قرآنِ مجید ہمیں ایک ترتیب سکھاتا ہے۔۔۔
پہلے انسان ایمان لاتا ہے (سورۃ المجادلہ)۔
پھر وہ کائنات اور دین کا علم حاصل کرتا ہے (سورۃ فاطر)۔
جب وہ علم انسان کے اندر رچ بس جاتا ہے، تو اللہ اسے حکمت (دانائی اور گہری سمجھ بوجھ) کی دولت سے نوازتا ہے جسے قرآن نے "خیرِ کثیر" (بہت بڑی بھلائی) کہا ہے (سورۃ البقرہ)۔۔
2. علم کا اصل مقصد "خشیتِ الٰہی" (اللہ کا تقویٰ) ہے۔۔۔
سورہ فاطر کی آیت یہ واضح کرتی ہے کہ محض معلومات (انفارمیشن) یا ڈگریوں کا نام علم نہیں ہے۔ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے دل میں اپنے پیدا کرنے والے کی عظمت، محبت اور اس کا احترام والا ڈر (خشیت) پیدا کر دے۔ جوں جوں انسان کا علم بڑھتا ہے، توں توں اس کی عاجزی بڑھتی ہے ۔۔
3. علم اور حکمت ہی انسان کی اصل رفعت کا معیار ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں درجات کی بلندی اور عزت کا معیار دنیاوی مال و دولت، برادری یا عہدہ نہیں ہے۔ سورۃ المجادلہ کے مطابق، اللہ کے ہاں سب سے بلند مقام ان کا ہے جو صاحبِ ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ علم ہیں۔ اور جب یہ علم "حکمت" میں بدل جاتا ہے، تو انسان دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین بھلائی (خیرِ کثیر) کا حقدار بن جاتا ہے۔
4. عقل اور نصیحت کا گہرا تعلق۔۔
آخری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ علم اور حکمت کا دروازہ صرف ان لوگوں کے لیے کھلتا ہے جو اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں اور نصیحت قبول کرتے ہیں ("وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ") جو لوگ ضدی اور متعصب ہوتے ہیں، وہ علم کے باوجود حکمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
خلاصہ (حتمی پیغام):ان آیات کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ "اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قیمتی اور بلند مرتبہ انسان وہ ہے جو سچا مومن ہو، کائنات اور دین کا گہرا علم رکھتا ہو، جس کا علم اسے اللہ کے سامنے جھکنے والا (بااخلاق) بنا دے، اور جسے اللہ نے حالات کو درست سمجھنے کی دانائی (حکمت) عطا کی ہو"۔
ایک سچا اسلامی معاشرہ بنیادی طور پر علم کی بنیاد پر قائم ہونے والی تہذیب ہوتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ امن، انصاف اور حقیقی خوشحالی کی صورت میں نکلتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں علم اور حکمت کا معیار وہ ہو جو قرآن نے بتایا (یعنی جس سے اللہ کی خشیت اور درجات بلند ہوں)، تو وہاں محض ڈگریاں یا ٹیکنالوجی پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی تہذیب جنم لیتی ہے۔ یہ علم لوگوں کو سکھاتا ہے کہ انسان کا اصل مرتبہ کیا ہے اور دوسروں کے حقوق کیا ہیں۔
جب معاشرے کی قیادت اور عوام کے پاس "حکمت" (دانائی اور صحیح فیصلے کی طاقت) اور "خشیتِ الٰہی" (اللہ کا خوف) ہو، تو وہاں عدل و انصاف قائم ہوتا ہے۔انصاف کیا ہے؟ ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دینا۔ایک عالم اور حکیم معاشرہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اس کے ہر عمل سے باخبر ہے (جیسا کہ سورۃ المجادلہ کی آیت 11 کے آخر میں فرمایا گیا: وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ)۔۔۔۔
دنیا کا اصول ہے کہ جہاں انصاف ہوتا ہے، وہاں سے بے چینی، جرم اور نفرت ختم ہو جاتی ہے اور امن قائم ہوتا ہے۔ اور جب کسی ملک یا معاشرے میں امن اور انصاف دونوں موجود ہوں، تو وہاں لوگ بلا خوف و خطر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں پروان چڑھتی ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں، جس سے حقیقی خوشحالی آتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے علم اور حکمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا، بغداد، قرطبہ اور دمشق جیسے شہر علم، امن، اور بے مثال خوشحالی کا گہوارہ بنے رہے۔ آئیے علم کے حصول کو اوڑھنا بچھونا بنائِں؛ جو ایک عظیم الشان عبادت ہے۔ لہٰذا، اپنی اس جستجو میں اخلاصِ نیت پیدا کریں۔ اور ایک ریاست مدینہ کے طرز کا معاشرہ بنائیں۔ اس بات کا ادراک رکھیں کہ علم کی راہ میں اٹھایا جانے والا ہر قدم اللہ کی رضا اور اس کی جنت کی طرف جانے والا راستہ ہے؛ کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے: "جو شخص علم کے حصول کی راہ پر چلتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔
Everything you need to know about a round is printed on it somewhere. Here is where to loo...
A grain is 1/7000 of a pound. Choosing a bullet weight is mostly a matter of what your bar...