Is modern education truly enlightening us, or are we just piling on books while starving the mind? In a world obsessed with extreme specialization and grade-chasing, we have turned education into a transactional search for a job permit. But true education was never meant to be a burden; it was meant to be a civilization. Dive into this latest piece in Urdu, "تہذیبِ علم مسلمان ورثہ ہے", as we journey through history to uncover the rich roots of Indo-Islamic pedagogy.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
تہذیبِ علم مسلمان ورثہ ہے
اپنے پچھلے مضمون "میں کتاب نہیں پڑھتا**" میں ہم نے اس تلخ حقیقت کا احاطہ کیا تھا کہ کس طرح انگریز کے پھیلائے ہوئے نوآبادیاتی تعلیمی نظام نے عقل کی پرورش کو روک کر کتاب کو محض ایک معاشی بوجھ اور ملازمت کا پروانہ بنا دیا، جس کا خمیازہ ہماری موجودہ نسلیں بھگت رہی ہیں۔ لیکن اس فکری جمود کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اس دور سے ذرا پہلے کی تاریخ کا رخ کرنا ہوگا، تاکہ معلوم ہو سکے کہ انگریز کے آنے سے پہلے ہماری علم و تدریس کی جڑیں کس قدر گہری، وسیع اور زرخیز تھیں اور کس طرح علم کو ایک اعلیٰ تہذیب کے طور پر برتا جاتا تھا، کیونکہ تہذیبِ علم مسلمان ورثہ ہے۔
** https://blogs.bangboxonline.com/posts/my-ktab-ny-pta
تاریخ کا ایک انوکھا سچ یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان برِ صغیر میں صدیوں تک حکمران رہے، حالانکہ وہ آبادی کے لحاظ سے پورے خطے میں کہیں بھی اکثریت میں نہیں تھے۔ اس اقلیت کے باوجود، انہوں نے مغلوب کیے بغیر ایسے شہروں کی بنیاد رکھی اور انہیں پروان چڑھایا جو پورے برصغیر، بلکہ دنیا بھر میں مسلم تہذیب، علم، اور شائستگی کی پہچان بن گئے۔ دلی اور لکھنؤ اس اسلامی-ہندوستانی تہذیب کے دو ایسے ہی چمکتے ہوئے سنگم تھے۔ یہ صرف اینٹ اور گارے کے بنے شہر نہیں تھے، بلکہ یہ علم اور فکر کے عظیم مراکز تھے۔ ان شہروں میں علم اور ذوقِ سلیم اس حد تک رچ بس گیا تھا کہ شعر و شاعری، فلسفہ، اور علمی گفتگو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ سلطنت کا آخری مغل تاجدار، بہادر شاہ ظفر بھی اس فکری ماحول سے الگ نہ رہ سکا اور تاج و تخت چھن جانے کی کٹیالی راتوں میں بھی شاعری کرنے پر مجبور ہو گیا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے علم و تدریس کی یہ آبیاری دراصل اس چشمے سے پھوٹتی تھی جو کبھی عباسی دور میں بغداد کے "دارالحکمہ" سے بہا تھا، جس نے پوری دنیا کو علمِ جدید, فلسفے اور سائنسی شعور سے روشناس کروایا۔ اس علمی بہاؤ کا اصل ماخذ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے "اصحابِ صفہ" سے مرعوب و متاثر وہ بے مثال نظام تھا، جو آگے چل کر خانقاہوں، مدرسوں اور علمی مراکز کی صورت میں پھیلا۔ برصغیر کا روایتی نصاب صرف مادہ پرستی یا معلومات لادنے کا نام نہیں تھا؛ یہاں عربی، فارسی، ریاضی، فلسفہ، منطق اور علمِ طب جیسے مضامین عام پڑھائے جاتے تھے۔ اس نظام میں فارسی زبان کے زیرِ اثر ایک ایسا مضبوط علمی و اخلاقی رشتہ قائم تھا، جہاں شیخ سعدی کی 'گلستان' و 'بوستان' اور 'داستانِ الف لیلیٰ' وغیرہ عام درس و تدریس کا لازمی حصہ تھیں۔ یہ کتابیں صرف پڑھائی نہیں جاتی تھیں، بلکہ یہ نئی نسل کے کردار، اخلاق، گدازِ دل اور تخیل کی پرورش کرتی تھیں۔
اس دور میں جب ابھی ہندوستان میں جدید چھاپے خانے (پرنٹنگ پریس) متعارف نہیں ہوئے تھے، تب بھی یہاں قلم اور دوات کا رشتہ انتہائی مضبوط تھا۔ علم والے گھرانوں کی سب سے بڑی پہچان ان کے بزرگوں اور عالموں کی جمع کی ہوئی نایاب کتابیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ کتابیں ڈرائنگ رومز کی الماریوں میں صرف سجائی نہیں جاتی تھیں، بلکہ وہ پڑھی اور پڑھائی جاتی تھیں، اور ان کے مندرجات روزمرہ کی علمی گفتگو کا مستقل حصہ ہوا کرتے تھے۔
اس روایتی تعلیمی نظام کا سب سے خوبصورت اور روشن پہلو یہ تھا کہ اس علمی دھارے سے گھر کی خواتین بھی الگ نہیں تھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ باقاعدہ یونیورسٹیوں کے بغیر بھی، مدرسہ نظام کے طرز پر گھروں کے اندر خواتین کی ایسی اعلیٰ فکری پرورش کی جاتی تھی کہ مغل دربار سے لے کر اٹھارویں صدی کے کوچے کوچے تک عالمہ، فاضلہ اور صاحبِ دیوان شاعرات کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے۔ گل بدن بیگم (مشہورِ زمانہ 'ہمایوں نامہ' کی مصنفہ)، جہاں آرا بیگم، اور زیب النساء (مخفی) جیسی مغل شہزادیاں اس خاندانی علمی نظام کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ یہ اس بات کا تاریخی ثبوت تھا کہ ہمارا قدیم نظام عقل کی پرورش میں مرد و عورت کی تمیز نہیں کرتا تھا بلکہ علم کو روح کی بالیدگی اور خاندانی وقار کا لازمی حصہ سمجھتا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ، یہ نظام صرف شاہی درباروں یا عربی و فارسی دان طبقے تک محدود نہیں رہا، بلکہ مقامی زبانوں میں صوفیانہ رنگ کی بھرپور آبیاری کی گئی۔ صوفیائے کرام نے مقامی زبانوں (سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتو، کشمیری وغیرہ) کو اپنایا تاکہ قرآن و حدیث کا ابدی پیغام عام لوگوں کے دلوں میں ان کی اپنی زبان کے ذریعے اتارا جا سکے. چنانچہ، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، حضرت سلطان باہو، رحمان بابا اور وادیِ کشمیر کے صوفی شعراء کے کلام نے عام چرواہے، کسان اور دکاندار کے لیے بھی اخلاق، تصوف اور فہمِ دین کا ایک کھلا مدرسہ قائم کر دیا تھا جہاں علم کتاب کے بوجھ کے بجائے عقل کی جلا بنتا تھا۔
پھر انگریز سرکار آئی۔ انہوں نے دیکھا کہ جب تک مسلمانوں کا یہ اصحابِ صفہ، بغداد، خاندانی لائبریریوں، گھروں کے اندرونی نظامِ تعلیم اور مقامی صوفیانہ کلام سے جڑا ہوا فکری و عوامی سنگم قائم ہے، انہیں ذہنی طور پر غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ انہوں نے دلی اور لکھنؤ کے اس پورے نظامِ تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ انہوں نے ایک ایسا نوآبادیاتی ڈھانچہ متعارف کروایا جس نے علم کو تہذیب، اخلاق اور شعور سے الگ کر کے صرف ایک "وفادار کلرک" پیدا کرنے کی فیکٹری بنا دیا۔ وہ خطہ جہاں بادشاہ، صوفی، عام انسان اور گھروں کی پردہ نشین خواتین اپنے علم و ادب اور فہم و ادراک کی بنیاد پر پہچانے جاتے تھے، وہاں اب ایسے چالو پرزے پیدا کیے جانے لگے جن کی کُل معراج فائلیں رینگنا اور نوکری کی بیساکھی حاصل کرنا رہ گئی۔
آج جب ہم اپنے ماضی کے اس عظیم علمی و صوفیانہ ورثے کا موازنہ موجودہ دور کے تعلیمی اداروں کی نمبروں کی دوڑ، گریڈز کی جنگ اور فکری بانجھ پن سے کرتے ہیں، تو حیرت اور افسوس کا ایک سمندر امڈ آتا ہے۔ جو قوم کبھی اقلیت میں ہو کر بھی اپنے علم، ادراک اور بلند تہذیب کے بل بوتے پر صدیوں تک حکمرانی کرتی تھی، وہ آج اکثریتی وطن رکھنے کے باوجود صرف ڈگریوں کے کاغذ کے ٹکڑوں کے لیے بھٹک رہی ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ دور میں ہر کوئی مخصوص محدودیت، یعنی اسپیشلائزیشن کی بات کر رہا ہے۔ انسانوں کو علم کے تنگ اور مخصوص ڈربوں میں بند کیا جا رہا ہے، جہاں ایک ڈاکٹر معاشیات سے نابلد ہے اور ایک سائنس دان فلسفے سے محروم۔ لیکن ہمارا مسلمان علمی ورثہ علم کو ایسے محدود ڈربوں میں قید نہیں کرتا تھا۔ ہمارے اسلاف بین العلمی حد بندیوں سے آزاد تھے؛ وہ ایک ہی وقت میں فقیہ بھی تھے، طبیب بھی اور ماہرِ فلکیات و ریاضی بھی۔
اگر ہمیں اپنے زوال کا رخ موڑنا ہے اور اپنے معاشرے میں علم کی تہذیب کی دوبارہ ترویج کرنی ہے، تو ہمیں اس مصنوعی تخصیص کے دائروں سے نکل کر واپس بین المضامین (انٹر ڈسیلن نیری) وسیع تر علم کی طلب کی طرف جانا ہوگا۔ ہمیں اپنے تعلیمی چشموں کا رخ دوبارہ بغداد کے دارالحکمہ، اصحابِ صفہ کے اخلاقی نمونے، اور اپنے خاندانی و صوفیانہ علمی شعور کی طرف موڑنا ہوگا۔ علم کی ترویج اب نوکری کا پروانہ حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ شعور، اخلاق، گدازِ دل اور کائناتی تخیل کی پرورش کے لیے ہونی چاہیے۔ تعلیم کو کتاب کا بوجھ بننے سے بچا کر روح اور عقل کی پرورش کا زینہ بنانا اور علم کو واپس اس کے تہذیبی، اخلاقی اور وسیع البنیاد مقام پر رائج کرنا ہی اب ہمارا واحد راستہ ہے، کیونکہ جب تک علم ایک جامع تہذیب بن کر ہمارے گھروں اور درسگاہوں میں دوبارہ نہیں لوٹے گا، ہم اقوامِ عالم میں اپنا کھویا ہوا مقامِ بلند کبھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔
A grain is 1/7000 of a pound. Choosing a bullet weight is mostly a matter of what your bar...
Furadeira de Impacto: Como Escolher, Utilizar e Aproveitar Seus Benefícios