The abandonment of reading is a precursor to a new digital dark age, where shallow information replaces profound wisdom. History proves that civilizations thrive when rooted in literacy and critical thinking, whereas a departure from books invites cultural and cognitive decline. Reclaiming the habit of deep reading is not a mere nostalgic preference, but a vital necessity for the survival of human intellect and foresight. This write up in Urdu is to invoke Book Reading as a habit.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
ترک کتب بینی؛ نئے تاریک دور کا جنم؟
کتاب اور انسان کا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی خود انسانی تہذیب۔ کتاب صرف کاغذ کے چند پنوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانی شعور، تاریخ، حکمت اور ارتقا کا امین ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جس معاشرے نے کتاب اور علم سے اپنا رشتہ توڑا، وہ فکری، اخلاقی اور تمدنی زوال کے ایسے گہرے غار میں جا گرا جہاں سے نکلنا صدیوں تک ممکن نہ ہو سکا۔ کتب بینی کو ترک کرنا کسی ایک نسل کی سستی نہیں، بلکہ یہ ایک پوری تہذیب کی خودکشی کے مترادف ہے جو بالآخر ایک نئے تاریک دور (ڈارک ایج؛ مغربی اقوام کا دور جہالت) کو جنم دے گا۔
مطالعہ ترک کرنے سے معاشرے پر درج ذیل گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں:-۔
•فکری سطحی پن: کتابیں انسان کو گہرائی میں جا کر سوچنے، پرکھنے اور تجزیہ کرنے کی عادت ڈالتی ہیں۔ جب معاشرے میں مطالعہ ختم ہو جاتا ہے، تو لوگ صرف سوشل میڈیا کی سرسری، سنسنی خیز اور غیر تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کرنے لگتے ہیں، جس سے معاشرے میں سطحی سوچ پروان چڑھتی ہے۔
•تاریخ سے دوری: کتابیں ماضی کے تجربات اور اسباق کا خزانہ ہوتی ہیں۔ جب مطالعہ کا کلچر دم توڑ دیتا ہے، تو نئی نسلیں اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے کٹ جاتی ہیں اور وہی پرانی فکری غلطیاں دہرانے لگتی ہیں جو ماضی کی قوموں کی تباہی کا سبب بنی تھیں۔
•تحمل اور برداشت کا خاتمہ: مطالعہ انسان کو مختلف نقطہ ہائے نظر اور زاویہ ہائے نگاہ کو سمجھنے کا حوصلہ اور وسعتِ قلب عطا کرتا ہے۔ کتب بینی کی کمی سے معاشرے میں انتہا پسندی، فکری جمود، اور عدم برداشت جنم لیتی ہے، کیونکہ لوگ مکالمے کے بجائے تعصب کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔
•تخلیقی صلاحیتوں کا قحط: کتابیں انسانی تخیل (امیجنیشن) کو جلا بخشتی ہیں۔ ان کے بغیر نئی نسل کی تخلیقی اور تنقیدی سوچ (کریٹیکل تھنکنگ) مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے، اور معاشرہ نئے افکار اور ایجادات سے محروم ہو جاتا ہے۔
اگر ہم عالمی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جدید مغربی تہذیب کے ارتقاء اور ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کرنے کی اصل وجہ کتب بینی اور چائے خانے تھے، جہاں علم، فلسفے اور سیاست پر گہرے مباحثے ہوا کرتے تھے۔ اس کے برعکس، دیگر اقوام کی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ معدوم کتب بینی اور علم سے دوری بنی۔ اسی طرح ایک دور تھا جب ملک چین کو 'افیونی' کہا جاتا تھا اور وہ افیون کی لت میں مبتلا ہو کر تباہی کے دہانے پر تھا، مگر آج ان کی حیران کن اور بے مثال ترقی کی بنیاد ان کا ایک عظیم مشغلہ یعنی کتب بینی ہے۔ چینی قوم نے کتاب کو اپنا رہنما بنایا اور دنیا کی بڑی معیشت بن کر ابھری۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کی تائید کرتے ہوئے ایک معاصر سیاسی رہنما کی رائے بھی یہی ہے کہ کتب بینی کے بغیر کوئی بھی قوم دنیا کی قیادت کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ معاشی اور تمدنی عروج ہمیشہ ان اقوام کے حصے میں آتا ہے جو تحقیق اور علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتی ہیں۔
آج سہ پہر، مجھے جیمز میریٹ کی تازہ ترین تصنیف دی نیو ڈارک ایجز: دی اینڈ آف ریڈنگ اینڈ دی ڈان آف اے پوسٹ لٹریٹ سوسائٹی کے مطالعے کے لیے کچھ وقت مل ہی گیا۔ یہ کتاب مطالعے اور فکر انگیز ثقافت کے زوال، سوچ کی سطحی نوعیت، اور ڈیجیٹل دور و موجودہ حالات میں تہذیب کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم اور فوری نوعیت کے سوالات اٹھاتی ہے۔
مجھے 1885 میں عظیم فرانسیسی شاعر وکٹر ہیوگو کی وفات کا واقعہ بھی یاد آیا، جب پیرس کی سڑکوں پر تقریباً بیس لاکھ لوگ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے امڈ آئے تھے۔ اسی طرح 1881 میں فیودور دوستوئیفسکی کے جنازے میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے؛ یہ واقعات بالواسطہ طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس دور میں معاشرہ ادب، ثقافت、علمی روایات اور فکر و دانش کو کس قدر بلند مقام دیتا تھا۔ ان میں سے کوئی بھی بادشاہ یا فاتح جنگجو نہیں تھا، بلکہ یہ ایسے مفکرین اور دانشور تھے جن کے افکار معاشرے کی روح اور باطن میں گہرائی تک سرایت کر چکے تھے۔
میریٹ ہمیں یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ تہذیب کو درپیش خطرہ محض علم تک رسائی کا فقدان نہیں ہے—درحقیقت، آج علم کی فراوانی ہے—بلکہ اصل مسئلہ مطالعے، غور و فکر، اور تنقیدی و گہری سوچ کے لیے درکار محبت اور صبر کا ختم ہو جانا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ہم معلومات کے اعتبار سے تو امیر تر ہوتے جا رہے ہوں، لیکن حکمت اور دانائی کے معاملے میں غریب اور تہی دست ہوتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا، سوال محض یہ نہیں ہے کہ آیا لوگ اب بھی مطالعہ کرتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا لوگ اب بھی سوچنا چاہتے ہیں؟
انور ابراہیم
وزیر اعظم ملائیشیا
پچھلی صدی کے اختتام سے قبل، امریکہ اور یورپی اقوام نے اسکولوں کے درس و تدریس میں کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات کو شامل کر دیا، جس کے نتیجے میں
روایتی کتاب اور قلم کلاس رومز سے باہر نکل گئے۔ لیکن آج ایک جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ 'جنریشن زی' (جن زی) جو اس ڈیجیٹل تجربے سے گزری، اس کی تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ (کریٹیکل تھنکنگ) اور ادراکی استعداد (کوگ نیٹیو ابیلیٹی) بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسکرین کے کثرتِ استعمال نے یادداشت اور گہرے فہم کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مغربی ممالک کے تعلیمی نظام میں ایک بار پھر قلم اور کتاب کو لازمی طور پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کے فکری زوال کو روکا جا سکے۔
خلاصہ یہ کہ کتاب معلومات کا ڈھیر نہیں بلکہ شعور کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اسکرین کی چمک دمک میں الجھ کر کتابوں کی گہرائی کو فراموش کر دیتا ہے، تو وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ چین اور مغرب کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ عروج ہمیشہ علم اور فکری مشغلے سے جڑا ہے، جبکہ زوال کی تاریکی مطالعے سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض "باخبر" ہونے کے بجائے "باامید اور دانا" بننے کے لیے دوبارہ کتاب سے اپنا ناطہ جوڑیں، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک فکری اندھیرے سے بچایا جا سکے۔
Os Jogos Mais Populares e Como Escolher o Seu Favorito
Akemi Coffee Boost is marketed for weight management and metabolic support. Its ingredient...