ذی الحجہ: حج و قربانی؛ سنت ابراہیمیؑ؛ عشقِ رب کی نشانی

Dhul-Hijjah is the twelfth and last month of the Islamic calendar (lunar year). It is one of the four sacred months of the Islamic year. The month of Dhul-Hijjah is Eid-ul-Adha also. All Muslims around the world celebrate Eid-ul-Adha on 10th Dhul-Hijjah in their respective countries, depending on the local sighting of the crescent moon. This write up in Urdu is about the recent practices being observed in the name of festivities on the Holy Day of Eid-ul-Azha.

May 26, 2026 - Muhammad Asif Raza

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


ذی الحجہ: حج و قربانی؛ سنت ابراہیمیؑ؛ عشقِ رب کی نشانی


ذی الحجہ اسلامی تقویم (قمری سال) کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے۔ یہ اسلامی سال کے چار محترم (حرمت والے) مہینوں میں سے ایک ہے۔ اسے "حج والا مہینہ" بھی کہا جاتا ہے؛ کیونکہ دنیا بھر سے مسلمان فریضہ حج ادا کرنے کے لیے اسی مہینے میں مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں۔ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ترین ستون حج ہے۔ یہ ہر اس صاحبِ استطاعت مسلمان (مرد اور عورت) پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے جو مالی اور جسمانی طور پر سفرِ حج کے اخراجات اور مشکلات برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:۔

اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو شخص وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ اس گھر کا حج کرے۔ (سورہ آل عمران: 97)

حج کی ادائیگی کے لیے مخصوص ایام (8 سے 13 ذوالحجہ) مقرر ہیں۔ حج کے دوران ۹ ذی الحج کو "یوم عرفہ" کہا جاتا ہے اور "وقوفِ عرفہ" کیا جاتا ہے، جو حج کا سب سے بڑا رکن ہے؛ اور اس دن تمام حاجی میدانِ عرفات میں گذارتے ہیں؛ جہاں مسجدِ نمرہ واقع ہے، جس میں ظہرکے وقت حج کا خطبہ پیش کیا جاتا ہے۔ قبل از مغرب مزدلفہ جاتے ہیں؛ پھر دس ذی الحج (یوم النحر) کو مزدلفہ سے منیٰ واپسی پر حاجی سب سے پہلے بڑے شیطان (جمرہ عقبہ) کو ۷ کنکریاں مارتے ہیں۔ اور قربانی کی جاتی ہے۔ پھر۱۰ تا ۱۲ ذی الحج رمی کی جاتی ہے اور منی میں گذاراجاتا ہے۔


حج اسلام کے ان عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے جو مسلمانوں کے درمیان عالمگیر اخوت، مساوات اور اتحاد کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ ۹ ذی الحج "یومِ عرفہ" کے دن "رکنِ اعظم" "وقوفِ عرفہ" دوپہر سے لے کر غروبِ آفتاب تک قیام کرنا لازمی ہے؛ اس کے بغیر حج نامکمل رہتا ہے۔ اس دن کو ایک لمحے کو تصور کیجیے؛ ایک بڑا میدان ہے؛ اور لاکھوں انسان تپتے صحرا میں جب سورج نصف النہار پر ہے؛ دنیا و مافیہا سے بے پرواہ ایک خدائے مطلق اللہ سبحان تعالی کو حاضر و ناظر مان کر ملتمس دعا ہیں؛ اپنی اور اپنے چاہنے والوں اور دیگر انسانوں کے لیے مغفرت اور بخشش کے طلبگار ہیں۔ روایت میں ہے کہ کل روز قیامت نسل آدم کا روز حساب بھی ایک ایسے ہی میدان میں قائم ہوگا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق قیامت کے دن جس زمین پر لوگوں کو جمع کیا جائے گا، وہ بالکل ہموار، سفید اور سرخ مائل ہوگی جس پر کوئی نشان یا عمارت نہیں ہوگی۔ میدانِ عرفات میں حج کے دوران حاجیوں کا عظیم الشان اجتماع اور ان کا اللہ کے حضور گڑگڑانا، دنیا کے سب سے بڑے فیصلے کے دن (روزِ محشر) کی ہو بہو یاد دلاتا ہے۔

Loading...

عید الاضحی کا دن

سارے مسلمان ایک ہی وقت میں حج کے لیے مکہ مکرمہ میں نہیں ہوتے؛ اور نہ ہی شریعت نے یہ شرط رکھی ہے۔ اس لیے تمام غیر حاجی مسلمانوں کے لیے ذی الحجہ کا مہینہ عید الاضحی کا ہوجاتا ہے۔ دنیا کے تمام مسلمان مقامی رویتِ ہلال کے اعتبار سے اپنے اپنے ملک میں 10 ذی الحجہ کو عید الاضحیٰ مناتے ہیں، چاہے وہ مکہ میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔ عید الاضحیٰ (10، 11 اور 12 ذی الحجہ کو غروبِ آفتاب تک) قربانی کا وقت ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا مسلمان ان مقررہ ایام میں اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کرتا ہے۔ قربانی صاحبِ استطاعت پر لازم ہے۔ ذی الحجہ کا مہینہ اپنی تما تر شکل میں سنتِ ابراہیمیؑ کی یادگار ہے۔

سنتِ ابراہیمیؑ سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ عظیم الشان قربانی اور اطاعت ہے، جو انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کے لیے پیش کی۔ یہ عمل مکمل سپردگی، ایثار اور تقویٰ کی سب سے اعلیٰ مثال ہے۔ اس عظیم واقعے کی یاد میں مسلمانوں پر قربانی واجب کی گئی؛ اور اس کا اصل فلسفہ تقویٰ کا حصول ہے۔ سنتِ ابراہیمیؑ کی اہم ترین خصوصیات میں "کامل اطاعت اللہ" یعنی اللہ کی رضا کے لیے اپنی عزیز ترین چیز (اولاد) کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہو جانا؛ اور پھر "ایثار اور قربانی" ہے؛ یعنی اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات پر اللہ کے حکم کو ترجیح دینا۔

برادران و ہمشران اسلام؛ دین محض رسومات کا نام نہیں بلکہ "تقویٰ اور للہیت" کا حصول ہے۔ دین کی اصل روح محض ظاہری رسومات کی ادائیگی نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی، اللہ کا خوف (تقویٰ) اور ہر عمل میں خالص نیت (للہیت) کا ہونا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں بھی اسی حقیقت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ سورۃ البقرہ (آیت 197) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور زادِ راہ (سفر کا بہترین سامان) تقویٰ ہے اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو"۔

مزید براں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفقہ حدیث ہے کہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی"۔ مختصرا" رسومات دین کا حصہ ضرور ہیں لیکن انہیں تب تک شرفِ قبولیت حاصل نہیں ہوتا جب تک ان کے پیچھے خلوص، نیکی کا جذبہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو۔ اصل کامیابی اسی باطنی پاکیزگی میں پوشیدہ ہے۔

عبادات اور رسومات کی روح اور معاشرتی تال میل

اسلام میں عبادت کی بنیادی روح اور سب سے اہم شرط ہی یہ ہے کہ تمام عبادات بمعہ رسومات خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی جائیں۔ عبادت کوئی بھی ہو اس کی ایک عملی شکل ہوتی ہے۔ جیسے نماز کی ادائیگی کو بطور مثال لیتے ہیں؛ ایک دیکھنے والے کو دل ہی دل میں، خاموشی سے پڑھے جانے والی بات کا تو پتہ نہیں ہوسکتا؛ وہ محض کی جانے والی حرکات دیکھتا ہے اور انکو رسم سمجھ لیتا ہے۔ اور کہیں اور جاکر اسے ادا کرے گا تو وہ صرف رسم نماز کرے گا نماز نہیں پڑھ رہا ہوگا۔ نماز کی ادائیگی اس سارے عمل کی مکمل روح اور نیت کے ساتھ ادائیگی سے وقوع ہوگی؛ جیسا کہ دین نے سکھایا ہے۔ عبادات اور رسومات کا تال میل دراصل روحانی فریضے (احکاماتِ الہی) اور ظاہری رسومات (معاشرتی اقدار اور ثقافتی روایات) کے درمیان توازن کا نام ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ دین میں ہر عبادت کا ایک روحانی پہلو ہوتا ہے، جو الہامی ہے اور ظاہری شکل میں کچھ فرق ہوجاتا ہے۔ (اس کے مختلف وجوہات ہوتے ہیں)۔ ایک صحت مند معاشرے میں رسومات عبادات کی روح کو تقویت دیتی ہیں، بشرطیکہ وہ شریعت کی حدود میں ہوں اور ان میں خرافات شامل نہ ہوں۔


اب دیکھیے کہ عبادت چاہے رمضان المبارک کے روزے ہوں یا عیدالاضحی کی قربانی ہو؛ فائدہ مند مقبول تبھی ہوگا جب خالص اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیےکی جائے۔ عبادت میں دکھلاوے یا ریاکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ "اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے" [سورۃ البینہ: 5]۔

ہر وہ نیک عمل اور عبادت تبھی اللہ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہے جب وہ صرف اللہ کے لیے ہو اور اس میں کسی اور کو شریک نہ کیا جائے۔ اللہ کو راضی کرنے کے لیے عبادت کا طریقہ بھی وہی درست مانا جاتا ہے جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ہمیں سکھایا ہے۔ خالص نیت کے ساتھ کی گئی عبادت انسان کے دل کو سکون اور دنیا و آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے۔

عبادت خالص دین کا معاملہ ہوتا ہے اور کسی بھی نوع کی عبادت انسانوں کے درمیان کسی نوع کی دوڑ نہیں ہوتی؛ اور نہ ہی مسابقت کا موقع ہوتا ہے۔عبادت کی اصل روح اس کا دکھاوے سے پاک ہونا ہے۔ جب انسان اسے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ بنا لیتا ہے، تو اس کا بنیادی مقصد (یعنی اللہ کی رضا) کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ عبادت دراصل انسان اور تمام مخلوقات کے خالق و مالک اللہ سبحان تعالی کے درمیان ایک پُرسکون روحانی تعلق اور قربت کا نام ہے، نہ کہ کوئی مقابلہ یا دوڑ کا موقع کہ انسان باہم جیت اور ہار کا فیصلہ کرلیں۔ ہر انسان کی روحانی استعداد، حالات اور سفر مختلف ہوتا ہے۔ روحانی ترقی کا موازنہ دوسروں سے نہیں کیا جا سکتا۔ عبادت کا بنیادی مقصد انسان کو ذہنی سکون، عاجزی اور اطمینانِ قلب عطا کرنا ہے، جبکہ 'دوڑ' یا 'مقابلہ' انسان میں ہمیشہ تناؤ اور بے چینی پیدا کرتے ہیں۔

Loading...

رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی

اسلامی معاشروں میں ایک عجب ظلم روا ہوگیا ہے؛ کہ آج دنیائے اسلام نے خالص عبادات کے تقاضوں کو بھی نمود و نمائش کا معاملہ بنالیا ہے۔ اور شاید اس کی وجہ وہ کھوکھلا علم ہے؛ جو نیم ملا یا دین فروش تاجر کی پھیلائی علمی ریاضتیں یا نیم حکیموں کی پھیلائے جھٹ پٹ آسان دین نسخوں کے سبب ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے علامہ محمد اقبال کے کلام کا سہارا لیتے ہیں۔

علامہ اقبال کی کتاب بالِ جبرائیل کی منظومات میں ”پیر و مرید“ کے عنوان سے ایک طویل نظم ہے۔ اس نظم میں اقبال مولانا روم کو اپنا مرشد مان کر، بطورایک مرید، چند سوال کرتے ہیں۔ سوال اردو میں ہیں؛ لیکن ان کے جواب مولانا رومی کی مثنوی سے مستعارفارسی زبان ہی میں ہیں۔ یوں یہ نظم اردو سوال اور فارسی جواب کا مرکب ہیں۔ یہ نظم بہت دلکش اور سبق آموز ہے۔ آیئے ہم اپنے نفسِ مضمون کے مطابق اس سے کچھ سیکھتے ہیں۔


علم را بر تن زنی مارے بود

علم را بر دل زنی یارے بود

مندرجہ بالا شعر بھی مولانا جلال الدین رومیؒ کا ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ "علم جو تن پہ دھرا تو مار (سانپ) ہے؛ علم ہو دل میں بھرا تو یار(دوست) ہے"؛ (علم کو اگر جسم پر ماریں تو سانپ بن جاتا ہے اور اگر دل پر مار دیں تو دوست بن جاتا ہے)۔ یہ خوبصورت شعر حقیقتِ علم اور اس کے حصول کے مقاصد کو انتہائی جامع انداز میں بیان کرتا ہے۔ اگرعلم کو صرف اپنے جسم (دُنیاوی مفادات، انا، شہرت اور پیٹ پالنے) کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ علم ہر کس و ناکس کے لیے زہریلا سانپ بن جاتا ہے۔ اسیطرح عبادت جو اللہ کو راضی کرنے کے لیے کی جائے؛ درست ہے؛ اور مقبول ہوسکتی ہے۔ اور اگر ہم علم کو اپنے دل میں اتار لیتے ہیں (اس سے اخلاق سنوارتے ہیں اور اللہ کی پہچان حاصل کرتے ہیں)، تو یہ ہمارا بہترین دوست اور مددگار بن جاتا ہے۔

علامہ اقبال آگے چل کر اس خرابی پر سوال کرتے ہیں اور جواب پاتے ہیں؛ آئیے ہم ان پر غور کرتے ہیں۔


خشک مغز و خشک تار و خشک پوست

از کجا می آید ایں آواز دوست

دورِ حاضر مستِ چنگ و بے سرور

بے ثبات و بے یقین و بے حضور

آہ یورپ! بافروغ و تابناک

نغمہ اس کو کھینچتا ہے سوئے خاک

ساز کا مغز خشک ہوتا ہے ۔ اس کے تار اور ڈھانچہ یہ سب خشک ہوتے ہیں پھراس میں سے وہ نغمے کیسے برآمد ہوتے ہیں جو محبوب حقیقی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ موجودہ عہد محض آواز پرست ہے اسی لیے اسے کیف و سرور کا ادراک نہیں ۔ نہ یہ راہ حقیقی کا پرستار ہے ۔ نا ہی اس میں یقین کا کرشمہ نظر آتا ہے اور نا ہی اسے حضوری کا ذوق نصیب ہے ۔ ہر چند کہ اہل یورپ نے علم و فن میں کافی ترقی کر لی پھر بھی اس نے کوئی بلند مرتبہ حاصل نہیں کیا ۔ اس کا ذوق سطحی ہے نغمہ و ساز سے بھی اس نے استفادہ نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے۔۔۔

اب آگے اسی نظم سے مزید پڑھتے ہیں کہ علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں کہ " جس طرح انجیر کا پھل ہر پرندے کی مرغوب غذا نہیں اسی طرح موسیقی کا معاملہ ہے ۔ اس سے لطف وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو حقیقی ذوق کا مالک ہو ۔ بالفاظ دگر یہ یورپ کی بدنصیبی ہے کہ موسیقی سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا نہ سکا"۔ اور مزید یہ فرمایا ہے کہ "میں نے ہر چند کہ مشرق و مغرب کے بیشتر علوم کا مطالعہ کر لیا اس کے باوجود محسوس کرتا ہوں کہ روح ابھی تک تشنہ ہے ۔ ان سے میرے دکھ اور کرب کا مداوا نہیں ہو سکا آخر اس کا کیا سبب ہے"۔

علامہ محمد اقبال نے آگے یہ فرمایا ہے کہ "طبیب ہو یا تیمار دار، ہر نا اہل شخص کا ہاتھ تجھے مزید بیمار کر دے گا ۔ مامتا یہی ہے کہ جو حقیقی تیمار داری کی اہل ہے اسی کی جانب متوجہ ہو ۔ مراد یہ ہے کہ محض علم و فنون سے روح کی تشنگی دور نہیں ہو سکتی نا ہی انسانی دکھ اور کرب کا مداوا ہو سکتا ہے ۔ روح کی کسک تو اہل حق رفع کر سکتے ہیں جو اس کے اہل ہوں اور جس میں ماں کی سی شفقت بھی ہو"۔

"آفتاب آمد دلیلِ آفتاب"

اس مقولے کا فلسفہ یہ ہے کہ کچھ سچائیاں اتنی واضح، روشن اور عیاں ہوتی ہیں کہ انہیں کسی ثبوت یا فلسفے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ دین اسلام خود سے قوم مسلم کےتمام مسائل کا حل ہے۔ ہمارےشاعر مشرق اور حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے آگے بڑھ کر اس مرض کا علاج بھی بیان کیا ہے۔

علامہ محمد اقبال نے فرمایا ہے کہ عالم اسلام کو دور جدید میں پھوٹنے والی خرابی کے خلاف جہاد کرنا ہوگا؛ اور پھر کہا کہ "جہاد کی تعریف یہ ہے کہ خدا کے بنائے ہوئے نقش کو اسی کے حکم کے مطابق مٹا دیا جائے ۔ بالفاظ دگر دوست کے آئینے پر اسی کے دیے ہوئے پتھر سے وار کیا جائے۔ مراد یہ ہے کہ باطل کی قوتوں کے خلاف بحکم خداوند تعالیٰ حق پرستوں کا نبرد آزما ہوجانا کھڑے ہوجانا ہی جہاد ہے؛ حالانکہ دونوں قوتیں رب العزت نے ہی پیدا کی ہیں؛ اور اللہ تعالی کے فرمان کی تعمیل کے مطابق باطل کی قوتوں کے خلاف جہاد فرض اولین ہے"۔

اہل مشرق کی نگاہیں یورپی تہذیب اور اس کے ظاہری حسن و جمال سے خیرہ ہیں ۔ انہیں تو یورپ کی حسین و جمیل عورتیں حورانِ جنت سے بھی زیادہ حسین لگتی ہیں۔ چاندی بظاہر چمکیلی، سفید اور نئی لگتی ہے جب کہ اس کے استعمال سے ہاتھ اور کپڑے سیاہ بھی تو ہو جاتے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ چیزوں کی ظاہری حالت سے ان کی باطنی حقیقت اور افادیت کا اندازہ لگانا صریحاً غلط ہے ۔ یورپی خواتیں کتنی ہی پرکشش اور حسین و جمیل ہوں پھر بھی اگر وہ قلب و روح کے لیے چاندی کی طرح سیاہی کا باعث بنیں تو ان پر فریفتگی کار عبث ہے ۔

افسوس کہ ہماری درس گاہوں کے گرم خون نوجوان مغربی خواتین پر فریفتہ ہونے کے ساتھ انہی کی تہذیب اور طور طریقوں کو اپنا لیتے ہیں ۔ جو پرندہ ابھی ننھا سا ہو اور پروں سے بھی محروم ہو اس کے باوجود اڑنے کی کوشش کرے گا تو قریب ہی تاک میں بیٹھی ہوئی بلی اسے دبوچ لے گی اور وہ اس کا لقمہ تر بن کر رہ جائے گا ۔ آدمی کا اصل تو نظر ہے باقی گوشت پوست ہے۔ نظر تو وہ ہے کہ اس سے دوست (خدا) کا دیدار ہو ۔

یعنی انسانیت کی حقیقت محض دیدار دوست ہے؛ باقی سب کچھ محض تکلف ہے اور دیدار سے یہ مراد ہے کہ محبوب حقیقی کے جمال سے آنکھوں میں روشنی آ جائے ۔ مراد یہ ہے کہ عشق حقیقی سے ہی انسانی روح میں بالیدگی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔

پہلی ہر امت کی ہلاکت کا سبب یہ ہے کہ اس نے پتھر کو خوشبو دار لکڑی سمجھا اور دھوکا کھایا ۔ یعنی بے معنی شے اور غلط کاریوں کو حقیقت کے جوہر سے تعبیر کرنے والی قو میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتیں نا ہی ترقی کے عمل سے گزر سکتی ہیں ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہر پتھر کوعود تصور کر لیا جائے تو یہ بصیرت کا نقص ہے ۔ بے شک عود اور پتھر ملتی جلتی شباہت کے مظہر ہوتے ہیں لیکن عود کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے جس مقام پر رکھ کر جلایا جائے تو وہ مقام معطر ہو جاتا ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جوہر ناشناسی بصیرت کی موت ہے اور جو قوم دانش و بصیرت کے جوہر سے محروم ہو جائے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔

اختتامی کلمات

اے برادرانِ و ہمشیران اسلام؛ آئیے اس محترم (حرمت والے) مہینے ذی الحجہ میں آج عید الاضحی کی دن ایک عہد کریں۔ ہم اپنے دین کو سیکھیں گے۔ اور حق کی پہچان کریں گے۔ تاکہ حق و باطل کی تمیز اور فرق کو جان لیں، پہچان لیں اور پھرعمل کریں۔ عید الاضحی ایک مقدس دن ہے؛ اسے مذہبی جوش و جزبے کا ساتھ منائیں۔ دین کی روح اور رسومات کے اصل کو جان کر عمل کریں۔

ہمیں جاننا ہے کہ سنت ابراہیمیؑ کی ایسی اہمیت کیا ہے کہ اللہ سبحان تعالی نے اسے ایک سالانہ امتِ واحدہ کا مقصد حیات بنایا ہے؟ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو حج اور طوافِ کعبہ کے لیے پکاریں۔ آپؑ نے کوہِ ابو قبیس پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا: "اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، لہٰذا اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو"۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کا ذکر سورۃ الحج (آیت 27) میں یوں فرمایا ہے کہ

اور لوگوں میں حج کے لیے اعلان کر دو کہ وہ پیدل اور ہر دبلے اونٹنی پر سوار ہو کر (ہر) دور دراز راستے سے تمہارے پاس آئیں"۔"

روایات کے مطابق، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ ندا لگائی، تو اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو پوری کائنات تک پہنچا دیا۔ تب سے لے کر آج تک دنیا بھر سے مسلمان اسی مقدس گھر کی زیارت اور طواف کے لیے جوق در جوق حاضر ہو رہے ہیں۔ اور تلبیہ بلند کررہے ہیں۔

(لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ... لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ ... إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لَا شَرِيْكَ لَكَ)

"حاضر ہوں اے اﷲ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ بے شک حمد تیرے ہی لائق ہے ساری نعمتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں"۔۔


لیکن کیا ستم ہے کہ ابلیسی طاغوتی باطل نے اپنے پنچے گاڑ رکھے ہیں اور وہم و گمان پر توہمات اور خیرہ کن تجلیات کو غالب کررکھا ہے۔ مسلم مردان حق پر لازم ہے کہ عقل و دانش سے وہم و گمان کے تصورات پر عملی سطح کا کام کریں؛ اور تمام عام انسانوں کے لیےدور جدید کی تباہ کاریوں کو واضع کریں۔ جس سے یہ فرق معلوم ہوسکے کہ کیا دین سے ہم آہنگ ہے اور کیا محض اٹکل پچو۔

آئیےایسا کام کریں کہ عام افراد تک اس علم کی ترسیل ممکن ہوجائے؛ جو عشقِ حقیقی اور معرفت خداوندی کا اصل مظہر ہو۔ یہی وہ عمل ہے جس سے ہم اس جہانِ عارضی میں کامرانی و بامراد ہو سکتے ہیں۔ رب العزت کے احکام کی پیروی اسی طرح کریں جیسے زمین پر گھوڑا اپنے سوار کے اشارے پر چلتا ہے۔ عملی جدوجہد سے گریز نہ کریں۔ اور مغرب اور اغیار کا کسی طرح دست نگر نہ بنیں۔ دین و دنیا کے ان عوامل پر عمل پیرا ہوں، جن کے ذریعے زندگی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکتی ہے ۔

آقا کریم محمدﷺ نے فرمایا کہ "بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور سب سے بہتر کلمہ ہے" جو یوں ہے کہ "لاَ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"؛ " اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ایک معبود ہے، کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں، اسی کی فرمانروائی ہے، صرف اسی کے لیے حمد و ستائش سزاوار ہے اور ہر چیز اس کے زیر قدرت ہے"۔

سید الشہدا و شباب الجنہ امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ اسلام سے منقول دُعائے یوم عرفہ نے کیسا سماں باندھا ہے کہ؛ اے خُدا

جس نے تُجھے پالیا اُس نے کھویا ہی کیا

اور جس نے تُجھے کھو دیا اُس نے پایا ہی کیا

Loading...

More Posts