Muhammad Asif Raza 41 minutes ago
Muhammad Asif Raza #education

"ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا"

Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Muhammad Iqbal has given a comprehensive message about the downfall of Muslims and method to rise again in his poetry. This write up in Urdu "ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا" is an essay on Muslims' downfall and message for rise again with the help of Iqbal's message of Khudi related verses keeping the main theme in focus.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


مضمون: "ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا"۔


حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے جب مسلمانوں کے زوال کا نوحہ لکھا، تو انہوں نے مرض کی اصل تشخیص اس شعر میں بیان کر دی:۔۔

"گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا"۔


اس شعر میں علامہ اقبال مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی اور اس عظیم ورثے کی یاد دلاتے ہیں جو انہیں اپنے بزرگوں (اسلاف) سے ملا تھا۔ "ثُریّا" (سات ستاروں کا جھرمٹ) یہاں بلندی، علم، اور دنیا کی امامت و عروج کی علامت ہے۔ شاعرِ مشرق کا فلسفہ بالکل واضح ہے؛ جب تک مسلمان اپنے اسلاف کی چھوڑی ہوئی اخلاقی، علمی، اور عملی میراث سے جڑے رہے، تاریخ کے آسمان پر ثُریّا کی مانند چمکتے رہے۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے اس ورثے کو گنوا دیا، مکافاتِ عمل کے تحت وہ عروج کی بلندیوں سے گر کر پستی اور زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔


شاندار ماضی: ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ

اس ورثے اور شاندار ماضی کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاستِ مدینہ کا قیام عمل میں لا کر رکھی۔ یہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ عدل، مساوات، حسنِ اخلاق اور انسانی حقوق کا پہلا مثالی نمونہ تھی۔ اس ریاست کا اصل محور اقتدار کی ہوس نہیں، بلکہ خدا کی حاکمیت اور مخلوقِ خدا کی خدمت تھا۔

ریاستِ مدینہ کی اسی روح کو چہار خلفائے راشدین (حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم) کے دور میں بے پناہ توسیع ملی۔ خلافتِ راشدہ کا دور عدل و انصاف کی وہ معراج تھا جہاں خلیفہ وقت بھی خود کو ایک عام شہری کی طرح قانون کے سامنے جوابدہ سمجھتا تھا۔ قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں ان کے قدموں میں جھکیں، مگر ان کے شخصی زہد، تقویٰ، اور عوامی فلاح کے جذبے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ یہ وہ دور تھا جس نے دنیا کو انسانیت کا اصل وقار سکھایا۔


ملوکیت کا آغاز اور سلاطین کا دور

خلافتِ راشدہ کے بعد مسلم تاریخ میں ایک بڑا موڑ آیا اور خلافت کی جگہ ملوکیت (بادشاہت) کا آغاز ہوا، جس کی ابتدا حضرت معاویہ بن سفیان اور ان کے بعد یزید بن معاویہ کے دور سے ہوئی۔ یہ نظام شخصی اقتدار پر مبنی تھا، جس کی وجہ سے مسلم امہ میں سیاسی اور فکری اختلافات نے جنم لیا۔

بعد ازاں، خاندانِ اموی اور پھر خاندانِ عباسیہ نے طویل عرصہ حکومت کی، اور اسی دوران اسپین (اندلس) میں بھی مسلم حکومت قائم ہوئی۔ اگرچہ سلاطین کا یہ دور سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے خلافتِ راشدہ کی طرح مثالی نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود اس دور میں رتی برابر ہی سہی، اسلام کا تڑکہ لگا رہا۔ نظامِ حکومت میں بنیادی اسلامی روح کسی نہ کسی حد تک نظر آتی رہی؛ مساجد آباد رہیں، عدالتی نظام میں شریعت کا پاس رکھا گیا، اور مسلم سلاطین نے علم و ہنر کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا، جس کی وجہ سے مسلم معاشرہ کلی طور پر گمراہ نہ ہو سکا۔


خدا کا قہر: ہلاکو خان اور مغربی نوآبادیات

مگر تاریخ کا اصول ہے کہ جب نعمت کی ناقدری حد سے بڑھ جائے تو زوال مقدر بن جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مسلم سلاطین اور بادشاہ بھی بدقماش، عیش پرست اور بددماغ ہو گئے۔ انہوں نے عدل کو چھوڑا، علم سے ناطہ توڑا اور شخصی انا کو دین پر ترجیح دی۔ چنانچہ، خدا نے اپنی اٹل شریعت کے تحت اپنا قہر نازل کیا۔

اس قہر کا پہلا ہولناک مظاہرہ تاتاریوں کی صورت میں ہوا، جب ہلاکو خان نے بغداد کو خون میں نہلا دیا اور مسلم خلافت کی علمی و سیاسی بساط الٹ دی۔ رہی سہی کسر بعد کی صدیوں میں مغربی اقوام کی نوآبادیاتی غلامی نے پوری کر دی، جس نے مسلمانوں کو سیاسی، اقتصادی اور ذہنی طور پر اپنا غلام بنا کر زوال کی انتہا پر پہنچا دیا۔ آج بھی عالمِ اسلام اسی مصرع کی چلتی پھرتی تصویر ہے کہ "ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا"؛ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمِ اسلام کا ایک انبوہِ کثیر (بڑا ہجوم) اس قعرِ مذلت میں مست ہے اور اپنے ہی آقاوں کے پھینکے ہوئے ٹکڑوں، یعنی اغیار کے سود زدہ قرضوں اور امداد پر پل کر خوش ہو رہا ہے۔

حالت یہ ہو چکی ہے کہ آج عالمِ اسلام کے پاس نہ تو اپنا کوئی آزادانہ نظامِ حکومت ہے، اور نہ ہی اپنا قانون و انصاف؛ نہ ہی اپنا درس و تعلیم کا خود مختار ڈھانچہ ہے اور نہ ہی اپنا معاشی یا معاشرتی نظام باقی بچا ہے۔ الغرض، ایک ہمہ گیر فکری و مادی غلامی ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر چھائی ہوئی ہے اور امت کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہے۔

اسلام کا اصل پیغام: علم و عمل کی تہذیب

اس تمام تر تباہی کے باوجود، اسلام کی ریاست کا اصل جوہر وہ پیغام تھا جو غارِ حرا میں "اقراء" (پڑھ!) کے پہلے لفظ سے شروع ہوا تھا۔ اسلام نے علم کو عبادت کا درجہ دیا۔ اس کی ابتدائی جھلک اصحابِ صفہ کی شان میں نظر آتی ہے، جنہوں نے فقر و فاقہ میں رہ کر بھی علمِ دین کی شمع کو روشن رکھا۔

یہی علمی جذبہ آگے چل کر بغداد کے "دارالحکمہ" اور اسپین میں غرناطہ و قرطبہ کے علمی سفر کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا۔ بغداد اور قرطبہ کی لائبریریاں اور جامعات اس بات کی گواہی تھیں کہ مسلمان علم و عمل کی ایک ایسی تہذیب کے امین تھے جس نے تاریک دنیا کو روشنی دکھائی۔ سائنسی علوم سے لے کر فلسفے اور طب تک، دنیا آج بھی مسلمانوں کی احسان مند ہے۔


زوال کی انتہا اور فعرِ مذلت کا پاتال

پھر تاریخ نے وہ سیاہ دور بھی دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے واقعی اوجِ ثریا پہ پہنچی ہوئی اسلامی تہذیب کو زمین پہ دے مارا۔ یہ زوال اس قدر گہرا اور عالمگیر تھا کہ وہ مغربی اقوام، جو خود اپنے تئیں ہزار سال کی تاریکی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی تھیں، جب انہوں نے مسلمانوں کو طعنے دیے اور اسلام کو ایک پست تہذیب کا حامل قرار دیا، تو مسلم معاشرے کی ذہنی مصلحت پسند اشرافیہ نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور فکری و ثقافتی غلامی کا طوق بخوشی اپنے گلے میں ڈال لیا۔

اسی المناک صورتحال کو واضح کرنے کے لیے اقبال نے نفسِ مضمون کا وہ لازوال شعر کہا تھا، کیونکہ وہ عروجِ ثریا سے نیچے گرنا محض کوئی سیاسی شکست نہیں تھی، بلکہ غیروں کی ذہنی غلامی اختیار کر کے فعرِ مذلت کے اندھے پاتال میں گرنا تھا۔ یہ صورتحال نہ صرف برصغیر ہند و پاک میں پیدا ہوئی بلکہ وہاں بھی مروجہ ہو گئی جہاں سے اسلام کا آفتاب ابھرا تھا، یعنی سرزمینِ حجاز اور عرب کی پاک زمین۔ مسلم امہ کی اس بیکسی اور بے بسی کا نقشہ شمس العلماء مولانا الطاف حسین حالی نے اپنے مسدس میں یوں کھینچا تھا:۔۔۔

امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسریٰ

خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے

جو دین کہ ہمدردِ بنی نوعِ بشر تھا

اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے


مسلمانوں کی یہ حالتِ زار اس بات کا ثبوت تھی کہ جب کوئی قوم اپنے اسلاف کے نظریات کو چھوڑ کر اغیار کی فکری کاسہ لیسی پر اتر آتی ہے، تو وہ اپنی ہی زمین پر اجنبی اور غریب الغربا بن کر رہ جاتی ہے۔


فکرِ ابو الدرداء اور سچی بیداری

اسلام کی تہذیب بنیادی طور پر علم اور عمل کا معاشرہ تھی۔ ایک ایسا بے مثل معاشرہ جہاں ایک عام اور عامی انسان بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ، باکردار اور فکری طور پر بیدار ہوتا تھا، اور جہاں برتری کا معیار دنیاوی جاہ و جلال، دولت یا منصب نہیں بلکہ صرف اور صرف قومی و انسانی خدمت تھا—وہ بھی کسی دنیاوی طمع, صلے یا تعریف کی طلب کے بغیر۔

یہ حقیقت بزرگ صحابیِ رسول حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ایک نہایت فکر انگیز قول سے بالکل واضح ہوتی ہے، وہ اکثر فرمایا کرتے تھے:

’’قیامت کے دن مجھے سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ مجھ سے کہا جائے گا: اے ابو الدرداء! تم علم رکھتے تھے، تو جو کچھ جانتے تھے، اس پر عمل کیسے کیا؟!‘‘۔۔


یہ قول اس بات کی سب سے بڑی گواہی ہے کہ سچی بیداری صرف کتابیں چاٹنے، معلومات کے ڈھیر جمع کرنے یا ماضی کے قصیدے پڑھنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ سچی بیداری اپنے علم کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے، اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو پہچاننے اور معاشرتی انصاف کے لیے متحرک ہونے کا نام ہے۔

اسلام کا یہی تصورِ بیداری انسان کو مصلحت پسندی، خود غرضی اور غفلت کی نیند سے بچا کر ایک فعال اور ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ آج اگر ہمیں کھوئی ہوئی میراث دوبارہ حاصل کرنی ہے اور ثُریّا کی بلندیوں پر واپس جانا ہے، تو ہمیں محض ماضی پر فخر کرنے کے بجائے، علم کو عمل کا زیور پہنانا ہوگا اور اسلاف کے نقشِ قدم پر چل کر ایک عادلانہ معاشرہ قائم کرنا ہوگا۔

حاصلِ کلام

مضمون کا لبِ لباب اور تاریخ کا اٹل فیصلہ یہ ہے کہ اگر اسلامی دنیا کو ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقامِ عروج حاصل کرنا ہے اور فعرِ مذلت کے اس پاتال سے نکلنا ہے، تو ہمیں اسلاف کے اسی پرانے نسخۂ کیمیا کی طرف لوٹنا ہوگا۔ مسلمانوں کو ایک بار پھر قلم کو تھامنا ہوگا اور کتب بینی کی اس روایت کو زندہ کرنا ہوگا جس نے کبھی بغداد اور قرطبہ کو جنم دیا تھا۔

لیکن یاد رہے کہ محض لائبریریاں سجانے یا ڈگریاں اکٹھی کرنے سے تقدیر نہیں بدلے گی؛ ہمیں کتب بینی کے ساتھ ساتھ عمل کی ایک نئی دنیا بسانی ہوگی۔ جب ہمارا علم ہماری عملی زندگی، ہمارے کردار، اور ہمارے سماجی انصاف میں جھلکے گا، تبھی آسمان ہمیں دوبارہ ثریا کی بلندیوں پر فائز کرے گا۔ زوال کی اندھیری رات کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم علمِ نافع اور عملِ صالح کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔

The Importance of Self Contained Breathing Apparatus in Firefighting and Rescue Missions – Dipti Fire Services

The Importance of Self Contained Breathing Apparatus in Firefighting a...

defaultuser.png
Dipti Fire Services
22 minutes ago

Reliable Fencing and Gate Installation Services in Hobart for Better P...

defaultuser.png
hobartfencingandgate
23 minutes ago
Exploring High-Quality 2-Pin and 3-Pin Power Cords for Different Applications – Ni-San Cords

Exploring High-Quality 2-Pin and 3-Pin Power Cords for Different Appli...

defaultuser.png
Ni-San Cords Pvt. Lt.
1 hour ago
البُشْرَى: عِبَادَةٌ وَأَمَلٌ وَأثَرٌ Good Tidings: An Act of Worship, a Source of Hope, and a Lasting Impact.

البُشْرَى: عِبَادَةٌ وَأَمَلٌ وَأثَرٌ Good Tidings: An Act of Worship,...

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
1 hour ago

Exploring India's Private Investment Market: CSK, NSE, OYO, NCDEX, and...

defaultuser.png
unlistedbbsr
1 hour ago