"ظلِ الٰہی"؛ آپکا اقبال بلند ہو۔
The history of the world is a civilizational story of events associated with humans listed in time lines. This story contains references of kings queens and others. Some of them became tyrants and declared themselves a gods. This write up in Urdu "ظلِ الٰہی"؛ آپکا اقبال بلند ہو۔ is an opinion about similar stories and its continuation in modern times in country like Pakistan.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
"ظلِ الٰہی"؛ آپکا اقبال بلند ہو۔
حضور ''شاہِ عالم‘‘ آپکا اقبال بلند ہو؛ بند بشر ہے؛ جان کی امان پایا تو عرض کناں ہوا ہوں۔
یہ بچپن کی بات ہے جب ایک دن کہیں ٹی وی پہ دیکھا کہ ایک بادشاہِ وقت کا دربار سجا ہوا ہے اور دو چوبدار تنے ہوئے، اپنے سر سختی سے سامنے کی سمت رکھتے ہوئے؛ کہیں دور تک نظر گاڑے، ہاتھ میں تلوار تھامے، مضبوط قدموں پہ چلتے ہوئے،آگے بڑھ رہے تھے۔ اس کے پیچھے پیچھے ایک نقیب ہاتھ میں نقارہ تھامے چل رہ تھا کہ اس نے ایک بلند آہنگ میں صدا لگائی؛
"با ادب، باملاحظہ، ہوشیاررر(لمبا کرتے ہوئے)، نگاہ روبرو، جنبش مکن؛
شہنشاہِ وقت، عالم پناہ؛ تاجدارِ ہند، زینتِ ہندوستان، خداوندِ ولی نعمت، نازشِ لوح و قلم؛ ظلِ الٰہی؛
شہنشاہ شہاب الدین محمد خرم عبدالمظفر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر تشریف لاتے ہیں"۔
رعایا کے ہر دل عزیز بادشاہ سلامت، دربانوں کی جلو میں جو بغل میں تلواریں لٹکائے دیوانِ خاص کی طرف بڑھتے ہیں، بڑے وقار، تمکنت اور جلال سے خلعت شاہانہ زیب تن کئے؛ سر پر تاج سجائے، ادائے دلنوازی سے چلتے نظر آتے ہیں؛ یوں انکی آمد دکھائی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے تختِ عالی شان پر جلوہ افروز ہوجاتے ہیں۔ بادشاہ کے آگے چلنے والا چوبدار و نقیب ایوان میں بادشاہ کے پیچھےاور بغل میں اپنے اپنے مقررہ جگہ پر آکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
نقیب بادشاہ کے پیچھے پہنچتے ہی اعلان کرتا ہے کہ "ہوش و خرد پیشِ بادشاہ رہے، سجدے میں نگاہ رہے"۔
نقیب کی طرف سے جو "نگاہِ روبرو" کی صدا لگائی جاتی ہے، جس کا مطلب درباریوں کو بادشاہ کی طرف متوجہ ہونے اور آدابِ بجا لانے کا حکم دینا ہوتا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی محفل میں خاموشی چھا جاتی ہے، سب دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور پاسِ ادب سے گردنیں جھکا لیتے ہیں۔
شہنشاہ وقت اس سمے اپنے دیوان پر نظر ڈالتے ہیں؛ جن کو شہنشاہ کا اعزاز عطا ہوا تھا وہ کرسی نشین ہیں؛ اور کچھ مقربین دائیں بائیں کھڑے بھی ہیں؛ اس وقت دیوان میں ہر سر جھکا ہوا ہوتا ہے اور صرف بادشاہ کے دربان ہیں جو سر گھما کر دیکھ رہے ہیں اور جانچ رہے ہیں کہ کہیں کوئی گستاخ نظر اٹھا یا گھما تو نہیں رہا۔ وہ شہنشاہ شہاب الدین محمد خرم عبدالمظفر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر کا دیوان تھا کہ جس کی تلوار کی کاٹ سے اس کے بھائی کو بھی معافی نہیں ملی تھی؛ تو کس کی ہمت تھی کہ سر اٹھانے کی جرات کرتا۔
نقیب کی جانب سے کہا ہوا "ہوش و خرد پیشِ بادشاہ رہے، سجدے میں نگاہ رہے" کا مطلب ہوتا ہے کہ ہر خاص و عام کےعلم میں رہے کہ وہ شہنشاہ وقت ، خداوندِ ولی نعمت کے دربار میں حاضر ہے؛ اور اس حاضری کے دوران درباری کا ذہن مکمل طور پر بیدار اور ہوشیار ہو (حاضر دماغی)، اور اس کی نظر سجدہ گاہ پر مرکوز ہو؛ یعنی عاجزی و انکساری کا مجسم ہو۔ المختصر یہ دیکھایا گیا تھا کہ ایک بادشاہ وقت کا دربار؛"ظلِ الہی" کے دیوان میں حاضری بڑا نازک مرحلہ ہوتا ہے؛ جہاں وارد ہونے والی ذرا سی غلطی بھی مہلک ہوسکتی ہے کہ عالم پناہ کو محسوس ہوئی ہلکی سی ناگوار بھی گردن کٹواسکتی ہے۔
یقین کیجیے کہ مادری زبان اردو کے باوجود مندرجہ بالا بیان کردہ القابات، خطابات اور مکالمات نہ صرف کانوں بلکہ اعصاب تک پر بھاری پڑے تھے۔ لیکن بچپن تو کھیل کود کی عمر تھی سو ہم عمر بچوں کے ساتھ مذاق کا معاملہ بن کر ذہن سے رفع ہوگیا۔ کیونکہ ڈرامہ تھا جو کچھ ہفتوں بعد اختتام پذیر ہوا اور ہمارے کھیل سے بھی محو ہوگیا۔ بچپن کے کھیل اگر ڈراموں سے متاثر تھے تو ڈرامے بھی تو بدلتے رہتے تھے۔ تو ہر کچھ مہینوں کے بعد ایک نیا کھیل موجود ہوتا تھا۔ لیکن زندگی عجب کھیل تماشہ ہے؛ گول چکر کی طرح گھوم کے واپس اسی مقام پر کھڑا کردیتی ہے کہ کہنا پڑتا ہے کہ "یہ تو وہی جگہ ہے، گذرے تھے ہم جہاں سے"۔ زندگی آگے بڑھتی گئی مگر حادثائے"ظلِ الٰہی " بار بار دھرایا گیا۔ ایک عجب گورکھ دھندہ کی دنیا ہے؛ کہ ہر قوم، ملک، سلطنت یا ریاست کی ہر حکومت؛ ادارے؛ محکمے؛ کمپنیوں سمیت تمام طبقات زنددگی میں "ظلِ الٰہی" (خدا کا سایہ) کا نظام کارفرما ہے۔ بچپن کا کھیل تو ختم ہوجاتا تھا؛ مگر یہ بڑوں کا کھیل تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا؛ صرف شکل بدلتا رہتا ہے؛ چہرے اور کردار بدلتے رہتے ہیں۔
طاقت کی خرابی یہ ہے کہ انسان کی دماغ پر قبضہ کرلیتی ہے اور مٹی کے ابن آدم کو خدا بننے کے خواب آنے لگتے ہیں؛ وہ خود کو زمین پر خدا کی شان کے مطابق باجبروت سمجھنے لگتا ہے۔ اور تکبر اور نخوت کا مارا باقی سارے انسانوں کی حقیر دیکھتا ہے؛ "ظلِ الٰہی" (خدا کا سایہ) سے خدائی قوت کا حامل بن جاتا ہے۔ تاریخ نے ایسے طاغوت کی نشاندہی کی اور انکے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کرنے کی دعوت دی۔
اوپر کا بیان کردہ منظر تو شاید شہنشاہِ ہند کا تھا اور آج دنیا میں قومی ریاستیں ہیں؛ جن میں حکومت ہے؛ سربراہان اور عنان حکومت ہیں؛ وزارتیں ہیں؛ ادارے اور محکمے ہیں، اور ہر جگہ کوئی نہ کوئی آئین اور قانون برائے نظام ہائےکار ہیں؛ مگر جو سب میں بغیر کہے اور لکھے واضع عکس ہے، وہ "ظلِ الٰہی" (خدا کا سایہ) کا نظام ہی رائج ہے۔ بس طریقہ کار بدل گیا ہے۔
شاہی دربار؛ سخت آداب کی نمائندگی کرتا تھا؛ جہاں بادشاہ کے سامنے سر اٹھا کر دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی؛ تو اب ایسا نظام ہائےکار مسلط ہے کہ کوئی عام شہری نظام کی چکی میں پس جاتا ہے، مگر شنوائی نہیں ملتی؛ کیونکہ سربراہ اور عنان حکومت رعایا سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ فریاد کرنے کی آزادی تو ہے مگر نقارخانے میں طوطی کی پکار صدا بصحرا ہی رہتی ہے۔ اب اعلان تو "طاقت کا سرچشمہ جمھور ہے" کا ہوتا ہے؛ مگرحکومت کی علامت سے شاہی فرمان کی کارروائی شروع کروانا، جوئے شیر لانے کے مرادف ہوتا ہے۔
شہنشاہ ہند کا احترام زبردستی تھا اور آج لازم ہے؛ پہلے بادشاہ کی شخصیت کا رعب اسکی طاقت سے مزین تھا؛ اب نظام کا تارپود اور قانون کی گرہیں اتنی سخت ہیں کہ سبھی کو خبردار ہو جانا پڑتا ہے۔ آج جب صاحبِ اختیار کسی طورپر مسلط ہوجاتا ہے؛ تو قانونا" اپنے ماتحت سے انکار نہیں بلکہ صرف اقرار چاہتا ہے۔ اور اگر کہیں غلطی سے کوئی ماتحت انکار کربیٹھے تو "صاحب ولی نعمت" اسے اپنی ہتک سمجھتا ہے؛ اور ماتحت کی تنخواہ یعنی رزق کو گھٹا دیتا ہے؛ اور اگر توہین کہیں روح میں اتر جائے تو جان کے درپے بھی ہوجاتا ہے۔ ہائے اے ترقی یافتہ انسانی تہذیب؛ نظام وہی "ظلِ الٰہی" (خدا کا سایہ) کا چل رہا ہے؛ بس طریقہ کار بدل گیا ہے۔
آج کے دور کا گہرائی تک بغور مشاہدہ کیا جائے تو واضع ہوگا کہ ظاہری ترقی کے باوجود انسانی طاقت کا ڈھانچہ (اور طاقت کا محور) بنیادی طور پر وہی پرانا ہے۔ قدیم دور میں بادشاہ خود کو "ظلِ الٰہی" (خدا کا سایہ) کہہ کر مطلق العنان حکمرانی کرتے تھے، جبکہ آج جدید طرزِ حکومت، کارپوریٹ طاقت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی بالادستی قائم ہے۔
تبدیلی صرف انداز کی ہوئی ہے؛ تلوار کی جگہ بیانیہ (پروپیگنڈا وغیرہ)، جمہوریت اور معاشی کنٹرول نے لے لی ہے۔ عوام آج بھی کسی نہ کسی فنی یا ٹیکنیکی نظام کے تحت اسی طرح جکڑے ہوئے ہیں جیسے پرانے دور میں بادشاہت کے تھے۔ پہلے شاہی خاندان یا درباری تھے، اب عالمی طاقتیں، کارپوریشنز اور ٹیکنوکریٹس ہیں۔ مختصراً، "ظلِ الٰہی" کا تصور شخصی بادشاہت سے نکل کر ادارہ جاتی یا کارپوریٹ آمریت میں تبدیل ہو گیا ہے، مگر "حکمران" اور "محکوم" کا تعلق برقرار ہے۔
آخر انسان خوشامند پسند کیوں ہوتا ہے؟ انسان فطری طور پر اپنی تعریف سن کر خوش ہوتا ہے، جو نفسیاتی طور پر خود اعتمادی بڑھانے، عزتِ نفس کو تسکین دینے، اور معاشرتی قبولیت کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ جھوٹی تعریف یا خوشامد بھی دماغ کو اچھا محسوس کراتی ہے، جسے عقل سے زیادہ جذباتی تسکین اور کبھی کبھار غرور و تکبر کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔
اب چونکہ انسان خوشامند پسند ہوتا ہے تو کم تر لوگ خوشامد یا چاپْلُوسی کو کامیابی کا زینہ بنالیتے ہیں؛ خوشامد یا چاپْلُوسی عام طور پر وہ لوگ کرتے ہیں جو ذاتی مفاد، ترقی، یا کسی بااختیار شخص کو متاثر کر کے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ یہ عمل کسی کی جھوٹی تعریف کر کے، جی حضوری یا چاپلوسی کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ نرم گوشہ حاصل کر کے اپنے مقاصد (جیسے ملازمت میں ترقی یا فوائد) تیزی سے حاصل کیے جا سکیں۔
کہا جاتا ہے کہ بے جا تعریف، خوشامد یا چاپْلُوسی کا ایک راستہ القابات اور خطابات کو بنایا گیا؛ اور یہ روایت ہندوستان میں فارسی زبان اور ایرانی تہذیب سے آئی ہے۔ مگر اس کو دو آتشہ انگریز کی غلامی نے کیا۔ انگریز نے شاہی دربار کی روایات کو حکومت کے اداروں تک پھیلایا اور قبول عام کروایا۔ تاجِ برطانیہ نے سپاس ناموں کے بدعت کو سربراہ حکومت، عنان حکومت، وزارتوں اور اداروں تک کو ایسے نظام بھی باندھا کہ کوئی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہا۔ کمال تو یہ کیا کہ مذہبی علامتوں شیوخ اور علماء کو اس ذلت کی چاشنی سے آشناء کیا اور رسیا بنا دییا۔
ایک معزز سرکاری بابو جناب "ظفر محمود" نے ایک تحریر میں ریاست پاکستان کی ملازمت کا احوال کچھ یوں لکھا کہ "سرکاری ملازمت کے آخری سال اسلام آباد میں گزرے۔ یہ ایک نرالا شہر ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس ، سینیٹ، ممبران اسمبلی، سرکاری عہدیدار، سرمایہ دار اور سب سے بالا، صاحبِ اقتدار، اس شہر میں سب کچھ ہے۔ اقتدار فوج کے پاس ہو یا حکمران سیاستدان ہوں، اختیارات کی شمع روشن ہونے کی دیر ہے، ملک کے کونے کونے سے پروانے طواف کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ اب مغلیہ سلطنت کی طرح دربار تو نہیں سجتے مگر اسلام آباد میں دربان، مصاحب اور نورتن موجود رہتے ہیں۔ ظاہری طور طریقے بدل گئے ہیں مگر اب بھی باادب، با ملاحظہ، ہوشیار کی صدا بلند ہوتی ہے۔ صاحبِ اقتدار کا دل لبھانے کے لئے، سرکاری افسر اور سیاسی کارکن راگ درباری کے الاپ سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ اُن کی توجہ صاحبِ عالم کا مزاج بھانپنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ یہ احتیاط تو سب کرتے ہیں کہ مزاج شاہی پر کوئی بات گراں نہ گزرے، مگر جو مزاج کی پیش بینی کر سکے، شاہی دربار میں اُس کے درجات بہت جلد بلند ہو جاتے ہیں"۔
آج دنیائے اسلام میں شیوخ اور علماء کے لیے مختلف اعزازی القابات اور خطابات استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک درجے میں مشہور القابات میں شیخ الاسلام، علامہ، مولانا، مفتی، قاری، اور استاذ ہیں مگر غلو اور مبالغہ نے جہت بدلی ہے تو حجۃ الاسلام، شیخ الاسلام، شیخ الفقہ، شیخ الحدیث، مفتی اعظم، خطیبِ زماں، محققِ دوراں، محقق العصر، علامۃ العصر، محدث العصر، فقیہِ زماں، جامعِ علوم عقلیہ و نقلیہ، شیخ المشائخ، اعلیٰ حضرت، مفکرِ اسلام، شہنشاہِ خطابت، محقق علی الاطلاق، محدثِ اعظم، شیخ الجامعہ، اور رہبرِ شریعت وغیرہ وغیرہ ہیں۔
اختتامی کلمات
عزیزان گرامی قدر قاری؛ بندہ مسلمان ہے اور رہنمائی کا راستہ دربار مصطفی آقا کریم محمدﷺ سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آقا کریمﷺ نے محفل میں بیٹھے لوگوں کو اپنی تعظیم کے لیے اٹھنے سے منع فرمایا "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا گیا کہ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے"۔
محفل کے آداب میں آقا محمد ﷺ کا فرمان ہے "جب کوئی مجلس میں بیٹھنے لگے تو سلام کہہ دے اور جب کوئی اٹھنے لگے تو بھی سلام کہہ دے کیونکہ دونوں کی حیثیت مستقل ہے۔"
اور اسلام کی شاندار خلافت میں امیرالمومنین حضرت عمرفاروق رضی الله تعالیٰ نے جب بیت المقدس کی چابی کے حصول کے لیے مدینہ سے شام کی جانب سفر اختیار کیا تو ایک اونٹ پر اپنے خادم کے ساتھ روانہ ہوئے تو اس طرح کے باری باری ایک اونٹ پر بیٹھا اور ایک نے لگام تھامی؛ اور جب بیت المقدس کے حدود میں داخل ہوئے تو خادم اونٹ پر تھا اور امیر المومنین لگام تھامے تھے۔ اور جسم پر سترہ پیوند لگا لباس تھا۔ اور اس موقع پر فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ، جب بھی ہم اللہ تعالی کی عطا کردہ عزت کے علاوہ سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں رسوا کر دے گا"۔
*اسلام ہی ہماری عزت کا معیار ہے*
’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا ہی پاکیزہ بتاتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے، اور کسی پر اس عطا میں ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘(سورۃ النساء :۴۹ )
قرآن مجید کی سورہ الذاریات (آیت 56) میں فرمایا ہے کہ "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں"۔
اللہ سبحان تعالی نے جن و انس کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ کی معرفت، فرمانبرداری اور بندگی بیان کی ہے؛ نہ کہ محض دنیاوی زندگی گزارے؛ یا لہو و لعب میں پڑجائے؛ اور دنیاوی القابات اور خطابات کے حصول میں گرفتا ہوجائے۔ ہر ابن آدم کو جاننا ہوگا کہ ہر تعریف کے لائق صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔ بادشاہت صرف اس کو لائق ہے۔ حقیقی بادشاہت اور حکمرانی صرف اللہ تعالی کی ذات کے لیے ہے، جبکہ باقی تمام ظاہری حکمران یا طاقتیں (نمرود/بتانِ آزری) عارضی اور باطل ہیں۔
سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتانِ آزری
علامہ اقبال کی نظم "خضرِ راہ" (بانگِ درا)