"The Monkey and the Mid Night Fruit" سچ کا پھل

"The Monkey and the Mid Night Fruit" is a story spread on social media and this gives a very potent lesson for all of us in our lives. This write up is an Urdu translation "سچ کا پھل" of the story done for the readers of Bangbox Online. Please adopt it for story telling and share with kids.

May 01, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


سچ کا پھل

سچے درخت کا آدھی رات کا پھل

 

ایسال کے دھند زدہ جنگلوں کے بیچوں بیچ زمرد دریا کے آخری موڑ سے متصل ایک پراسرار درخت چھپا کھڑا تھا جو صرف آدھی رات کو پھل دیتا تھا۔ اس کا تنا چاند کی روشنی میں ہلکا ہلکا چمکتا تھا، اور جب ہوا اس کی شاخوں میں سے گزرتی تھی تو وہاں سے سرگوشیوں کی آوازیں آتی تھیں۔

 

اس جنگل میں بسے گاؤں والےاسے "ایگباکو" یعنی "سچ کا درخت" کہا کرتے تھے۔

لوگ کہتے تھے کہ "وہ درخت ان لوگوں کو پھل دیتا تھا؛ جو اندھیرے میں بھی سچ بولتے تھے۔ ایک جھوٹ بولا نہیں اور پھل ہمیشہ کے لیے تحلیل ہو جاتا تھا"۔

لیکن سب لوگ اس درخت سے بہت ڈرتے تھے؛ کیونکہ سچائی، جب بلند آواز سے بولی جاتی ہے تو ڈنک مارتی ہے۔

 

وہاں اس جنگل میں "تانتو" نام کا ایک چالاک بندر رہتا تھا؛ جس نے اپنی زندگی میں کبھی سیدھے سبھاو سے کہانی نہیں سنائی تھی یعنی اس کی باتوں میں الجھاو ہوتا تھا۔ وہ پرندوں کی نقل کرکے مذاق اڑاتا تھا، مگرمچھوں کو دھوکہ دیتا تھا، اور یہاں تک کہ ہائینا / لگھڑ بھگڑوں کو باتوں میں الجھا کر ان کے چنگل سے نکل جاتا تھا۔

 

لیکن ایک دن جب خشک سالی نے زمین کو بنجر کردیا اور بھوک نے سب سے لمبے زرافے کو بھی جھکا دیا، تو "تانتو" کی چالاکیوں نے اسے کھانا نہیں دیا۔

ایک رات، بھوک اور مایوسی کے عالم میں، اس نے "ایگباکو" درخت والے جنگل کی جانب سفر کیا۔ اسے "ایگباکو" کا پھل چاہیے تھا۔

 

درخت کی آواز بوڑھی اور مدھم تھی:؛ اس نے کہا "تانتو" اپنا سچ بولو۔ اور صرف اپنا سچ"۔

 

تانتو نے بڑی مشکل سے اپنا تھوک نگلا اور پھر بولا ’’میں نے چوری کر رکھی ہے"۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

 

"میں نے دوستوں سے جھوٹ بولا ہے اور انکا مذاق اڑایا؛ جو مجھے کھانا دیتے رہے ہیں۔ میں نے ایک بار ہوا کو آم چوری کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا؛ حالانکہ وہ کام میرا تھا"۔

درخت کچھ لمحات تک خاموش رہا۔

پھر، ایک سنہری پھل اس کے سامنے ابھرا- چمکدار، تابندہ اور تازہ۔

تانتو نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا… لیکن پھر رک گیا۔

 

"میں نے ایک بار توجہ حاصل کرنے کے لیے مرے ہوئے پرندہ والا ڈرامہ بھی کیا تھا"؛ اس نے جلدی سے کہا۔ ’’وہ… وہ بھی جھوٹ تھا۔‘‘

پھل کی چمک میں اضافہ ہوگیا اور خوشبو میں بھی۔

اس نے اسے نکال کر کھا لیا۔ ہاں وہ سچ کے درخت کا جادوئی پھل تھا۔

 

اس رات سے "تانتو" بدل گیا۔ وہ جنگل کی کہانی سنانے والا بن گیا — جھوٹی چالوں کا نہیں بلکہ سچائی کا۔ اس کے الفاظ نے صرف پیٹ ہی نہیں بلکہ دماغوں کو بھی کھلایا۔

اور ہر پورے چاند پر اس کے لیے ایک نیا پھل اگتا تھا۔

اختتامی سبق:

سچ بولتے وقت کڑوا ہو سکتا ہے لیکن اس کا پھل سب سے میٹھا ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی غلطیوں کو مان کر توبہ کرلیتے ہیں تو ہمارا سچ اندھیری رات کو بھی روشن کرسکتا ہے۔

In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful

 

The Monkey and the Mid Night Fruit

 

Deep in the misty jungles of Isale, hidden beyond the last bend of the emerald river, stood a mysterious tree that bore fruit only at midnight. Its trunk glowed faintly in the moonlight, and its branches whispered secrets when the wind passed through.

The villagers called it Igbako, the Tree of Truth.

It was said: “This tree gives fruit only to those who speak the truth in darkness. One lie, and the fruit vanishes forever.”

But most feared the tree—because truth, when spoken aloud, can sting.

Now, there lived a clever monkey named Tantu, who had never told a straight tale in his life. He could mimic birds, trick crocodiles, and even talk his way out of hyena traps. But when a drought hit the land, and hunger bent even the tallest giraffe, Tantu’s games no longer fed him.

One night, starving and desperate, he ventured to Igbako.

The tree’s voice rumbled low and ancient:

“Speak your truth, Tantu. And only your truth.”

Tantu swallowed hard.

“I have stolen,” he said, voice trembling. “I have lied to friends and mocked those who fed me. I… I once blamed the wind for stealing mangoes I took myself.”

The tree was silent.

Then, a single golden fruit bloomed before him—glowing, pulsing, alive.

Tantu reached for it… but paused.

“I once pretended to be a dying bird to get attention,” he added quickly. “That… that too was a lie.”

The fruit shimmered brighter.

He plucked it and ate.

From that night on, Tantu changed. He became the storyteller of the forest—not of tricks, but of truths. His words fed minds, not just bellies.

And every full moon, a new fruit bloomed for him.

Moral Lesson:

Truth may be bitter to speak, but it bears the sweetest fruit. When we own our mistakes, even the darkest night can reward us.


More Posts