طاقتور کون"؟"

Storytelling is the social and cultural activity of sharing stories, sometimes with improvisation, theatrics or embellishment. Such a story is a mean of education, entertainment, cultural preservation and stirring minds in a certain direction for enhancing societal values. This write up in Urdu طاقتور کون"؟" is also aiming the said purposes wrt current conflict in Sub Continent Indo Pak.

Jul 10, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


" طاقتور کون"؟

 

کثیف یا مہیب یا غالب طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری عاید ہوتی ہے"۔ یہ ایک کہاوت ہے؛ جو جوہری قابلیت یا بڑے اختیار کے ساتھ مہیب اخلاقی ذمہ داری پر زور دیتی ہے۔ یہ تجویز کرتا ہے کہ طاقت رکھنے والوں کو دوسروں پر اپنے اعمال کے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دانشمندی اور اخلاقی طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ یہ جملہ بنیادی طور پر فلم " اسپائیڈر مین" کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جہاں یہ اخلاقی فرض کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے؛ جہاں مرکزی کردار "پیٹر پارکر" کو اپنے اختیارات کو بھلائی کے لیے استعمال کرنے کا احساس اجاگر کیا جاتا ہے۔

ایک کہانی بچپن میں پڑھی تھی کہ اصل طاقتور وہ ہوتا ہے جو اپنے غصے پر قابو رکھتا ہے۔ پیغمبر اسلام آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ " یعنی طاقت ور وہ نہیں ہے جو کُشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے۔ طاقتور صرف وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ (صحيح البخاري، حديث نمبر 6114؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2609)۔

 آب آئیے ایک حکایت " جڑواں ریچھوں کی لڑائی" پڑھتے ہیں؛ جو فیس بک پیج "نیٹیو امریکن موویز" سے لی گئی ہے۔

 وقت کے کسی پچھلے دور میں جب جنگل کی زمین اور ماحول انسان اور حیوان کے پہلے قدموں کے نشانات کو یاد رکھتا تھا، وہاں دو طاقتور ریچھ کی روحیں رہتی تھیں — ٹاکو سیاہ عفریت-دی بلیک ون، اور ویاکا، بھورا طوفان-براؤن تھنڈر۔ اور وہ دونوں جڑواں بھائی تھے۔ ایک ہی وقت میں دھرتی ماں پر جنم لےکر چلنے والے تھے؛ مگر اس کے باوجود دوںوں نے زندگی کے الگ الگ راستے پر چلنا اختیار کیا۔

ٹاکو، خاموش اور تیز آنکھوں والا، جنگل کے سائے کی بھی حفاظت کرتا تھا، اور خاص طور ان جگہوں کی جہاں راز اگتے تھے اور دوائی کے پودے کھلتے تھے۔ جبکہ ویاکا، بے باک اور عروج پر، پہاڑوں پر گھومتا اور پہاڑوں پر گرجتا تھا مگر کھلے میدانوں اور طاقتور دریاؤں کا محافظ تھا۔

بہت سے چاند کے سالوں تک وہ اپنی اپنی دنیا میں مگن امن سے رہتے رہے؛ اور ایک دوسرے کی زمین کا احترام کرتے رہے تھے۔

 لیکن پھر جیسا کہ اکثر ہوتا ہے؛ فطرت آزماتی ہے؛ چنانچہ توازن بگڑنے لگا۔ سردی خشک رہی تو برف دیر سے پڑی ؛ اور سالمن کی آبادی بھی کم ہوگئی؛ تو شکار نایاب ہو گیا۔ اور تناؤ بڑھ گیا۔

ایک دن، وہ دونوں مقدس چیڑ کے گھنے جنگل کے کنارے پر ملے - جہاں تخلیقِ کائنات کے وقت سے اس دن تک کسی طرح کی پنجہ آزمائی نہیں ہوئی تھی۔ ہوا ایک گونج سے چیخ اٹھی۔ درختوں نے سانس روک لی۔ اور اوپر چیڑ کی چھت پر، ریچھ کے چھوٹے بچے بھی درخت سے لپٹ گئے اور مبہوت ہوئے دیکھتے رہے۔

ٹاکو بولا:

’’آپ جتنا زمین اگاتی ہے اس سے زیادہ استعمال کرتے ہیں بھائی۔‘‘

ویاکا نے گرج کر واپس کہا:

"اور حکمت آپ کو اس طرح سکھاتی ہے جیسے اس جنگل میں سب کچھ صرف آپ کا ہے!"

 پھر خوفناک تصادم ہوا؛ پینترا بدل بدل کر حملہ کیا گیا؛ ان کے تصادم کے ساتھ ہی آسمان تاریک ہو گیا – نفرت سے نہیں بلکہ مایوسی سے۔ پنجے سے پنجا ٹکرایا؛ گرج کے جواب میں دھاڑ اٹھی؛ اس معرکے نے پہاڑ کو ہلا کر رکھ دیا، درختوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اور پرندے گھبرا کر آسمان پر پرواز کرگئے۔

 پھر اچانک ان کی لڑائی کے دوران، ایک ریچھ کا بچہ اوپر کی شاخوں سے گر گیا - ایک چھوٹا بچہ، جو خوف سے واقف نہیں تھا۔ دونوں ریچھ رک گئے۔ ان کی گرج دھاڑ خاموش ہو گئیں۔

ٹاکو نے اپنے پنجے سے بچے کو پکڑ لیا۔ ویاکا نے اپنے بڑے کندھے سے اسے ڈھال دیا۔

اور اس لمحے، ایک خیال انکے ذہن میں کوندا؛ انہیں یاد آیا: وہ دشمن نہیں تھے، بلکہ سرپرست تھے؛ اس جنگل کے رکھوالے۔

 پھر اس دن عہد ہوا؛ ایک معاہدہ تشکیل دیا گیا تھا: ٹاکو خاموشی اور حکمت کا راستہ سکھائے گا؛ ویاکا، طاقت اور تحفظ کا راستہ ترتیب دیگا۔ ایک ساتھ، وہ مستقبل کی رہنمائی کریں گے — جنگ کے ساتھ نہیں، بلکہ توازن کے ساتھ؛ اس طرح جنگل اور انکی نسلوں کی رکھوالی ہوگی۔

آج تک، لوگ کہتے ہیں کہ جب درختوں میں گرج چمکتی ہے اور گھاس میں چھائیاں لہراتی ہیں، تو جڑواں ریچھ پھر بول رہے ہوتے ہیں- لڑتے نہیں ہیں بلکہ سکھا رہے ہوتے ہیں۔


اخلاقی سبق

سخت ترین دلوں کو بھی یہ سیکھنا چاہیے کہ کب لڑنا ہے، اور کب سب سے اہم چیز کی حفاظت کرنی ہے"۔"

حضرت انسان کے افراد اور قوموں کے لیے سبق

ایک آدمی یا قوم کی لڑائی دوسرے آدمی یا قوم سے ہو اور باہم آپس کی لڑائی میں ایک فریق دوسرے کو پچھاڑ دے تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ایک فریق دوسرے فریق کے مقابلہ میں جسمانی اعتبار سے زیادہ طاقتور تھا۔ مگر جسمانی طاقت ایک محدود طاقت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس فرد یا قوم کا یہ حال ہو کہ اُن کے اندرغصہ بھڑکے مگر وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کرلے اور غصہ دلانے والے کے ساتھ معتدل اندازمیں (آج کی دنیا میں مذاکرات کے ذریعے؛ مابین گفتگو کے ذریعے) معاملہ کرے، ایسا فرد یا قوم زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ کیونکہ جو فریق عقل کی طاقت سے معاملات کو حل کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور اسی کے ذریعے عمل پیرا ہو، اور عقل کی طاقت بلاشبہ جسم کی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ ایسا فریق اپنی دانش مندانہ منصوبہ کے ذریعہ ہرجنگ کو امن میں بدل سکتا ہے۔ اور کامیاب ہوتا ہے۔

ایک بہت بڑی طاقت ایک ایسی قوم یا ریاست ہوتی ہے جو اپنی معاشی ، سیاسی اور فوجی طاقت کے ذریعے عظمت کے مقام پر فائز ہوتی ہے؛ ایسی قوم نہ صرف دنیا میں اپنے خطے، بلکہ دوسروں خطوں پر بھی طاقت اور اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ جدید تناظر میں، تاریخی اصطلاحات کے مطابق"عظیم قوم" ایک خاص ملک یا علاقے میں آباد لوگوں کی ایک ممتاز "عظیم سلطنت" یا کچھ ریاستوں یا ممالک کا ایک واحد گروہ ، جو ایک واحد اعلیٰ اختیار کے تحت قائم ہو۔

 برِصغیر ہند وپاک ہمارے سیارے زمین کا ایک شاندار خطہ ہے۔ یہ زمین گواہ ہے قراقرم؛ ہمالہ اور ہندوکش کے عظیم سلسلہ کوہ کا اور اس پر بسنے والے امین ہیں اس تہزیب کا جو دریائے سندھ؛ گنگا جمنا؛ اور برہما پترا کے کنارے آباد ہونے والے انسانوں نے جنم دی ہے۔ اس خطے کے میدانی علاقے؛ کھیت اور کھلیان؛ گلزار؛ گلستان اور صحرا؛ پہاڑی نخلستان، وادیاں اور چمنستان قدرت کی فیاضیوں کی داستان سناتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ وہی زمین ہے جسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا اور اس کی دولت حاصل کرنے کو تاجِ برطانیہ کے لٹیرے اس پر قابض ہوئے تھے۔ مگر آج اس زمین کے باسی دو قوم؛ ہندو اور مسلمان بن کر اس کو اجاڑنے پر اکسائے ہوئے ہیں۔ اس زمین کے باسی اپنے طاقتور ریچھوں کی نفرتوں سے بھرے غصے کی وجہ سے ایک خوفناک تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں؛ نیوکلیر جنگ کی تباہی۔

 

اوپر کی حکایت کے مطابق کیا ہم یہ نہیں سیکھ سکتے؟ کہ کیسے ہم باہم جڑے ہوئے پڑوسی ممالک ایک ایسا طاقت کا توازن قائم کرلیں؛ جس میں ہر کسی کا ایک کردار ہو اور سب مل کر اپنےاپنے ملک اور اپنے خطے کے مستقبل کے لیے اور اپنی اپنی قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سرگرم عمل رہیں۔ کیا اب یہ وقت مناسب نہیں ہے کہ اس جھگڑے میں نہ پڑیں کہ "طاقتور کون" ہے؟

 


عقل کہیں سے بھی ملے اختیار کرلینی چاہیے؛ بھارتی جسٹس مرکنڈے کاٹجو کی رائے

More Posts