*تعلیم: کتاب کا بوجھ یا عقل کی پرورش**
Information is Free. True Education is Rare. We have spent decades forcing our youth into a blind race for grades, turning books into burdens rather than pathways to consciousness. Despite a stagnant domestic market, our youth are surviving globally by carving out their own digital livelihoods. If we want to save the generations to come (Gen Alpha and beyond), we must dismantle our obsolete educational frameworks today. We must build an economy anchored in free trade and a school system anchored in critical thinking. Read this essay in Urdu on *تعلیم: کتاب کا بوجھ یا عقل کی پرورش**.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
**تعلیم: کتاب کا بوجھ اور عقل کی پرورش**
کل لنکڈ ان پر ایک نوجوان بچی کی لکھی ہوئی درد بھری تحریر پڑھی تو دماغ ایک دم ماضی کے جھروکوں میں گھوم گیا، جب قریباً ساڑھے چار دہائیاں قبل راقم خود کالج پہنچا تھا۔ اس دور میں دیکھا تھا کہ نوجوانوں کا ایک سیلاب تھا جو ہر روز کالج پہنچ جاتا تھا، مگر ان کی اکثریت صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے—یعنی ڈگری—کی تلاش میں تھی۔ علم کا حصول مقصد نہیں تھا، بلکہ ڈگری حاصل کر کے نوکری کے قابل ہونا تھا۔ وہ کتابیں لادے خراماں خراماں چلے آتے تھے، اور قرآنِ پاک نے شاید ان ہی کے لیے سورہ الجمعہ میں کتابیں لادے ہوئے گدھے کی مثال دی ہے، جو بوجھ تو اٹھاتا ہے مگر اس کے فہم سے عاری رہتا ہے۔ کچھ وقت گزرا تو معلوم ہوا کہ اس خرابی کی بنیاد انگریز سرکار کا پھیلایا ہوا وہ نوآبادیاتی تعلیمی نظام تھا جس کا مقصد عقل کی پرورش نہیں بلکہ صرف وفادار کلرک پیدا کرنا تھا۔
آج ساڑھے چار دہائیوں بعد بھی اس لنکڈ ان کی پوسٹ نے یہ ثابت کیا کہ نظام کا وہ المیہ بدلا نہیں، بلکہ اس کا حجم بڑا ہو گیا ہے۔ آج کا نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی 18 سال—بارہ سال اسکول میں، چار سال بیچلرز میں اور پھر ایم فل یا پی ایچ ڈی کی راتوں کی نیندیں—اسائنمنٹس، ریسرچ پیپرز، پریزنٹیشنز اور امتحانات کی نذر کرنے کے بعد بھی اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس طویل مسافت کے بعد جب وہ ڈگری ہاتھ میں لیے عملی دنیا میں قدم رکھتا ہے، تو خود کو ایک گہرے سوال کے سامنے کھڑا پاتا ہے: "مجھے اب کیا کرنا ہے؟" تعلیمی نظام کے طے شدہ دائرے سے باہر نکلتے ہی ایک مہذب نوکری کی تلاش اس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا معرکہ بن جاتی ہے۔ کیا 18 سال کی طویل محنت کسی شخص کو ایک باعزت کیریئر کا مناسب موقع دینے کے لیے بھی کافی نہیں؟
لیکن اس سارے نظام کا سب سے مضحکہ خیز اور ہولناک پہلو یہ ہے کہ آج ہمارے نظامِ حکومت کے سرخیل اور فیصلہ ساز وہی لوگ ہیں جو ساڑھے چار دہائیاں قبل تعلیمی اداروں میں محض "کتابیں لادے" پھر رہے تھے۔ جن کا پورا سفرِ حیات عقل کی پرورش کے بجائے صرف ایک ڈگری اور اس کے بعد متعدد دہائیوں تک صرف اور صرف اندھی دولت کمانے کے گرد گھومتا رہا—جبکہ دولت کمانا کبھی بھی انسان کا حقیقی مقصدِ حیات نہیں ہو سکتا۔ اب وہ لوگ، جن کے پاس نہ تو اس نئی نسل کے دکھ کو سمجھنے کی فکری توفیق ہے اور نہ ہی وہ درد، وہ اس تعلیم یافتہ نسل کا مسئلہ کیسے حل کریں گے؟ اگر کہیں نظام میں کوئی اکا دکا قابل انسان بچ بھی گیا ہو، تو دہائیوں کی اس بے مقصد، مادہ پرستانہ زندگی نے اس کے اندر کی حس کو اس حد تک شل کر دیا ہے کہ اس کے لیے آج کے نوجوان کی ذہنی پکار اور فکری بحران کو سمجھنا ہی نامکن ہو چکا ہے۔
خرد کی بھوک یا ملازمت کی تلاش
آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنا زاویہِ نگاہ تبدیل کریں۔ ہمیں معاشرے اور پالیسی سازوں سے یہ پوچھنا بند کرنا ہوگا کہ "ہمارے فارغ التحصیل افراد کے پاس نوکریاں کیوں نہیں ہیں؟" اس کے بجائے ہمیں یہ سخت سوال اٹھانا ہوگا کہ "ہم اس تیزی سے تعلیم یافتہ ہونے والی نسل کے لیے اتنے اچھے مواقع کیوں پیدا نہیں کر پا رہے؟"
جب ملک میں تحقیق و ترقی (آر&ڈی) کے لیے فنڈز نہ ہوں، معاشی ڈھانچہ جمود کا شکار ہو، اور نئی صنعتیں قائم نہ ہو رہی ہوں، تو یہ بہترین دماغ کہاں فٹ ہوں گے؟
ہم نے بحیثیت قوم اس نوجوان نسل کے لیے کوئی نظام نہیں بنایا تھا، مگر آج کی جنریشن زی حالات کے جبر اور ڈیجیٹل دور کی ترقی کے سبب پوری دنیا سے جڑ چکی ہے۔کمال یہ ہوا ہے کہ اس نئی ڈیجیٹل دنیا میں روزی روٹی کمانے کے لیے کسی بہت اعلیٰ قسم کے تربیتی دماغ کی ضرورت نہیں ہے؛ صرف کچھ بنیادی تکنیکی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے، اگر ہم ریاست اور حکومت کے طور پر اس نسل کو کچھ اور نہیں دے سکتے، تو کم از کم انہیں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ اور آزادی سے سوچنے کا موقع تو دیں! ان کے لیے ایسے مواقع پیدا کریں جو انہیں دنیا کے ذرائع سے جڑنے کا راستہ فراہم کریں، یہ اپنے لیے رزق کا راستہ خود ہی ڈھونڈ لیں گے۔
لیکن اصل چیلنج اب جنریشن الفا اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کا ہے۔ ان کے لیے ہمیں آج سے، بلا تردید اور ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر، اپنے پورے نظامِ تعلیم کو جڑ سے بدلنا ہوگا۔ ہمیں کتاب کو محض رٹّے کا ذریعہ بنانے کے بجائے علم کا راستہ بنانا ہوگا۔ معلومات اب پڑھانے کی چیز نہیں رہی، وہ انٹرنیٹ کے اس دور میں بچوں کو خود بخود حاصل ہو جاتی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد معلومات کو لادنا نہیں، بلکہ علم کو اس کے اصل مقام یعنی شعور پر رائج کرنا ہے۔ بچوں کو گریڈز کی اندھی جنگ اور نمبروں کی دوڑ سے نکالیے، انہیں حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ کیجیے اور ان کے لیے ادراک، فہم اور فکر کی راہیں کھولیے۔۔
حاصل کلام
حقیقت یہی ہے کہ ہم نے آزادی کے بعد سے اب تک اپنا تعلیمی نظام نوآبادیاتی اور غلامانہ ہی بنائے رکھا۔ اس فرسودہ نظام نے ملک میں تخلیق کے راستے بند کیے اور "برین ڈرین" میں خوب مدد کی؛ لیکن داد دیجیے اس پسی ہوئی نسل کو، جنہوں نے وطنِ عزیز کی یہ تاریخی خدمت کی کہ آج ہماری کل قومی برآمدات (ایکسپورٹس) سے کہیں زیادہ غیر ملکی زرِ مبادلہ ان کی اپنی محنت کی کمائی سے حاصل ہو رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے۔ ملک میں تعلیم کو یوں رائج کیا جائے جو کلرک نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں "تعلیم یافتہ انسان" پیدا کرے۔ اس کے ساتھ ہی، اب کاروبار اور معیشت کو ملک کا مضبوط سنگم بنانا ہوگا。 اپنی تجارت اور کاروبار کو دنیا کے ساتھ جوڑیے اور اس کے قواعد و ضوابط میں آسانیاں پیدا کیجیے۔ ملک میں آزاد تجارت (فری ٹریڈ) کا راستہ کھولیے؛ جب فکری اور تجارتی راستے آزاد ہوں گے، تو یہ نسل کسی بیساکھی کے بغیر اپنے لیے اور اس قوم کے لیے کامیابی کا رزق خود تلاش کر لے گی۔