تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو; ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر

Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. This write up in Urdu "تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو؛ ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر" is an explanation of the Iqbal's verse with the help of various verses of Iqbal, keeping the main theme in focus.

Nov 07, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

 ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر

 

مندرجہ بالا شعر حکیم اُلامت علامہ محمد اقبالؒ کی کتاب "کتاب؛ ضرب کلیم" کی نظم " نصیحت" سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں اقبال نے حکیم الامت ہونے کا حق ادا کیا ہے کہ کہا ہے کہ قوم کے بچے اور نوجوان کو ایک ایسی تعلیم کے نظام میں ڈال جو اس کی خودی کو تیزاب کی مانند گھول دے اور وہ اغیار حاکم کی تہذیب کی جانب ایسا ملائم ہوجائے کہ پھراسے جس جانب چاہیں، جدھر چاہے، اسے پھیر دیں۔ اس پر مزید گفتگو کرنے سے پہلے ذرا دیکھیں تو سہی کہ اقبال نے "ضرب کلیم" کی اس نظم "نصیحت" میں کیا پیغام دیا ہے؟ کیا کوئی اقبال کے اس پیغام کو سمجھ بھی پایا ہے کہ نہیں؟ کیا برصغیر ہند کے مسلمانوں اور ملت اسلامیہ میں اقبال کی اس پیغام کے بعد سے سو سال میں کوئی فرق آیا ہے؟

 

 ہماری بصارت کی حد تک کائنات میں ہماری زمین وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی بسی ہوئی ہے۔ زندگی کی نیرنگی حیران کن ہے اور اس حیرت کدہ میں ہم انسان بطور اشرف المخلوقات آباد ہیں۔ اے وطنِ عزیز کے لوگو؛ علامہ محمد اقبالؒ نے ایک صدی قبل غلام ہندوستان کے مسلمان کے لیے "مثنوی پس چه باید" کی نظم " فقر، " میں کہا تھا کہ "اس ملک کا مسلمان اپنے آپ سے نا امید ہے — عمر گذر گئی مگر انہوں نے کوئی باخدا مرد نہیں دیکھا"۔ مزید کہا ہے کہ " لا محالہ وہ دین کی قوت سے بدظن ہے— وہ خود ہی اپنے کاروان کے لیے رہزن بنا ہوا ہے"۔ حکیم نے بیماری کا سبب بیان کیا کہ " تین سو سال [اب چار سو سال ہوگئے] سے یہ امت زبوں حال ہے — اور بغیر اندرونی سوز و سرور کے دن بسر کر رہی ہے"۔ اور پھر وجہ بھی بتا دی کہ " مسلمان پست فکر ، کم ہمت اور کور ذوق ہو چکا ہے — اس کے تعلیمی ادارے اور علما، سب شوق سے محروم ہیں"۔ اور اس سب خرابی کی بنیادی وجہ نظام تعلیم رہا ہے جو اغیار کا مسلط کردہ تھا اور اس کی غلام مسلسل اس کو روا رکھے ہوئے ہیں۔

 

 علامہ محمد اقبالؒ کا سارا کلام غلام ہندوستان میں رہتے ہوئے سارے عالمِ اسلام کے دگرگوں حالات کے مشاہدے سے وجود پذیر ہوا تھا؛ مگر کیا آج محمد اقبالؒ کی رحلت کے تقریبا" ستاسی سال بعد بھی عالم اسلام اُسی حالت غلامی میں مگن مسرور اورمست ہے۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے ملک ہی غلام تھا؛ اب آزاد ہے مگر فرد اور قوم غلاموں سے بھی بدتر زندگی جی رہے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں ہے؟

 

 اب چلتے ہیں اپنے نفسِ مضمون شعر پر جو علامہ محمد اقبالؒ کی انتہائی مشہور کتاب "ضربِ کلیم" کی نظم "نصیحت سے لیا گیا ہے۔ اقبال کہہ رہے ہیں کہ غلاموں کو ہمیشہ کے لیے محکوم رکھنے کا جو طریقہ تلوار سے بڑھ کر کارگر ہے (جو حاکم قوم کے سینے میں محفوظ ہوتا ہے) وہ یہ ہے کہ ان غلاموں کو ایسا نظام تعلیم دو کہ جس سے وہ اپنی شناخت کو بھول کر حاکموں کے طور طریقوں کو اپنا لیں۔ اس طریقہ کار کو فرنگ لارڈ نے ایک ایسا تیزاب کہا ہے کہ جب غلام قوم کے لوگوں کی خودی اس میں ڈالی جائے گی تو وہ ایسی ملائم ہو جائے گی کہ حاکم اسے جس سمت پھیرنا چاہیں؛ پھر جائے گی۔ اور تعلیم کا یہ تیزاب ان غلاموں کے حق میں تانبے یا مٹی کو سونا بنانے کی بجائے اور الٹ کام کرے گا اور وہ یہ کہ وہ نظام تعلیم ان لوگوں کے مضبوط عقائد اور خود شناس شخصیتوں کے سونے کے ہمالہ کو مٹی کا ڈھیر بنا کر رکھ دے گا اور یہ بات پچھلی ڈیڑھ دو صدی کے انگریزی نظام تعلیم کے حصول سے ثابت بھی ہو چکی ہے اور اس حد تک ثابت ہو چکی ہے کہ سیاسی آزادی کے باوجود بر صغیر کے لوگ مغربی تہذیب، تمدن اور ثقافت کے رنگ میں ڈھل چکے ہیں اور ان کی اپنی آزادانہ شناخت ختم ہو چکی ہے۔ اور ایک طاقتور طبقہ انکی صفوں میں موجود ہے جو کسی صورت میں؛ اس صورتحال کو بدلنا نہیں دیتے۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ سائینس اور ٹیکنولوجی اس کے بغیر پڑھائی نہیں جاسکتی۔

 

عذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں

 کہ مَیں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل

 

 حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ سے زیادہ کون ان کے مکر سے واقف ہوسکتا تھا؟ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اقبال انہی کی درسگاہوں سے تعلیم یافتہ تھے اور یورپ کی سیر کرکے اس تہذیب کو قریب سے دیکھ رکھا تھا۔ چنانچہ اپنی کتاب "بالِ جبریل" کی ایک غزل کے مندرجہ بالا شعر میں کیا خوب کہا ہے کہ "میں موجودہ زمانے کے علم و دانش سے آگاہ ہونے کی وجہ سے اس بات کو جانتا ہوں کہ یہ علم انسان کے لیے ایسے عذاب کا باعث بن جاتا ہے گویا اُسے آگ میں ڈال دیا گیا ہو"۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کے حکم سے آگ میں پھینک دیا گیا تھا مگر آگ ان پر گلزار بن گئی تھی۔ اقبال فرماتے کہ کہ انہوں نے اپنے دورِ حاضر کی دانش سے آگاہی حاصل کی۔ گویا اس علم کی آگ میں کود گیا اور اس کے عذاب کو جان لیا۔ مطلب یہ ہے کہ مغربی علوم پڑھنے کے بعد اقبال کو اس تعلیم کی خرابی کا بخوبی علم ہوگیا اور یہ کہ انہوں نے اس کے بعد یہ ضروری جانا کہ اپنی قوم کو اس تعلیم کی عدم بھلائی کا پہلو دکھائیں کیونکہ ان کی خرابیوں سے وہ ذاتی طور پر آگاہ ہو گئے تھے۔

مجھے وہ درسِ فرنگ آج ياد آتے ہيں

کہاں حضور کی لذت، کہاں حجاب دليل!

اقبال نے اپنی کتاب "بالِ جبریل" کی ایک اور غزل کے مندرجہ بالا شعر میں پیغام دیا ہے کہ میں نے کئی سال تک فرنگی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی، اس وقت وہ تعلیم بڑی دلکش معلوم ہوتی تھی۔ اساتذہ مختلف نظریات سے متعارف کراتے تھے، ان کے خلاف اور حق میں دلائل دیتے تھے اور اس طرح میں سمجھتا تھا کہ میں نے اعلیٰ درجے کا علم حاصل کر لیا ہے۔ لیکن آج جب میں وجدانی علم سے آشنا ہوا ہوں جو دلائل کی اوپری سطح کے بجائے؛ چیزوں کی حقیقت واضح طور پر دکھا دیتا ہے؛ تو مجھے فرنگی اساتذہ کے درس اور اہل نظر کے درس میں فرق کا پتا چلا۔ وہ علم دلائل سے پُر تھا پھر بھی حقیقت پنہاں رہ جاتی تھی؛ مگر اہلِ نظر کی توجہ سے دلائل کے بغیر ہی حقیقت روشن ہو گئی ہے۔ ہم اس پیغام کی گہرائی میں ذرا توقف کے بعد اتریں گے پہلے اقبال ہی کا ایک اور شعر پڑھ لیتے ہیں۔ جو ایک واضع پیغام ہے۔اور آج بھی ضروری ہے۔

 

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

 کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

علامہ اقبال کی کتاب "ضرب کلیم" کی ایک غزل کے اس شعر میں اپنے فلسفۂ خودی کی روشنی میں ایک نہایت اہم نکتہ بیان کر رہے ہیں۔ وہ انسان کو خبردار کرتے ہیں کہ اندھی تقلید، یعنی دوسروں کے خیالات، رسم و رواج اور نظریات کو بغیر سوچے سمجھے اختیار کرنا، انسان کی خودی کو ناکارہ اور بے اثر کر دیتا ہے۔ "خودی" اقبال کے نزدیک انسان کی انفرادیت، شعور، خوداعتمادی، اور خداداد بصیرت کا نام ہے۔ جب انسان صرف دوسروں کے راستے پر چلتا ہے، خود غور و فکر اور تخلیق کا عمل ترک کر دیتا ہے، تو اس کی خودی ماند پڑ جاتی ہے، وہ اپنی اصل پہچان کھو دیتا ہے۔

اقبال تلقین کرتے ہیں کہ اپنی خودی کی حفاظت کرو کیونکہ یہ کوئی عام شے نہیں، بلکہ ایک نایاب اور قیمتی گوہر ہے۔ اگر اسے ضائع کر دیا جائے تو انسان اپنی اصل حیثیت، اپنی روحانی طاقت اور دنیا میں اپنے مقام سے محروم ہو جاتا ہے۔ اقبال کا پیغام واضح ہے کہ تقلید کی زنجیروں کو توڑو، اپنے اندر کی روشنی پر اعتماد کرو، اور اپنی خودی کو محفوظ رکھو، کیونکہ یہی انسان کا اصل سرمایہ اور کامیابی کا راز ہے۔

 

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کا اصل پیغام یہ ہے کہ مغربی نظام تعلیم نے مسلمانوں کی خودی کو غلام کردیا ہے اور جس سےاس کی روح قید ہوگئی ہے اور وہ اندھوں کی طرح تقلید پر آمادہ ہوگیا ہے۔ مغربی طرزِ زندگی کی اندھا دھند تقلید سے شاید مسلمان کو لذتِ دنیا تو حاصل ہوجاتی ہے؛ مگر وہ اس گوہرِ یگانہ سے محروم ہوجاتا ہے جو کلمہ گو کے طور پر اسکی فطرت کا خاصہ ہونا چاہیے چنانچہ وہ اس مقام سے دور ہوجاتا ہے جہاں حجاب کے پردوں میں حاضری کی لذت ملتی ہے۔ وہ دنیا جہاں "علم الکتاب" اور "علم لدنی" تقسیم ہوتی ہے۔ مگر وہ لذاتِ دنیا اور شہوات نفس کی طلب کے بغیر ملتی ہے۔ مغربی طرذ تعلیم صرف دنیا کی طلب کا راستہ ہے اور مسلمان کے لیے یہ کوئی سفر ہی نہیں۔

 

مَیں نے تو کِیا پردۂ اسرار کو بھی چاک

 دیرینہ ہے تیرا مَرضِ کور نگاہی

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے "بالِ جبریل " کی غزل کے مندرجہ بالا شعر میں کہا ہے کہ میں نے کائنات کے چھپے ہوئے رازوں کو، ان پر پڑے ہوئے پردے ہٹا کر، سب پر ظاہر کر دیا ہے مگر لگتا ہے کہ لوگ مدت سے عارضۂ چشم میں مبتلا ہیں، انہیں نظر آنا بند ہو گیا ہے اس لیے وہ میرے ظاہر کیے ہوۓ رازوں کو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ یہ لوگ مستقل طور پر نابینا ہو چکے ہیں۔ ہند کا مسلمان انگریزی نظام تعلیم کا ایسا شکار ہوا کہ اعلی اور ارفع مقاصد کو چھوڑ کر مکروہ زندگی کا طالب ہوگیا اور آزادی کے بعد بھی آزد نہیں ہوسکا۔ فکری غلامی نے روح کی پاکیزگی کو اتنا پراگندہ کردیا کہ آس وقت کا اور آج کا مسلمان بھی کم ذوق ہوگیا ہے؛ اسے ستاروں پر کمند ڈالنے کی طلب ہی نہیں ہے۔

 

حریم تیرا، خودی غیر کی! معاذاللہ

 دوبارہ زندہ نہ کر کاروبارِ لات و منات

علامہ محمد اقبالؒ نے "ضربِ کلیم" کی نظم "تیاتر (تھیٹر)" کے مندرجہ بالا شعر میں فرماتے کہ تیرا اندرون، تیرا دل، تیری ذات؛ یہاں "حریم" سے مراد انسان کا اپنا باطنی وجود ہے؛ جو سب سے زیادہ پاکیزہ اور قابلِ احترام ہے وہ اگر غیر کی خودی کے تابع ہو جائے، تو یہ نہایت افسوسناک اور خطرناک بات ہے۔ یعنی تیرا دل اللہ کے سوا کسی اور کے تصرف میں چلا جائے، تیرے افکار، ارادے، خواہشات اور فیصلے کسی اور کے اثر یا غلامی میں آ جائیں، تو گویا تُو نے اپنے دل میں غیر اللہ کو بسا لیا۔"معاذ اللہ" یعنی اقبال اس روحانی انحطاط سے پناہ مانگتے ہیں۔

پھر دوسرے مصرع میں وہ خبردار کرتے ہیں کہ ایسا کرنا دراصل زمانۂ جاہلیت کے بتوں لات و منات کا کاروبار دوبارہ زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ یعنی اگر انسان اپنے دل و دماغ کو غیر اللہ کے نظریات، طاقتوں یا مادی خواہشات کے تابع کرے، تو وہ شرکِ جدید میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اقبال یہاں انسان کو اس کی باطنی آزادی، خودداری اور توحیدی خودی کی طرف بلاتے ہیں کہ وہ صرف اللہ کا بندہ بنے، نہ کہ زمانے کے بتوں (خواہ وہ سیاسی ہوں، فکری ہوں یا مادی) کا غلام۔ اور ہم دیکھ رہے کہ کچھ عرصے قبل عرب قوم کس طرح بت سازی اور بت پرستی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اور دنیاوی ترقی کی ڈور کیسے مسلمان حکمرانوں کو اندھا کئے ہوئے ہے؟ اور کیسے عام مسلمان بھی اپنی روح کا سودا کررہاہے؟

 

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

کیا آج ہم امت مسلمہ نہیں جانتی کہ ہمارا نصب العین حیات کیا ہے؟ کیا علامہ اقبال نے واضع نہیں کیا کہ اگر قوم مسلم نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے وفا کی؛ یعنی سنت رسول کی پیروی کی؛ تو اللہ بھی ہمارا ہوگا؟ یہ جہاں تو کوئی شے ہے ہی نہیں بلکہ لوح و قلم بھی تیرے ہو جائیں گے۔ یعنی ساری دنیا تیرے سامنے سرنگوں ہو جائے گی۔ مگر ہائے افسوس کہ ساری کی ساری امت مسلمہ مغربی تہزیب کے آگے سجدہ ریز ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے پیغام دیا کہ اگر مسلمان حضورنبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر کماحقہ عمل کریں تو صرف یہ دنیا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات مسلمانوں کے آگے جھک جائے گی۔

 

عزیزان وطن؛ یہ اللہ سبحان تعالی کا احسان ہے کہ ہمیں آقائے دوجہاں، شافع محشر، امام المرسلین، رحمت اللعالمین محمدﷺ کا امتی بنایا، اور یہ احسان بھی کیا کہ ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ ریاست اسلام کا شہری پیدا کیا۔ اب ضرورت صرف اس ریاست کو اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی یعنی قرآن اور سنتِ رسولﷺ کے تابع کرنا ہے۔ اللہ رب کریم ہمیں آقا محمدﷺ کی کامل غلامی عطا فرمائے؛ ہمیں اغیار کی فکری اور معاشی غلامی سے نجات عطا فرمائے؛ اور اس قابل فرمائے کہ کل روز قیامت اللہ تعالی کےحضور آپنے آقا محمدﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین ثم آمین

اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹

اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على ابراهيم و على آل ابراهيم انك حميد مجيد 🌹


NOTE: یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی

More Posts