Muhammad Asif Raza 16 hours ago
Muhammad Asif Raza #education

سیرت النبیﷺ ؛ عمرانیات و شہریات

The holy prophet of Islam Muhammad (PBUH) lived only 23 years after declaration of prophethood at the age of 40 in Makkah.He spent 13 years there in preaching facing extreme hardship at the hands of his own blood relations. Then, Holy Prophet (PBUH) migrated to Medina and established state of Islam and provided a practical model for following. This write up in Urdu "سیرت النبیﷺ ؛ عمرانیات و شہریات" is opinion based on a seerat book from Anwar Ghazi.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


سیرت النبیﷺ ؛ عمرانیات و شہریات


عمرانیات کی تعریف معلوم کریں تو کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ "عمرانیات انگریزی زبان کے لفظ (سوشیالوجی) کا ترجمہ ہے۔ یہ عربی لفظ "عمران" سے ماخوذ ہے جس کے معنی آبادی اور معاشرت کے ہیں۔ یہ انسانی معاشرے، معاشرتی تعلقات، انسانی رویوں اور سماجی اداروں کا سائنسی مطالعہ ہے۔ اور اس کے بنیادی موضوعات میں سماجی گروہوں، اقدار، روایات، اور معاشرتی تبدیلیوں کی ساخت کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس مضمون کا مقصد اور بنیادی ہدف معاشرتی مسائل (جیسے غربت، جرائم اور عدم مساوات) کی وجوہات سمجھنا اور انہیں حل کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اور شہریات ک مضمون انسانی معاشرے میں شہریوں کے حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کا مطالعہ ہوتا ہے۔

اوپر کی تعریف کی کھوج میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ یہ شاید جدید دور کی دریافتیں ہیں مگر ہم ذرا ٹہر کی ایک مسلمان ہونے کے ناطے اپنے آقا خاتم الانبیاء رحمت العالمین محمدﷺ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں سیرحاصل بصیرت ملے گی کہ کوئی بھی علم ہو جو انسان کی بھلائی کا راستہ دکھاتی ہو وہ آقا کریمﷺ کی حدیث سے منور ملے گی۔

ذیل میں معروف کالم نگار جناب انور غازی صاحب کی کتاب سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ کچھ گذارشات نفسِ مضمون کی ضمن میں پیش کیا جاتا ہے۔

ماخذ ۔۔۔ سیرتِ رسول ﷺ کا اصل پیغام ۔

ایک مرتبہ ڈاکٹر محمد اقبال ”مسولینی“ سے ملے تو دورانِ گفتگو حضور ﷺ کی اس پالیسی کا ذکر کیا کہ شہر کی آبادی میں غیر ضروری اضافے کے بجائے دوسرے شہر آباد کیے جائیں ۔ مسولینی یہ سن کر مارے خوشی کے اُچھل پڑا ۔ کہنے لگا : ” شہری آبادی کی منصوبہ بندی کا اس سے بہتر حل دنیا میں موجود نہیں ہے " ۔

آج سے چودہ سو سال پہلے آپ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ مدینہ کی گلیاں کشادہ رکھو ۔ گلیوں کو گھروں کی وجہ سے تنگ نہ کرو ۔ ہر گلی اتنی کشادہ ہو کہ دو لدے ہوئے اونٹ آسانی سے گزرسکیں ۔ 14 سو سال بعد آج دنیا اس حکم پر عمل کررہی ہے ۔ شہروں میں تنگ گلیوں کو کشادہ کیا جارہا ہے ۔

آپ ﷺنے حکم دیا تھا کہ مدینہ کے بالکل درمیان میں مرکزی مارکیٹ قائم کی جائے ۔ اسے ”سوقِ مدینہ“ کا نام دیا گیا تھا ۔ آج کی تہذیب یافتہ دنیا کہتی ہے کہ جس شہر کے درمیان مارکیٹ نہ ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا ۔ آپ ﷺنے کہا تھا : ” یہ تمہاری مارکیٹ ہے ۔ اس میں ٹیکس نہ لگاﺅ ۔ “ آج دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مارکیٹ کو ٹیکس فری ہونا چاہیے ۔ دنیا بھر میں ڈیوٹی فری مارکیٹ کا رجحان فروغ پارہا ہے ۔


آپ ﷺ نے سود سے منع فرمایا تھا ۔ آج پوری دنیا میں فری ربا انڈسٹری فروغ پا رہی ہے ۔

آپ ﷺ نے ذخیرہ اندوزی سے منع کیا ۔ آج دنیا اس حکم پر عمل کرتی تو خوراک کا عالمی بحران کبھی پیدا نہ ہوتا ۔

آپ ﷺ نے فرمایا تھا سٹے سے نفع نہیں نقصان ہوتا ہے ، آج عالمی مالیاتی بحران نے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔

آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو منع کیا کہ درختوں کو نہ کاٹو ۔ کوئی علاقہ فتح ہو تو بھی درختوں کو آگ نہ لگاﺅ ۔ آج ماحولیاتی آلودگی دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے ۔ عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ۔ گلیشئرز پگھل رہے ہیں ۔ گرمی بڑھ رہی ہے ۔ یہ سب کچھ درختوں اور جنگلات کی کمی کی وجہ سے ہورہا ہے ۔


ایک شخص نے مدینہ کے بازار میں بھٹی لگالی ۔ حضرت عمرؓ نے اس کہا : ” تم بازار کو بند کرنا چاہتے ہو ؟ شہر سے باہر چلے جاﺅ ۔ “ آج دنیا بھر میں انڈسٹریل علاقے شہروں سے باہر قائم کیے جارہے ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے باہر ” محی النقیع “ نامی سیرگاہ بنوائی ۔ وہاں پیڑ پودے اس قدر لگوائے کہ وہ تفریح گاہ بن گئی ۔ گاہے گاہے رسول اللہ خود بھی وہاں آرام کے لیے تشریف لے جاتے ۔ آج صدیوں بعد ترقی یافتہ شہروں میں پارک قائم کیے جارہے ہیں ۔ آج کل شہریوں کی تفریح کے لیے ایسی تفریح گاہوں کو ضروری اور لازمی سمجھا جارہا ہے ۔

آپ ﷺ نے مدینہ کے مختلف قبائل کو جمع کرکے ”میثاقِ مدینہ“ تیار کیا ۔ 52 دفعات پر مشتمل یہ معاہدہ دراصل مدینہ کی شہری حکومت کا دستور العمل تھا ۔ اس معاہدے نے جہاں شہر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ، وہیں خانہ جنگیوں کو ختم کرکے مضبوط قوم بنادیا ۔ آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی خانہ جنگی ہے ۔ کئی ملک اس آگ میں جل رہے ہیں ۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے معاہدوں پر معاہدے رہے ہیں ۔


مدینہ میں مسجد نبوی کے صحن میں ہسپتال بنایا گیا تاکہ مریضوں کو جلد اور مفت علاج مہیا ہو ۔ آج ترقی یافتہ ممالک میں علاج حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے ۔ ماہانہ چیک اپ مفت کیے جاتے ہیں ۔

مسجد نبوی کو مرکزی سیکرٹریٹ کا درجہ حاصل تھا ۔ مدینہ بھر کی تمام گلیاں مسجد نبوی تک براہِ راست پہنچتی تھیں تاکہ کسی حاجت مند کو پہنچنے میں دشواری نہ ہو ۔ آج ریاست کے سربراہ اعلیٰ کی رہائش گاہ میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے ۔

آج سے صدیوں پہلے آپﷺ نے حکم دیا تھا کہ فجر کے بعد اور عصر کے بعد سونا نہیں چاہیے ۔ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے ۔ آج پوری دنیا اس کو مان رہی ہے کہ ان اوقات میں سونا طبی لحاظ سے انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ جدید سائنسی کہتی ہے کہ ان اوقات میں مستقل سونے کی عادت اپنانے والوں کو 9 مہلک بیماریاں لگ جاتی ہیں ۔ اگر ان اوقات ورزش کی جائے تو صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ رات کو جلدی سونا چاہیے ۔ عشاءکے بعد فضول گپ شپ سے منع فرمایا تھا ۔ آج پوری دنیا مان رہی ہے کہ رات کو جلدی سونا صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ رات دیر تک جاگنا بھی ہے ۔

آپ:ﷺ نے فرمایا کہ کھانا پینا سادہ رکھیں اور تھوڑی سی بھوک رکھ کر کھایا کریں ۔ آج پوری طبی دنیا مانتی ہے کہ سادہ خوراک سے صحت بہتر ہوتی ہے اور زیادہ کھانے سے معدے خراب ہوتے ہیں اور بیسیوں بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔

آپﷺ نے فرمایا تھا کہ سیدھے ہاتھ سے کھایا کرو اور ہر اچھا کام دائیں ہاتھ سے کیا کرو ۔ آج پوری دنیا مان رہی کہ سیدھے ہاتھ سے کھانے اور کام کرنے چاھے ۔

اختتامی کلمات

سماجیات عمرانیات (سوشیالوجی) یا شہریات انسانی معاشرے، سماجی رویوں، گروہی تعلقات اور معاشرتی اداروں کا سائنسی مطالعہ ہے۔ یہ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ افراد سماج سے کیسے جڑے ہیں، اور ثقافت، عقائد، اور سماجی تبدیلیاں انسانی زندگی پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں؟ اس میں خاندان، مذہب، تعلیم، معیشت اور سیاست جیسے اداروں کی ساخت اور معاشرے میں ان کے کردار کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ غربت، جرائم، بے روزگاری اور عدم مساوات جیسے سماجی مسائل کی وجوہات تلاش کر کے ان کے سدِباب کے لیے تجاویز دیتی ہے۔ اس علم سے ہم جان پاتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں اور معاشرتی گروہ (جیسے کمیونٹیز، تنظیمیں) کیسے تشکیل پاتے ہیں؟

آقا کریم محمدﷺ آخری نبی ہیں ور قرآن الحکیم آخری الہامی کتابِ ہدایت ہے؛ اس لیے یہ نکتہ ہمیشہ ذہن میں رہے کہ کوئی تہذیب کا دائرہ اور ساخت اللہ کی ہدایت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے او چونکہ آقاکریمﷺ کے بعد اب کوئی براہِ راست ہدایت نہیں تو پوری دلجمعی سے قرآن الحکیم اور سیرت النبیﷺ کو کھنگالیں تو نورِہدایت سے راستہ ضرور ملے گا۔ سماجیات عمرانیات (سوشیالوجی) یا شہریات کے ضمن میں آقا کریمﷺ کی مکہ اور مدینۃ الرسول کی زندگی ہمارے لیے روشن مثال ہے۔ محض تئیس سالہ زندگی کا دور سینکڑوں سال کے بعد بھی انسانی زندگی اور معاشرے کے لیے واضع مشعل راہ ہے۔ سیرت النبیﷺ پر کیا ہوا کام انسانی تہذیب کے لیے ایک بنیادی سبق ہے اگر ہم سیکھنا چاہیں تو۔ اور شاید اسی لیے علامہ اقبال نے یہ بات یوں کہی تھی۔

عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور

مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حُور و قصور

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں

جلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں

جدید تہذیب ابھی اپنی ابتداء میں تھی تو یہ ڈاکومنٹری امریکہ میں بنائی گئی تھی؛ آج انسانیت کہاں کھڑی ہے اور کیوںکر اس طرح کی ہوگئی ہے، اس پر ضرور سوچیے گا؟ شکریہ


Zimbabwe vs Bangladesh, 1st Match, Bangladesh tour of Zimbabwe 2026

Zimbabwe vs Bangladesh, 1st Match, Bangladesh tour of Zimbabwe 2026

1779964823.png
Bhalobet
43 minutes ago
Is AI the Destiny?

Is AI the Destiny?

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
55 minutes ago
Giants' Elimination: FIFA WC 2026

Giants' Elimination: FIFA WC 2026

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
2 hours ago
South Africa women's team's highest 10-run total in WT20I (2010-2026)

South Africa women's team's highest 10-run total in WT20I (2010-2026)

1779698854.jpg
Lara Decruz
2 hours ago

A Trusted Destination for Modern Online Gaming

A Trusted Destination for Modern Online Gaming

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocIO--ELsve7P9jDqD0SjbksyxfSX6eoZiEzFvDQTYl165_2Ow=s96-c
abdul saboor
2 hours ago