"سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا۔"
"سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا" (جب اپنا ہی کوئی اعلیٰ عہدے پر فائز ہو، تو پھر کسی چیز کا خوف کیسا) ایک ایسی ضرب المثل ہے جو معاشرے میں طاقت، اثر و رسوخ اور قانون کی دھجیاں اڑانے کی ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ جب ملک کے طاقت کے مراکز اور قانون اور انصاف کے عہدوں پر مامور افراد اپنے فرائض کو پسِ پشت ڈال کر ذاتی تعلقات، خاندانی رشتوں یا ناجائز وفاداریوں کو اولیت دینے لگیں، تو انصاف کا قتل عام ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ کا سب سے بڑا اور تسلی بخش سبق یہ بھی ہے کہ ظلم کا استعارہ کتنا ہی زور آور کیوں نہ ہو، بالآخر المناک انجام سے دوچار ہوتا ہے۔
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
"سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا"۔
"سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا": طاقت کا بہیمانہ رقص اور تاریخ کے سبق
"سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا" (جب اپنا ہی کوئی اعلیٰ عہدے پر فائز ہو، تو پھر کسی چیز کا خوف کیسا) ایک ایسی ضرب المثل ہے جو معاشرے میں طاقت، اثر و رسوخ اور قانون کی دھجیاں اڑانے کی ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ یہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ طاقت کے مراکز سے جڑے جائز و ناجائز رشتوں، اقربا پروری اور قانون کے دہرے معیار کا وہ المیہ ہے جس نے ہر دور میں انسانی معاشروں کو کھوکھلا کیا ہے۔
۱۔ ضرب المثل کا تاریخی پس منظر اور دلی کی گلیاں
یہ ضرب المثل مغلیہ سلطنت کے زوال اور دلی کے اواخر دور کی یادگار ہے۔ مغل دور میں 'کوتوال' شہر کا سب سے بڑا پولیس افسر یا قانون نافذ کرنے والا نگران ہوتا تھا، جس کے پاس مجرموں کو سزا دینے اور امن و امان قائم رکھنے کے وسیع اختیارات ہوتے تھے۔
دلی کی گلیوں سے جنم لینے والی اس کہاوت کے پیچھے ایک لوک کہانی مشہور ہے کہ ایک عام عورت کا شوہر (یا آشنا) جب دلی کا کوتوال مقرر ہوا، تو اس عورت نے غرور اور بے باکی سے گلیوں میں گھومنا اور قانون کو ہوا میں اڑانا شروع کر دیا۔ اس نے برملا کہا کہ جب میرا اپنا 'سیاں' ہی کوتوال بن گیا ہے، تو اب مجھے کسی قانون، سزا یا احتساب کا کیا ڈر؟ یہیں سے یہ فقرہ طاقت کے غلط استعمال اور قانون سے بالاتر ہونے کی علامت بن گیا۔
۲۔ تاتاریوں کا شیطانی رقص: دلی سے قبل کی لرزہ خیز تاریخ
اگرچہ دلی کی گلیوں نے طاقت کے اس غرور کا مشاہدہ مغلوں کے زوال میں کیا، لیکن تاریخِ انسانی نے اس سے کہیں پہلے، 1258ء میں سقوطِ بغداد کے وقت طاقت، ظلم اور شیطانیت کا وہ مکروہ کھیل دیکھا تھا کہ جس کے آگے دلی کے قصے بھی ہیچ نظر آتے ہیں۔ ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاریوں نے جب خلافتِ عباسیہ کے مرکز بغداد پر حملہ کیا، تو وہ کون سا ایسا فعل، گناہ یا بربریت تھی جو انہوں نے نہیں کی؟ ابلیس بھی ان کے اس بھیانک رقص پر حیران و ششدر رہ گیا ہوگا کہ جن وحشتوں کا تصور اس نے انسان کو بہکانے کے لیے کیا تھا، تاتاریوں نے اس سے کہیں بڑھ کر عملاً کر دکھایا۔
تاتاریوں نے 10 لاکھ کے قریب معصوموں کا بے دریغ قتلِ عام کیا، معصوم بچوں کو نیزوں کی انیوں پر اچھالا اور پاکدامن خواتین کی عصمت دری کی. انہوں نے نہ صرف انسانوں کو ذبح کیا بلکہ صدیوں پر محیط انسانی علم اور تہذیب کا سفاکانہ قتل کرتے ہوئے مشہورِ زمانہ کتب خانہ "بیت الحکمت" جلا کر راکھ کر دیا۔ دریائے دجلہ کا پانی کتابوں کی سیاہی سے کالا اور مظلوموں کے خون سے سرخ ہو گیا تھا۔ آخری عباسی خلیفہ المستعصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روند دیا گیا۔ یہ وحشت کا وہ ننگا ناچ تھا جسے دیکھ کر شیطان بھی شرما گیا ہو کہ اس نے تو صرف آدم کو سجدے سے انکار کیا تھا، لیکن آدم کی اولاد نے پوری بستی کو ہی جہنم بنا دیا۔
۳۔ طاقت کے مخصوص مراکز اور جائز و ناجائز رشتوں کا بہیمانہ گٹھ جوڑ
جب ملک کے طاقت کے مراکز اور قانون اور انصاف کے عہدوں پر مامور افراد اپنے فرائض کو پسِ پشت ڈال کر ذاتی تعلقات، خاندانی رشتوں یا ناجائز وفاداریوں کو اولیت دینے لگیں، تو انصاف کا قتل عام ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کے مراکز (سیاسی، عسکری یا انتظامی) کے گرد ایسے عناصر جمع ہوئے جنہوں نے قانون کو موم کی ناک بنا دیا، تو معاشرے میں ایک بہیمانہ رقص شروع ہوا۔ پھر اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے اور سارا عنانِ اقتدار رقاصہ کے آنگن میں ننگا رقص کرتا ہوا نظر آتا ہے، جہاں فیصلے ضمیر کے بجائے مفادات کی دھن پر ہوتے ہیں۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 'کوتوال' محض ایک روایتی عہدہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ریاست کے تمام طاقتور عہدوں، اداروں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی علامت ہے جن کے ہاتھ میں عوام کی تقدیر ہوتی ہے۔ جب یہ علامتی کوتوال اپنے قریبی لوگوں، چہیتوں اور سہولت کاروں کے جرائم پر آنکھیں بند کر لیتا ہے، تو معاشرے کا طاقتور طبقہ مزید شیر ہو جاتا ہے اور کمزور پامال ہوتا چلا جاتا ہے۔ جائز رشتوں (جیسے بھائی، بیٹا یا دوست) اور ناجائز رشتوں (جیسے رشوت خور، سفارشی یا جرائم پیشہ سرپرست) کا یہ گٹھ جوڑ بالآخر ریاست کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے اور وہ زوال کی اس نہج پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ ناممکن ہو جاتا ہے۔
۴۔ تاریخ کی چیخیں: "الحفیظ؛ الامان"
تاریخ کا کوئی بھی دور ہو، جب بھی 'کوتوالوں' نے اپنے 'سیاں' نوازنے کی پالیسی اپنائی، تاریخ تڑپ اٹھی اور مظلوموں کی زبان سے "الحفیظ و الامان" (اللہ کی پناہ، اللہ کی امان) کی صدائیں بلند ہوئیں۔
تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد کی بربادی ہو، دلی پر نادر شاہ کی غارت گری ہو، فرانسیسی انقلاب سے پہلے کا فرانس ہو، یا برصغیر میں انگریز راج کے پٹھو نوابوں کا دور—جہاں کہیں بھی قانون صرف غریب کے لیے رہ گیا اور امیر و بااثر افراد کے لیے موم کی ناک بن گیا، وہاں کے عوام نے شدید ترین مظالم جھیلے۔ تاریخ ایسی اندھیر نگری اور چوپٹ راج پر ہمیشہ خون کے آنسو روتی رہی ہے، جہاں انصاف بکتا ہے اور منصب دار اپنے پیاروں کے گناہوں پر پردہ ڈالتے ہیں۔
۵۔ اقربا پروری (نیپوٹزم) اور قانون کی بالادستی پر اس کے اثرات
اس ضرب المثل کا جدید اور سب سے خطرناک روپ اقربا پروری ہے۔ جب میرٹ کو کچل کر نااہل رشتہ داروں اور دوستوں کو اعلیٰ منصبوں پر بٹھایا جاتا ہے، تو قانون کی بالادستی کا جنازہ نکل جاتا ہے۔
• انصاف کی عدم فراہمی: جب ادارے ذاتی پسند ناپسند پر چلتے ہیں، تو عام آدمی کا عدالتوں اور پولیس سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
• جرائم کی پشت پناہی: "سیاں بھئے کوتوال" کی ذہنیت مجرموں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، جس سے معاشرے میں جرم بے خوف ہو کر پنپتا ہے۔
• اداروں کی تباہی: جب کوتوالی (انتظامیہ) سفارش پر ملے، تو وہ ریاست کے وفادار رہنے کے بجائے اپنے آقاؤں یا رشتہ داروں کے وفادار بن جاتے ہیں، جس سے پورا نظامِ حکومت مفلوج ہو جاتا ہے۔
حاصلِ کلام
"سیاں ہوئے کوتوال تو پھر ڈر کاہے کا" محض ماضی کا ایک قصہ نہیں، بلکہ ایک ابدی تلخ حقیقت ہے جو ہر دور میں—آج بھی اور آنے والے کل بھی—اتنی ہی سچی ہے جتنی صدیوں پہلے دلی کی گلیوں میں تھی۔ کسی بھی معاشرے کی بقا اور ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ قانون کی نظر میں 'سیاں' اور 'اجنبی' سب برابر ہوں۔ جب تک کوتوال اپنے منصب پہ قانون اور انصاف کا روادار نہیں ہوگا اور قانون سب کے لیے یکساں نافذ نہیں ہوگا، تب تک معاشرہ امن اور حقیقی خوشحالی کا منہ نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی ہلاکو خان جیسے ہلاکت کے راستے روکے جا سکتے ہیں۔
لیکن تاریخ کا سب سے بڑا اور تسلی بخش سبق یہ بھی ہے کہ ظلم کا استعارہ کتنا ہی زور آور کیوں نہ ہو، بالآخر المناک انجام سے دوچار ہوتا ہے۔ فرعونوں، نمرودوں، ہلاکو خانوں اور جابر کوتوالوں کا عروج عارضی ہوتا ہے، جبکہ مکافاتِ عمل کا قانون اٹل ہے۔ انصاف کی پامالی پر رقص کرنے والی طاقتیں آخرکار خود اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھوں میں گر کر عبرت کا نشان بن جاتی ہیں، اور فتح ہمیشہ حق اور سچے انصاف کی ہی ہوتی ہے۔