Muhammad Asif Raza 2 months ago
Muhammad Asif Raza #events

سرسیدین: ایک فخریہ ورثہ

Sir Syed Public School Tipu Road Rawalpindi is a prime educational Institution of the city, since its establishment in 1956. Then it was the only private English Medium school of the area. It was established by Aligarh University Old Boys Association of Pakistan for the purpose of instigating and cultivating "Aligarh Spirit". This write up is about a gathering of Sir Syed Public School Alminai (The SirSyedian) consisting of Batch 1975-76.

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


سرسیدین: ایک فخریہ ورثہ


سرزمینِ برصغیر بنگلہ ہند وپاک صدیوں سے انسانی تہذیب کا ورثہ اپنےجلو میں آباد رکھے ہوئی ہے۔ سرزمینِ برصغیر ہند و پاک ایک قدیم اور مالامال تہذیب کا گہوارہ ہے، جہاں مختلف مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں صدیوں سے ایک ساتھ آباد ہیں۔ یہ خطہ اپنی رنگین تاریخ، صوفی ازم، فنونِ لطیفہ اور مشترکہ ورثے کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

یہاں وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب نے جنم لیا جو دنیا کی پہلی شہری بستیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسلام، ہندومت، بدھ مت، سکھ مت اور جین مت سمیت کئی مذاہب یہاں پروان چڑھے۔ تاج محل، مغل دور کی عمارتیں اور گندھارا آرٹ اس خطے کی فنی عظمت کی روشن مثالیں ہیں۔ اردو، ہندی، فارسی، اور دیگر علاقائی زبانوں کا باہم میل جول اس خطے کی علم و فن کی ادبی وسعت اور تہذیبی ورثےکا مظہر ہے۔

مذہبِ اسلام اور اس کے ماننے والے مسلمان یہاں ایک ہزار سال تک حکمران رہے ہیں۔ برصغیر میں مسلم حکمرانی کا دورانیہ تقریباً ایک ہزار سال پر محیط ہے، جس کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی کے اوائل سے ہوا اور خاتمہ انیسویں صدی کے وسط میں انگریزوں کے قبضے پر ہوا۔ اس طویل دور نے خطے کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

اس ایک ہزار سالہ دور کی خاص بات یہ تھی کہ مسلم حکمرانوں نے یہاں کی مقامی آبادی کو بیگانگی کا احساس نہیں ہونے دیا، بلکہ ایک ایسی مشترکہ گنگا جمنی تہذیب کو جنم دیا جس کے اثرات آج بھی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے طرزِ زندگی، زبان (جیسے اردو کا وجود) اور فنِ تعمیر میں نمایاں ہیں۔ برصغیر میں مسلمانوں کا علم کی تدریس اور تحصیل میں نمایاں کردار رہا ہے۔

برصغیر میں ایک ہزار سالہ مسلم دور صرف سیاسی فتوحات کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ علم و دانش، تحقیق اور تدریس کا سنہری دور تھا۔ مسلم حکمرانوں، صوفیاء اور علماء نے تعلیم کو عام کرنے کے لیے ایک ایسا مضبوط نظام وضع کیا جس نے مقامی آبادی کی فکری کایا پلٹ دی۔ مسلم دور میں تعلیم کو ریاست اور معاشرے کی اولین ترجیح بنایا گیا۔ ہر مسجد کے ساتھ ایک مکتب (ابتدائی تعلیم کے لیے) اور بڑے شہروں میں مدارس (اعلیٰ تعلیم کے لیے) قائم کیے گئے۔

مدارس میں تعلیم، رہائش اور خوراک کا سارا خرچ شاہی اوقاف یا مخیر حضرات اٹھاتے تھے۔ طلبہ کو نقد وظائف بھی دیے جاتے تھے۔ دہلی، لاہور، جونپور (جسے "شیرازِ ہند" کہا جاتا تھا)، ملتان، احمد آباد اور لکھنؤ علم کے عظیم بین الاقوامی مراکز بن کر ابھرے۔ مسلمانوں نے تعلیم کو صرف مذہبی علوم تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ایک متوازن نصاب تیار کیا۔ نصاب میں جہاں قرآن، حدیث اور فقہ (منقولات) شامل تھے، وہی منطق، فلسفہ، ریاضی، فلکیات، طب اور جیومیٹری (معقولات) کو لازمی حیثیت حاصل تھی۔

علم کی ترویج کے لیے بڑے پیمانے پر لائبریریاں قائم کی گئیں اور سنسکرت کتب کے ترجمے کروائے گئے۔ صوفیاء نے علم کو شاہی محلات سے نکال کر غریب اور پسماندہ عوام تک پہنچایا۔ ان کی خانقاہیں صرف عبادت گاہیں نہیں تھیں بلکہ عوامی یونیورسٹیاں تھیں جہاں اخلاقیات، انسانیت اور بنیادی علوم سکھائے جاتے تھے۔ انہوں نے مقامی زبانوں کو اپنا کر ان میں علم پھیلایا، جس سے خطے کی علاقائی زبانوں (جیسے پنجابی، سندھی، پشتو، اور بنگالی) کو علمی و ادبی زبان بننے کا موقع ملا۔

مختصر یہ کہ مسلمانوں کے تعلیمی نیٹ ورک نے برصغیر کی شرحِ خواندگی کو اس دور کے لحاظ سے بہت بلند کر دیا تھا، یہاں تک کہ برطانوی مورخین (جیسے جی ڈبلیو لیتنر) کی رپورٹس کے مطابق، انگریزوں کے آنے سے پہلے پنجاب اور بنگال کے تقریباً ہر گاؤں میں ایک اسکول موجود تھا جو مسلم دور کے تعلیمی نظام کا تسلسل تھا۔


"ہر کمالِ را زوالے" کے مصداق اورنگزیب کی وفات (1707ء) کے بعد مغل اقتدار کمزور ہوتا گیا۔ بالآخر 1857ء کی جنگِ آزادی میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی معزولی کے ساتھ ہی برصغیر پر مسلمانوں کی باقاعدہ حکمرانی کا سورج غروب ہو گیا۔ اور اس کے بعد تاجِ برطانیہ کے لٹیروں ایسٹ انڈیا کمپنی نےایک استحصالی نظام نافذ کیا تاکہ "سونے کی چڑیا" کو صحیح معنوں میں نوچا کھسوٹا جا سکے۔ اس کے لیے انگریزی زبان کو سیکھنا لازم قرار دیا اور غیر انگریزی دان کو جاہل قرار دیا گیا۔ نتیجتا" سارا ہندوستان بے علم ہوگیا۔

مسلمان علماء نے انگریزی زبان سیکھنا حرام قرار دیا تومسلمانوں کے لیےعلم کی تحصیل کے سب راستے بند ہوگئے۔ مسلمان علماء کا انگریزی زبان اور جدید علوم کے خلاف فتویٰ محض علم دشمنی پر مبنی نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے سیاسی، مذہبی اور اسٹریٹجک وجوہات تھیں۔ ان حالات میں سر سید احمد خان نے بھانپ لیا تھا کہ انگریزی زبان اور جدید سائنسی علوم سیکھے بغیر مسلمان معاشی اور سیاسی طور پر ہندوؤں اور انگریزوں کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ انہوں نے علماء کی مخالفت کے باوجود ایم اے او کالج علی گڑھ قائم کیا، جہاں انگریزی، سائنس اور جدید علوم کو اسلامی ماحول میں پڑھایا گیا۔ وقت نے ثابت کیا کہ سر سید کا یہ قدم مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے لیے لائف لائن ثابت ہوا، اور اسی ادارے نے تحریکِ پاکستان کے رہنما پیدا کیے۔

تحریکِ علی گڑھ نے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ 1857ء کی ناکامی کے بعد جب مسلمان ایک گہرے سیاسی، معاشی اور فکری بحران کا شکار تھے، تو سر سید احمد خان کی اس تحریک نے انہیں دوبارہ ایک زندہ اور متحرک قوم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مسلمان جو انگریزی زبان سے دوری کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں اور کاروبار میں ہندوؤں سے پچاس سال پیچھے رہ گئے تھے، وہ اب تعلیم یافتہ ہو کر اہم عہدوں پر فائز ہونے لگے۔

تحریکِ پاکستان کے صفِ اول کے رہنما مثلاً مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، نواب محسن الملک، نواب وقار الملک، اور لیاقت علی خان (پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم) سب علی گڑھ کے ہی پودے تھے۔ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے علی گڑھ کے طلبہ کے جذبے کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ "علی گڑھ مسلم انڈیا کا اسلحہ خانہ (ارسنل) ہے"، جہاں سے تحریکِ پاکستان کو فکری اور افرادی قوت مل رہی تھی۔


"علیگڑھ اسپرٹ" (روحِ علی گڑھ) یا علیگڑھ کے فارغ التحصیل طلبہ (الومینائی) نے قیامِ پاکستان کے بعد سر سید احمد خان کے تعلیمی مشن کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ پاکستان بھر میں اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں قائم کیں۔ علی گڑھ کے سابق طلبہ نے پاکستان ہجرت کی اور یہاں علی گڑھ یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن آف پاکستان (اے ایم یو او بی اے) قائم کی؛ اس تنظیم اور "علیگڑھ اسپرٹ" کے تحت پاکستان میں اہم تعلیمی خدمات سرانجام دی گئیں۔

علیگڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن اور علیگڑھ کے جذبے سے سرشار مخیر حضرات نے پاکستان کے مختلف شہروں میں اسکول اور کالج قائم کیے۔ اس کا مقصد سر سید احمد خان کے نام کو زندہ رکھنا اور نئی نسل کو جدید ترین سائنسی و انجینئرنگ کی تعلیم دینا رہا۔ پاکستان میں ان اسکولوں اور اداروں کو کھولنے کا مقصد صرف ڈگریاں بانٹنا نہیں تھا، بلکہ "علیگڑھ کے ماحول" کو سرزمینِ پاکستان میں پیدا کرنا تھا، جس کی خصوصیات میں جدید سائنسی علوم اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کا تحفظ؛ طلبہ میں نظم و ضبط، تہذیب، اور لیڈرشپ کی خصوصیات پیدا کرنا اور اردو زبان کی ترویج اور محبت شامل تھی۔

سرسید پبلک اسکول، ٹیپو روڈ، راول پنڈی کا قیام بھی اسی "علیگڑھ اسپرٹ" کے مقصد کے تحت 1956 میں ہوا۔ اپنے قیام سے آجتک کے ستر 70 سالوں سرسید پبلک اسکول نے ہزاروں طلباء کو علم کی روشنی سے ممتاز کیا ہے۔ اسکول ایک تعلیمی ادارہ ہے جہاں بچوں اور نوجوانوں کو باقاعدہ طور پر علم، ہنر اور اخلاقی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ وہ پہلی باضابطہ درسگاہ ہے جو کسی فرد کی ذہنی، سماجی اور شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اور اس کے لیے اسکول کھیل کود، تقریر، اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔

کسی بھی تعلیمی نظام میں استاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اسکول میں استاد کا کردار صرف کتابی سبق پڑھانے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک رہنما، مصلح اور

معمارِ قوم ہوتا ہے۔ استاد کلاس روم میں وقت کی پابندی اور اصولوں پر عمل درآمد سکھاتا ہے اور بچوں کو اچھے برے کی تمیز اور ان کی بہترین اخلاقی پرورش کرتا ہے۔

استاد علم کے راستے میں مشکل تصورات کو آسان اور دلچسپ بنا کر طلبہ کے ذہنوں تک پہنچاتا ہے اور طلبہ کی نفسیاتی، تعلیمی اور ذاتی الجھنوں کو سمجھ کر ان کا حل تلاش تجویز کرتا ہے۔

سرسید پبلک اسکول کو سنہری دور شروع ہوا جب جناب محترم شفیع منصور نے پرنسپل کا عہدہ سنبھالا اور اس کا اظہار انکے زیرِ تربیت اور فارغ التحصیل طلبہ کی اٹھان سے ہوتا ہے۔ یہ 1982 کی بات ہے؛ محترم شفیع منصور کی شاعری کا دیوان " غمِ رائگاں" کی تقریب رونمائی تھی۔ اس تقریب میں ایک علیگی رہنماء نے کہا تھا کہ" شفیع منصور آپ نے یہ کتاب شائع کردی اور صاحبِ کتاب بن گئے ہیں؛ مگر جو چیز آپ کو امر کررہی ہے وہ ہزاروں زندہ روحیں آپکے طلباء ہیں جو آپ کی روشنی سے فیض پا رہی ہیں"۔

ان بزرگ علیگی رہنماء نے بلکل درست بات کی تھی اور یہ بات اس سامع کو بہت سالوں بعد واضع ہوئی ہے۔ سرسیدیں ہونا محض ایک روایتی بات نہیں ہے کہ اسکول میں پڑھا تو بن گئے۔ یہ ایک صدی سے زیادہ برصغیر کے مسلماںوں کی فکری تہذیب سے جڑا ہونا ہے۔ یہ جدید سائنسی علوم اور انگریزی پہ عبور کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کا تحفظ؛ زندگی میں نظم و ضبط رکھنا، تہذیب کی پاسداری کرنا، اور پر خلوص ایماندار قیادت فراہم کرنا اور محبت میں گوندھی اردو زبان کی ترویج کرنا ہوتا ہے۔

محترم شفیع منصور بطور پرنسپل صرف طلباء کو نہیں پڑھاتے تھے؛ جیسا کہ متعدد اساتذہ نے فرمایا کہ "وہ ہمارے استاد بھی تھے"۔ وہ 1970 اور 80 کی استاد بھی کیا کمال کے انسان تھے۔ وہ علم صرف بانٹے نہیں تھے بلکہ ٹھونستے بھی تھے اور کئی "بابے" بتاتے ہیں کہ باضابطہ ڈنڈا رسید ہوکر کوٹ کوٹ کر بھرتے تھے، کہ کچھ نہ کچھ تو اندر رہ جائے گا۔ بہت سے "بابے" بتاتے ہیں کہ انکو کافی افاقہ ہوا تھا اور اس "دوائی" ہی کے سبب وہ زندگی کا یہ دریا پاٹ کرپائے ہیں۔ اللہ سبحان تعالی ان تمام اساتذہ مرحومین کی بشری کمزوریوں سے مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

اس مضمون کو لکھنے کی وجہ سرسیدین کے"بابوں" کی ایک بیٹھک ہے جو 1975 اور 1976 کے بیچ کے ہیں۔ عزت مآب جناب ظفراقبال، جو امریکہ پدھار گئے ہیں اور آجکل وطن آئے ہوئے ہیں، نے اپنے ساتھیوں کا اکھٹا کیا اور ایک شام اسکول کی ساتھیوں کےنام کی۔ اور بحریہ ٹاون فیز فور کی مشہور طعام گاہ "بستی" میں عشائیہ کی دعوت کا اہتما کیا۔ اس دعوت میں ایک 1983 بیچ والا میں بھی موجود تھا اور یہ تحریر وہ قرض ہے جو میری محترم استاد میم سیدہ سعیدہ فہیم نے سکھایا تھا؛ سو ادا کررہا ہوں۔

اس وقت ایک میٹرک کی جماعت محدود تعداد میں ہوتی تھی۔ یہی کوئی پندرہ بیس ۔ اس لیے تقریبا" ایک درجن کی حاضری بہت خوشکن اور صحتمند تھا۔ اس محفل کے شرکاء میں محترم اصحاب ظفر اقبال، ظفر حسین بمعہ بیٹا۔ اشفاق مرزا بمعہ بیٹا، خالد جاوید، عبد الغنی، رضوان حسن، شاہد رشید، بلال احمد اور سید خالد محمود شامل تھے۔

ان میں ڈاکٹرز ہیں، انجینئرز ہیں، وکیل ہیں، فوجی بھی ہیں۔ ان سب اصحاب کی کامیابی انکی گوناگوں محنت شاقہ کا نتجیہ ہے؛ مگر اس کی بنیاد سرسید پبلک اسکول کے سب محترم اساتذہ کرام کی کوششیں رہی تھیں۔ وہ کہتے ہیں سر پرنسپل، میم خالدہ پروین، (یہ بات بعد کے بچوں کے لیے حیرت کدہ ہوگی کہ مس خالدہ ایک وقت میں انکے ساتھ کرکٹ بھی کھیلتی تھیں)، محترم معراج خالد سر؛ سر سید کلیم، سر راجہ ریاض، سر قادر اور دیگر۔

مجھے جناب خالد محمود نے مدعو کیا تھا جو میرے سسرالی نسبتی ماموں ہیں۔ میرے لیے یہ سب انتہائی محترم ہستیاں ہیں کہ جب میں 1975 میں اسکول میں داخل کرایا گیا تو یہ میٹرک بورڈ کے پیپرز دے رہے تھے۔ اس زمانے میں بورڈ کے امتحانات ایک مہیب طوفان سے گزرنا سمجھا جاتا تھا اور کہتے تھے کہ کامیاب ہونے والا جنات میں سے ہوتا تھا۔ جس کو دیکھو انگریزی، ریاضی یا سائنس کے مضمون کا شکار ہوکر ابا کے کاروبار میں لگ جاتا تھا۔

اس زمانے میں بورڈ کا پاس اوسط بیس پچیس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ اور ان کامیاب نوجوانوں کی بڑی تعداد تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوتی تھی اور اسی فیصد سے زیادہ نمبر لینے والا ارسطو کا شاگرد سمجھا جاتا تھا۔

ان حالات میں محترم شفیع منصور کا یہ چیلنج کہ "ساری کلاس فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہو تو بہترین ہوٹل میں طعام کھائے"؛ کوئی آسان کام نہ تھا۔۔۔ کئی سال لگے اور یہ کارنامہ پہلے دفعہ 1983 کے بیج نے کیا جس میں یہ لکھاری بھی شامل تھا۔

سرسیدین 75-76 کے یہ واحد "بابے" نہیں ہیں اور متعدد کئی اور بھی ہیں اور کتنا اچھا ہوکہ ہم سرسیدین "بابے" ایک تنظیم بن جائیں اور ایسے مقامات طعام اور بیٹھک کی محفل منعقد کریں۔ اور کچھ نہیں تو گپ شپ کرلیں گے؛ روٹی شوٹی کھا لیں گے اور اپنے مرحوم اساتذہ کرام اور خود اپنے مرحوم ساتھیوں کے لیے دعائے خیر کرلیں گے۔ یہ یاد رہے کہ چالیس پچاس سال قبل ہم خواب دیکھ رہے تھے، نوجوانی کی دہلیز پہ تھے اور اب چل چلاو کا موسم ہے؛ اس لیے آتے جاتے؛ ملتے جلتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ ہم سرسیدین ایک قابلِ فخر ورثہ ہیں۔

1
250
What Factors Decide the Rate of Interest for Personal Loan Applications Today?

What Factors Decide the Rate of Interest for Personal Loan Application...

defaultuser.png
Priyanka Sharma
27 seconds ago
Startup Patent Attorney: Build Long-Term IP Strategy | EVLG

Startup Patent Attorney: Build Long-Term IP Strategy | EVLG

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocKXJvcwRRhJFjF9RJi16esF-EtupL2FLaoJZLv0INPoa9NIIQ=s96-c
EVLG
6 minutes ago

Facials Jupiter Residents Can Book Without Sitting in Traffic

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocLCmoecIG-PEuEoiAYr1u60SFoOz5h_pZbd9ve6sCwybVmeMA=s96-c
Yannick
8 minutes ago
When Is Circumcision Recommended for Children and Adults?

When Is Circumcision Recommended for Children and Adults?

https://lh3.googleusercontent.com/a/ACg8ocJqzWx_1eGGFOlUCGrNXYp8le0p3UKnIXSPDpE_sS6ICuwT3A=s96-c
Gm irfan
23 minutes ago
The War of Sanctions

The War of Sanctions

1714584133.jpg
Muhammad Asif Raza
27 minutes ago