"صراط المستقیم؛ "وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا

Life is a journey; it is pleasant, beautiful and enjoyable too, but it offers its bounty to only those who undertake this journey as per some principles and time tested methods. ALLAH the Almighty has sent divine guidance through various prophets and Al Quran is the final Holy Book revealed upon the Last of Prophets Hazrat Muhammad (PBUH). The divine guidance helped humans to formulate their life for better livings. This write up in Urdu "الصراط المستقيم؛ "وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا" is a discussion about saying nice things to people for betterment of any individual or nation.

Aug 24, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

"صراط المستقیم؛"وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا

 

مسلمان سورۃ الفاتحہ کی تلاوت میں عرض گذار ہوتا ہے "اهدنا الصراط المستقيم"؛ یعنی ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان اس قول کا حامل بنتا ہے "يقول ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة"؛ "یعنی اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما"۔

الصراط المستقیم دنیا و آخرت میں حسنۃ یا خیر و بھلائی کی تلاش کا راستہ ہے۔ دنیا کی بھلائی میں ہر اچھی اور مفید شے داخل ہے خواہ وہ کفایت کرنے والا رزق ہو یا اچھا گھر یا اچھی بیوی یا اچھی سواری یا اچھا پڑوس وغیرہا۔ آخرت کی بھلائی تو ہی مغز یعنی اصل مقصد زندگی۔ ہم یہاں پہلے دنیا کی زندگی میں خیر تلاش کرتے ہیں؛ مگر وہ تلاش نکلے گا الصراط المستقیم سے؛ یعنی اس دنیا میں زندگی گذارنے کا سیدھا طریقہ، سیدھا راستہ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ کیا ہے؟

اللہ سبحان تعالی نے سورۃ يٰـسٓ کی آیات 60-61 میں فرمایا ہے کہ

اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ صِرَاطٌ مُّسْتَقِـيْـمٌ یعنی سیدھا راستہ ہے۔

اوپر کی آیات کا ایک سبق یہ ہے کہ دنیا میں ایک حق سچ کا راستہ ہے اور دوسرا غلط یا گمراہی کا راستہ ہے۔ یاد رکھیے کہ بالکل اسی طرح اس دنیا کی زندگی میں ہر انسان کو ہر دم ہر لمحے ایک امتحان ایک آزمائش درپیش ہوتا ہے اور اس لمحے اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ صحیح راستہ چنتا ہے یا گمراہ ہوجاتا ہے؛ قانون کے درست سمت میں چلتا ہے یا مخالف سمت میں قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ہر انسان کو دن کے چوبس گھنٹوں میں بارہا ایسے مراحل طے کرنے ہوتے ہیں کہ وہ صحیح اور غلط میں کس چناو کو اختیار کرتا ہے۔

اس مضمون کا مقصد حیوان ناطق یعنی "حضرتِ انسان" کی سب سے بنیادی خصوصت اور اہلیت؛ جوہر و صنف "قول؛ گفتگو؛ بات چیت" پر روشنی ڈالنا ہے۔ تاریخ کے کسی بھی مضمون پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات اظمر من الشمش ہوجاتی ہے کہ مرتب کردہ تاریخ، انسانوں کے اقوال اور افعال کو قلم زد کرتی ہے؛ کہ کسی موقع پر کسی شخص نے کیا کہا اور کیا رائے رکھی۔ اس لیے یہ نہایت اہم اور ضروری ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کی زندگی میں اپنے قول اور کردار کی درستگی کو لازم رکھیں۔ زندگی میں صراط مستقیم کے سفر پر باہم اچھی گفتگو کا حسنۃ یہ ہوگا کہ ہم ہمیشہ سچ بولیں اور ہماری رائے سچ پر مبنی ہو اور کسی طرح معاشرتی اخلاق کے تقاضوں سے مختلف نہ ہو۔

وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا

 مثالی انسانی معاشروں کا ارتقاء، تعمیر، بقا اور ترقی اس محور پر مرکوز رہی ہے کہ وہ باہم "قول حسنۃ" کو رواج دیتے ہیں۔ "قول حسنۃ" یعنی اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا ہے۔ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) "قول حسنۃ" کی دعوت میں وہ تمام طریقے داخل ہیں؛ جیسے بیان کرنا، درس دینا، وعظ و نصیحت کرنا اور لکھ کر شائع کرنا وغیرہ؛ اور آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے پھییلانا شامل ہے۔ "قول حسنۃ" میں اللہ تعالیٰ کی حقانیت؛ یگانگت؛ عظمت اور حاکمیت کا قیام؛ اور حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رسالت اور پیغامِ رشد و ہدایت بہ شان قرآن اور سنتِ رسولﷺ اور مثالی انسانی معاشرے کے قیام کی جدوجہد شامل ہیں۔

 اللہ سبحان تعالی نے فرمایا ہے کہ " اور یاد کروجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ (اچھا سلوک کرو) اور لوگوں سے اچھی بات کہو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو (لیکن)پھر تم میں سے چند آدمیوں کے علاوہ سب پھر گئے اور تم (ویسے ہی اللہ کے احکام سے) منہ موڑنے والے ہو"۔ (سورة البقرة - آیت 83)

اس آیت میں بنی اسرائیل کی جو حالت بیان کی گئی افسوس کہ فی زمانہ مسلمانوں کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ کاش ہم مسلمان غور کریں کہ امتِ محمد ﷺ ہونے کی حیثیت سے اطاعت ِ الہٰی اور اطاعت ِ رسولﷺ اور حقوقُ اللہ اور حقوق العباد کی پابندی کا جو عہد ہم نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے؛ کیا ہم اسے پورا کررہے ہیں یا نہیں؟

کسی قوم کی تباہی کا اس سے بڑا مظہر کیا ہوسکتا ہے کہ اس کے فہم؛ ادراک اور شعور کے حامل افراد بےحس ہوں اور اپنے حال میں آسودہ مست رہیں اور انکے ارد گرد پھیلتی پھولتی معاشرتی برائیوں پر خاموش رہیں؛ ایسےرویے قوم پر انفرادی و قومی عذاب کا باعث ہوسکتا ہے۔ آقا کریم رسول اللہ حضور اکرم محمدﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ "جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کیے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سنن ابی داؤد : 4339

اللہ تعالی نے قرآن مجید فرقانِ حمید کی سورۃ يٰـسٓ میں بڑی شدت سے اس معاملے کو بیان کیا ہے۔ ہم اس مضمون میں صرف چند آیات کو شامل کرتے ہوئے بات آگے بڑھاتے ہیں؛ قارئین پوری سورت ضرور دیکھ لیں۔

 اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ " اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، کہا اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو۔

ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ ہدایت پانے والے ہیں۔ (سورة يٰـسٓ کی آیات 20- 21)

اور ہم نے اس کی قوم پر اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے نہ اتاری اور نہ ہم اتارنے والے تھے۔

صرف ایک ہی چیخ تھی کہ جس سے وہ بجھ کر رہ گئے۔ (سورة يٰـسٓ کی آیات 28- 29)

 اللہ سبحان تعالی نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے بھاگتا ہوا آیا؛ اس نے "وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا" کی عملی تصویر اختیار کیا۔ حالانکہ وہ چاہتا تو "خاموش" بھی رہ سکتا تھا۔ کیونکہ سارا معاملہ اس کے سامنے نہیں ہورہا تھا۔ مگر جسے اسے معلوم ہوا کہ لوگ نبیوں کو جھٹلا رہے ہیں تو وہ بھاگتا ہوا آیا اور نبیوں کے ہمنوائی کی۔ اس قوم نے قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا کے جرم کی پاداش میں اسے قتل کردیا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اپنی شریعت کے مطابق اس قوم پر عذاب نازل کیا اور قوم تباہ ہوگئی۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔ (جامع ترمذی، ۲۱۶۹)۔

اور اس ضمن میں سورۃ العصر کا مضمون ہماری نگاہ میں رہنا چاہیے؛ کہ جب ہم ایمان والے ہوں تو عملِ صالحات کو رائج کریں؛ اور حق کی تلقین کریں اور پھر آنے والے مصائب پر صبر کریں۔ یاد رکھیے کہ ایمان کی پختگی کے لیے باقی تین عناصر یا صفات کا ہونا لازم ہے وگرنہ خسارا ہی خسارا ہے۔

وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا" کا مرتکز "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کیوں ہے؟

اس مضمون کا مقصد سورۃ يٰـسٓ ہی کی آیت (17) کے مطابق یہ پیغام دینا ہے کہ " وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ؛ اور ہمارے ذمے کھلم کھلا پہنچا دینا ہی ہے"۔ اور کھلم کھلا پیغام بھی اللہ سبحان تعالی کا سورۃ التوبۃ میں فرمان ہے

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(32)

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖۙ-وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ(33)

چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں، اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر نہیں رہے گا اور اگرچہ کافر ناپسند ہی کریں"۔"

اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک ناپسند کریں"۔"

اس کھلم کھلا پیغام کا واضع حکم ہے کہ ابلیس اپنے چیلوں کے ذریعے اس زمین پر ابن آدم کو ہمہ وقت اللہ تعالی کی حکم عدولی پر اکساتا رہتا ہے اور حضرتِ انسان اپنے تئیں عقل و دانش کے موتی بکھیرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے فہم و ادراک کے نئے افق تراش لیے ہیں اور وہ اس زمین کی سرحدوں سے نکل کر نئی عظمتوں کا حامل ہوجائے گا۔ اور اسے اللہ تعالی کی حاکمیت اعلی سے ماوراء طاقتیں حاصل ہیں۔

مگر خالق و مالکِ کُل اللہ تعالی نے واضع کردیا ہے کہ اس زمین پر اس نے اپنا دین بھیجا ہے تاکہ سب ادیان پر غالب کردے۔ تمام ایمان والوں کو خبر ہوکہ اللہ تعالی اپنی حاکمیت اعلی کو غالب کرکے رہےگا۔ تو سن لو! تمھارے لیے "ویژن" اور "مشن" عبارت یہ ہی کہ " وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا" کا مرتکز "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" ہے۔ یعنی اس زمین پر تمام انسانوں کو قول حسن پہنچاو اور حکم دو کہ معروف یعنی سچائی؛ عدل و انصاف اور فلاحِ عامہ کو رائج کریں اور منکرات یعنی ابلیس کی خرافات کو مٹائیں۔ اور اس راستے پر مستحکم ہوکر چلیں؛ خواہ کیسی ہی دشواریوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

اختتامی کلمات

اے برادران و ہمشیران اسلام؛ ہم مسلمان آج درماندہ ہیں اور قعرِمذلت میں گھرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ ہمارا قرآن و سنت سے دور ہوجانا ہے۔ قرآن کا پیغام تو "وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا" ہے اور اس کا مظہر "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" ہے۔ آئیے سچ کو اپنائیں؛ سچ کے ساتھ کھڑیں ہوں؛ اور زندگی کا سفر صراط مستقیم پر یقین محکم اور عمل پیہم کے ساتھ کریں۔ 

آئیے ہم جس بھی خاندان؛ گروہ؛ قبیلے؛ ادارے یا قوم کا حصہ ہوں؛ اسے اللہ کی حاکمیت کے تابع کریں۔ اور ساری زندگی ایسے ہی صراطِ مستقیم پر چلتے رہیں۔ مسلمان کی زندگی جہدِ مسلسل کا مظہر ہے اور یہ زندگی اس زمین پر گذار کر جنت کا حصول کے لیے ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہم صراط مستقیم کی راہ پر اپنی جدوجہد اور کوشش سے اس زمین پر امن تو قائم کرسکتے ہیں مگر اس زندگی کے لیے اس زمین کو جنت نہیں بناسکتے ہیں۔ وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ۔

More Posts