صراط المستقیم؛ "حسنۃ برائے گاہک فی بازار"۔
Life is a journey; it is pleasant, beautiful and enjoyable too, but it offers its bounty to only those who undertake this journey as per some principles and time tested methods. ALLAH the Almighty has sent divine guidance through various prophets and Al Quran is the final Holy Book revealed upon the Last of Prophets Hazrat Muhammad (PBUH). The divine guidance helped humans to formulate their life for better livings. This write up in Urdu "صراط المستقیم؛ "حسنۃ برائے گاہک فی بازار"۔" is a discussion about the customer behaviour in market for betterment of any individual.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
صراط المستقیم؛ "حسنۃ برائے گاہک فی بازار"۔
مسلمان سورۃ الفاتحہ کی تلاوت میں عرض گذار ہوتا ہے "اهدنا الصراط المستقيم"؛ یعنی ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان اس قول کا حامل بنتا ہے "يقول ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة"؛ یعنی" اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما"۔
الصراط المستقیم دنیا و آخرت میں حسنۃ یا خیر و بھلائی کی تلاش کا راستہ ہے۔ دنیا کی بھلائی میں ہر اچھی اور مفید شے داخل ہے خواہ وہ کفایت کرنے والا رزق ہو یا اچھا گھر یا اچھی بیوی یا اچھی سواری یا اچھا پڑوس وغیرہا۔ آخرت کی بھلائی تو ہی مغز یعنی اصل مقصد زندگی۔ ہم یہاں پہلے دنیا کی زندگی میں خیر تلاش کرتے ہیں؛ مگر وہ تلاش نکلے گا الصراط المستقیم سے؛ یعنی اس دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا طریقہ، سیدھا راستہ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ کیا ہے؟
اللہ سبحان تعالی نے سورۃ يٰـسٓ کی آیات 60-61 میں فرمایا ہے کہ
اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ صِرَاطٌ مُّسْتَقِـيْـمٌ یعنی سیدھا راستہ ہے۔
اوپر کی آیات کا ایک سبق یہ ہے کہ دنیا میں صرف دو ہی راستے ہوتے ہیں؛ ایک حق سچ کا راستہ اور دوسرا شیطان کا پھیلایا ہوا غلط یا گمراہی کا راستہ۔ یاد رکھیے کہ بالکل اسی طرح اس دنیا کی زندگی میں ہر انسان کو ہر دم ہر لمحے ایک امتحان ایک آزمائش درپیش ہوتا ہے؛ اور اس لمحے اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ صحیح راستہ چنتا ہے یا غلط۔؛ قانون کے درست سمت میں چلتا ہے یا مخالف سمت میں، قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ہر انسان کو دن کے چوبیس گھنٹوں میں بارہا ایسے مراحل طے کرنے ہوتے ہیں کہ وہ صحیح اور غلط میں کس چناو کو اختیار کرتا ہے۔ اس مضمون کا مقصد؛ آج کے دن میں ایک انسان کے لیے "حسنۃ برائے گاہک فی بازار" پر گفتگو کرنا ہے؟
آج کا انسان جدید ترقی یافتہ دور میں بہترین مادی و معاشی وسائل کا حامل ہے؛ اور مغربی ممالک ک حوادث زندگی اس کی بہترین مثال ہیں۔ پچھلی صدی میں چھاپہ خانے کے سبب کاغذ پر اشتہارات تھے؛ پھر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے فروغ سے کاروبار کو اس طرح وسعت ملی کہ بازار ہمارے گھروں کے اندر داخل ہوگئے۔ اور آج ڈیجیٹل دور میں موبائل فون کے ذریعے بازار ہماری ہتھیلی پر آباد ہوگئے ہیں۔ چنانچہ مادہ پرستی کا عفریت ہر سمت سے ہماری طرف دوڑ رہا ہے؛ اور مال و زر کا فتنہ لوگوں کی روحوں پر قبضہ کرنے کے لیے ہجوم کر رہے ہیں۔ اشتہارات کے چار سو امڈتے ہوئے سیلاب میں غرقاب ابن آدم ایک ایسا صارف ہے جو جانتا ہی نہیں کہ مصنوعات اور اشیاء کے سیلاب میں کون سی چیز اسکی ضرورت ہے اور کیا محض نمود و نمئش کا سامان ہے۔ آج کا صارف حقیقی ضرورت کی بنیاد پر دانشمندانہ اخراجات اور اشتہارات کی پیدا کردہ ناگہانی خواہش میں فرق کیسے کر سکتا ہے؟ اس لیےایک خدا پرست کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آج کے دورِ جدید میں کسی گاہک یا صارف کا بازار میں حسنۃ والا یعنی خیر و بھلائی والا مناسب اور صحیح طریقہ زندگی کیا ہے؟
ہم دل کو لیے بر سرِ بازار کھڑے ہیں
حیران تمنائے خریدار کھڑے ہیں
مصحفی غلام ہمدانی
اللہ سبحان تعالی نے سورہ القصص کی آیت 77 میں فرمایا ہے کہ
وَٱبۡتَغِ فِيمَآ ءَاتَٮٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلۡأَخِرَةَۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنۡيَاۖ وَأَحۡسِن ڪَمَآ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ وَلَا تَبۡغِ ٱلۡفَسَادَ فِى ٱلۡأَرۡضِۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
صر" اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ کر، بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا"۔
{وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا: اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول۔}
آیت کے اس حصے کی تفسیر کچھ ہوں کی جاسکتی ہے کہ اے بندہ خدا! تواپنی صحت ، قوت ، جوانی اور دولت کو نہ
ابھول، بلکہ تجھے اللہ تعالی کے فضل سے حاصل دولت کے ساتھ آخرت طلب کرنی چاہئے۔
اللہ سبحان تعالی نےہم انسانوں کو ایک خاص مقصد سے بنایا ہے اور اس دنیائے فانی میں آزمائش کے لیےبھیجا ہے۔ انسان کو روٹی روزی کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے اور بازار گھر سے باپر کی زندگی کا لازم و ملزوم حصہ ہے۔ اور ہر ابن آدم اپنی ضروریات کے تحت یا تو صارف ہے یا کاروباری۔ اور ہر آدمی اپنی ضروریات کے لیے خریدار کرتا ہے۔ چنانچہ اسلام جو ایک دین فطرت ہے؛ اس ضمن میں تاکید فرماتے ہوئے سکھاتا ہے کہ انسان بازار میں جائے تو ضرورت اور خواہش کے درمیان واضح فرق قائم رکھے۔ اوراسراف سے حفاظت کا خیال رکھے۔ اس کی کلید یہ ہے کہ ضرورت وہ ہے جو انسان اپنی بنیادی روزی، اپنی صحت اور اپنے خاندان کی اہم ضروریات زندگی کے لے خریداری کرے۔ جہاں تک خواہش کا تعلق ہے، یہ قلیل مدتی جزبہ محرک ہوتا ہے جوخواہش بن کر ابھرتا ہے۔
اللہ سبحان تعالی نےسورہ الاعراف کی آیت 31،32 میں فرمایا ہے کہ
يَـٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٍ۬ وَڪُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُ ۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ (٣١) قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِىٓ أَخۡرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَـٰتِ مِنَ ٱلرِّزۡقِۚ قُلۡ هِىَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةً۬ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِۗ كَذَٲلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأَيَـٰتِ لِقَوۡمٍ۬ يَعۡلَمُونَ
اے آدم کی اولاد تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور کھاؤ اور پیئو اور حد سے نہ نکلو بے شک الله حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا (۳۱)
کہہ دو الله کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندو ں کے واسطے پیدا کی ہے اورکس نے کھانے کی ستھری چیزیں (حرام کیں) کہہ دو دنیا کی زندگی میں یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں قیامت کے دن خالص انہیں کے لیے ہوجائیں گی اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں۔ (۳۲)
اللہ سبحان تعالی نے سورة الزخرف کی آیت 32 میں ارشاد فرمایا ہے کہ " ہم نے ان کے درمیان معیشت کوتقسیم کیا ہے اوران میں سے بعض کوبعض پردرجات میں فوقیت دی ہے؛ تاکہ ان میں سے ایک دوسرے سے کام لے سکیں"۔
اے بندگان خدا؛ جب بھی بازار جاو تو یاد رکھنا کہ بازار سب انسانوں کے لیے سجائے جاتے ہیں؛ جہاں درجات میں فوقیت کے وسائل اور اسباب والے افراد کے لیے بھی سامانِ ضرورت اور تعیش فراہم کئے جاتے ہیں؛ اس لیے بازار میں فراہم کردہ ساری اشیاء سب کے لیے نہیں ہوتیں؛ خاص طور پر سامانِ اشیائے تعیش اور سجاوٹ؛ جو اللہ تعالی نے دوسروں کی روٹی روزی کے بندوبست کے لیے پہنچائے ہوتے ہیں۔
دنیا میں ہوں، دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں
اکبر الہ آبادی
ضرورت اور خواہش کا حدِ فاصل
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَـنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ وَالۡخَـيۡلِ الۡمُسَوَّمَةِ وَالۡاَنۡعَامِ وَالۡحَـرۡثِؕ ذٰ لِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ۔۔ سورۃ آل عمران آیت14
طاللہ سبحان تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ " لوگوں کے لئے عورتوں سے خواہشات کی اور بیٹوں کی اور سونے اور چاندی کے خزانوں کی اور نشان زدہ گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتی باڑی کی محبت خوش نما بنادی گئی ہے، یہ (سب) دنیا کی زندگی کا سامان ہے ‘ اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانا ہے"۔
اوپر کی آیت میں لفظ "حب" کے معنی "کسی چیز کی طرف دل کا مائل ہونا" ہے اور شہوت کے معنی"جس چیز کی طرف نفس کی تحریک اور ترغیب ہو" ہے۔ اللہ سبحان تعالی نے متاع دنیا کی تزئین اور آرائش اس لیے کی ہے کہ انسان کا دل اس کی جانب کھچے اور اس کی خواہش پلے؛ مگر یہ جان لینا کتنا اہم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی جانب سے بہ طور ابتلاء اور آزمائش کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگلی آیت میں ارشاد کیا ہے کہ
آپ کہیے کہ کیا میں تم کو ان (سب) بہتر چیز کی خبر (نہ) دوں ؟ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے پاس ایسے باغات ہیں جن کے نیچے دریابہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ کی رضا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ سورۃ آل عمران آیت15
اللہ تعالی سے ڈرنے والے؛ اور تقوی کی روش پر چلنے والوں کے لیے اللہ سبحان تعالی نے ہمارے آقا کریم محمد رسول اللہ ﷺ کےذریعے ام المومنین سیدہ عائشہؓ سے مرفوع یہ بیان ہم تک پہنچایا ہے؛ آقا ﷺ نے ام المومنین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ " اگرتم ( آخرت میں ) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافرکے سامان سفرکے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھو یہاں تک کہ اس میں پیوند نہ لگا لو۔ جامع ترمذی۔ ۱۷۸۰
برادران و ہمشیران اسلام؛ کیا ہمیں اپنے آقا محمد ﷺ سے ملنے کی آرزو میں بھی اسی راستے پر چلنے ہوگا کہ نہیں؟ یعنی بازار سے گذریں تو صحیح مگر خریدار بن کر نہیں؛ اور زاد راہ اتنا ہی رکھیں یا خریدیں جتنے کی ضرورت ہو۔ اور دیکھ لیجیے کہ کپڑا پرانا کب ہوتا ہے؟ اور اسے طرح دیگر اشیاء کا بھی اندازی کرلیں اور پھر ضرورت کا تعین کرلیں۔
اللہ تعالی نے انسان کو اپنی فطرت کو آزاد چھوڑنے سے منع کیا ہے اور فطرت کے تقاضوں کو خواہشات کے تحت بے لگام چھوڑنے سے تنبیہ کی ہے؛ چنانچہ حکمت والے رب نے اپنے حبیب پاک رسول اکرم ﷺ کے ذریعے؛ ہماری اصلاح کے لیے فرمان پہنچایا ہے کہ
"اللہ کی قسم! میں تمہارے (تھوڑے سے نہ کہ حد سے زیادہ) فقرو افلاس سے نہیں ڈرتا، بلکہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم پر تم سے پہلے لوگوں کی طرح دنیا کشادہ کردی جائے، پھر تم پہلے لوگوں کی طرح دنیا کی محبت و رغبت میں گرفتار ہوجاؤ گے اور یہ دنیا پھر تمہیں پہلے لوگوں کی طرح ہلاک کردے گی۔‘‘ (بخاری، مسلم)
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’میں اپنے دنیا سے جانےکے بعد تمہارے بارے میں جن چیزوں سے ڈرتا ہوں، ان میں دنیا کی تروتازگی اور زینت بھی ہے (جو فتوحات اور آسودگی حاصل ہونے کے بعد) تمہارے سامنے آئے گی۔‘‘ (بخاری، مسلم)
ارسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خوف خواہشِ نفس اور لمبی آرزو کا ہے۔ خواہشِ نفس حق سے روک لیتی ہے، جبکہ لمبی آرزو آخرت بھلا دیتی ہے۔‘‘ (بیہقی)
ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہے کہ ضرورت تو فقیر کی بھی پوری ہوجاتی ہے لیکن خواہش بادشاہوں کی بھی ادھوری رہ جاتی ہے؛ اورخواہشات تو بادشاہوں کو غلام بنادیتی ہیں؛ مزید یہ کہ عزت بازار میں نہیں بکتی؛ اس لیے اشیاء میں عزت مت خریدیں؛ اور جان رکھیں کہ ساری کی ساری عزت و ذلت اللہ تعالی کی منشاء پر منحصر ہے۔
عزیزانِ گرامی قارئین؛ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ یہ دنیا ی زندگی محض(متاع الغرور) ایک دھوکے کا سامان ہے۔ اس دنیا یعنی اس زمین کو اللہ تعالی نے مزین کیا ہے اور مٹی کے مادھو ابنِ آدم کو نفس سے آراستہ کیا ہے۔ اور انسان فطرتی طور پر حسن پرست بھی ہے؛ اور انسان کا سب سے بڑا اور حتمی دشمن ابلیس یا شیطان بھی انسان کو یہ دنیا اور بھی حسین (فحش اور لغو) کرکے دکھاتا اور ترغیب دیتا ہے ۔ انسان کو نجانے کیوں جب بھی فراغت اور کشایت ملتی ہے توحب دنیا کا شکار شہوات میں کھوجاتا ہے۔ پھر اسے تروتازگی یعنی صحت اور توانا جسم مل جاتا ہے؛ اور وہ خود کو بناو سنگھار میں مصروف کرلیتا اور الجھا لیتا ہے۔ اور بالآخر انسان نفس کا غلام بن جاتا ہے اور لمبی لمبی آرزووں کو پالنے لگ جاتا ہے۔ جو اسے تباہی کے گڑھے تک پہنچا دیتا ہے۔
جنسِ نایاب محبت کی خدا خیر کرے
بوالہوس اس کے خریدار نظر آتے ہیں
شکیل بدایونی
اللہ سبحان تعالی نے سورۃ الحدید کی آیت 20 میں فرمایا ہے کہ "جان لو کہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل کود اورزینت اور آپس میں فخرو غرور کرنا اور مالوں اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے ۔(دنیا کی زندگی ایسے ہے) جیسے وہ بارش جس کا اُگایا ہواسبزہ کسانوں کواچھا لگا پھر وہ سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (بے کار)ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا(بھی ہے) اور دنیاکی زندگی تو صرف دھوکے کاسامان ہے"۔
اے برادران و ہمشیران اسلام؛ ہم مسلمان آج درماندہ ہیں اور قعر مذلت میں گھرے ہوئے ہیں؛ چاہے ہم مسلمان ریاست میں رہائش پذیر ہوں یا غیر مسلم ممالک میں؛ تو اس کی کوئی تو وجہ ہوگی۔ ناچیز کی رائے ہے کہ ہم حب دنیا میں گرفتار ہیں؛ (اور لوگوں کیلئے من پسند چیزوں کی محبت کو خوشنما بنادیا گیا) فاحشات سے مزین یہ دنیا کے بازار سجادئے گئے ہیں؛ اور ہم حلال اور حرام کی فکر سے آزاد ہوکر فضول اور بیکار کے صارف بن گئے ہیں۔ اور نجانے کس خواہش عظمت میں اپنے گھروں کو سجانے کے لیے، دولت اکھٹا کرنے اور پر تعیش سامان خریدنے پر لگے ہوئے ہیں۔
خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے
یوسف تھا اگر تو تو خریدار ہمیں تھے
حید علی آتش
اللہ تعالی کو رحمٰن و رحیم ہے ا؛ اپنےبندوں کی تعریف کرتے ہوئے سورہ الفرقان کی آیت 67 میں فرمایا ہے کہ
وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُواْ لَمۡ يُسۡرِفُواْ وَلَمۡ يَقۡتُرُواْ وَڪَانَ بَيۡنَ ذَٲلِكَ قَوَامً۬ا
قاوروہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوشخبری سنائی ہے؛ فرمایا ہے کہ "اے ابن آدم توخرچ کر میں تم پر خرچ کرونگا" (بخاری شریف حدیث ۵۳۵۲)۔
عزیزان گرامی؛ اللہ کی حاکمیت کے تحت زندگی گذارنی ہے؛ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ کسی فارسی شاعر نے کیا خوب کہاہے کہ
نمی گویم کہ از عالم جدا باش
بہر جائے کہ باشی با خدا باش
یعنی میں یہ تو نہیں کہتا کہ تم دنیا سے جدا ہو کر الگ تھلگ بیٹھ جاؤ۔ لیکن میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ تم جدھر بھی رہو خدا کے ساتھ رہو۔
اور اللہ تعالی نے حبیب پاک محمدﷺ کے ذریعے ترکِ دنیا سے منع فرمایا ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے گھر خاندان بسانے کا راستہ دکھایا ہے۔ چانچہ ہمیں ہر دم کسب کمال کی طلب میں رہنا چاہیے۔ اور اللہ پروردگارِ عالم اور آقا کریم محمدﷺ کی ہدایت کے تحت حلال کمائی کرنا چاہیے؛ اور اپنی حلال کمائی میں سے خرچ کرتے رہنا چاہیے؛ اوراگر اللہ تعالی کفایت عطا کرے تو اسبابِ زندگی کو بہتر بھی کرنا چاہیے۔ ساتھ ساتھ اسراف سے بھی منع کیا ہے۔ اسراف تین چیزوں کا نام ہے ۔ (۱) ناجائز کاموں میں دولت صرف کرنا خواہ وہ ایک پیسہ کیوں نہ ہو۔ (۲) جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حد سے تجاوز کرجانا ۔ (۳) نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا مگر اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا اور نمائش کے لیے۔
آقا کریم محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ "تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، انہیں اس حال میں نہ چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جائیں۔" (مسند احمد: 1363)
اختتامی کلمات
عزیزان گرامی؛ اللہ کی حاکمیت کے تحت زندگی گذارنی ہے؛ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اور اللہ تعالی نے حبیب پاک محمدﷺ کے ذریعے ترکِ دنیا سے منع فرمایا ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے گھر خاندان بسانے کا راستہ دکھایا ہے۔ چانچہ ہمیں ہر دم کسب کمال کی طلب میں رہنا چاہیے۔ اور اللہ پروردگارِ عالم اور آقا کریم محمدﷺ کی ہدایت کے تحت حلال کمائی کرنا چاہیے؛ اور اپنی حلال کمائی میں سے خرچ کرتے رہنا چاہیے؛ اوراگر اللہ تعالی کفایت عطا کرے تو اسبابِ زندگی کو بہتر بھی کرنا چاہیے۔ ساتھ ساتھ اسراف سے بھی منع کیا ہے۔ اسراف تین چیزوں کا نام ہے ۔ (۱) ناجائز کاموں میں دولت صرف کرنا خواہ وہ ایک پیسہ کیوں نہ ہو۔ (۲) جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حد سے تجاوز کرجانا ۔ (۳) نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا مگر اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا اور نمائش کے لیے۔
آقا کریم محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ "تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، انہیں اس حال میں نہ چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جائیں۔" (مسند احمد: 1363)
ہماری یہ زندگی مادہ پرستی اور اشیاء کی خریداری سے معاشرتی بڑائی کی دوڑ نہیں ہے۔ کسب معاش میں کسب کمال کو فوقیت دیں؛ معاش اور معیشت میں سود سے پاک رہیں اورمعاشرت کے تمام پہلوں میں بناوٹ اور نمائش سے محفوظ رہیں؛ اور اللہ سبحان تعالی کی ہدایت کو ہمیشہ مطمع نظر رکھیں؛ یہی صراط مستقیم کا سفر ہے۔ اور حسنۃ یہی ہے کہ آخری کامیابی یعنی جنت کا حصول مطمع نظر رکھیں۔ اس دنیا میں اللہ تعالی کی حاکمیت کو قائم کرنے کی جدوجہد میں کسبِ کمال کے ذریعے حاصل آمدنی سے خرچ کرنا چاہیے؛ مگر کسی طور پر ریا اور نمائش سے محفوظ رہنا چاہیے۔ ریا اور نمائش انسان کو خواہشات کا غلام بنادیتی ہے؛ اور حد سے تجاوز کرتی خواہشات، کسب معاش کی دوڑ میں، ابن آدم کو نفس کا غلام بنا دیتی ہے۔ لیکن اللہ تعالی انسان کو آزاد پیدا کرتا ہے؛ اور ابنِ آدم اپنی آزادی کو برقرار رکھ سکتا ہے جب وہ بطور صارف یا گاہک بازار میں حسنۃ کی راہ پر چلے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو؛ آمین ثم آمین۔