Life is a journey; it is pleasant, beautiful and enjoyable too, but it offers its bounty to only those who undertake this journey as per some principles and time tested methods. ALLAH the Almighty has sent divine guidance through various prophets and Al Quran is the final Holy Book revealed upon the Last of Prophets Hazrat Muhammad (PBUH). The divine guidance helped humans to formulate their life for better livings. This write up in Urdu صراط المستقیم؛ "حسنۃ بر رزقِ حلال"۔" is a discussion about the rightful earning or earning bread and butter in righteous way.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
صراط المستقیم؛ "حسنۃ بر رزقِ حلال"۔
مسلمان سورۃ الفاتحہ کی تلاوت میں عرض گذار ہوتا ہے "اهدنا الصراط المستقيم"؛ یعنی ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان اس قول کا حامل بنتا ہے "يقول ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة"؛ یعنی" اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں (بھی) بھلائی عطا فرما"۔
الصراط المستقیم دنیا و آخرت میں حسنۃ یا خیر و بھلائی کی تلاش کا راستہ ہے۔ دنیا کی بھلائی میں ہر اچھی اور مفید شے داخل ہے خواہ وہ کفایت کرنے والا رزق ہو یا اچھا گھر یا اچھی بیوی یا اچھی سواری یا اچھا پڑوس وغیرہا۔ آخرت کی بھلائی تو ہی مغز یعنی اصل مقصد زندگی۔ ہم یہاں پہلے دنیا کی زندگی میں خیر تلاش کرتے ہیں؛ مگر وہ تلاش نکلے گا الصراط المستقیم سے؛ یعنی اس دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا طریقہ، سیدھا راستہ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ سیدھا راستہ کیا ہے؟
اللہ سبحان تعالی نے سورۃ يٰـسٓ کی آیات 60-61 میں فرمایا ہے کہ
اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ صِرَاطٌ مُّسْتَقِـيْـمٌ یعنی سیدھا راستہ ہے۔
اوپر کی آیات کا ایک سبق یہ ہے کہ دنیا میں صرف دو ہی راستے ہوتے ہیں؛ ایک حق سچ کا راستہ اور دوسرا شیطان کا پھیلایا ہوا غلط یا گمراہی کا راستہ۔ یاد رکھیے کہ بالکل اسی طرح اس دنیا کی زندگی میں ہر انسان کو ہر دم ہر لمحے ایک امتحان ایک آزمائش درپیش ہوتا ہے؛ اور اس لمحے اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ صحیح راستہ چنتا ہے یا غلط۔؛ قانون کے درست سمت میں چلتا ہے یا مخالف سمت میں، قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ ہر انسان کو دن کے چوبیس گھنٹوں میں بارہا ایسے مراحل طے کرنے ہوتے ہیں کہ وہ صحیح اور غلط میں کس چناو کو اختیار کرتا ہے۔ اس مضمون کا مقصد؛ آج کے دن میں ایک انسان کے لیے "حسنۃ بر رزقِ حلال" پر گفتگو کرنا ہے؟
اللہ سبحان تعالی نے سورۃ الذاریات کی آیت 56 میں فرمایا ہے کہ "اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں" ۔
اور سورۃ الملک آیت 1-2 میں فرمایا ہے کہ " بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضے میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔ وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی عزت والا، بخشش والا ہے"۔
یعنی اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں صرف اور صرف اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اس بندگی میں ہم صراطِ مستقیم کا سفر اختیار کریں اور یاد رکھیں کہ سفرِ حیات میں ہمیں آزمائش کا سامنا رہے گا کہ ہم میں سے کون اچھے عمل کرےگا؟ یعنی رزق کی تحصیل میں حسنۃ کی تلاش میں رہے گا۔
اللہ سبحان تعالی نےسورۃ البقرہ کی آیت 268 میں انسانوں کی ازلی دشمن شیطان کی کاروائی کا ذکر کرتے ہوئےفرمایا ہے کہ "شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالٰی تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالٰی وسعت والا اور علم والا ہے" ۔
اللہ سبحان تعالی نے سورہ البقرہ کی آیت 172 میں دنیا میں شیطان کے پھیلائے جال سے بچ کر صراط مستقیم کی جانب چلنے کی راہ دکھاتے ہوئے فرمایا ہے کہ"اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں؛ ان میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر کرو، اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو"۔ اور بندگی تو صراطِ مستقیم کا سفر ہے؛ یعنی صرف پاکیزہ اشیاء ہی بطور رزق حاصل کرنا درست ہے۔ اب جاننا ضروری ہے کہ رزق کیا ہے؟
رزق سے مراد اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ تمام مادی اور معنوی نعمتیں ہیں (جیسے کھانا، مال، علم، صحت) ؛ جن کوانسان اپنی سفرِ حیات کے زادِ راہ کے لیے حاصل کرتا ہے۔ یہ رزق بقائے حیات، عبادت، اور دنیاوی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، جبکہ حلال رزق کا حصول تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کا حصہ ہے۔
رزق وسیع مفہوم میں صرف کھانے پینے کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ چیز جو انسان کے کام آئے، رزق ہے۔ جبکہ رزق اللہ تعالی کی نعمتِ خاص بھی ہے اور مفہوم میں مال، علم، وقت، اولاد، صحت، اور زندگی کے وسائل شامل ہیں۔ اور ایمان اس بات پر رکھیں کہ رزق صرف اور صرف اللہ کی عطا کے سبب ملتا ہے یعنی لغوی طور پر رزق کا مطلب "عطا" ہے۔
زندگی اور موت کے اس دورانیے میں ابنِ آدم کے لیے رزق کیوں ضروری ہے؟
روٹی کھانا انسان کی بقائے حیات کے لیے لازم ہے؛ یعنی انسانی جسم کو زندہ رہنے اور کام کرنے کے لیے توانائی (جو غذائیت سے ملتی ہے) کی ضرورت ہوتی ہے۔ زندہ انسان کے لیے اللہ تعالی کی عبادت و اطاعت لازم ہے؛ اور جس کے لیے صحت مندی بھی لازم ہے۔ رزق یعنی روٹی کھانا وغیرہ انسان کو عبادت کرنے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کے بعد صراط مستقیم یہ ہے کہ انسان حلال رزق کے ذریعے اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یاد رکھیے کہ حلال رزق میں برکت ہوتی ہے، جو سکون اور خیر کا باعث بنتی ہے۔ مختصراً، رزق اللہ کی نعمت ہے جو زندگی کی گاڑی چلانے اور آخرت کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ اور یہی صراطِ مستقیم بر رزقِ حلال ہے۔
اللہ سبحان تعالی نے سورۃ ھود آیت 6 میں فرمایا ہے کہ " اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق الله (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ کو اور اس کے امانت رکھے جانے کی جگہ کو (بھی) جانتا ہے، ہر بات کتابِ روشن (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے"۔
اللہ سبحان تعالی نےسورۃ البقرہ کی آیت 155 میں اس ضمن رہنمائی فرمائی ہے کہ "اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ
مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں"۔
یعنی یہ بات تو طے ہے کہ انسان کے دل میں رزق کے سلسلے سے متعلق وسوسے اور ڈر ابھرتے رہیں گے؛ اور نقصان بھی ہوتے رہیں گے؛ مگر اللہ کے بندے یہ جان رکھیں گے کہ رزق کی فراہمی اور فراوانی اللہ کی مشیت کے تحت ہے، جس کے لیے شکر، استغفار، تقویٰ، اور حلال رزق کی جدوجہد بنیادی اسباب ہیں۔ قرآن و حدیث کے مطابق شکر گزاری سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ صدقہ و خیرات اور نماز کی پابندی رزق میں برکت لاتے ہیں۔ اللہ پر توکل اور دعا (جیسے کہ نبیﷺ کی تعلیم کردہ دعائیں) رزق کے دروازے کھولتی ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں قرآن الحکیم کے ذریعے کیا سکھایا ہے؟
سورۃ الذاریات کی آیت 22 میں اللہ سبحان تعالی نے یوں فرمایا ہے کہ " وَفِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ"؛ ترجمہ "اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ (سب) بھی جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے"۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ انسانوں کا رزق (بارش وغیرہ) اور ان سے کیے گئے وعدے (جنت، روزی کا انتظام) آسمان سے نازل ہوتے ہیں، لہذا رزق کے لیے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ مگرقرآن پاک کی سورۃ النجم کی آیت 39 کا سبق بھی یاد رکھیں کہ " وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْصَانِ اِلَّا مَا سَعٰی"؛ ترجمہ " اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی"۔ یعنی یہ اصول کہ کامیابی خواہشات سے نہیں، بلکہ محنت، جدوجہد اور سعیِ مسلسل سے ملتی ہے، اور انسان اپنی محنت کا پھل پاتا ہے؛ مگر اللہ تعالی کی منشاء کے مطابق۔
سورۃ ابراھیم کی آیت نمبر 7 میں اللہ تعالیٰ نےزرق کے حصول کے قبل اور ما بعد شکر گزاری پر نعمتوں میں اضافے اور ناشکری پر سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ " وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ"؛ ترجمہ "اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے اعلان فرمایا کہ: اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں (نعمتوں میں) اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بڑا سخت ہے"۔
یہ آیت شکر کی فضیلت اور ناشکری کے انجام کو واضح کرتی ہے۔ یعنی کہ شکر کا فائدہ ہےنعمتوں میں اضافہ اور برکت ہونا۔ اور اگر ناشکری کی تو انجام اللہ کے شدید عذاب کا سامنا ہوگا۔
اللہ سبحان تعالی نے سورہ طلاق کی آیات 2 اور 3 میں عائلی زندگی کے اہم عنصر طلاق اورعدت کے معاملات پر حکم کے بعد تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے رزق و نجات کا وعدہ بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا ہے کہ " وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (3)"؛ ترجمہ " [اس (ہدایت) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اس کے لیے (رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے]۔ آیت 3 کا ترجمہ " اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ (اللہ) اسے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کرلینے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر شے کے لیے اندازہ مقرر فرما رکھا ہے"۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح فرمایا ہے کہ رزق صرف اور صرف اس کی دین ہے، وہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ یہ رزق کی تقسیم اس کی حکمت اور تکوینی تدبیر کے مطابق ہے، جس پر ایمان لانا انسان کے لیے لازم ہے۔
فرمان باری تعالی ہے "اور الله جسے چاہتا ہے بے حساب نوازتا ہے"۔ سورۃ البقرۃ آیت 212۔
فرمانِ باری تعالی ہے "اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے، اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے"۔ سورۃ العنکبوت آیت 62۔
فرمانِ باری تعالی ہے "کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالٰی جسے چاہے کشادہ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ ، اس میں بھی ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں"۔ سورة الروم آیت 37۔
اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہو جاتے اورلیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔ سورة الشوريٰ [27]
اور اب آخر میں قرآن الحکیم کی سورۃ سبإ کی آیت نمبر 39 بھی دیکھ لیجیے کہ " آپ ان سے کہئے کہ : میرا پروردگار اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم کردیتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو وہی اس کی جگہ تمہیں اور دے دیتا ہے اور وہی سب سے بہتر رازق ہے"۔
سورۃ نوح کی آیات 10-12 میں اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کی زبانی استغفار کی دعوت دی ہے، جس کے بدلے موسلادھار بارش، رزق میں برکت (مال و اولاد)، اور باغات و نہریں ملنے کا وعدہ ہے۔ فرمان الہی ہے کہ " تو میں نے (ان سے) کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ (وہ) تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا۔ اور تمہیں مال اور بیٹوں سے نوازے گا، اور تمہارے لیے باغات بنا دے گا اور تمہارے لیے نہریں بہا دے گا"۔
اوپر کی آیات استغفار کو بخشش اور دنیاوی و اُخروی کامیابی کا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ استغفار خود ایک عبادت ہے کہ اس کےفضل سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ اور کثرت سے استغفار کرنا بارش اور رزق کے حصول کا باعث بنتا ہے۔ اور مزید یہ کہ صالح اولاد اور مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیاوی خوشحالی کا بھی وعدہ ہے۔
دینِ اسلام میں اسباب دنیا کو جمع کرنے سے منع کیا گیا ہے اور قرآن نے متعدد بار خرچ کرنے کی تاکید کی ہے۔ مال و اسباب کی فراوانی جمع کرنے سے نہیں بلکہ خرچ کرنے سے وسعت ملے گی۔ سورۃ البقرۃ آیت 261 اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت بیان کرتی ہے، جس کی مثال ایک دانے کی ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں، یعنی 700 گنا یا اس سے زائد اجر۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہے اجر کو بڑھا دیتا ہے، اور وہ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
مَّثَلُ الَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِىْ كُلِّ سُنْبُلَـةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللّـٰهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّـٰهُ وَاسِعٌ عَلِـيْمٌ (261)
ترجمہ "ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ جو سات بالیں اگائے ہر بال میں سو سو دانے، اور اللہ جس کے واسطے چاہے بڑھاتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا جاننے والا ہے"۔
دین کا معاملہ ہو اور ہم اپنے آقا محمدﷺ کا فیض نہ پائیں کیسے ممکن ہے؟ آقا کریمﷺ نے بہت خوب رہنمائی عطا کررکھی ہے؛ چنانچہ رحمت العالمینﷺ کے خزانے سے کچھ احادیث پڑھ لیتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دنیا کی کمی کی شکایت کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم فرشتوں اور مخلوقات کی اس تسبیح سے کہاں غافل ہو جس کی برکت سے انہیں رزق دیا جاتا ہے؟
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے موقع کو غنیمت سمجھ کر نبی کریم ﷺ سے اس تسبیح کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا؛
کہ "صبح صادق سے فجر کی نماز تک سو(100) مرتبہ "سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ؛ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" پڑھنے سے دنیا تمہارے پاس ذلیل ہوکر آئے گی، اور ہر تسبیح کے بدلے اللہ ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت تک تسبیح کرتا رہے گا"۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تلاشِ رزق میں جائز اور احسن ذرائع اختیار کرو کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اُس کا مقررہ رزق پورا نہیں ہو جاتا، اگرچہ اس (رزق کے پہنچنے) میں دیر لگے۔ لهٰذا خدا سے ڈرو، جائز اور عمدہ ذرائع سے روزی تلاش کرو، رزقِ حلال حاصل کرو اور رزقِ حرام کو چھوڑ دو"۔ (ابن ماجہ)
حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روح القدس (جبرائیل) علیہ السلام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ ہر شخص اپنا رزق (مقسوم) مکمل حاصل کر کے ہی اِس جہانِ فانی سے کوچ کرتا ہے، لهٰذا تم الله سے ڈرو اور تلاشِ رزق میں عمدہ اور جائز طریقہ اختیار کرو۔ (امام قضاعی)
حضرت نافع بیان کرتے ہیں: میں شام اور مصر، مال تجارت لے کر جایا کرتا تھا، ایک بار (شام و مصر کی بجائے) عراق جانے کا ارادہ کیا تو حضرت عائشہ صدیقہ j کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المومنین! میں پہلے سامانِ تجارت ملک شام لے جایا کرتا تھا، اب عراق جانے کا ارادہ ہے۔ اُنہوں نے فرمایا: ایسا نہ کرو، اپنی وہی تجارت کرو، کیونکہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ جب تم میں سے کسی کے لیے رزق کا کوئی سبب پیدا فرما دے تو وہ اس وقت تک اُسے نہ چھوڑے جب تک اس ذریعۂ رزق میں خود تغیر یا خرابی پیدا نہ ہو جائے۔ (ابن ماجہ)
حضرت (عبد الله) بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باہر نکلا پھر آپ ﷺ انصار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ وہاں سے کھجوریں چن چن کر کھانے لگے اور مجھے فرمایا: اے ابن عمر! تو کھجوریں کیوں نہیں کھا رہا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے طلب نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے تو طلب ہے، اس لیے کہ یہ چوتھی صبح ہے، نہ میں نے کھانا چکھا اور نہ ہی مجھے ملا۔ اگر میں چاہتا تو اپنے رب سے دعا کرتا وہ مجھے ایسے خزانے عطا کرتا جیسے قیصر و کسریٰ کے پاس ہیں۔ اے ابن عمر! تیرا کیا خیال ہے جب تو ایسی قوم میں رہے گا جو اپنے سال بھر کا رزق ذخیرہ کریں گے اور ان کا یقین کمزور ہو جائے گا؟ انہوں نے بیان کیا: اللہ کی قسم! ہم اپنی جگہ سے ہلے بھی نہ تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: {وَکَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللهُ یَرْزُقُهَا وَإِیَّاکُمْ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُo} ’اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی (اپنے ساتھ) نہیں اٹھائے پھرتے الله انہیں بھی رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں بھی، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے اور خواہشات کی پیروی کرنے کا حکم نہیں دیا۔ جس نے بھی دنیا کے خزانوں کو جمع کیا اور اس سے وہ دائمی زندگی کی تمنا کرتا ہے تو یاد رکھو! زندگی (کی بقائ) صرف اللہ رب العزت کے دست قدرت میں ہے۔ خبردار! میں دینار اور درہم کا خزانہ ذخیرہ نہیں کرتا اور نہ ہی کل کے لیے رزق جمع کرتا ہوں۔
(امام عبد بن حمید؛ اصبہانی؛ امام منذری اور عسقلانی)
حضرت زبیر (بن عوام) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے میرے پیچھے سے میرے عمامہ کی ایک جانب کو پکڑ لیا۔ پھر فرمایا: اے زبیر! میں تیری طرف خاص طور پر اور لوگوں کی طرف عام طور پر اللہ کا (ایک) پیغام لانے والا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا رب کیا فرماتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تیرا رب اپنے عرش پر متمکن ہوا تو اس نے اپنی مخلوق کو دیکھا، فرمایا: میرے بندو! تم میری مخلوق ہو اور میں تمہارا رب ہوں، تمہارا رزق میرے ہاتھ میں ہے، میں نے تمہارے لیے جن چیزوں میں کفالت کا ذمہ لیا ہے (صرف) اس میں ہی نہ تھکتے رہنا۔ اپنا رزق مجھ سے طلب کرنا اور اپنی حاجات میرے حضور پیش کرتے رہنا، مزید میری بارگاہ میں قرب کے لیے خوب محنت کرنا، میں تمہارے رِزق کی تم پر فراوانی کر دوں گا۔ (آپ ﷺ نے فرمایا:) کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا رب کیا ارشاد فرماتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا، تم (لوگوں کے لیے) وسعت پیدا کرو، میں تم پر وسعت پیدا کروں گا، تم تنگی نہ دو، ورنہ میں تم پر تنگی کر دوں گا، تم نقصان نہ پہنچاؤ ورنہ میں تمہیں نقصان دوں گا، تم کسی کو غم نہ دو ورنہ میں تم پر غم لازم کر دوں گا، رزق کا دروازہ سات آسمانوں سے (اوپر کے مقام سے) کھلا ہوا ہے اور وہ عرش الٰہی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وہ نہ دن کو بند کیا جاتا ہے اور نہ رات کو۔
اللہ تعالیٰ اس دروازے سے ہر انسان پر اس کی نیت، اس کی طرف سے کیے جانے والے عطیات، صدقات و خیرات اور نفقات کے حساب سے رزق نازل فرماتا ہے۔ جو آدمی (حاجت مندوں پر اپنے عطیات، صدقات و خیرات اور نفقات یعنی ضرورت مندوں پر سخاوت میں جس قدر) اضافہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں (اسی قدر) اضافہ فرما دیتا ہے۔ جو اس میں کمی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں کمی فرما دیتا ہے۔ جو رزق کو (دوسروں پر) روک دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر رزق کو روک لیتا ہے۔
اے زبیر! خود بھی کھاؤ اور لوگوں کو بھی کھلاؤ۔ مشکیزے کا منہ بند نہ کرو، ورنہ تجھ پر اس کا دروازہ بند کردیا جائے گا۔ تو (خلقِ خدا پر خرچ کو) شمار نہ کر ورنہ تجھ پر بھی گنتی کی جائے گی۔ بخل نہ کر ورنہ تجھ سے بھی عطا روک لی جائے گی۔ مقروض پر سختی نہ کر ورنہ تجھ پر سختی کی جائے گی۔ اے زبیر! اللہ تعالیٰ مال خرچ کرنے کو پسند کرتا ہے اور روک کر رکھنے کوبہت نا پسند کرتا ہے۔ بلاشبہ سخاوت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین ہے۔ جبکہ بخل کا سبب شک ہے، جسے یقین کی دولت حاصل ہوتی ہے وہ دوزخ میں داخل نہیں کیا جاتا اور جو شک کرتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوتا۔
اے زبیر! اللہ تعالیٰ سخاوت کو پسند فرماتا ہے اگرچہ وہ کھجور کے ایک ٹکڑے کی ہو، شجاعت کو پسند فرماتا ہے اگرچہ اس کا اظہار بچھو یا سانپ کو مارنے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، اے زبیر! متزلزل کر دینے والے مصائب میں صبر کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور شبہات پیدا ہو جانے کی صورت میں کامل یقین اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ شہوات کے غلبے کے وقت مکمل عقلمندی سے کام لینا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ حرام اور خبیث چیزوں سے واسطہ پڑے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کو خالص تقویٰ پسند ہے۔
اے زبیر! بھائیوں کی تعظیم کرو، نیک لوگوں کی تکریم کرو، اہل خیر کی توقیر کرو۔ پڑوسیوں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ فسق و فجور والوں کے ساتھ نہ چلو پھرو۔ (اگر تم ایسا کردار اور رویہ اختیار کر لو) تو پھر حساب و کتاب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مجھے تاکیدی حکم تھا اور میں تجھے اس کی وصیت کرتا ہوں۔ [ اِسے امام حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام سیوطی نے ان کی تائید کی ہے]۔
عزیزان گرامی؛ اللہ کی حاکمیت کے تحت زندگی گذارنی ہے؛ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اور اللہ تعالی نے حبیب پاک محمدﷺ کے ذریعے ترکِ دنیا سے منع فرمایا ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے گھر خاندان بسانے کا راستہ دکھایا ہے۔ چانچہ ہمیں ہر دم کسب کمال کی طلب میں "حسنۃ بر رزقِ حلال" کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہماری یہ زندگی مادہ پرستی اور اشیاء کی فراہمی اور فراوانی کی دوڑ نہیں ہے۔ کسب معاش میں حسنۃ بر رزقِ حلال کو فوقیت دیں؛ معاش اور معیشت میں سود سے پاک رہیں اورمعاشرت کے تمام پہلوں میں بناوٹ اور نمائش سے محفوظ رہیں۔
اللہ سبحان تعالی کی ہدایت کو ہمیشہ مطمع نظر رکھیں؛ یہی صراط مستقیم کا سفر ہے۔ اس دنیا میں اللہ تعالی کی حاکمیت کو قائم کرنے کی جدوجہد میں کسبِ کمال کے ذریعے حسنۃ بر رزقِ حلال کی جدوجہد کرنا چاہیے۔ ہمیں ہرطور پر ریا اور نمائش سے محفوظ رہنا چاہیے۔ ریا اور نمائش انسان کو خواہشات کا غلام بنادیتی ہے؛ اور حد سے تجاوز کرتی خواہشات، کسب معاش کی دوڑ میں، ابن آدم کو نفس کا غلام بنا دیتی ہے؛ جو حسنۃ بر رزقِ حلال کی مخالف سمت کا سفر ہوتا ہے؛ چنانچہ نفس اور شیطان کی چال سے محفوظ رہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو؛ آمین ثم آمین۔
Human Resource Management plays a vital role in the success of every organization. From hi...
The global hyperlocal delivery app market size was valued at USD 2.09 billion in 2024 and...
The global high speed camera market size was valued at USD 614.51 billion in 2024 and is e...