سنگت کی پریم کتھا
We humans are special creation of God Al-Mighty and the most precious gift for humans are company of fellow humans; which is defined as attachment with physical, mental and psychological presence. “When mindfulness embraces those we love, they will bloom like flowers.” This write up "سنگت کی پریم کتھا" in Urdu is about the companionship and love stories between two human beings.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
سنگت کی پریم کتھا
اس زمین پر ہم انسان سماجی جانور ہیں اور خاندان؛ قبیلہ اور قوموں کی شناخت کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہ شناخت سنگت کا اظہار ہے جسے انسان صدیوں سے اپنا رہا ہے۔ انسانوں کا باہم سنگت کا سب سے بنیادی جز دو افراد کا ایک دوسرے کے ساتھ وقت گذارنا ہے؛ جو جز وقتی اور زندگی بھر کا ساتھ ہوسکتا ہے۔ انسانی سنگت کا سب سے زیادہ کہانیوں کا موضوع کسی مرد اور عورت کی سنگت بنا ہے۔ جسے عرفِ عام میں پریم کہانی کہا جاتا ہے؟ پریم کہانی کیا ہے؟
پریم کہانی زیادہ تر کسی نوجوان مرد اور عورت کے درمیان محبت کی داستان ہوتی ہے۔ اس میں ایک پریمی اور ایک پریمیکا ہوتی ہے۔ جو کسی علاقے میں، ایک جگہ پر، ایک وقت میں موجود ہوتے ہیں اور خوبی قسمت سے ایک دوسرے کے سامنے آن وارد ہوتے ہیں۔ اور لوگ آج صدیوں کے بعد بھی ناواقف ہیں کہ آخر کیوں انہیں آپس میں محبت ہوجاتی ہے۔ یونانی کہتے ہیں کہ کیوپڈ [محبت کا دیوتا] کے تیر کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ اس حالت میں انکی سنگت کی گفتگو کچھ یوں ہوتی ہے کہ "میں تم سے دل و جان سے محبت کرتا ہوں۔ تمھاری سنگت کی بدولت میرے ہاتھ میں ایسا خزانہ آگیا ہے جس کی تمنا سارا جہان کررہا ہوتا ہے؛ کیونکہ آسمانوں کا خدا ایسا چاہتا ہے؛ تم اس زمین کی سب سے سندر دیوی ہو"۔
لیکن پریمیکا بھی وینس دیوی کے جلووں سے ممتاز ہوتی ہے اور ایسی چکنی چپڑی باتوں میں اتنی سادگی سے نہیں آتی۔ وہ اپنے حسن کے جلوں کو فورا" آشکار نہیں کرتی؛ اور پریمی کو سنگت کی محفل کو مزید روشن کرنا پڑتا ہے؛ مزید تعریف کرنا ہوتی ہے۔ پریم کتھا آگے بڑھتی ہے تو فضاوں میں سرگوشی ابھرتی ہے؛ "میری محبت ریگستانوں سے زیادہ وسیع اور سمندروں سے زیادہ گہری ہے۔ ان بلند پہاڑوں کی چوٹی پر موجود روحیں بھی جانتی ہیں کہ میرا پریم سچا ہے؛ وہ دیکھو آسمان پر ابھرتا تارا مسکرا کر میری تائید کررہا ہے۔ آج اس وقت میں اس جگہ پر میں ہوں؛ تم ہو اور یہ سارا آسمان ہے؛ جس پر دور دور تک ستارے ہیں اور گواہ ہیں۔ دیکھو تو سہی میری اور تمھاری سنگت سے ایک سما بن گیا ہے؛ ایک عالم استوار ہوگیا ہے جس میں ستارے ہیں اور کہکشائیں بھی ہیں؛ اور تمھاری ہاں کی منتظر ہیں" ۔
خود کو اس ہوش میں مدہوش بنانے کے لیے
آیت حسن پڑھوں دیکھتا جاؤں تجھ کو
مبشر سعید
سپردگی کے تقاضے کہاں کہاں سے پڑھوں
ہنر کے باب میں پیکر ترا کتاب ہوا
نصیر ترابی
جناب ریحان علوی نے کہا ہے کہ "وہ طلسم ہوش ربا سنا، وہ پری دیو کی کتھا سنا؛ میں ڈروں تو مجھ کو گلے لگا، مجھے بازوؤں کا حصار دے"؛ سو پریمیکا کی کیا مجال کہ کیوپڈ کا تیرچلا ہو اور اس کا دل گھائل نہ ہو۔ جناب جاں نثار اختر نے کہا ہے کہ "سنگت کی دیوی کے رخ پر اک بار جمال آ جاتا ہے؛ ٹھمری کی رسیلی تانوں سے نغموں کی گھٹائیں آتی ہیں"؛ سو وہ اپنے پریمی کا دل ہار بیٹھتی ہے؛ اور بقول امیر خسرو کہہ اٹھتی ہے کہ
خسرو رین سہاگ کی، جو میں جاگی پی کے سنگ
تن مورا من پیا کا، جو دونوں ہی اک رنگ
خسرو دریا پریم کا، جو الٹی وا کی دھار
جو ابھرا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار۔
لبنی کنول کی نظم پیش خدمت ہے
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﻮ !!! ﺟﺎؤ ﻧﺎ
ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﻧﺎ
ﻭﮦ ﮐﺐ ﮐﺐ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ؟
ﻭﮦ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﮬﮯ ﯾﺎ ﺳﻮﺗﺎ ﮬﮯ؟
ﻭﮦ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﮯ ؟
ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ؟
ﺟﺐ ﺳﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﺩﮐﮭﺘﺎ ﮬﮯ ؟
ﺟﺐ ﺟﺎگے ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ؟
ﺗﻢ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﺅ ﻧﺎ
ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﻧﺎ !!۔
ﮬﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺎ ﺍﺩﮬﻮﺭﮮ ﮬﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ
ﺗﻢ ﮐﺎﻥ میں اس کے کہہ دینا ,
ﮐﻮئی ﯾﺎﺩ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﺗﺎ هے
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﻮ !!! ﺟﺎﻭ ﻧﺎ؛
ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ ﻧﺎ !!۔
تم چپکے چپکے جاؤ نا
میرے چاند کو چھو کر آؤ نا
اگر یہاں تک پڑھ کر آپ کو لگتا ہے کہ پریمیکا کوئی حسین ترین دیوی ہوتی ہے جس کے حسن کا شکار ہوکر پریمی ہوش کہہ بیٹھتا ہے تو آپ کو درست نہیں محسوس ہوا۔ کہتے ہیں کہ مجنوں کی پریمیکا لیلی کالی تھی۔ حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اصلی عاشق اور صاحبِ نظر وہ ہے جو حسن و جمال کا اعلیٰ ترین نظریہ اور تصوّر رکھتا ہو،،، کائنات کی ہر شئے کے جمال کا عاشق ہو،،، زندگی کے تمام رنگوں کا عاشق ہو،،، وہ نابینا ہے جو عاشق میں شمار کیا جائے؛؛ لیکن سیاہ فام شخص کے حسن کو نہ پہچان سکے۔
لیکن پریم کہانی ہو اور ٹوسٹ نہ آئے؛ کوئی موڑ ایسا ضرور آتا ہے کہ جہاں سے سواری کھائی میں جاگرتی ہے اور کوئی سانحہ جنم لیتا ہے۔ پریمی اور پریمیکا کی درمیان جدائی پڑ جاتی ہے؛ اور نجانے کیوں زیادہ تر شاعری تو جدائی کے روگ پر ہی لکھی گئی ہے۔ اور پھر کیا کیا کتھا ؛ کیسے کیسے سنائی جاتی ہے کہ جناب سجاد باقر رضوی نے کہہ دیا ؟
پریم پجاری مندر مندر دل کی کتھا کیوں گاتے ہو
بت سارے پتھر ہیں پیارے سر پتھر سے مارو گے
انجیل صحیفہ کی نظم "ان چھوئی کتھا" پیش ہے۔
میں کوئی خواب لکھوں کہانی میں بیتی کسی رات کا
کہکشاؤں کی نگری سے گزرے ہوئے
رات اوڑھے ہوئے اک حسین ساتھ کا
اس گگن کی کتھا بھی لکھوں
جس پہ نینوں کے جھلمل دئیے جگمگا اٹھے تھے
جس پہ بادل ہماری طرح کھلکھلا اٹھے تھے
جس پہ کہرے کی چادر تلے چاند چپ چاپ تھا
اور کہیں دور مرلی پہ بجتا کوئی ساز تھا
وہ جو خواہش سی بہتی ہوئی کاسنی نہر تھی
وہ جو آنکھوں سے کوسوں پرے ان چھوئی سحر تھی
ہاں وہی ہاں وہی ہاں وہی قہر تھی
مجھ کو بانہوں میں اپنے چھپائے ہوئے
برف کی سلوٹوں سے سرکتے ہوئے
دھند اوڑھے ہوئے
دودھیا روشنی سے پرے
چاند کی اوٹ میں
تیرے پہلو میں سمٹی ہوئی
رات خاموش تھی
میں بھی میرا کے جیسی کسی کرشن کی یوگنی تھی مگر
میں بھی نردوش تھی
اللہ سبحان تعالی کُل کائنات کے خالق اور ملک ہیں۔ اور ساری کائنات میں خالقِ کُل کی تخلیقات کے حسن کا حصّہ اور جوہر نظر آتا ہے۔ چمکدار سورج کی روشنی میں مشاہدے کی آنکھ کیسا کیسا حسین منظر دیکھتی ہے؛ جو کسی عاشق کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہوتی۔ رومان پرور فطرت کے حسن سے آشناء ہوتے ہیں اور انکی سنگت اس فطرت کے سنگ پرورش پاتی ہے؛ خواہ وہ پریم کہانی ہی کیوں نہ ہو۔ ایک پریمی رات کے اندھیرے میں چمکتے چاند اور اسکے سنگ ستاروں کے حسن کو جانچتا ہے اور پہچان جاتا ہے کہ سیاہی کے حسن کے جلوے ہی میں سے حسن برآمد ہوتا ہے؛ سو جس نے حسن کو اپنی فطرت کے ساتھ پہچان لیا دراصل وہی صاحبِ فکر و نظر ہے،،، جلال و جمال کارسیا ہے۔
علامہ اقبال اپنی نظم "رُوحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے" میں کہتے ہیں کہ
ہیں تیرے تصرّف میں یہ بادل، یہ گھٹائیں
یہ گُنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں
یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں
تھیں پیشِ نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں
آئینۂ ایّام میں آج اپنی ادا دیکھ!
علامہ محمد اقبال تو شاعر مشرق ہیں؛ حکیم الامت بھی ہیں تو ان سے سیکھتے ہیں؛ تو سنگت کی پریم کتھا فطرت کے اصولوں کے تحت پروان چڑھے؛ لکھی، پڑھی اور سنائی جائی تو جاندار بھی ہوگی اور تقضائے فطرت بھی ہوگی تو کامیاب بھی ہوگی۔ اونچ نیچ تو دنیا میں لگی ہی رہتے ہے مگر ایک کامیاب سنگ کی پریم کتھا یقینا' شاندار ہوتی ہے۔ جناب محسن نقوی نے نصیحت کررکھی ہے کہ "ﻟﻮﺡِ ﺩﻝ ﭘﺮ ﯾﮩﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﮯ ﻣﺤﺴﻦ..؛ ﻋﺸﻖ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ."؛ مگر اس تحریر کا مقصد پریم کی سنگت کو ایک خوبصورت رنگ دینا ہے؛ اس کا صحیح روپ اجاگر کرنا ہے؛ جس سے دلوں میں پیار کی جوت کی صحیح نشاندھی کرنا ہے۔
تحریر اور تقریر میں سنگت کی کامیاب پریم کتھا کی زیادہ تصویر کشی نہیں کی گئی ہے۔ ایک مناسب رائے تو یہ ہے کہ آج ہم انسان اس دنیا میں آٹھ ارب کے نفوس پر مشتمل ہیں؛ جو یقینا' پریم کتھا کی ایک جھلک تودکھا رہے ہیں؛ کہ پریم کی سنگت کے بنا یہ ممکن تو نہیں ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں کی طویل داستانوں میں سونے کے حروف میں لکھی گئی متعدد پریم کتھائیں ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک کامیاب پریم سنگت کی کتھا ہے محمد علی جناح اور فاطمہ جناح؛ اسی طرح ایک اور پریم سنگت کی کامیاب کتھا ہے علامہ محمد اقبال؛ اور ہم کیوں نہ بتائیں مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی بھی تو ایک کامیاب پریم سنگت کی کتھا تھے۔
اپنے ارد گرد نظر ڈالیے؛ بہت سی سنگت کی پریم کتھائیں ملیں گی؛ انکو برتئے؛ غور کیجیے اور سبق حاصل کیجیے۔ یہ دنیا بہت حسین ہے اور فطرت خوب مہربان ہے؛ اپنی حیات کار میں زمین سے جڑے رہیے؛ معروف کو اپنائیے اوراپنی زندگی کی پریم سنگت کی کتھا کو سندر بنائیے۔