سنگت کی دھن پہ گاتا دل
We humans are special creation of God Al-Mighty and the most precious gift for humans are company of fellow humans; which is defined as attachment with physical, mental and psychological presence. “When mindfulness embraces those we love, they will bloom like flowers.” This write up "سنگت کی دھن پہ گاتا دل" in Urdu is about the gift of presence that we award to own selves being present with our fellow beings; thus be part of the universal cosmic rhythm.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
سنگت کی دھن پہ گاتا دل
انسان ایک سماجی جانور ہے کیونکہ انسان اکیلا یا تنہائی میں زندگی نہیں گذار سکتا اور ہر انسان اپنی بقا، نشوونما اور جسمانی اور سماجی ضروریات کی تکمیل کے لیے معاشرے پر انحصار کرتا ہے۔ یہ سماجی تعلق کی نوعیت انسانوں کے تحفظ اور حیاتیاتی وسائل کے لیے گروہوں پر انحصار کراتا ہے؛ اور مزید برآں زبان، شخصیت اور نفسیاتی بہبود کے لیے سماجی تعامل (سنگت) کی اہمیت ہوتی ہے۔
یہ خیال کہ "انسان ایک سماجی جانور ہے" مشہور یونانی فلسفی ارسطو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس نے استدلال کیا کہ انسان فطری طور پر سماجی ہیں اور انہیں پھلنے پھولنے کے لیے برادری اور تعامل (سنگت) کی ضرورت ہے، اور جو بھی معاشرے میں نہیں رہتا وہ یا تو حیوان ہے یا خدا۔
انسان اس لیے بھی سماجی مخلوق ہیں؛ کیونکہ وہ فطری طور پر خاندان بناتے ہیں اور رشتوں کو قائم کرتے ہیں؛ اور زندہ رہنے اور پھلنے پھولنے کے لیے دوسروں کے ساتھ تعلق (سنگت) اور تال میل کے ذریعے ترقی کرتے ہیں۔ یہ ارتقائی اور نفسیاتی ضروریات دونوں کی وجہ سے ہے، کیونکہ سماجی روابط بنیادی ضروریات کو پورا کرنے، زبان اور شخصیت کی نشوونما، اور پیچیدہ مقاصد کے حصول کے لیے بہت ضروری ہیں۔
انسان کی سماجی مخلوق کے کردار میں اہم ایک دوسرے کی سنگت پر بھروسہ کرنا ہے؛ اور ان روابط کی موجودگی میں ترقی کرتے ہیں۔ ایک ارتقائی نقطہ نظر سے، انسان ہمیشہ گروہوں میں رہتے ہیں؛ خاندان، قبیلہ اور قوم کی تشکیل کرتے ہیں؛ اور پھر اس ہی تعلق سے اپنے اردگرد کی دنیا کے دوسرے خاندانوں؛ قبیلوں اور قوموں کے ساتھ لین دین اور دیگر زندگی کے متعدد تعامل کو بروئےکار لاتے ہیں۔
انسان سماجی روابط (سنگت) بنانے کی فطری صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ شاید پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے؛ شیرخواری کے عالم سے بچپن؛ پھر لڑکپن؛ نوجوانی؛ جوانی؛ عمر رسیدگی اور بڑھاپا الغرض یہ مسلسل قائم ایک ربط ہوتا ہے۔ بچپن کے دوران ابتدائی سماجی تعلق؛ ربط (سنگت) اور تال میل جو زیادہ تر کھیل کود ہی ہوتا ہے، ہر انسان کی ذاتی اور جذباتی نشوونما میں اہم اور مستحکم کردار ادا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ انسانوں کو سیکھنے اور اعلیٰ درجے کے ادراک کے لیے سماجی اور جذباتی روابط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر زندگی کے پیشہ ورانہ دورمیں بھی ایک زیادہ مضبوط طریقے سے (سنگت) سماجی تعلق ابھرتا ہے، اور زندگی کے دوڑ میں انسان اکیلا ترقی کر ہی نہیں سکتا۔
زندگی کے اگلے مراحل میں تمام انسانوں کا اپنی ذات سے جڑے دوسروں کے ساتھ اعلی سطح کا سماجی تعامل (سنگت) قائم کرنا ہوتا ہے، جو اکثر تعاون، مواصلات اور تحفظ جیسے مقاصد کے لیے منظم معاشروں اور اداروں کی تشکیل کرتا ہے۔ زندگی کے تمام مراحل میں تمام انسان فعال طور پر دوستی، ہم نفس بندھن اور ہمدم دیرینہ وغیرہ کے روابط کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اس سے افراد یہ جان کر سکون حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ زندگی کے سفر میں تنہا نہیں ہیں۔ دوستوں کے بغیر زندگی کو اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ خود کو تنہائی میں چھوڑ دیا جائے۔
تمام انسانوں کو خواہ مرد ہوں یا عورت باہم تعلق قائم کرنا ہوتا ہے؛ جسے عرفِ عام میں شادی کرنا کہتے ہیں۔ یہ تعلق اور بندھن زندہ اور مضبوط معاشرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ معاشرہ تہذیب کی ترقی اور تحفظ کے پیچھے بنیادی فریم ورک اور محرک قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ منظم اور کوآپریٹو معاشروں کے بغیر، وہ پیچیدہ ڈھانچے اور ترقی جو تہذیب کی تعریف کرتی ہے — جیسے حکومتیں، شہر اور ثقافت — موجود نہیں ہو سکتیں۔ سو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تہذیبوں کی بنیاد انسانی سماجی تعلق اور روابط ہیں؛ جو انسانوں کے آپسی سنگت سے جنم لیتے ہیں۔ سنگت انسانی حیات کا حسن ہے؛ اس سے خاندان، قبیلے اور قوم بنتی ہے؛ جڑ پکڑتی ہے اور دیرپا تعلق اور بندھن سنگت کے ارتقائی مراحل سے گذر کر حاصل ہوتے ہیں۔
سنگت کے سوغات؛ ہمرکابی کا تحفہ؛ باہم ساتھ ساتھ ہونے اور موجودگی کا تحفہ؛ کسی دوسرے کے ساتھ جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی تعلق کی موجودگی سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ "سب سے قیمتی تحفہ جو ہم ایک دوسروں کو دے سکتے ہیں وہ ہماری سنگت یا باہم ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہونا ہے۔ جب ہم ذہنی طور پر قلبی الفت سے اپنے پیاروں کو گلے لگاتے ہیں تو وہ پھولوں کی طرح کھلتے ہیں"۔ یہ بات واضع طور پر سمجھنا ہے کہ اگر ہمیں سنگت حاصل نہیں ہے تو دوسری صورت صرف اکیلا پن ہے؛ تنہائی ہے۔ اس نفسِ مضمون کی مزید وضاحت کے لیے کچھ شاعرانہ اظہار پر غور کرلیتے ہیں۔
اپنا پیکر اپنا سایہ کالے کوس کٹھن
دوری کی جب سنگت ٹوٹی کوئی قریب نہ تھا
مجید امجد
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
مومن خان مومن
شہاب اختر کی نظم "تیری سنگ" پیش ہے۔
زلفوں کی خوشبو
اندر تک
اتر رہی ہے
ہوائیں
سرسرا رہی ہیں
ہڈیوں ہی کوئی
راگ بج رہا ہے
یہ
طبلہ
خاموش ہے بہت
ساون کی پھوہاروں کی تھاپ تیز ہے
تم آؤ
میرے سنگیت کو
سنگت دینے کے لئے۔
عبیرہ احمد کی نظم "تنہائی کی ایک نظم" پیش ہے۔
بہت چھوٹی سی اک تقریب رکھی ہے
یہ دنیا ہے
لہٰذا حسب خواہش کچھ یہاں ہو کر نہیں دیتا
سو یہ تقریب جانے ہو نہ ہو
پر تم ضرور آنا
تم آنا
آرزو کی بات ہوگی
زندگی پر تبصرے ہوں گے
وہاں رکنا
جہاں پھولوں کی سنگت میں روش پر دل دھرے ہوں گے
قبائے چاک پہنے کچھ کشادہ ظرف استقبال کو باہر کھڑے ہوں گے
تمہیں جو رنگ بھی بھائے پہن آنا
تمہیں جو بھیس خوش آئے
دبے پاؤں
ہوا کے دوش پر
یا چاند کی کرنوں پہ چل کر
پا پیادہ حرف ہاتھوں میں اٹھائے یا تہی داماں
کسی صورت بھی آنا
بس چلے آنا
بہت چھوٹی سی اک تقریب رکھی ہے
نہ اب شب زادگی سے کوئی شکوہ
نہ زمانے کے تغافل سے شکایت ہے
ضرور آنا مرے غم کی نہایت ہے
ذوالنورین کی نظم "کتنا شور ہے شہروں میں" پیش ہے۔
شور کچھ کم ہو تو
نیند میں الجھی ہوئی سانسوں کی کہانی سنوں
روشنیوں سے جھلسی ہوئی سوچوں کی فریاد سنوں
شور کچھ کم ہو تو
دریا کو سنوں
درد کے کھنکتے ہوئے جل ترنگ کو سنوں
شور کچھ کم ہو تو
میرا سایہ نہیں ہو سکتا
وہ گھر جیسا نہیں ہے
تو کیا
میرا آسمان نہیں ہو سکتا
وہ پیاس جیسا نہیں ہے
تو کیا
میرا سمندر نہیں ہو سکتا
وہ دوست جیسا نہیں ہے
تو کیا
میرا خدا نہیں ہو سکتا
سورج کی گردش کو سنوں
لمحوں کے بہتے ہوئے ساگر کو سنوں
شور کچھ کم ہو تو
دھوپ کی سنگت میں
رقاص ہواؤں کے سنگیت کو سنوں
پیاس میں بھیگی ہوئی
بارش کے قطروں کو سنوں
شور کچھ کم ہو تو
بھڑکتے ہوئے دیے کی
مچلتی ہوئی ضد کو سنوں
دل سے ابھرتی ہوئی بے نیاز
اذاں کو سنوں
شور کچھ کم ہو تو
اپنے خدا کو سنوں
مہناز انجم کی نظم "کہاں ہیں ہم" پیش ہے۔
کہاں تھے ہم
سمندر سی کسی خواہش کے ساحل پر
ہنستی بھیگتی ساعت کی سنگت میں
ہنسی کتنی سجل تھی
آنکھ کے ہر کنج میں
تتلی کی صورت اڑتی پھرتی تھی
رہ شب میں گھنا جنگل
یا کوئی اجنبی رستہ
ہمارے سامنے آتا
تو اس دیوار کے سینے سے کتنے در نکل آئے
لہو کی تال پر منزل
دھڑک اٹھتی تھی پہلو میں
کسی احساس کے دھندلے
افق سے دن نکل آتا
اور اپنے ساتھ کیا کیا
قرمزی کرنوں میں لیٹے
پیار کے سندیس لے آتا
بہت تکریم کے موسم
تہ جاں سے ابھرتے تھے
دعاؤں سے بھرے
سرسبز ہاتھوں کو یقیں تھا
جھلملاتے خواب
خوشبو خیزیوں میں فرد ہوں گے
اور تقرب کے کسی
بیتاب سے پل کو جگائیں گے
تو سرپٹ بھاگتی
یہ عمر کی ہرنی
کسی زنجیر وعدہ میں
کہیں رک کر
ہمیں چاہت سے دیکھے گی۔
یہ خیال کہ "دل سنگت میں گاتا ہے" دو لوگوں کے درمیان گہرے تعلق، محبت اور خوشی کا ایک استعارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دو لوگ محبت میں ہوتے ہیں، تو وہ ایک دوسرے کی سنگت میں مکمل ہوتے ہیں؛ اور تعلق کا ایک انوکھا اور خوشگوار احساس پاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کا "دل ایک گانا گاتا ہے" جو اس وقت مکمل ہوتا ہے جب دوسرا شخص "سرگوشی کرتا ہے"۔ یہ محض لفاظی نہیں ہے بلکہ شدید خوشی، سکون اور سمجھ بوجھ کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔
اپنے لب کھول یعنی باتیں کر کہ مجھے بہت زیادہ شیرینی کی آرزو ہے اور اپنا چہرہ دکھا کہ مجھے باغ اور گلستان کی آرزو ہے۔ جلال الدین رومی
ایک لحظہ کیلیے رُخِ جاناں دیکھنے کی آرزو ہے، ایک دم کیلیے اُس مہِ خوباں کے وصال کی آرزو ہے۔ اے جاناں تیری آرزو میں میری جان لبوں تک آ گئی، میری طرف رُخ کر کہ میری آرزو ہے کہ میرے دل و جان کو تقویت پہنچے یعنی تیرے دیدار سے زندہ ہو جاؤں۔ فخر الدین عراقی
اُس نے کہا کہ اپنے لب بند رکھ اور ہمارے اسرار کسی سے مت کہا، میں نے کہا کہ خیر (یعنی آپ کی بات مان لیتا ہوں) لیکن مجھے نعرۂ تکبیر (اللہ اکبر) بلند کرنے کی آرزو ہے یعنی اسی ایک نعرے (اللہ کی کبریائی ببان کرنے) سے سب چھوٹے بڑے راز خود بخود ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ علامہ اقبال
انسانوں کا باہم ایک دوسروں کے ساتھ معیاری وقت گذارنا ہر فرد کے لیے اہمیت رکھتا ہے؛ ایماندارانہ سنگت ہماری روح کو بلند کرتا ہے، اور سچی سنگت سے ہمارے دل خوش ہوتے ہیں اور گنگناتے ہیں۔ سنگت سے ابتداء ہوتی ہے خود سے بڑی چیز سے تعلق قائم کرنا؛ اور ان اوقات میں جب ہم کائنات سے تال میل جوڑ پاتے ہیں تو ہمارا دل نغمہ ساز ہوجاتا ہے؛ اور یہ احساس ہے کہ ہم کائنات جیسی ایک نہایت بڑی چیز کا حصہ بن جائیں گرچہ صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی سہی؛ جیسے سمندر میں ایک قطرہ؛ ایک ایسا قطرہ جو سمندر کی حیات بخش لہروں کی سنگت میں فطرت کا پیغام زندگی زمین کے سارے کناروں تک پہنچاتا ہے؛ چنانچہ سنگت میں گایا گیت اور نغمہ تو یقینا" کامیابی ہے۔
دل کی آواز
جب کوئی پیار سے بلائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
لذت غم سے آشنا ہوکر
اپنے محبوب سے جدا ہوکر
دل کہیں جب سکوں نہ پائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
تیرے لب پہ نام ہوگا پیار کا
شمع دیکھ کر جلے گا دل تیرا
جب کوئی ستارہ ٹمٹمائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
زندگی کے درد کو سہو گے تم
دل کا چین ڈھونڈتے رہو گے تم
زخم دل جب تمھے ستائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا
جب کوئی پیار سے بلائے گا
تم کو ایک شخص یاد آئے گا