سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
Allama Dr Muhammad Iqbal was the great mystic Poet of the Sub Continent India-Pakistan. Iqbal is also the philosopher of East and national poet of Pakistan. Allama Muhammad Iqbal has given a comprehensive message about "Khudi" in the poetry about the downfall of Muslims and method to rise again. This write up in Urdu "سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات" is an explanation of the Iqbal's verse with the help of various verses of Iqbal, keeping the main theme in focus.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful
سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
نفسِ مضمون کا مصرع علامہ محمد اقبالؒ کی کتاب بالِ جبریل کی مشہور نظم "مسجدِ قرطبہ" کا مقطع یعنی پہلے شعر کا ہے؛ جس میں زمانے کی گردش، زندگی اور موت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دن اور رات کا بدلتا ہوا سلسلہ ہی کائنات میں تمام واقعات و حادثات کا خالق اور زندگی و موت کا اصل سبب ہے۔ پورا شعر کچھ یوں ہے:-۔
سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات
علامہ محمد اقبالؒ کے اس شعر میں "سلسلہ روز و شب" سے مراد زمانہ یا وقت کا گزرنا ہے؛ اور"نقش گرِ حادثات" کا مطلب ہے کہ زمانہ ہی ہر لمحہ نئے واقعات، تبدیلیاں اور حادثات تخلیق کرتا ہے؛ اور "اصلِ حیات و ممات" سے مراد ہے کہ زندگی اور موت کا دارومدار اسی گردشِ ایام پر ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں علامہ اقبال یہ سمجھا رہے ہیں کہ وقت ایک صراف (پرکھنے والا) ہے جو انسانوں اور قوموں کے کردار کو دن رات کی گردش میں پرکھتا ہے اور نئے حالات بناتا ہے۔ اوراللہ تعالی انسانوں کے درمیان دن (حالات) کو بدلتے رہتے ہیں، کبھی خوشی تو کبھی غم، کبھی کامیابی تو کبھی ناکامی، اور کبھی عروج تو کبھی زوال۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: " وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ"؛
"اور یہ دن (حالات) ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔" (سورہ آل عمران: 140)
علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری کے بیشتر حصے میں مسلم عہد کے سپین کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ وہ اس عہد میں مسلمانوں کے عروج و زوال سے بری طرح متاثر نظر آتے ہیں ۔ وہ سنہ 1934 ء میں تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے یورپ گئے؛ تو بعد میں ہسپانیہ کا دورہ بھی کیا اور اموی عہد کے آثار قدیمہ بھی دیکھے۔ اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ روز و شب کی داستان عہد کے حوالے سے یوں بیان کی جا سکتی ہے کہ اس میں فنا و بقا کے بنیادی سلسلے کے حوالے سے ہی صورت حال کی تفہیم ممکن ہے ۔ یعنی دن اور رات کے عرصے میں کتنے ہی بچے جنم لیتے ہیں اور کتنے ہی لوگ وفات پا جاتے ہیں ۔ یہی عمل قدرت کے نظام کا حقیقی روپ ہے؛ چنانچہ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو ہمارے روز و شب یعنی زمانہ ہی زندگی اور موت کا حقیقی سرچشمہ ہے ۔
ہے مگر اس نقش میں رنگِ ثباتِ دوام
جس کو کِیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ مسجدِ قرطبہ (جسے کسی مردِ خدا یعنی عاشقِ رسول نے بنایا) کے نقش و نگار میں ابدی بقا اور دوام کا رنگ موجود ہے۔ یعنی عشق سے بنائی گئی چیزیں فانی نہیں ہوتیں اور زمانہ گزرنے کے باوجود ان کی شان باقی رہتی ہے۔ دنیا میں کئی پرانی تہذیبوں کے اثرات یا نشانیاں دیکھی جاسکتی ہیں؛ اور اسلام آج کی دنیا میں سب سے کم عمر تہذیب کا حامل ہے؛ مگر سپین وہ جگہ ہے جہاں آج سے تقریبا" سات سو سال قبل مسلمان نکال دیے گئے تھے۔ مگر مسلمانوں کو چھوڑا ہوا ورثہ ایک عالی شان روپ سے موجود ہے۔ تبھی اقبال نے فخر سے کہا ہے کہ "لعلِ بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب" یعنی مسجدِ قرطبہ کی خوبصورتی اور شان و شوکت کوڈوبتا سورج سلامی کرکے جاتا ہے اور دیکھنے والی آنکھ کی حیرت کو بیان کرتا ہے۔
خواجہ حافظ نے اس موقع کے لئے کیا خوب کہا ہے :۔
ہرگز نہ میرد آن که دلش زنده شد به عشق
ثبت است بر جَریدهٔ عالم دوامِ ما
’’جس کا دل الله تعالیٰ کے عشق سے زندہ ہو جائے وہ کبھی مرتا نہیں- ہماری ہمیشگی دنیا کی تاریخ میں قائم ہو چکی ہے‘‘- اب وقت کی جگہ عشق کائنات پرمحیط ہو جاتا ہے اور ہر چیز اس کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے - چنانچہ مسجد ِ قرطبہ کا وجود بھی عشق ہی کا رہینِ منت ہو جا تا ہے۔
اے حَرمِ قُرطُبہ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود
علامہ محمد اقبالؒ کہتے ہیں کہ اے مسجدِ قرطبہ! تیری بلند و بالا عمارت، تیری خوبصورتی اور تیری بقا کے پیچھے مسلمانوں کا خالص عشقِ الٰہی اور جذبہِ ایمانی کارفرما ہے۔ کیونکہ عشق ہمیشہ رہنے والی چیز ہے، اس میں فنا (رفت و بود - یعنی آنا جانا) نہیں ہے۔ یعنی جو عمارت یا کام عشق سے کیا جائے، وہ لافانی ہو جاتا ہے۔
دنیائے اسلام کیوں دائمی زوال کا شکار ہے؟
دنیائے اسلام کے زوال کے اسباب کثیر الجہتی ہیں، جن میں علمی جمود، اخلاقی انحطاط، اور اتحاد کا فقدان بنیادی نوعیت کے اہم عنصر ہیں۔
مسلمانوں نے اجتہاد (عقلی و فکری کوشش) کو چھوڑ دیا اور تقلید (بغیر سمجھے پیروی) کو اپنا لیا، جس سے نئی علمی تحقیقات کا سلسلہ رک گیا۔ پھر سائنسی اور جدید علوم سے دوری اختیار کی اور مغربی آقاوں کا چھوڑا ہوا ادھوراتعلیمی نظام سینے سے لگائے رکھا ہے۔ قرآن و حدیث کو صرف تبرک یا مقدس کتاب سمجھ کر طاقچے میں سجا رکھا ہے؛ جبکہ دین کی تعلیمات (عدل، دیانت، علم) کو عملی زندگی سے نکال دیا گیا ہے۔ چانچہ مسلم معاشرے میں خیر خواہی، دیانت، اور اخلاقیات کے جذبے کا خاتمہ ہو چکا ہے، نتیجتا" اسلامی معاشرہ کھوکھلا ہوگیا ہے۔
مزید ستم یہ ہوا کہ امت مسلمہ فرقہ بندی اور قومی تعصبات میں بٹ چکی ہے، جس کی وجہ سے انتشار، بے چینی اور باہم جنگ و جدل میں الجھی ہوئی ہے۔ اور یہ عذاب الہی ہی ہے کہ مسلم امّہ میں مضبوط اور مخلص قیادت کی کمی ہے، اور حکمران اشرافیہ اکثر عوامی مسائل سے بےخبر صرف مغربی آقاوں کی چاپلوسی میں مصروف رہتے ہیں۔ قوم، ملک اور معاشرے کے تمام ادارے بشول تعلیمی نظام میں دینِ سلام کے ضابطوں کے بجائے فرقہ وارانہ سوچ کو فروغ دیا جا تا ہے، جس سے اتحادِ امت کا تصور پارہ پارہ ہو گیا ہے۔ صلیبی جنگوں کے بعد سے مغربی استعمار یا نوآبادیاتی دور نے بھی مسلمانوں کی علمی و اقتصادی ترقی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن آج کے دن مسلمانوں کا زوال بیرونی سازشوں سے زیادہ ان کے اپنے اندرونی علمی، فکری، اور اخلاقی زوال کا نتیجہ ہے، جس کے باعث وہ عروج کی صفات (علم، محنت، اتحاد) سے محروم ہیں۔
علامہ محمد اقبالؒ شاعر و حکیمِ مشرق بھی ہیں اور انہوں نے مسلم قوم اور ملت کے اس زوال کا سبب بھی بیان کیا ہے تاکہ اگر کوئی روح بیدار ہو تو علاج کرسکے۔ فکرِ اقبال کے مطابق قوموں کا زوال انکی خودی کے ضعف کو بیان کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب مسلمان اپنی خودی، غیرت اور بے نیازی (فقر) کی حفاظت نہ کر سکے تو سزا کے طور پر غلامی میں ڈال دیے گئے، جیسا کہ مندرجہ ذیل شعر میں بتایا گیا ہے۔
کیا گیاہے غلامی میںمبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
علامہ محمد اقبالؒ اس شعر میں ایک مسلمان، خصوصاً ایک مومن کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمہیں غلامی میں اس لیے مبتلا کر دیا گیا ہے کہ تم فقر جیسے عظیم روحانی مقام کی حفاظت نہ کر سکے۔ "فقر"، اقبال کے ہاں محض فقرِ معاشی یا غربت نہیں بلکہ ایک بلند روحانی مقام ہے، جو انسان کو دنیا کی ظاہری چمک دمک سے بے نیاز کر دیتا ہے، اور اُسے خودداری، حریتِ فکر، اور قربِ الٰہی عطا کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب تم فقر کی اصل روح کو نہ سمجھ سکے اور اس کے مقام و مرتبے کی نگہبانی نہ کر سکے، تو تمہاری روحانی کمزوری اور دنیا پرستی تمہیں غلامی کے اندھیروں میں لے آئی۔ یہ غلامی جو سیاسی یا معاشی میدان میں دکھتی ہے؛ دراصل اس ناکامی کی وجہ سے ہے جو فکری، روحانی اور اخلاقی سطح کی غلامی کا نتیجہ ہے۔ یہ شعر دراصل ایک زبردست تنبیہ ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے روحانی سرمایے کی حفاظت نہ کرے، تو وہ بالآخر ظاہری غلامی کا شکار ہو جاتی ہے۔
تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلہَ روز و شب، صیرفیِ کائنات
علامہ محمد اقبالؒ اس شعر میں یہ سکھا رہے ہیں کہ زمانہ ہر شے کا احتساب ہی نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی کسوٹی کے مانند ہے جو نیک و بد کی تمیز پیدا کرتی ہے اور کھرے کھوٹے کو الگ کر دیتی ہے ۔ جیسے صیرفی؛ صراف سونا پرکھنے والا؛ یہ احتسابی عمل اور کسوٹی ایسی حقیقتیں ہیں جو خواہ سب ہوں یا اور کوئی سب کے لیے ہیں اور کوئی اس سے ماورا نہیں ہے ۔ اور آج زمانہ یہ سکھا رہا ہے کہ قوم مسلم ابتری کا شکار ہے اوراس کی وجہ خود اس کی ذات میں پنہاں ہے۔ قوم اور امت مسلمہ لذّات دنیا و نفس؛ ڈر، خوف اور احساس کمتری کی بیماری میں مبتلا ہے۔
تو پھر علاج کیا ہے؟
علامہ محمد اقبالؒ کے نزدیک ایک مسلمان کچھ اور ہونہ ہو مردِ مومن ضرور ہونا چاہیے؛ اور وہی اس کا علاج ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے کلام اور فلسفے میں "مردِ مومن" کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک ایک مسلمان کے لیے صرف نام کا مسلمان ہونا کافی نہیں، بلکہ اسے "مردِ مومن" یا "انسانِ کامل" کے مرتبے پر فائز ہونا چاہیے، جو خودی، عشق، یقین اور عملِ پیہم کا پیکر ہو۔
علامہ محمد اقبالؒ کا مردِ مومن اپنی خودی (خود شناسی) کو بیدار کرتا ہے اور اللہ پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ اس کی زندگی کا مرکز عشقِ رسولؐ اور اتباعِ سنت ہوتا ہے، جس کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔ وہ خوابِ غفلت میں رہنے کے بجائے متحرک، فعال اور جفاکش ہوتا ہے۔ وہ دنیا دار نہیں ہوتا، بلکہ بادشاہوں جیسی شان رکھنے کے باوجود فقر (بے نیازی) کی صفت رکھتا ہے۔ اقبال کے مطابق مردِ مومن دوستوں کے لیے ریشم کی طرح نرم اور حق و باطل کے معرکے میں فولاد کی طرح سخت ہوتا ہے۔
مردِ مومن ہونا کیوں ضروری ہے؟
علامہ محمد اقبالؒ کے نزدیک مردِ مومن کی نگاہ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ تقدیریں بدل دے۔ مردِ مومن "ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ" کی تصویر ہوتا ہے، یعنی وہ زمین پر اللہ کا خلیفہ اور نمائندہ بن کر کام کرتا ہے۔ مختصراً، اقبال کے نزدیک مردِ مومن صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک نظریاتی قوت ہے جو جمود کو توڑتی ہے اور انسانیت کو حق و صداقت کی راہ دکھاتی ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کی پستی اور غلامی سے نجات کے لیے اقبال نے مردِ مومن کے تصور کو پیش کیا تاکہ مسلمان دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اس مرد مومن کے اوصاف بڑے دلکش انداز میں پیش کئے ہیں:۔
اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز
نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
اختتامی کلمات
آج دنیا ایک نئی کروٹ لے رہی ہے؛ اور یہ اونٹ جس بھی کروٹ بیٹھے گا، پھر شاید سو سال حرکت نہ کرے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قوم اور امت مسلمہ غلامی، احساسِ کمتری اور کاہلی کو چھوڑ کر اپنی خداداد صلاحیتوں پر بھروسہ کرے اور روشن ضمیر بیداری حاصل کرکے اپنی خودی کو چمکائے اور اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرے۔
دیکھیے اس بحر کی تہ سے اُچھلتا ہے کیا
گُنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!