سلام بحضور سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا
Hazrat Fatima (RA) was the daughter of Holy Prophet Muhammad (PBUH) and wife of Hazrat Ali (RA) and mother of Hazrat Imam Hassan and Hussain (RA) and Hazrat Zainab (RA). She is one of the most sacred woman in Islam and is regarded as a role model for Muslim Women being the Chief of Women in Jannah. This write up in Urdu is a humble tribute to the Holy Lady of Islam.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
In the name of ALLAH, the Most Gracious, the Most Merciful
سلام بحضور سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا
سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہ تعالیٰ عَنہا کا نام ”فاطِمہ“ لقَب ”زَہرا“ اور ”بَتْول“ہے۔ سیدہ کائنات حضرت فاطمہرضی ﷲ تعالیٰ عنہا ایک نہایت عبادت گزار،متقی اور پاکباز خاتون تھیں، اس لئے آ پ رَضِیَ اللّٰہْ تَعَالیٰ عَنہا کوعابدہ،زاہدہ اور طاہرہ کہا جاتا ہے۔(سفینہ نوح، حصہ دوم صفحہ 54 ملخصا) آپ اخلاق وعادات، گفتاروکردار میں نبیِ کریم صَلَّی اللہ تعالیٰ عَلَیہِ واٰلِہ وَسَلَّمَ سے بہت مشابہت رکھتی تھیں۔(ترمذی)
اُم المومنین حضرتِ سیِّدَتْناعائشہ رَضِی اللہ تعالیٰ عَنہافرماتی ہیں کہ میں نے رَسْو ل ْاللہ صَلَّی اللہ تعالیٰ عَلَیہِ واٰلِہ وَسَلَّم َکی صاحبزادی حضرتِ سیِّدَہ فاطمۃْ الزہرارَضِیاللہ تعالیٰ عَنہا سے بڑھ کرکسی کوعادات واَطوار، سیرت وکِرداراورنِشَست وبرخاست میں آپ صَلَّ اللہ تعالیٰ عَلَیہِ واٰلِہ وَسَلَّم َسے مْشابَہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔ (اَبْودَاوْد، کتاب الادب،باب ما جاء فی القیام،۴/۴۵۴، حدیث:۷۱۲۵، ملتقطاً)
حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی بابت کیا خوبصورت کہی ہے کہ " مسلمان عورتوں کے لیے بہترین اسوہ حضرت فاطمہ الزہراؓ ہیں۔ کامل عورت بننا ہو تو آپ کو فاطمہ الزہراؓ کی زندگی پر غور کرنا چاہیے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعی کرنی چاہیے۔ عورت کو اپنی انتہائی عظمت تک پہنچنے کے لیے حضرت فاطمہؓ کا نمونہ بہترین نمونہ ہے"۔
آئیے علامہ محمد اقبالؒ کی جانب سے بیان اس تقدیس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیسے اللہ تعالی نے اپنے حبیب آقا محمد ﷺ کے اسوۃ حسنۃ کو تمام مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنایا اور کیسے سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا مسلمان عورت کے لیے مشعل راہ ہیں؟
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کو بطور نمونۂ عمل اور اسوۂ حسنہ متعارف کرارہا ہے اور فرماتا ہے: ’’ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ‘‘۔
یقیناً تمہارے لیے رسولؐ خدا (کی سیرت) میں نمونہ عمل ہے، (البتہ) ان لوگوں کے لیے جو خدا کی (رحمت)اور روز قیامت کی امید رکھتے ہیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔
ﷲ کریم قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ
ترجمہ: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ ( سورہ الاحزاب آیت 33)
حضرت ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا ارشادفرماتی ہیں کہ ’’یہ آیت مبارک میرے گھر میں نازل ہوئی- سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت علی المرتضیٰ، سیدہ فاطمۃ الزہراء، حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو طلب فرمایا اور آپ (ﷺ) ان کے ساتھ خیبرکی بنی ہوئی چادر میں داخل ہوگئے اور ارشاد فرمایا: ’’یہ میرے اہل بیت ہیں"۔
ﷲ کریم قرآنِ پاک میں اپنے حبیب کی قرابت کے ضمن میں ارشاد فرماتا ہے
قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی (سورہ الشورٰی آیت نمبر ۲۳)
ترجمہ:تم (آپ ﷺ) فرماؤ میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کچھ اُجرت نہیں مانگتا مگر اپنی قرابت کی محبت۔
آقا کریم رسول ﷲ محمد ﷺ نے فر ما رکھا ہے کہ " فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے"۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر ۶۳۰۸)
ایک اور حدیث میں آقا کریم رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا ہے کہ "قیامت کے دن ایک منادی حجاب کے پیچھے سے ندا دے گا: اے اہل محشر ! اپنی نگاہیں (ادب سے) جھکا لو تاکہ فاطمہ بنت محمد ﷺ ( باپردہ ) گزریں۔ (المستدرک حدیث نمبر ۴۷۲۸)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آقا کریم رسول ﷲ ﷺ نے سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی شان بیان کرتے ہوئےفرمایا تھا کہ " انؓ (حضرت فاطمہؓ) کا نام فاطمہ اس لیے ہوا کہ ﷲ تعالی نے انؓ کو اور انؓ کی تمام ذریت کو نار (آگ) پر حرام فرما دیا۔ (کنز العمال)
مولانا امام احمد رضا خان ؒ شان اہلبیت میں لکھتے ہیں
کیا بات رضاؔ اس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں‘ حسینؓ اور حسنؓ پھول
(اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان بیان کرتے ہوئے امام احمد رضا لکھتے ہیں: ''نسلِ پاکِ مصطفی ﷺ کا جو چمنستان ہے‘ خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی ﷲ عنہا اس کی کلی ہیں جس سے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی صورت میں نورانی شگوفے نکلے)
اگر پندے ز درویشے پذیری
ہزار امت بمیرد، تو نہ میری
بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرےؓ بگیری
اگر (اے مسلمان عورت) تو مجھ درویش (علامہ اقبالؒ) سے ایک نصیحت پکڑ لے تو ہزاروں مائیں مر سکتی ہیں لیکن تو (مر کر بھی) نہیں مرے گی۔ تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراؓ بن جو بتول کہلاتی تھیں کیونکہ وہ دنیاوی علائق سے بالکل پاک تھیں۔ اور اس زمانے میں اپنی نمائش کی بجائے اس سے چھپ جا تاکہ تیری گود میں بھی فاطمہؓ کے لال حضرت امام حسینؓ جیسے بیٹے پیدا ہوں۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب "کتاب رموزِ بیخودی" میں ایک گلہائے عقیدت مندرجہ ذیل اشعار کی شکل میں حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کو شایان شان خراج عقیدت پیش کررکھا ہے؛ جو یہاں بیان کی جاتی ہیں۔
مریمؓ از یک نسبتِ عیسیٰؑ عزیز
از سہ نسبت حضرتِ زہراؓ عزیز
حضرت مریم تو حضرت عیسیٰ سے (مادرانہ) نسبت کی بناء پر (ایک وجہ سے) عزیز ہیں جبکہ فاطمۃ الزہراؓ ایسی تین نسبتوں سے عزیز ہیں۔
نورِ چشمِ رحمتہ للعالمینﷺ
آں امام اولین و آخرین
پہلی نسبت یہ کہ آپ حضرت رحمتہ اللعالمین ﷺ کی نورِ نظر تھیں، جو پہلوں اور پچھلوں کے امام تھے۔
آں کہ جان در پیکر گیتی دمید
روزگارِ تازہ آئیں آفرید
ان کی وجہ سے دنیا کے جسم میں جان پھونکی گئی اور ایک ایسا زمانہ معرض وجود میں آیا جس کے قاعدے، قانون اور آئین بلکل نئے تھے۔
بانوۓ آن تاجدارِ ھل اتٰی
مرتضیٰ، مشکل کشا، شیرِ خدا
دوسری نسبت یہ کہ حضرت فاطمہؓ "ھل اتیٰ " کے تاج دار کی حرم تھیں ۔ یعنی حضرت علی المرتضیٰؓ جو اللہ کے شیر تھے اور مشکلیں آسان کر دیتے تھے۔
پادشاہ و کلبۂ ایوانِ او
یک حسام و یک زرہ سامانِ او
وہ بادشاہ تھے لیکن ایک تنگ و تاریک حجرہ ان کا گویا محل تھا ۔ ایک تلوار اور ایک زرہ ان کا کل سروسامان تھا۔
مادرِ آں مرکز پرگارِ عشق
مادرِ آں کاروان سالارِ عشق
تیسری نسبت یہ کہ آپؓ ان دو جلیل القدر بزرگوں کی والدہ تھیں جن میں سے ایک عشق حق کی پرکار کے مرکز بنے اور دوسرے کو عشق حق کی قافلہ سالاری ملی۔
آں یکے شمعِ شبستانِ حرم
حافظِ جمیعت خیر الامم
پہلے حضرت حسنؓ تھے جو حرم پاک کی شمع تھے ۔ انھوں نے بہترین امت یعنی ملت اسلامیہ کی جمیعت محفوظ رکھی۔
تا نشیند آتشِ پیکار و کیں
پشتِ پا زد بر سرِ تاج و نگیں
اس لیے حکمرانی کو ٹھکرا دیا کہ آپس میں جنگ اور عداوت کی جو آگ بھڑک اٹھی تھی وہ بجھ جائے ۔ یہاں اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے جو حضرت علی کے عہد خلافت میں شام کی طرف سے شروع ہوئی تھی ۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسنؓ خلیفہ منتخب ہوئے اور آپ کو خانہ جنگی روکنے کی اور کوئی صورت نظر نہ آئی تو خلافت چھوڑ دی۔ اس طرح رسول ﷲ ﷺ کی پیش گوئی حضرت حسنؓ کے متعلق پوری ہو گئی یعنی میرا یہ فرزند امت کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروا دے گا۔
واں دگر مولاۓ ابرارِ جہاں
قوتِ بازوۓ احرارِ جہاں
دوسرے حضرت امام حسینؓ جو دنیا بھر کے نیکوں کے آقا اور احرار کے لیے قوت بازو تھے۔
در نواۓ زندگی سوز از حسینؓ
اہل حق حریت آموز از حسینؓ
زندگی کے نغمے میں صرف حضرت امام حسینؓ کی وجہ سے سوز پیدا ہوا اور اہل حق نے انہیں سے آزادی کا سبق لیا ۔ یعنی انہوں نے جان قربان کر دی لیکن ظالم یزید کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا۔
سیرتِ فرزند ہا از امہات
جوہر صدق و صفا از امہات
بیٹوں کی سیرتیں ماؤں کی آغوش میں تیار ہوتی ہیں۔ انسانی فطرت میں سچائی اور پاکیزگی کے جو جوہر ہیں وہ ماؤں ہی کی تربیت سے چمکتے ہیں۔
مزرعِ تسلیم را حاصل بتولؓ
مادراں را اسوہ کامل بتولؓ
تسلیم کی کھیتی کا حاصل حضرت فاطمہؓ تھیں اور آپ مسلمان ماؤں کے لیے اسوہَ کامل بن گئیں۔ یعنی ایسا نمونہ جس میں ماؤں کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے بہتر سے بہتر مثال موجود ہے۔ جس طرح انہوں نے تسلیم و رضا کی زندگی بسر کی، وہ ایک اعلیٰ نمونہ ہے جسے اپنا کر مائیں اپنی اور شوہر اور اولاد کی زندگی سنوار سکتی ہیں اور اس طرح ملت کے لیے عظمت و سر بلندی کا سامان کر سکتی ہے۔
بہرِ محتاجے دلش آں گونہ سوخت
با یہودے چادرِ خود را فروخت
ایک محتاج کی خاطر حضرت فاطمہؓ کا دل کچھ اس طرح جلا (انھیں بے حد دکھ پہنچا) اتنی متاثر ہوئیں کہ اس کی امداد کے لیے اپنی چادر ایک یہودی کے ہاتھ بیچ ڈالی۔
نوری و ہم آتشی فرمانبرش
گم رضایش در رضاۓ شوہرش
نوری اور ناری فرشتے اور جن پری آپ کے فرمانبردار تھے ۔ شوہر کی فرمانبرداری کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنی مرضی شوہر کی مرضی میں گم کر دی تھی (سراپا تسلیم و رضا تھیں)۔
آں ادب پروردۂ صبر و رضا
آسیا گردان و لب قرآن سرا
آپؓ نے صبر و رضا کی ادب گاہ میں تربیت پائی تھی اور صبر و رضا کی کیفیت یہ تھی کہ چکی پیستی جاتیں اور کلام اللہ کی تلاوت کرتی جاتیں۔
گریہ ہاۓ او ز بالیں بے نیاز
گوہر افشاندے بدامانِ نماز
آپ کے آنسو تکیے پر کبھی نہ گرے ۔ نماز کے لیے کھڑی ہوتیں تو آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح گرنے لگتے۔
اشک او بر چید جبریل از زمیں
ہمچو شبنم ریخت بر عرش بریں
جبرئیلؑ ان کے آنسووَں کو زمین سے اٹھا لے جاتے اور شبنم کی طرح عرش بریں پر ڈال دیتے۔
رشتۂ آئین حق زنجیر پاست
پاسِ فرمانِ جناب مصطفی است
اللہ تعالیٰ کے قانون کی ڈوری نے میرے پاؤں باندھ رکھے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا پاس مجھے روک رہا ہے۔
ورنہ گردِ تربتش گردیدمے
سجدہ ہا بر خاکِ او پاشیدمے
ورنہ میں حضرت فاطمہ کے مزار کا طواف کرتا اور اس مقام پر سجدہ ریز ہوتا۔
اختتامی کلمات
سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا و سلام اللہ علیہا کی اخلاقی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ اور اسوہ کی حیثیت رکھتی ہے، موجودہ دور میں حضرت سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اخلاقی سیرت سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا میں ہونے والی اخلاقی برائیوں، چاہے انفرادی ہوں یا اجتماعی، خاندانی ہوں یا معاشرتی، کا خاتمہ کر کے اصلاحی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
وہ رِدا جس کی تطہیر اللہ دے
آسماں کی نظر بھی نہ جس پر پڑے
جس کا دامن نہ سہواً ہوا چُھو سکے
جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے
اس ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام