سحرِ سامری اور رسمِ شبیّری

The life in this world is temporary and it starts from the cradle of mother and ends up at grave. Thus human life is a struggle through phases and success is defined in life hereafter. This article in Urdu "سحرِ سامری اور رسمِ شبیری" is an opinion about the struggle and success in life with reference from the poetry of Allama Iqbal.

Jun 30, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

 

سحرِ سامری کیا ہے اور رسمِ شبیری

 

حضرت موسی علیہ السلام اللہ سبحان تعالی کے نامور رسول ہیں اور قوم یہود انہی کے توست سے امتِ موسی کہلاتی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں امت موسی؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے اور یہ قوم حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی نسل سے ہیں۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کی حکمت کی وجہ سے مصر مں آباد ہوئے تھے؛ مگر بعد میں خاندان فرعون کی بادشاہی کی وجہ سے غلام بن گئے تھے۔

 

حضرت موسی علیہ السلام نے قومِ یہود کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی اور سب کو ساتھ لے کر صحرائے سینا پہنچ گئے۔ وہاں اس قوم میں ان ہی کے فرد سامری [ اسے جادو گر بھی بتایا گیا ہے] نے اپنی قوم کو انکے رغبت کے مطابق گاو پرستی پر لگا دییا۔ قرآن کی تین آیتوں میں سامری کا نام ذکر ہوا ہے اور تینوں موارد میں بچھڑا بنانے کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔ وہ گائے کے بچھڑے کا بت خود انہی کے سونے کے زیورات کو ڈھال کر بنایا گیا تھا۔ یہ سحر سامری تھا کہ اس گاو میں سے آواز نکلتی تھی جسے اس نے خدائے لم یزل کی آواز بنا دیا تھا؛ جو دراصل قوم یہود کی دنیا پرستی اور نفس پرستی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ قوم اس وقت گمراہ ہوئی جب وہ حضرت موسی کے بے شمار معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی۔

سحرِ سامری کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ انسان کے نفس کو ابھارا جائے اور اللہ تعالی کی حاکمیت کے تصور کو دھندلا دیا جائے اور نفس پرستی یا مادہ پرستی پر آمادہ کیا جائے۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں اس کا ذکر ایسے کیا ہے کہ

"اور ہارون (علیہ السلام) نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا اے میری قوم والو! اس بچھڑے سے تو صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے ، تمہارا حقیقی پروردگار تو اللہ رحمٰن ہی ہے ، پس تم سب میری تابعداری کرو ۔ اور میری بات مان جاؤ" ۔ (سورہ طہ آیت 90)

موسیٰ ( علیہ السلام ) نے پوچھا سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔ (سورہ طہ آیت 95)

 اس نے جواب دیا کہ مجھے وہ چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی ، تو میں نے فرستادۂ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی ۔ (سورہ طہ آیت 96)


علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی کتاب ارمغانِ حجاز میں ایک نظم "حضرتِ انسان" میں آج کے انسانوں کو انکی اصل سے واقف کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نظم میں اقبالؒ نے حضرتِ انسان کی فطرت اور اس کی تخلیق کے مقصد پر ایک نہایت گہرا نکتہ بیان کیا ہے۔ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ یہ پوری دنیا دراصل بنی آدم، یعنی انسان کو دعوتِ دیدار دے رہی ہے ، دیدار سے مراد صرف ظاہری چیزوں کا مشاہدہ نہیں، بلکہ حقیقتِ مطلق، یعنی ذاتِ حق، حقیقتِ کائنات اور اپنے نفس کی معرفت کا دیدار ہے۔ "کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ؛ مشرق سے اُبھرتے ہوئے سُورج کو ذرا دیکھ؛ اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھُپا دیکھ"۔

 یہ کائنات انسان کو متوجہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے باطن میں جھانکے اور مظاہرِ فطرت سے حقیقت تک رسائی حاصل کرے۔ کائنات کی ہر شے، جو بظاہر چھپی ہوئی تھی، اسے ظاہر ہونے کا، کھلنے کا شوق عطا کیا گیا ہے۔ ہر چیز پردے میں تھی مگر اس میں اپنی حقیقت دکھانے کی تڑپ موجود ہے۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی سرشت ایک موتی کی طرح ہے، جس کو آب و تاب بحرِ رسولﷺ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبالؒ اسوہ حسنہ رسولﷺ کی تقلید کا سبق دیتے ہیں کیونکہ"اے مومن تو باغِ مصطفویٰ کی ایک کلی ہے"۔

مسلمان عشق کے ذریعے سے ھے اور عشق مُسلمان کے ذریعے سے ھے، ھماری عقل جس مقصد کو حاصل کرنا ناممکن قرار دیتی ھے عشق اسی مقصود کو حاصل کر لینا ممکن قرار دیتا ھے اور حاصل کر کے دکھاتا ھے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی نظم " حضرتِ انسان" میں ایک عظیم فکری نکتہ پیش کیا ہے؛ انسان کو عقل، شعور اور وجدان دیا گیا ہے تاکہ وہ کائنات کے پردوں کو چاک کرے اور ان کے پیچھے چھپی حقیقت کو پا لے۔ اور ایک مومن علامہ اقبالؒ کے مطابق اس "ذوقِ عریانی" کا حامل ہوتا ہے؛ یعنی حقیقت کی طرف لپکنے اور دریافت کرنے کی جبلّی خواہش بھر پور پوت ہے۔ کسی بھی مسلمان کا مقصد حیات صرف ظاہری زندگی گزارنا نہیں، بلکہ کائنات کی حقیقت، اپنے رب کی معرفت اور اپنی خودی کو پہچاننا ہے۔ یہ دنیا ایک مسلسل دعوت ہے اس عرفان کی، اور ہر چیز اس راز کو افشا کرنے کے لیے بےتاب ہے، بشرطیکہ انسان دیکھنے والی آنکھ پیدا کرے۔

یہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کو

کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانی

سحرِ سامری انسان کو مادہ پرستی پر اکساتی ہے اور انسان کو نفس کا غلام بنادیتی ہے؛ ایسا انسان اپنی نفسانی خوہاشات کو ہی اپنا خدا بنالیتا ہے۔ فقروغناء؛ ایثار و قربانی؛ ہمدردی اور وفا شعاری جیسے شعارِ زندگی سے ایسے لوگ نابلد ہوتے ہیں۔ لیکن انسانی آبادی میں فساد تب پیدا ہوتا ہے جب افراد اپنے خالقِ حقیقی کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں اور اپنے جوہر قابل کو محض دنیاوی آشائش کے لیے خرچ کردیتے ہیں۔ مسلمان دنیا میں ایسی آبادی رسمِ شبیّری سے دور رہتی ہے چاہے کتنا ہی ماتم حضرت حسینؓ کا غوغا کرتی ہو۔

رسمِ شبیّری کیا ہے؟

’رسم شبیری‘‘ کا حقیقی مطلب یہ مراد لیا جاسکتا ہے کہ حضرت حسینؓ کی طرح جہاد کیا جائے اور اس میں اپنی ذات اور خانوادے تک کی قربانی دی جائے۔ لیکن یہ کہنا آسان ہے؛ اس پر عمل کرنا نہیں۔ کیونکہ آج کربلا محض پرشور سوگ بن گیا ہے۔ ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے کربلا کے حادثہ کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیئے قرآن ؛ حدیث اور فقراء کے نشاندہی کیئے ھوئے راستے کو اپنانے کے بغیر کوئی دوسرا راستہ یا نتیجہ اخذ کرنا خود کو دھوکہ میں ڈالنا ھے۔ کلام الہی میں حضرت اسماعیل کی قربانی کے بیان میں فرمایا گیا ھے کہ اس وقت یہ قربانی کسی اور قربانی میں تبدیل کر کے پچھلوں (یعنی بعد کے وقت کے لیئے) پر چھوڑ دی گئی۔ جو کربلا میں پوری ہوئی تو کیا باقی کی امت کے لیے اس کے کوئی معن نہیں ہیں۔ رسمِ شبیّری تو حضرت امام حسینؓ کی طرح ہر دور کے کربلا میں باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہے۔

 

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری

کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

ترے دِین و ادب سے آ رہی ہے بوئے رُہبانی

یہی ہے مرنے والی اُمّتوں کا عالَمِ پیری

شیاطین مُلوکیّت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو

کہ خود نخچیر کے دل میں ہو پیدا ذوقِ نخچیری

 

 علامہ عہد حاضر کے شاہوں، حکمرانوں ، فقیروں ، درویشوں اور صوفیوں کو جنھوں نے اپنے آپ کو اپنی محدود دنیا تک محدود کر رکھا ہے اور عملِ صالحات سے کوئی سروکار نہیں رکھتے کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمہاری یہ دنیاوی زندگی رہبانیت اور لذاتِ دنیا کی طلب کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ تم اپنی خواہشاتِ نفس سے آزاد ہوکر علم اور عمل کے ذریعے امت مسلمہ کے مسائل کا حل تلاش کرو ۔ ان کو غلامی کی زنجیریں کاٹنے کا مشورہ بھی دو اور اسکے کاٹنے میں ان کی مدد بھی کرو ۔ ان کو جابر طاقتوں کے سامنے سرا ٹھانے کے لیے بھی کہو اور خود بھی اس عمل میں حصہ لو ۔ جس طرح حضرت امام حسینؓ نے اپنے وقت کے جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہا تھا اور حق کی سربلندی کے لیے کربلا کے میدان میں اپنی، اپنے رفقائے کار اور اہل خاندان کی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ چنانچہ تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر وقت کے طاغوتی اور جابر قوتوں کے خلاف محاذ قائم کرو چاہے اس میں جانیں بھی قربان کیوں نہ کرنی پڑیں ۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے اور خود کو محض رسوم اور عبادات کے ادا کرنے تک ہی محدود رکھو گے تو یاد رکھو تمہاری یہ زندگی رنج و ملال اور صدمہ و غم کی زندگی کے سوا کچھ نہیں ہو گی ۔ کا آج کی مسلمان دنیا اسکی تصویر نہیں ہے۔


اقبال یہاں روحانیت اور دین کے اس تصور کی مخالفت کر رہے ہیں جو صرف ذاتی نجات، تسبیح و وظائف اور دنیا سے کنارہ کشی تک محدود ہو۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو امام حسینؓ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ظلم، جبر، سامراج اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ اقبال کے نزدیک اصل تصوف وہی ہے جو عمل پر ابھارے، جو کردار کو بلند کرے، اور جو انسان کو خدا کے بندوں کی خدمت اور دین کی سربلندی کے لیے وقف کر دے۔ اوپر کے اشعار دعوت ہے؛ سکوت سے بغاوت کی طرف، تنہائی سے جہاد کی طرف، اور خوف سے آزادی کی طرف۔ آج ہم مسلمانوں کے لیے آزادی کا راستہ حضرت امام حسینؓ کی طرح رسمِ شبیّری کو اپنانے میں ہے۔

آخر میں جناب اختر عثمان کے کچھ اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔

 

اک رنج بہ پیرایۂ زر کیوں نہیں جاتا

کشکول ہوس ہے تو یہ بھر کیوں نہیں جاتا

 

کہتے ہو کہ ہو اسوۂ شبیر پہ قائم

دربار میں کیوں جاتے ہو سر کیوں نہیں جاتا

 

جب روح سے کہتے ہو کہ لبیک حسینا

پھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا

 

اخترؔ تری گفتار فسوں کار میں کیا ہے

جو بھی ادھر آتا ہے ادھر کیوں نہیں جاتا

More Posts