شمسی کیلنڈر کے بارہ مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ

Today we use the Julian Gregorian Calendar for our daily use of time, days, month and years. Our calendar year is comprised of 12 months which is being used since originally introduced by Julius Caesar in 45 BC. This write up in Urdu "شمسی کیلنڈر کے بارہ مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ" is about the reasons for the names given to the months.

May 03, 2025 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


شمسی کیلنڈر کے بارہ مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ؟

 

ہم زمین کی باسی ہیں جو ہمارے آسمان پر روشن چمکدار ستارے سورج کا سیارہ ہے؛ اور ہماری یہ زمین خود اپنے محور پر اور اپنے ستارے سورج کے گرد ایک طویل دائرے میں دیوانہ وار رقص میں ہے۔ اس کا اپنے محور پر رقص ایک دن کا ہوتا ہے اور سورج دیوتا کے گرد ایک چکر ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور یہ ایک سال 365 دن کے ہوتے ہیں؛ یہ سال آسمان پر زمین کے گرد گھومتے چاند اور آسمان پر نمودار ہونے والے ستاروں کی تقسیم سے 12 مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان مہینوں میں کوئی 30، کوئی 31 اور صرف فروری 28 یا 29 دن کا ہوتا ہے۔

 

قدیم زمانے میں سال کی گنتی ذرا مشکل رہی ہوگی مگر مہینے کا حساب لگانا قدرے آسان رہا ہوگا کیونکہ چاند کے گھٹنے بڑھنے سے مہینے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہوگا۔ چنانچہ تقریباً تمام قدیم کیلنڈر شمسی نہیں بلکہ قمری ہیں۔ لوگوں کو یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ سال میں بارہ ماہ ہوتے ہیں کیونکہ تقریباً بارہ قمری ماہ کے بعد موسم واپس آ جایا کرتے تھے - لیکن قمری کیلنڈر کے بارہ ماہ کا دورانیہ شمسی سال کے دورانیے سے کم ہوتا ہے؛ اور ہمارے پرکھوں نے یہ بات سمجھ لی ہوگی جب چند سالوں کے بعد موسم مہینوں کے حساب بدل جاتے ہونگے۔

 

مشاہدات سے ثابت ہوا ہوگا کہ افق پر سورج کے طلوع اور غروب کے مقامات سال بھر تبدیل ہوتے رہتے ہونگے۔ اس سے معلوم ہوا ہوگا کہ سورج اگرچہ نکلتا تو مشرق سے ہے لیکن جیسے جیسے گرمیاں بڑھتی جاتی ہیں تو سورج کے طلوع کا مقام آہستہ آہستہ شمال کی طرف منتقل ہوتا جاتا ہے۔ لیکن افق کے مشرق شمال مشرق میں ایک مقام پر آ کر سورج رک جاتا ہے اور دوبارہ دوسری جانب جانے لگتا ہے اور جیسے جیسے گرمیاں ڈھلتی ہیں، سورج مشرق سے ہوتا ہوا سردیوں میں جنوب کی طرف منتقل ہوتا ہے۔

 

پھر افق کے جنوب مشرق میں ایک مقام پر آ کر سورج رک جاتا ہے اور واپس مشرق کی طرف چلنے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے اگلی گرمیوں میں شمال مشرق کی طرف اسی مقام پر جا کر رکتا ہے جہاں پہلے رکا تھا۔ گویا افق پر طلوعِ آفتاب کی پوزیشن کا یہ چکر ایک سال میں پورا ہوتا ہے۔ گرمیوں کے ایک دن (جسے اب ہم جون 21 کی تاریخ کہتے ہیں) یہ پوزیشن انتہائی دائیں جانب ہوتی ہے؛ اور روز بروز بائیں طرف حرکت کرتی ہے؛ تو یہ گرمیوں کا لمبا ترین دن ہوتا - سردیوں میں ایک دن (جسے اب ہم دسمبر کی 21 تاریخ کہتے ہیں) اس کی بائیں طرف کی حرکت رک جاتی جس کے بعد دھوپ دائیں طرف حرکت شروع کر دیتی؛ یہ سردیوں کا مختصر ترین دن ہوتا ہے۔

 

ان انتہائی پوزیشن پر نشان لگا کر آئندہ سالوں میں صرف یہ دیکھ کر کہ دھوپ اس نشانوں پر کس دن پہنچتی ہے سال کے سب سے لمبے اور سب سے چھوٹے دن کا اندازہ لگانا آسان تھا۔ ایک سب سے چھوٹے دن سے اگلے سب سے چھوٹے دن کے دورانیے کو 365 دن تسلیم کیا گیا۔ دنیا کے کئی علاقوں میں مختلف تہذیبوں کے رہنے والے انسانوں نے اپنے مشاہدات سے آزادانہ طور پر دھوپ کی پوزیشن سے کیلنڈر بنانے کا فن دریافت کیا۔

 

آج ہم جس تہذیب دور میں زندہ ہیں اس میں پلڑا مغربی قوموں کی جانب جھکا ہوا ہے؛ جس کی وجہ سے ہم اپنے ماہ و سال کا حساب قدیم جولین گريگورين کیلنڈر پر منتج کرتے ہیں؛ جس کا آغاز رومن دور میں ہوا۔ رومی تہیذب کو انسانی تہذیب کی بنیاد سمجھ لیا گیا ہے؛ اور یہاں یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ رومی تہذیب پر یونانی تہذیب کی چھاپ تھی؛ اور جو متعدد خداوں پر عقیدہ رکھنے والی مشرک قوم تھی؛ زیوس انکا خدا اور دیگر اس کی بیوی، بیٹے، بیٹیاں اور دیگر دیوتا تھے۔ چنانچہ اب ہم اپنا سال جنوری فروری سے نومبر دسمبر تک کا سفر کرتے ہیں؛ اور اگر کوئی اور گنتی کریں گے تو دوسری قومیں اس کو سمجھ نہیں پائیں گی۔ 

 

 آئیے آج ہم جولین گريگورين کیلنڈر کے شمسی سال کے بارہ مہینوں کے نام کی وجہ تسمیہ جانتے ہیں کہ آخر وہ کس بنیاد پر کس طرح رکھے گئے ہیں؟ یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے؛ اور اسے کہانی کے طور پر بھی سنایا جاسکتا ہے مگر ابھی صرف معلومات میں اضافے کیلئے مختصرا" بیان کیا جاتا ہے۔

اس تحریر کا غرض وغایت محض تعلیم ہے۔

جنوری

 

عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام رومیوں کے ایک دیوتا جانس (جےاے این یو ایس) کے نام پر رکھا گیا۔ جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی؛ امن میں نہیں۔ جانس دیوتا کے 2 سر تھے جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔ اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیا کہ جس طرح دیوتا اپنے 2 سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی وحال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ "جنوا" سے اخذ کیا گیا جس کا مطلب ہے "دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا "سال کا دروازہ‘‘۔ ماہ جنوری31 دِنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔


فروری


"فروری" کا نام رومن مہینے "فیبریوس " سے اخذ کیا گیا ہے جو کہ لاطینی اصطلاح "فیبریم" سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ہے "طہارت"، پرانے قمری رومن کیلنڈر میں فروری (پورے چاند) کو منعقد ہونے والی تطہیر کی رسم کے ذریعے۔ "فیبریوا " لاطینی لفظ، ایک رومن دیوتا جس کا مطلب ہے "پاک کرنا۔" اس کا نام فبرویلیا کے نام پر رکھا گیا تھا۔

ایک زمانے میں فروری سال کا آخری مہینہ گردانا جاتا تھا۔ حضرت عیسیٰ کے دور میں فروری سال کا دوسرا مہینہ قرار پایا۔


فروری کے مہینے میں عام سالوں میں 28 دن ہوتے ہیں یا لیپ سالوں میں 29 دن ہوتے ہیں، جس کے 29ویں دن کو لیپ ڈے کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کرۂ ارض کے گرد اپنے مدار کا سفر 365 دن اور 6 گھنٹوں میں طے کرتا ہے لیکن 3 سال کے دوران اس کا ہر سال 365 دنوں کا ہی شمار ہوتا ہے جبکہ چوتھے سال میں ¼ حصے جمع کریں تو یہ ایک دن کے برابر بن جاتا ہے۔ چنانچہ لیپ کا سال 366 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر چوتھا سال لیپ کا سال ہوتا ہے۔

 

مارچ

 

مارچ مہینے کا نام رومی دیوتا مارس (ایم اے آر ایس) کے نام پر رکھا گیا۔ مارس کو اردو میں مریخ کہتے ہیں۔ لفظ مارچ لاطینی زبان کے لفظ مارٹئیس سے اخذ کیا گیا۔ اسی لفظ سے سیارہ مریخ کا نام بھی بنایا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ دیوتا بڑا خطرناک تھا۔ رومی دیومالا کے مطابق اس کے رتھ میں انتہائی منہ زور گھوڑے جتے ہوتے تھے۔ رتھ میں دیوتا نیزہ تھامے کھڑا ہوتا، نیزے کی انی کا رُخ آسمان کی طرف ہوتا جبکہ دوسرے ہاتھ میں ڈھال ہوتی۔ دیوتا کا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوتا۔ اہلِ روم اسے سب سے طاقتور دیوتا سمجھتے تھے۔ ان کے عقیدے کے مطابق بارش، بجلی، بادل اور گرج چمک سب مارس دیوتا کے ہاتھ میں تھا۔ یہ مہینہ بھی 31 دنوں پر مشتمل ہے۔


اپریل


 چونکہ رومن سلطنتوں میں مہینوں میں سے کچھ کا نام دیوتاوں کے نام پر رکھا گیا تھا، اس لیے اپریل کا نام لاطینی نام "اپریلس" سے آیا ہے، لیکن کچھ لوگ قیاس کرتے ہیں کہ یہ نام لاطینی لفظ "ایپریر" سے آیا ہے، جس کا مطلب ہے "کھولنا"، اس کا مطلب ہے کھولنے والا، آغاز کرنے والا۔ غالباً اس لیے کہ اپریل کے دوران زیادہ تر خوبصورت بہار کے پھول کھلتے ہیں۔ اس مہینے میں چونکہ نئے پودوں اور درختوں کی نشوونما کا آغاز ہوتا ہے،چنانچہ اسے کسی دیوی یا دیوتا نہیں بلکہ بہار کے فرشتے سے منسوب کیا گیا۔ قدیم رومن تہذیب میں، اپریل کا مہینہ رومی دیوی وینس سے گہرا تعلق رکھتا تھا، جو محبت، خوشحالی اور زرخیزی کی علامت تھی۔ یہ ذکرکرنا دلچسپ ہوگا کہ یونانی افسانہ میں متعلقہ دیوی افروڈائٹ ہے، اور کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس مہینے کا نام دراصل اس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہ مہینہ 30 دِنوں پر مشتمل ہے۔


مئی

 

 اس کا نام قدیم یونان کی دیوی مائیا کے نام پر رکھا گیا جو یونان اور روم میں زمین اور عورت کی زرخیزی کی دیوی سمجھی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ اسے پہاڑوں کی دیوی بھی سمجھا جاتا تھا۔ ماہِ مئی یا لفظ مئی انگریزی زبان میں فرانسیسی لفظ مائی سے اخذ کیا گیا ہے۔ جو لاطینی زبان کے لفظ مائیس سے اخذ شدہ ہے۔ اس مہینے کا نام رومی دیوی "مائیا" کے نام پر اس لیے رکھا گیا تھا کہ رومیوں کے نزدیک اس وسیع وعریض زمین کو دیوتا نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ اس دیوتا کی 7 بیٹیاں تھیں جن میں "مائیا" دیوی سب سے زیادہ چہتی تھی اور اسکو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ یہ سال کا پانچواں مہینہ ہے 30 دن رکھتا ہے۔


جون

 

جون گریگورین کیلنڈر کا چھٹا مہینہ ہے اور اس کا نام رومی دیوی جونو کے نام پر رکھا گیا ہے، جو جیوپیٹر یا مشتری کی بیوی اور شادی اور بچے کی پیدائش کی دیوی ہے۔ اصل اصطلاح "جون" کا مطلب لاطینی لفظ سے "نوجوان" ہے۔ جون تازگی، خوشی، خوشی، خواہشات اور خواہشات کا مہینہ ہے۔ جون کے مہینے کی اپنی پہچان ہے۔جون کے سورج کی روشنی ایک نعمت ہے۔

 البتہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ نام روم کے مشہور شخص جونی لیس کے نام پر رکھا گیا؛ اور جونی لیس ایک بے رحم اور سفاک انسان تھا۔

 

جولائی

 

ماہِ جولائی کا نام دیوی دیوتا نہیں بلکہ رومی جنرل جولیس سیزر کے نام سے موسوم ہے؛ کیونکہ رومن سینیٹ نے چوالیس قبل مسیح میں اس کو عزت بخشنے کے لیے یہ نام دیا تھا۔ جولیس خود بھی اسی مہینے میں پیدا ہوا تھا۔  جولیس سیزر قدیم روم کا مشہور شہنشاہ تھا۔ مشہور شاعر و ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے جولیئس سیزر‘‘ پر ایک ڈرامہ بھی لکھا۔ اس سے قبل اس ماہ کو " کیونٹلس" کہا جاتا تھا، یہ کیلنڈر کا پانچواں مہینہ تھا جو اس وقت مارچ سے شروع ہوتا تھا۔ اب یہ 31 دنوں کے سات مہینوں میں سے ایک ہے۔

 

اگست

 

اگست لاطینی لفظ "آگسٹس" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے "مقدس" یا "قابل احترام"؛ اور اس کا تعلق لاطینی لفظ "اگور" سے ہے، جس کا مطلب ہے "آگسٹس کے ذریعے تقدیس" یا "مشق"۔ آٹھ قبل مسیح میں رومن سینیٹ نے پہلے رومی شہنشاہ آگسٹس سیزر کو اس وقت کا مہینہ سیسٹلاتھ کو بدل کر اس کا نام "اگسٹس" کر دیا۔ رومی شہنشاہ آگسٹس کا نام کچھ اور تھا۔ جب اس نے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت زیادہ کام کیے تو رومی لوگ اس کے اتنے گرویدہ ہوگئے کہ اسے آگسٹس کے نام سے پکارا جانے لگا۔ اس نام کا مطلب ہے، دانا، دانشمند۔ اگست اب سال کا آٹھواں مہینہ۔ اس میں31 دن ہوتے ہیں۔


ستمبر


 ،لاطینی زبان کے لفظ سیپٹ سے بنا جس کا مطلب ہے ساتواں۔ اس لیے ستمبر کا مطلب ہے ساتواں مہینہ۔ اس وقت جب یہ کیلنڈر بنایا گیا تھا؛ یہ مہینہ ساتواں تھا؛ مگر جب جنوری اور فروری کے مہینے کیلنڈر کا حصہ بنے تو پھر ستمبر کیلینڈر کی نئی ترتیب میں نویں درجے پر چلا گیا ااور اب یہ نواں مہنہ ہے۔ یہ مہینہ30دن پر مشتمل ہوتا ہے۔

 

اکتوبر

 

لاطینی زبان میں 8 آٹھ کو " اوکٹو " کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے سال کے آٹھویں مہینے کا نام اکتوبر رکھا گیا تھا۔ سو اکتوبر کا مطلب ہوا آٹھواں مہینہ‘‘۔ پہلے یہ آٹھواں مہینہ کہلاتا تھا اب یہ دسواں مہینہ ہے اور اس کی وجہ اوپر بیان کردی گئی ہے۔ اس میں31 دن ہوتے ہیں۔


نومبر


لاطینی زبان میں9 نو کو نووم کہتے ہیں۔ اسی نووم کے لفظ سے مہینے کا نام نکلا۔ چنانچہ نومبر کا مطلب ہوا نواں مہینہ۔ جب جنوری اور فروری کے مہینوں کو جولین کیلنڈر کا حصہ بنایا گیا تو پہلے سے نام رکھے گئے مہینے ساتواں ستمبر؛ آٹھواں اکتوبر اور نواں نومبر کی ترتیب بدل گئی مگر نام نہیں بدلا گیا۔ بعد میں ان مہینوں کے نام تو وہی رہے البتہ ستمبر نواں، اکتوبر دسواں اور نومبر گیارھواں مہینہ بن گئے۔ نومبر میں 30 دن ہوتے ہیں۔


 دسمبر

 

 لاطینی زبان کی گنتی میں 10 کو "دیکا " کہتے ہیں اور دیکا کی مناسبت سے دیسم کا مطلب ہے دسواں۔ سو اس لفظ کی مناسبت سے دسویں مہینے کو دسمبر کہا گیا۔ اب یہ سال کا بارھواں مہینہ ہے۔ یہ مہینہ31 دن رکھتا ہے۔

 

رومی تہذیب کے حامل یورپی قوموں نے دیوی دیوتائوں کی مائیتھالوجی کو ترک کر کے عیسائیت قبول کرلی تھی مگر مہینوں کے نام نہیں بدلے گئے۔ اب وہ صرف قصے کہانیاں ہی رہ گئی ہیں۔ لیکن انسان کے تجربات اور محسوسات کبھی نہیں رکتے اور اس کا اظہار شاعری میں ہوتا ہے۔ ذیل میں کچھ شاعرانہ کاوشیں پیش کی جاتی ہیں۔

ابرار کرتپوری کی نظم "سال مہینہ اور دن"۔

ابرار کرتپوری کی نظم "سال مہینہ اور دن"۔

 

آنکھ جھپکتے ایک سیکنڈ

ایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈ

ساٹھ منٹ کا اک گھنٹہ

اک دن میں چوبیس گھنٹہ

 

سات دنوں کا اک ہفتہ

ایک ماہ ہے تیس دن کا

بارہ مہینے کا اک سال

۳۶۵ دن کا اک سال

 

جنوری میں دن ہیں اکتیس

فروری میں ہیں اٹھائیس

چار سے سن تقسیم جو پورا

فروری اس میں انتیس دن کا

 

مارچ اکتیس اپریل تیس

مئی اکتیس جون میں تیس

مئی جون میں گرمی زیادہ

اس میں سب کو آئے پسینہ

 

اکتیس جولائی اکتیس اگست

برکھا رت میں رہنا مست

 

تیس ستمبر اکتیس دسمبر

سردی میں سب کانپیں تھر تھر

ماضی گزرا اب ہے حال

ایک صدی میں ہیں سو سال

حیدر بیابانی کی نظم "بارہ مہینے"۔

جنوری کا مہینہ جو آ کر گیا

پھر نئے سال کی ابتدائی کر گیا

 

فروری کر رہا ہے جدا سردیاں

ہم اتاریں گے اب اون کی وردیاں

 

مارچ ہے سال کا تیسرا ماہ نو

سب کو کرتا ہے تلقین اب خوش رہو

 

ماہ اپریل میں امتحاں آئیں گے

رات دن پڑھ کے ہم پاس ہو جائیں گے

 

لو مئی آ گیا بند مکتب ہوئے

گرمیوں سے پریشان ہم سب ہوئے

 

جون بارش کی لائے خبر دوستو

ہے فلک کی طرف ہر نظر دوستو

 

ہے جولائی کے آنے کے اب سلسلے

کھل گئے سارے اسکول مکتب کھلے

 

سال میں جب بھی ماہ اگست آ چلا

اپنی آزادیوں کا بڑھا قافلہ

 

جب بھی ماہ ستمبر جناب آئے گا

کھیتیوں پر غضب کا شباب آئے گا

 

لائے خوش حالیاں دیکھنا اکتوبر

کھیت کھلیان کو ہو رہی ہے نظر

 

کتنا پر کیف موسم نومبر میں ہے

موتیوں جیسی شبنم نومبر میں ہے

 

سال رخصت ہوا لو دسمبر چلا

ہو شروع اب نئے سال کا سلسلہ 


This write up has been arranged with the help of material available on free social media.

More Posts