سایہ تلوار میں نعرہ مستانہ
The life in this world is temporary and it starts from the cradle of mother and ends up at grave. Thus live story is a struggle through phases and success is defined in life hereafter. This article in Urdu "سایہ تلوار میں نعرہ مستانہ" is an opinion about the struggle and success in life.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
سایہ تلوار میں نعرہ مستانہ
اللہ جل شانہ نور عظیم ہے اور علیم البصیر ہے کہ تمام علوم کی کنجیاں اس کی دسترست میں ہیں . انسان اس عالم فانی میں حیاتِ امتحان میں ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دربار سے اپنی شرست کے عین مطابق علم کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے۔ اسی علم کی نعمتِ عظیم کی شمع ہے کہ کبھی صحائف تو کبھی الہامی کتب کی صورت میں ہمیں عطا کیا جاتا ہے۔ اس کا کلام اور خاص طور پر قرآن مجید ہر زمانے کے لیے روشنی ہے۔ انبیاء کرام اللہ تعالی کے علم کے ستارے ہیں جس کی روشنی سے تمام مخلوقات مستفید ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے روشنی پاتے ہی ان ستاروں کو قطب بنا دیا جاتا ہے جو بنی نوع انسانی کی نسلوں کو سمت دیتے ہیں اور اپنی روشنی رکھتے ہوئے زمانے میں روشنی کی تقسیم کرتے ہیں۔
خالقِ کُل نے زمانے کی قسم سورہ العصر میں کھائی ہے کہ زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے؛ مگر وہ جو ایمان لائے؛ اور صحیح اعمال کی پیروی کی؛ اور حق کی تلقین کی اور صبر کی روش پر چلے۔ پروردگار نے اس زمانے کا چلن بھی ایسا ترتیب دیا ہے کہ ہم انسان اس چوراہے سےضرور گزرتے ہیں۔ اللہ سبحان تعالی نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ یہ زندگی مستعار ہے اور آخرت کی زندگی اصل مغز ہے؛ جو کامیابی کی صورت میں جنت کی زندگی ہے۔ مگر اس کے لیے ہر دور میں انسان کو سایہ تلوار میں رقصِ مستانہ کرنا پڑتا ہے۔
رفع ہو ترے مست کا یہ دست ! انا المست !
مستی میں تری وقف ہو یہ ہست ! انا المست !
یوں تیری بلندی میں ہوا جذب فقیرا !
لگتا ہے مجھے سارا جہاں پست ! انا المست !
آنکھوں پہ کسی چشمِ پریشاں کا فسوں ہے !
سینے میں کوئی ایسا ہے پیوست ! انا المست !
پڑھتی ہیں درود اس رُخِ روشن پہ یہ آنکھیں !
دل جس کے سبب جگ سے ہوا رَست ! انا المست !
مستوں کو کہاں کون و مکاں سے کوئی مطلب !
ہیں مست ! یہاں مست ! وہاں مست ! انا المست !
بس ایک تری گوشہ نشینی پہ حسیں شخص !
ایں روح و دلم زین فدا است ! انا المست !
انسان خسارے میں ہے؟ یہ غور و فکر کا مقام ہے۔ اللہ تعالی نے انسانی عمر میں چالیس کے ہندسے کو اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس سال گرہ کوعبور کرتے ہوئے، یہ توقع کی جاتی ہے کہ مسلمان شعور و لا شعور کی یکساں منازل طے کرتے ہوئے تدبر و تفکر کی دنیا میں داخل ہوگا اور جب وہ گھتیاں سلجھاتا ہوا اس قابل ہوجائے کہ اپنے کالقِ حقیقی اور مالکِ کُل اللہ سبحان تعالی کی پہچان کر سکے۔ "وحدہ لاشریک لہ" پروردگار کی حقانیت اور اکتائی کی پہچان اور خودی کا شعور کہ عبدہ کا مقام۔ اللہ کی پہچان یعنی روز الست ''قالو بلی'' کا عہد پھر سے تازہ کرلینا۔ یعنی غور و فکر کی منزلیں طے کرتا ہوا اپنی ذات کو پرکھتا ہے اور اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے۔
زمین پر جنت نہیں ہے کہ ہر سو امن و سکون کا عالم ہو؛ سو انسان مسلسل عرصہ امتحان میں انعام کی تلاش میں پل صراط پر محو سفر ہے۔ انعام یافتہ فرد اللہ تعالی کی پہچان کر لیتا ہے؛ اور پہچان کے بعد دنیا کی حقیقت بھی جان لیتا ہے؛ اور پھر '' عبدیت'' کو اپناتے ہے؛ اس کا ذکر ''صبر'' سے کرتا ہے اور مستقل مزاج رہتا ہے؛ اس کی راہ میں تکالیف کے سامنے ''سیسہ پلائی ہوئی'' دیوار ہوجاتا ہے۔ ہر'' صابرو شاکر مومن'' کو اس کے'' یقین ''کے مساوی امتحان سے گزرنا ہوتا ہے؛ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ اکثر اکیلا ہی کھڑا ہوتا ہے۔ ہر مومن کو ایک کربلا کا سامنا ہوتا ہے؛ اس لیے ہر کسی کو امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد کا پورا ادراک ہونا چاہیے۔ آشوبِ کربلا سفر حیات آسان کردیتا ہے۔
افتخار عارف کی نظم آخری آدمی کا رجز
مصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سربریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں
اور ہر طرف سکون ہے
سکون ہی سکون ہے
فغان ِ خلق اہل طائفہ کی نذر ہو گئی
متاع صبر وحشت دعا کی نذر ہو گئی
امید اجر بے یقینی جزا کی نذر ہو گئی
نہ اعتبار ِ حرف ہے نہ آبروئے خون ہے
سکون ہی سکون ہے
مصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کے سرفراز سر بریدہ بازوؤں
سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں اور ہر طرف سکون ہے
سکون ہی سکون ہے
خلیج اقتدار سرکشوں سے پاٹ دی گئی
جو ہاتھ آئی دولت ِ غنیم بانٹ دے گئی
طناب ِ خیمہ لسان و لفظ کاٹ دی گئی
فضا وہ ہے کہ آرزوئے خیر تک جنوں ہے
سکون ہی سکون ہے
مصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کے سرفراز سربریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں
اور ہر طرف سکون ہے
سکون ہی سکون ہے
آخری نعرہ مستانہ اور رقصِ امر
خالقِ کُل اللہ سبحان تعالی نے اس دنیا کے نظام کوکچھ اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ہر دور میں اس کے بندے اس کا علم اٹھائے رکھتے ہیں؛ کبھی جیت جاتے ہیں یا پھر شہید کردیے جاتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں اتار چڑھاو آیا ہے؛ صلاح الدین ایوبی کو اللہ کی راہ میں لڑنے والے بےلوث ساتھی مل گئے تھے تو اس نے القدس کو آزاد کرالیا تھا۔ اسلام کا نشاط ثانیہ تب ہوگا جب کوئی مردِ مجاہد نعرہ مستانہ بلند کرے گا تو اس کا ساتھ دینے والے بے لوث افراد معاشرے میں میسرہوجائیں گے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب اللہ تعالی تقدیر کو پلٹتا ہے تو غدار زیادہ پیدا ہوجاتے ہیں اور ٹیپو سلطان شہید کردیا جاتا ہے۔ سبق یہ ہے کہ نعرہ مستانہ تو سب ہی لگا سکتے ہیں مگر ایسے کم ہی ہوتے ہیں جو رقصِ امر کرجاتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں رقص امر کرنے والوں کو بےلوث ساتھی میسر نہیں ہیں؛ جب میسر آجائیں گے تو رقص جشن تشکر کا ہوگا۔