India and Pakistan came into being in 1947 after partition of British India and the two countries are in conflict since then. India is the largest country by population and have huge resources at its disposal as compared to its arch rival Pakistan. There are many problems in India but rise of Hindutva through RSS and coming to power via BJP is most lethal. This writ up in Urdu"راشٹریا سویم سیوک سنگھ؛ ہندوستان کا بھیانک چہرہ" is an opinion about the land mass called India and the rise of RSS and BJP.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
راشٹریا سویم سیوک سنگھ؛ ہندوستان کا بھیانک چہرہ
تاج برطانیہ نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا تو اسے کچھ مشکلیں درپیش تھیں؛ ایک مضبوط متحرک مسلمان آبادی و تہذییب اور طبقات میں بٹی ہوئی بکھری ہندو قوم۔ حالانکہ ہندو قوم تقریبا" چار ہزار سال سے برصغیر ہند پر آباد تھی۔ لیکن انگریز کے آنے سے قبل پچھلے ہزار سال سے مسلمان بادشاہت کے زیرِ اثر رہ رہی تھی اور باہر سے آنے والے مسلمانوں کے علاوہ صوفیوں کی تعلیمات کے زیر اثر مقامی نسل بھی مسلمان ہوتی جارہی تھی۔ تاج برطانیہ کو اقتدار پر قبضے کے بعد سب سے زیادہ خطرہ بھی مسلمانوں ہی سے محسوس ہوا۔ لیکن ہندو تو آبادی اور طاقت میں زیادہ تھے تو ان سے کیوں خطرہ محسوس نہیں ہوا؟ اس سوال کا جواب آج کے ہندوستان کا بھیانک چہرہ "راشٹریا سویم سیوک سنگھ" کو واضع کرے گا؛ جو اس خطے اور علاقے کے لیے زہرِ قاتل بھی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سیارہ زمین پر سب سے پہلے جن علاقوں میں تہذیب و تمدن نے جنم لیا برصغیر ہند کا خطہ بھی اس میں شامل تھا۔ موہنجو دڑو اور ہڑپہ سے دریافت ہونے والے آثار اس کا ثبوت مانا جاتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ اور کوئی دستاویزی معلومات نہیں ملتے۔ مگر آریائی نسل کی اس خطے میں آمد کے بعد سے اس زمین کے مستند مذہبی روایات وغیرہ ملتی ہیں۔ یعنی آریوں کی آمد کے بعد سے ہندوستان کی مذہبی تاریخ بیان کی جاسکتی ہے۔ اس تاریخ کا حوالہ ہندوستان کی قدیمی سنسکرت زبان میں ہے۔ اور یہ زبان انگریز کے آتے آتے معدوم ہوچکی تھی اور ایک نئی ہندی زبان یا اردو زبان جان پکڑ چکی تھی۔
برصغیر ہند کی مذہبی روایات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ 1 برہمن مت؛ 2 ہندو مت۔ برہمن مت سے مراد وہ راویات ہیں جن کا تعلق ہندوستان میں آریوں کی آمد سے لے کر جین اور بدھ مذہب کی عام اشاعت تک رہا ( یعنی 1500 قبل مسیح سے 400 ق م تک )
اس مذہبی روایات کو ویدک مت کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے جس میں برہمنوں کو خاص حیثیت حاصل تھی۔ چونکہ برہمنوں کی وجہ سے ہی اسے فروغ حاصل ہوا تو اسے برہمن مت بھی کہ سکتے ہیں۔ برہمنوں نے آریوں کے مذہبی شعور کی اچھی طرح ترجمانی کی اورآریائی مذہب کو جلا بخشی۔ برہمن مت کے زمانے میں جو ادب وجود میں آیا وہ سارا ویدک ادب میں شامل ہے ۔برہمن مت اور ہندو مت میں “وید” کو ایک خاص مذہبی مقام حاصل ہے ۔ اسے “شرتی” یعنی الہامی سمجھا جاتا ہے یعنی انسان کی تخلیق نہیں مانا جاتا ۔ ان کی ترتیب بھجنوں اور گیتوں کی ہے جسے آریائی لوگ اپنے دیوتاؤں کی شان میں مقدس تہوار پر پڑھتے تھے
برہمن وید زیادہ تر مذہبی رسومات؛ آداب زندگی اور قربانی سے متعلق ہے۔ ویدک ادب کی ایک قسم ” اپنشد” بھی ہے جسے ویدانت کہتے ہیں یعنی ویدوں کا اختتام۔ اُپنشد کی بعد کی کتابوں کو برہمن مت کا حصہ مانا جاتا ہے۔ جیسے رامائن ،بھگوت گیتا،مہا بھارت ان کو ویدک ادب کا حصہ نہیں مانا جاتا کیونکہ انہیں الہامی ہونے کا درجہ حاصل نہیں انہیں انسانی تخلیق مانا جاتا ہے ۔ ایک ضروری بات جو ذہن نشین رکھنا ہے کہ یہ سارے دراصل کلام ہیں جن کو اشلوک اور بھجن کہا جاتا ہے۔ اور ان کو انگریز ی آمد تک صرف پروہت ہی پڑھ سکتے تھے۔
اتھر وید اپنی نوعیت کے لحاظ سے سب سے الگ ہے کیونکہ یہ سب سے بعد کے زمانے کا جمع کردہ ہے ۔اس میں زیادہ تر جھاڑ پھونک اور جنتر منتر شامل ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ یہ حصہ عوامی رجحانات کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ پہلے تین حصے اعلٰی مذہبی شخصیات کے رجحانات کے آئینہ دار ہیں۔ ویدک کے بعد جو ادب تخلیق ہوا اسے سمرتی کہا جاتا ہے اسے انسانی تخلیق مانا جاتا ہے اس لئے اسے ویدک ادب جتنا تقدس حاصل نہیں۔
مہابھارت ہندوستان کی قدیم اور طویل ترین منظوم داستان ہے جسے ہندو مت کے مذہبی صحائف میں معتبر حیثیت حاصل ہے۔ ضخامت کے لحاظ سے اس کے شلوک اٹھارہ جلدوں کے 25 لاکھ الفاظ پر مشتمل ہیں۔ راماین سنسکرت لفظ۔ راماینا بمعنی رام کی سرگزشت۔ سنسکرت کی ایک طویل رزمیہ نظم جس میں ہندوؤں کے اوتار رام چندر کے حالاتِ زندگی بیان کیے گئے ہیں۔
برصغیر ہندوستان میں ہندو قوم کے چار طبقات تھے جنہیں قدیم دور میں منو نے بنایا تھا جن کے نام یوں تھے ۱۔ برہمن، ۲۔ کھچھتّریہ، ۳۔ ویش، ۴۔ شودر
یہ ایک ہی آریہ نسل سے ہی چار انتظامی طبقات بنائے گئے تھے؛ جن میں برہمن کے ذمّے مذہب اور علم تھا اور علم و ادب کا کام صرف یہ ہی کرتے تھے؛ کبھی کہیں کھچھتّریہ بھی پڑھنا لکھنا سیکھ لیتے تھے؛ مگر باقیوں کے لیے اجازت نہیں تھِی خاص طور پر شودر طبقے کے لیے تو بالکل بھی نہیں۔
ہندوستان کی طرزِ زندگی کا ہر شعبہ مسلمان تہذیب سے متأثر ہوا۔ قصر سلطانی ہو یا غریب کی جھونپڑی، عامی ہو یا عالم، عدالت ہو یا معاشرت، خوشی کا موقع ہو یا غم کی حالت، عبادت و ریاضت ہو یا تہذیب و ثقافت، الغرض زندگی کے ہر گوشے پر اس کی چھاپ پڑی۔ ایک ہندوستانی اسکولر ڈاکٹر تارا چند نے لکھا ہے " ہندوستانی زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں کے اثرات پڑے لیکن یہ اثرات رسم و رواج ، گھریلو زندگی، موسیقی، پوشاک و لباس، کھانے پکانے کے طریقوں، شادی بیاہ کے مراسم، تیوہاروں، میلوں اور مرہٹہ راجپوت اور سکھ والیان ریاست کے درباروں کے آداب میں نمایاں نظر آتے ہیں"۔ (کتاب: ہندوستان کے عہد وسطی کی ایک جھلک)۔
مسلمان نے جب بھارت کے دل دلی پر حکمرانی کا سکہ بٹھایا تو اپنے ساتھ اپنی تہذب بھی ساتھ لائے۔ اس تہذیب کا مرکز ایک اللہ؛ ایک رسول؛ ایک کتاب تھی؛ جس کی ترویج مسجد کے ذریعے ہوئی۔ مسجد کی مرکزی حیثیت مسلمان پہلی اسلامی ریاست مدینہ النبی سے موسوم ہے اور مسلمان جہاں بھی گئے مسجد انکی تہذیب کا مرکزی محور رہا ہے۔ ہندوستان میں مسلمان اپنے ساتھ عربی، فارسی اور ترک زبان بھی ساتھ لائے۔ اور خانقاہی نظام کے ساتھ ایک تعلیمی نظام بھی تھا جہاں عربی و فارسی ضرور پڑھائی جاتی تھی۔ آخری مسلم حکمران مغل خاندان کے دور میں سرکاری زبان فارسی تھی؛ اور مسلمان ہی نہیں ہندو اور دیگر انسان بھی عرب و فارسی سیکھ رہے تھی۔ اٹھارویں صدی کے اختتام تک شاہ ولی اللہ دہلوی کا علم و فنون کے ضمن میں کاوشیں بہت جڑ پکڑ چکی تھیں۔ اور ادب و شاعری کا ایسا رواج ہوگیا تھا کہ آخری مغل تاجدار دلی بہادر شاہ ظفر خود بھی اردو زبان میں شاعری کررہا تھا۔ اس کی بابت مسلمان تہذیب خوب پھل پھول رہی تھی۔ اور انگریز کے آتے آتے مقامی آبادی تیزی سے مسلمان ہورہی تھی۔ تاج برطانیہ کے لیے اس عمل میں رکاوٹ ڈالنا بہت اہم تھا۔ اس نے ہندوستان کی سرکارہ زبان انگریزی کردی اور تعلیمی نظام ہی بدل ڈالا۔
دنیا کی دیگر تہذیبوں کی مانند بھارت واسی بھی مذہبی استبداد اور بادشاہت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے۔ مذہب پر برہمن کی اجارہ داری تھی، اور بادشاہ اس کے زیرِ دام۔سوچ اور خیال پر پہرے لگے ہوئے تھے۔ دل و دماغ جسم اور مال پر بادشاہ اور برہمن کا قبضہ تھا۔ اسلام نے انسانیت کے مقام کو اونچا کیا اور نوع انسانی کو بادشاہ کے ظلم و جور، اور چیرہ دستیوں اور پاپائیت اور برہمیت کے شکنجے سے آزادی دلائی۔ اسلام کی اس خصوصیت اور نوع انسانی پر اس عظیم احسان کا تذکرہ کرتے ہوئے؛ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے اپنی کتاب میں سروجنی نائیڈو سے منسوب لکھا ہے کہ " یہ پہلا مذہب تھا جس نے جمہوریت کی تبلیغ کی اور اس پر عمل کیا، مسجد میں اذان کے ساتھ عبادت کرنے والے جمع ہو جاتے ہیں اور دن میں پانچ بار اللہ اکبر کے اعلان پر ایک ساتھ جھکتے ہیں۔ اسلامی جمہوریت پر عمل کرتے ہیں، میں نے بار بار محسوس کیا کہ اسلام اتحاد عمل سے ایک انسان کو دوسرے انسان کا بھائی بنا دیتا ہے"۔( کتاب: تہذیب و تمدن پر اسلام کے اثرات و احسانات)۔)
شودر ذات سے منسوب کام تھا کہ دیگر تینوں ذاتوں کی خدمت کرے، اسی میں اس کی مکتی اور نجات ہے۔ اس کے لیے عبادت، مجاہدہ، اور سنیاسی بننا پاپ ہے۔(دیکھئے :منوسمرتی باب 2 ص 97، ستیارتھ پرکاش، باب 5، ص 132) چنانچہ رامائن کا مشہور واقعہ ہے کہ رام راجیہ میں کسی برہمن کا جوانی ہی میں انتقال ہو گیا، جبکہ اس سے پہلے برہمن جوانی میں نہیں مرتا تھا، جو اس کی دلیل تھی کہ راجیہ میں کوئی بڑا پاپ ہو رہا ہے۔ اس لیے اس کے متعلقین لاش کو ایوان سلطنت لائے اور اس پاپ کا پتہ لگانے کا مطالبہ کیا۔ رام جی پتہ لگانے نکلے، دوران سفر انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص کسی درخت کے سایہ میں گیان دھیان اور تپسیا میں مشغول ہے۔ رام جی نے پوچھا تم کون ہو اور تمہارا تعلق کسی ذات سے ہے؟ اس نے کہا رام میرا نام شمبھوک ہے اور شودر ذات سے ہوں، یہ سنتے ہی رام جی نے میان سے تلوار نکالی اور اس کے جسم کو سر کے بوجھ سے یہ کہہ کر ہلکا کر دیا کہ دنیا میں سب سے بڑا پاپ یہی ہے کہ ایک شودر گیان و دھیان میں مشغول ہے۔ اور سرتن سے جدا ہوتے ہی مردہ برہمن جی اٹھا اور دیوتاؤں نے رام پر پھول نچھاور کئے۔
ایسے ہندوستان پر اسلام کا احسان تھا کہ عام انسانوں کو آزادی عطا کی۔ خاص طور پر شودر ذات کو مسلمان بننے میں خود کی اوراپنی اگلی نسل کے لیے بہتری محسوس ہوئی۔ چانچہ بڑی تعداد میں مذہب تبدیل ہوا؛ اور اسلام کی طرف جھکاو واضع تھا۔ تاجِ برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ہندوستان کا یہ تاریخی جھکاو قابل قبول نہیں تھا۔ اسے اس کا کچھ نہ کچھ توڑ نکالنا تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی سمندروں کے قزاق تھے اور تاج برطانیہ کے اچھے ملازم تھے اور دنیا کو فتح کرنے کو نکلے تھے۔ وہ اچھی طرح جان گئے تھے کہ مسلمان تہذیب کے مضبوط عناصر کے آگے بند باندھے بغیر وہ کامیاب نہیں ہونگے۔ اور اس وقت ہندوستان بھر میں پھیلا تعلیمی نظام اس کا پہلا نشانہ بنا۔ اور اس کے بعد اس نے ہندومت میں جان ڈالنے کے لیے اقدامات کئے۔ اور اس کے لیے ہندووں کو انگریزی تعلیم میں آگے بڑھایا۔ مسلمانوں نے انگریزی زبان کو سیکھنا حرام قرار دےدیا جو بذات خود ایک آفت بن گئی۔ انگریز نے ہندومت کو قبول عام کرنے کے لے پرانی سنسکرت کو زندہ کیا اور سنسکرت میں جو چند ایک کام ہوا تھا اسے خوب پھیلایا۔ اور عام ہندو کے لیے اپنے مذہب پر فخر کروانے کے لیے ناٹک رچوائے اور فلم ٹاکیز کے ذریعے خوب پھیلایا۔
ہندوستان کی زمین علم و فن سے نابلد نہیں تھی؛ فلسفہ، حکمت، اقلیدس، ہیئت، طب، شاعری، موسیقی، اور ابتدائی جغرافیہ جیسے علوم سیکھے جاتے تھے۔ مگر اس کا رواج عام انسانوں کے لیے نہیں تھا؛ خاص طور پر شودر ذات والے جو آبادی میں بہت زیادہ تھے۔ مسلمان جب اس زمین پر غالب آئے تو ہندو طرزِ زندگی کو سنٹرل انڈیا اور مشرقی اور مغربی انڈیا جہاں مسلمان حکمران تھے؛ بہت دھچکا لگا۔ اور سنسکرت کی ہندو تہذیب معدوم ہوتی چلی گئی۔ انگریز حکمران اس بھولی ہوئی زبان کو زندہ کرنے لگ گئے۔ اور ان کو بہت کامیابی ملی جب "ارتھ شاستر" نامی کتاب دریافت ہوئی۔
چانکیہ یا چناکیہ کوتلیہ کی لکھی کتاب " ارتھ شاستر" دریافت زدہ سنسکرت میں لکھی گئی تھی۔ جسے "ٹیلیگرافک زبان" بھی کہا گیا۔ سٹڈی آف کوتلیہ ارتھ شاستراکے مصنف ڈاکٹر آرادھنا پر مارلکھتے ہیں کہ ارتھ شاستر کی اصل سنسکرت کتاب کی دریافت ۱۹۰۴ءمیں ہوئی۔ صدیوں تک کوتلیہ کی یہ کتاب ارتھ شاستر اتنی مکمل شکل میں سامنے نہیں آئی جس طرح وہ اب ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کتاب کو اس لیے اہمیت ملی کہ ہندوں کو اپنے ماضی پر فخر کرایا جائے۔
گورنمنٹ آف انڈیا نے میسور”گورنمنٹ اورینٹل سوسائٹی“ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے اس میں آرکیالوجی کے موضو ع پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر آر ۔شام۔شاستری جو سنسکرت زبان اور ہندوستا ن کے آثار قدیمہ کے مستند ماہر شمار کیے گئے؛ کو حکومت ہند نے اورینٹل لائبریری کا کیوریٹر اور محافظ اعلیٰ مقرر کیا انہوں نے طویل عرصہ تک محنت کرکے سنسکرت زبان میں اصل ارتھ شاستر کے مختلف ٹکڑے اور نسخے یکجا کیے اور ۱۹۰۵ءمیں اس کو پہلی مرتبہ کتابی شکل دی اور بعد میں مہاراجہ میسور کی حکومت نے جمع کردہ اصل سنسکرت ارتھ شاستر کے انگریزی ترجمے کو ۱۹۰۹ءمیں شائع کیا ۔اسی طرح مسٹر شام شاستری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں سنسکرت کے ارتھ شاستر کو جمع کرکے اس قیمتی کتاب کا واحد نسخہ فراہم کیااور دوسر ااعزاز ان کو یہ حاصل ہے کہ انہوں نے انگریزی زبان میں پہلی مرتبہ ۱۹۱۵ءمیں اس کا ترجمہ کیا۔
مسلمان حکمرانی کے دور میں نچلی ذات یعنی شودروں نے الگ سے اپنی عبادت گاہ بنانا شروع کیا بلکہ برہمنوں کے مندر میں بھی داخل ہونے کی جرأت بھی کی۔ اور ان میں بھی سادھو سنت بننا شروع کئے۔ خود سنت کبیر کا تعلق نچلی ذات سے تھا۔ اسی طرح مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لیے برہمن کی اجارہ داری بھی کم ہونا شروع ہوئی۔ اسلامی تعلیمات ہی کے زیر اثر ہندوؤں کے اندر سے بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں ، جیسے کبیر پنتھ، سکھ مت اور لنگایت وغیرہ۔ ڈاکٹر این. سی .مہتا لکھتے ہیں؛ "جب مغلوں نے ہند میں قدم رکھا اس دور میں مختلف قسم کی مذہبی تحریکات نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان تمام تحریکوں میں کم و بیش یہی غایت تھی کہ عوام الناس کا درجہ بلند کیا جائے۔ ان تحریکوں کے ذریعہ نچلے طبقے کے لوگ بھی محسوس کرنے لگے کہ جذبہ صادق کی بدولت ہم بھی اعلیٰ سے اعلیٰ شرفاء کے ہم سر ہو سکتے ہیں، بھگتی کا مذہب جس کے معنی عشق الہی کے ہیں۔ اسلام ہی کے سبب ہر دل عزیز ہوا"۔ (کتاب: ہندوستان کے عہد وسطی کی ایک جھلک) انگریز نے اس عمل کو تیز کردیا؛ اور انگریزی زبان کی ترویج نے اس میں بڑی آسانی کردی؛ کیونکہ اس میں کوئی مذہبی رکاوٹ نہیں ہوئی۔
کسی بھی تہذیب کا مستقبل مشکوک ہوتا ہے جب تک وہ حکمران نہ بن سکے۔ اور انگریز جو طرز حکمرانی برطانیہ سے لے کر ہندوستان میں وارد ہوا تھا اس میں سیاست اور سیاسی جماعت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انگریز نے ہندووں کو اکسایا کہ ایک ہندو پرست سیاسی جماعت قائم ہو۔ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک سیاسی ہندو تنظیم ہے۔ یہ قوم پرست تنظیم ہے؛ اور کئی دہشت گردانہ معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث رہتی ہے۔اس کی بنیاد 27 ستمبر 1925ء کو ناگپور میں ڈالی گئی تھی۔ اس کے بانی کیشوا بلی رام ہیڑگیوار تھا جو بھارت کو ہندو ملک گردانتا تھا۔ اور یہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا ہے۔ بھارت میں برطانوی حکومت نے ایک بار اور آزادی کے بعد حکومتِ ہند نے تین بار اس تنظیم کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔
جب آر ایس ایس کی بنیاد رکھی گئی تو یہ سوال اٹھا کہ ہندوؤں کو کس تدبیر سے منظم کیاجاسکتاہے؟ اس سلسلے میں ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں اس اتحاد کی بنیادیں پائی گئیں چنانچہ قدیم زمانے کے ”شیواجی“ یاجدید دور کے مسولینی یا ہٹلرجیسے کسی ہندو ڈکٹیٹر کے ہاتھوں میں ہندوستان کی باگ ڈور کا ہونا ضروری سمجھا گیا۔ آر ایس ایس تنظیم فارشسٹ سیاسی نظریات پر مشتمل آمریتی نظام نافظ کرنے کی حامی رہی ہے اوراس کے رہنماؤں نے ہٹلر اور مسولینی کے قومی و سیاسی نظریات سے براہ راست استفادہ کیا ہے۔
آر․ ایس․ ایس اور مسولینی کی سیاسی تنظیم کے طریق کار میں کافی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے۔ اس تنظیم میں ۱۶ سے ۱۸ سال کے لڑکے لڑکیاں شامل کی جاتی ہیں۔ ان کی ہفتہ وار میٹنگیں ہوتی ہیں جہاں وہ لوگ جسمانی ورزشیں اور نیم فوجی مشقیں کرتے ہیں۔ آر․ ایس․ ایس کی شاکھاؤں میں آج بھی یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ ان شاکھاؤں میں تربیت کا مقصد آر ایس ایس کے تربیت یافتہ شرناتھویں کو ہندوستان کے ہر شعبے میں داخل کرنا ہے۔ اور پھر وہ حاصل کرنا ہے جیسے ہندوستان آئین کیسا ہو؟ دستوری ڈھانچہ کی شکل کیا ہو؟ بھارت کی سیاسی و اقتصادی پالیسی کس نوعیت کی ہو الغرض زندگی کے تمام شعبوں بشمول مذہب و سیاست کو آر ایس ایس اپنے مخصوص نظریات اور طے شدہ منصوبے اور متعینہ اصول کے پابند کرنا چاہتی ہے جس کا اظہار اس کے سرسنگھ چالک اور دیگر افراد موقع بہ موقع کرتے رہتے ہیں۔
آر․ ایس․ ایس اور ہندومہاسبھا جیسی تنظیمیں اور کل کی جن سنگھ اورآج کی بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ایک ہی سیاسی جسد کا حصہ ہیں۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ شاہد ہے کہ بی، جے ، پی کے بانی ڈاکٹر شیاما پرشاد مکھرجی نے نہرو کابینہ سے مستعفی ہوکر ایک قوم پرست پارٹی بنائی تو اس وقت کے آر․ایس․ ایس کے سرسنگھ چالک گوروجی نے اپنے سویم سیوک مہیا کئیےتو مکھرجی کی باضابطہ بھارتیہ جن سنگھ کی تشکیل ہوئی تھی۔ جس کے وہ خود صدر بنے اور پنڈت دین دیال اپادھیائے جنرل سکریٹری مقرر ہوئے۔ بعد میں کشمیر آندولن کے دوران گرفتار ڈاکٹر مکھرجی کی جیل میں موت واقع ہوگئی تو ایسالگتا تھا کہ یہ نوازائیدہ پارٹی دم توڑ دے گی تو اس وقت آر․ ایس․ ایس کے سویم سیوکوں ہی نے اس پارٹی کو زندہ رکھا۔ آج آر․ایس․ایس بھی اعلانیہ اسے اپنی پارٹی مانتی ہے۔ چنانچہ آر․ ایس․ ایس کے اشاعتی ادارہ سروچی پرکاشن سے شائع کتاب ”آر․ ایس․ ایس ایک تعارف“ میں جن ۳۰ تنظیموں کو یکساں نظریاتی تنظیم بتایا گیا ہے اس میں ایک نام بھارتیہ جنتا پارٹی کا بھی ہے۔
آج نریندر مودی کی تیسری حکومت میں ”ہندی اور ہندوستانی“ کے بجائے ”ہندو“ بنو کا فلسفہ اور ”جے ہند“ کی جگہ ”رام رام“ کہنے کی نئی روایت ایجاد کرنے پر زور فسطائی حرکتیں صاف بتارہی ہیں کہ بھارت کا جمہوری وسیکولر چہرہ بدل جارہا ہے۔ آر۔ایس ۔ایس کے نظریات اور اس کے کام کرنے کا طریقہ مسلمان دشمنی پر استوار رہا ہے؛ اور یہی اساس پر راشٹریہ سیوک سنگھ بھی کھڑی ہے۔ نریندر مودی کی تربیت آر ایس ایس کی آغوش میں ہی ہوئی، اور اس نے خود کو ہندوتوا کا سچا پیرو کار ثابت کیا ہے۔ مودی کا سیاسی سفر 1984 ء میں شروع ہوا تھا اور گجرات سے دہلی تک کے کامیاب سیاسی سفر میں، اس نظریے کی بنیاد پر مودی نے 2014 ء اور2019 ء اور 2024 ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد تیسری بار وزیر اعظم کا منصب سنبھالا ہے۔
مودی اس سے پہلے بھارتی ریاست گجرات کے 13 سال و زیر اعلی ( 2001-2014 ) رہے تھے اور اپنی ہندو انتہا پسندی کی باعث فروری اور مارچ 2002 ء میں ہونے والے مسلم کش فسادات نے بھارت کا سیکولر چہرہ پوری طرح داغدار کیا۔ ان فسادات میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈھائی ہزار سے زائد مسلمانوں کو قتل کردیا گیاتھا، سینکڑوں مسلمان خواتین کی عزتیں پامال کی گئیں اورمسلمانوں کے گھر نذر آتش کئے گئے اور ریاستی انتظامیہ تماشائی بنی رہی تھی۔ اس وقت تک صرف گجرات کی ریاستی انتظامیہ آرایس ایس کے زیر اثر ائی تھی۔ مگر کوششیں جاری تھیں۔ آج بھارت کی تقریبا" تمام شعبہ ہائے زندگی پر قابض ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ سے لیکر دیگر عدالتیں؛ بھارتی مسلح افواج اور دیگر ریاستی انتظامیہ؛ یہاں تک کہ ممبئی کی انڈر ورلڈ بھی آر ایس ایس کی شاہاکاری اور ماس خور بھی اس کا حصہ ہیں۔ بھاری فلم دنیا خاص طور پر مولی وڈ اور "گودی میڈیا" سمیت لکھاری افراد تک اس کے شکار ہیں۔ 7 مئی تا 10 مئی 2025 کو ہونے والے پاکستان سے لڑائی میں انڈیا کے سیکولر اور ترقی پسندی کے سب رنگ اتر گئے اور دنیا نے بھارت کا بھیانکر چہرہ دیکھا جو دراصل راشٹریا سویم سیوک سنگھ کا اصل روپ ہے۔
بین الاقوامی سطح پر آرایس ایس کو باضابطہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن یہ امر نہایت قابلِ غور اور معنی خیز ہے کہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک نے اِسے دہشت گردی کے عالمی قوانین کے تحت دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔ کیوں؟ اس کی تخلیق کے پیچھے خود انہی کی کوشش ہے۔ یہ تنظیم ان ہی دولت سے پھلی پھولی ہے۔ بھارت میں امبانی خاندان کے عروج کی کھوج کریں گے تو جانیں گے کہ یہ آرایس ایس تنظیم کا خزانہ ہے اور اس کی دولت سیوم سیوکوں کے کام آتی ہے۔
بھارت میں دنگے فسادات برپا کرنے میں آر ایس ایس تنظیم کا نام سرفہرست ہے۔ 1927 ء میں اپنے آغاز کے ساتح ہی ناگپور فساد میں اس کا اہم رول تھاا۔ 1948 ء کو اسی تنظیم کے رکن ناتھورام ونائک گوڈ سے نے بھارتی باپو مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا جسے اب نریندر مودی کی حکومت نے قومی ہیرو بنا دیا گیا ہے۔ 1969ء کو احمد آباد فساد، 1971 ء کو تلشیری فساد اور 1979 ء کو بہار کے جمشید پور فرقہ وارانہ فسادات وغیرہ وغیرہ کی ایک طویل لسٹ ہے؛ جس میں یہ تنظیم ملوث رہی ہے؛ اور اب جس کا اعتراف خود پردھان منتری نریندر مودی فخریہ کرتا ہے۔ 6 دسمبر 1992ء کو آرایس ایس تنظیم کے اراکین (کارسیوک) نے بابری مسجد میں گھس کر اس کو منہدم کر دیا۔ اور اب یہ بھارت میں معمول بن گیا ہے۔ آر ایس ایس مختلف فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہے اور اسے اب کسی تحقیق کی ضرورت نہیں رہی۔
بھارت آج دنیا کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس ایک مضبوط فوج ہے اور اس کا شمار دنیا کے دولت مند ملکوں میں بھی ہونے لگا ہے۔ ایک اتنی اہم ریاست دنیا میں امن کو فروغ دے سکتی ہے اور جنگ کی تباہی میں بھی جھونک سکتی ہے۔ مگر نریندر مودی جیسا راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس کا بھگت جو مسلمان دشمنی کے اصول پر پلا بڑھا ہے اور جس کی سیاست کا محور اور نظریہ نفرت اور عداوت پر مبنی ہو وہ سوائے تباہی کے کسی اور راستے پر کیسے چل سکتا ہے؟ دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ بھارت کا اتنا بھیانک چہرہ کیسے تبدیل کیا جائے وگرنہ وہ مسلمان اور پاکستان دشمنی میں دنیا کو "نیوکلر ونٹر" میں دھکیل سکتا ہے۔
A mobile dentist for seniors offers a practical and compassionate solution by bringing pro...