پس چه باید کرد قوم پاکستان
Pakistan came into being on 14 August 1947 on the basis of "Two Nation Theory". However, the country has not traveled on the way to make Pakistan an Islamic welfare state as per the aspirations of the founding fathers. This write up in Urdu "پس چه باید کرد قوم پاکستان" has been written to indicate the way forward in light of Iqbal's poetry and sunnah of Prophet Muhammad (PBUH).
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
پس چه باید کرد قوم پاکستان
قومِ پاکستان کیا کرے؟
علامہ محمد اقبالؒ ہمارے قومی شاعر ہیں اور انہیں حکیم الامت ؛ شاعرِ مشرق؛ مصور و مفکر پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اور اسکی وجہ انکی شاعری اور سیاسی پس منظر ہے۔ اقبال کی شاعری صرف شاعری نہیں تھی بلکہ ایک مکمل فلسفہ تھا جس نے ہندوستان میں بسنے والی مسلمان نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور انکو عظمت رفتہ کی اہمت سے روشناس کیا۔
علامہ محمد اقبالؒ اک عہد شناس اور عہد ساز شاعر تھے۔ ان کی شاعری اک مخصوص نظام فکر سے روشنی حاصل کرتی ہے، جو انھوں نے مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کا گہرا مشاہدہ کرنے کے بعد مرتب کیا تھا اور محسوس کیا تھا کہ اعلیٰ انسانی قدروں کا جو زوال دونوں جگہ مختلف انداز میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اس کا حل ضروری ہے۔ خصوصاً ہندوستان کی بدحالی ان کو مضطرب رکھتی تھی اور وہ اس کے اسباب سے بھی واقف تھے لہٰذا انھوں نے انسانی زندگی اور خاص طور پر مسلمانوں کی حالتِ زار کو سدھارنے اور اسے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے اپنی شاعری کو وسیلہ بنایا۔
علامہ محمد اقبالؒ عظمت آدم کے علمبردار تھے۔ اور وہ کسی بخشی ہوئی جنت کی بجائے اپنے خون جگر سے خود اپنی جنت بنانے کے عمل کو زیادہ امکان پرور اور زیادہ حیات آفریں سمجھے تھے۔ اس کے لئے اس کا نسخہ تجویز کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ " اقوام مشرق کو یہ محسوس کر لینا چاہئے کہ زندگی اپنی حویلی میں کسی قسم کا انقلاب نہیں پیدا کر سکتی جب تک اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ پیدا ہو اور کوئی نئی دنیا اک خارجی وجود نہیں حاصل کر سکتی، جب تک اس کا وجود انسانوں کے ضمیر میں متشکّل نہ ہو"۔
علامہ محمد اقبالؒ کو "شاعرِ مشرق" اور "حکیم الامت" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے مشرق کی قوموں، خاص طور پر مسلمانوں میں اسلامی عظمت اور انقلابی روح پھونکی، انہیں بیدار کیا اور ان کے لیے ایک عظیم مستقبل کا خواب پیش کیا جو صرف ان کے خیالات سے وابستہ تھا۔ اور یہ بھی کہ انکے فلسفے اور شاعری نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بیدار کیا اور ان کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے رہنمائی فراہم کی. انہوں نے مسلم امہ کو خودی کا درس دیا، خود اعتمادی پیدا کی، اور اتحاد و عمل پر زور دیا، جس کی وجہ سے وہ ملت کے لیے ایک عظیم مفکر اور رہنما قرار پائے۔ علامہ اقبال مصور پاکستان کہلائے کہ آپ نے مسلمانوں کے لیے سرزمینِ ہندوستان کے شمال مغرب میں مسلمانوں کے آزاد وطن کا جواز پیش کیا۔ اور یہ اعجاز اور اعزاز اللہ تعالی نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو عطا کیا کہ انکی بےلوث قیادت میں پاکستان قائم ہوا اور وہ بابائے قوم کہلائے۔
پاکستان قائم ہوا تو اس کی بنیاد ایک تصور؛ ایک فلسفہ اور ایک نظریہ بنا؛ جسے وقت نے دو قومی نظریہ کا نام دیا جو آسان الفاظ میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ " پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ"۔ مگر یہ محض کوئی سیاسی نعرہ یا جزباتی اعلان نہیں تھا۔ کیونکہ اس کے ییچھے ایک منظم اور مسلسل کوشش اور کاوش تھی جس پر منٹو پارک لاھور کی قرارداد کے بعد؛ جسے قوم اب قراردادِ پاکستان کہتی ہے؛ سات سال تک خوب بحث ہوئی۔ اور یہ بحث صرف اسکے حسن پر نہیں تھی؛ اس کے خلاف زیادہ لکھا گیا۔ لیکن ظلم یہ ہوا کہ ملک قائم ہوگیا؛ آزادی مل گئی؛ مگر ہم آزاد قوم نہیں بن سکے۔ ہماری روح آزاد نہیں ہوسکی اور ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست نہیں بناسکے ہیں۔ اور ستم بالائے ستم ہمیں اس ناکامی کا ذرا احساس تک نہیں ہے۔
وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
علامہ محمد اقبالؒ نے کتاب "بانگِ درا" کی نظم "شمع اور شاعر" کی اس شعر میں دراصل امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑا ہے؛ کہ اپنی اصل کھو دینا بھیانک ہے، مگر اس نقصان پر بے حسی اور غفلت اختیار کرنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ بے شعوری ہی زوال کو دائمی بنا دیتی ہے۔ یہاں کارواں سے مراد قوم پاکستان لیا جائے؛ جو اپنی منزلِ مراد کی طرف رواں دواں ہوئی ہی نہیں۔ متاعِ کارواں وہ قیمتی سرمایہ ہے جو کارواں کو اپنی بقا اور ترقی کے لیے درکار ہوتا ہے، یعنی ایمان کی حرارت، خودی کی قوت، علم و حکمت کا سرمایہ اور روحانی و اخلاقی قدریں۔ کیا ہم اس بات پر افسوس بھی نہیں کر سکتے کہ منزلِ مراد قوم کا مقصودِ حیات نہیں رہا ہے۔ مگر اصل المیہ اس سے بھی بڑا ہے کہ کارواں / قوم کے دل سے احساسِ زیاں بھی رخصت ہوگیا ہے۔ یعنی قوم نے نہ صرف اپنا سرمایہ کھو دیا ہے بلکہ کھونے کا درد اور نقصان کا شعور بھی باقی نہیں رہا۔ یہی بے حسی اصل تباہی ہے، کیونکہ جب تک احساسِ محرومی اور بیداریِ ضمیر موجود ہو، دوبارہ اٹھنے کی امید باقی رہتی ہے۔ لیکن اگر قوم اس زیاں کو زیاں ہی نہ سمجھے تو پھر بیداری اور احیاء کا امکان معدوم ہوجاتا ہے۔
یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!
علامہ محمد اقبالؒ نے کتاب "بانگِ درا" کی نظم " خصرِ راہ" میں اوپر کے شعر کے ذریعے ایک نہایت پُراثر اور بیدار کن انداز میں انسان، خاص طور پر مسلمان کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی تھی۔ "یہ گھڑی محشر کی ہے"؛ یہ وقت عام وقت نہیں، بلکہ ایسا لمحہ ہے جیسے قیامت کا دن ہو۔ یعنی یہ وقت فیصلے کا وقت ہے، ایک ایسا لمحہ جو زندگی کے پورے سفر کا رخ متعین کر سکتا ہے۔"تُو عرصۂ محشر میں ہے"ٓ ،تُو، اے انسان، گویا اس وقت میدانِ حشر میں کھڑا ہے۔ زندگی خود ایک محشر ہے جہاں ہر لمحہ تیرا امتحان ہے۔ یہ زندگی ہی اصل عدالت ہے، جہاں ہر عمل کا حساب ہو رہا ہے۔"پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے"، اے غافل انسان! اگر تیرے پاس کوئی نیک عمل ہے، کوئی کارنامہ ہے، کوئی خدمت ہے—تو اسے پیش کر!۔
انسان اس جہان میں کسی مقصد سے پیدا کیا گیا اور مقصودِ حیات سے غفلت اور بے شعوری کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سوائے قیامت کی گھڑی کے اور کیا ہے؟ ایسا کیوں محسوس نہیں کیا جاتا کہ یہ قیامت کی گھڑی ہے اورہم حشر کے میدان میں کھڑے ہیں؟ اور حشر کے میدان میں صرف عمل ہی کام کی شے ہے؛ اس لیے اے غافل قوم اگر ہمارے پاس عمل کا کوئی سرمایہ ہوگا تو اسے پیش کر پائیں گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس حیاتِ مستعار میں ہر لمحہ موجود؛ قیامت کے سماں کا سا ہوتا ہے؛ اور ہر لحظہ؛ ہر لمحہ؛ ہر وقت عمل کے بغیر گذارنا اور کچھ نہیں کرنا ایک حماقتِ محض کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ سر توڑ جد و جہد کے بغیر؛ کوئی شے؛ کچھ خاص ہاتھ نہیں آسکتا۔ اس کے لیے قوم کو انفرادی اور اجتماعی طور پر خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر کچھ نفع بخش جدو جہد میں مصروف ہونا پڑے گا؛ تاکہ منزلِ مراد تک پہنچ پائیں۔ تو منزلِ مراد کیا ہونا چاہیے؟ تو علامہ اقبال ہی سے رہنمائی لیتے ہیں۔ اقبال نے کتاب "پس چہ باید کرد اے اقوام شرق" کی نظم "سیاسیات حاضرہ" میں راستہ دکھایا ہے۔
چوں بنامِ مصطفی خوانم درود
از خجالت آب میگردد وجود
جب میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات والا صفات پر درود بھیجتا ہوں تو میرا وجود شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔
عشق می گوید کہ اے محکوم غیر
سینۂ تو از بتاں مانندِ دیر
عشق کہتا ہے کہ او غیر کے محکوم، تیرا سینہ تو بتوں کی وجہ سے بت خانہ بنا ہوا ہے۔
تا نداری از محمد رنگ و بو
از درودِ خود میالا نامِ او
جب تک تو حضرت محمدﷺ کے اخلاق عالیہ کا رنگ و بو اختیار نہیں کرتا اس وقت تک اپنے درود سے حضور ﷺ کے نام نامی کو آلود نہ کر۔
نغمه داری در گلو ای بیخبر
جنس خود بشناس و با زاغان مپر
اے بے خبر تو اپنے اندر نغمۂ توحید رکھتا ہے —
اپنی جنس کو پہچان اور کوؤں کے ساتھ پرواز نہ کر۔
خویشتن را تیزی شمشیر ده
باز خود را در کف تقدیر ده
پہلے اپنی خودی کو تلوار کی طرح تیز بنا —
پھر اپنے آپ کو تقدیر کے ہاتھ میں تھما دے۔
اندرون تست سیل بی پناه
پیش او کوه گران مانند کاه
تیرے اندر ایک بے پناہ سیلاب ہے —
جس کے سامنے کوہ گراں تنکے کی مانند ہے۔
سیل را تمکین ز نا آسودن است
یک نفس آسودنش نابودن است
سیلاب کی شان کبھی نہ رکنے میں ہے —
اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی رک جائے تو ختم ہو جاتا ہے۔
ملک خداداد پاکستان اٹھتر سال کا ہوگیا ہے۔ اور آج تیسری نسل جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔ اور ایک اندازے کے تحت آج ملک کی آبادی ۶۴ فیصد [64%] نوجوان ہیں؛ اور یہ صرف 30 سال سے کم عمر والے ہیں؛ اور اس میں سے ڈھیڑ کڑور سے دو کڑور بے روزگار ہیں۔ ہم نے قوم کے مسقبل کو بھوکا رکھ کرعزتِ نفس سے محروم کردیا ہے۔ ایسے حالات میں قوم کے نوجوانوں سے کسی نوع کی سماجی، سیاسی، تعمیری جدوجہد اور فکری انقلاب کی توقع رکھنا محال ہے؛ مگر علامہ محمد اقبالؒ نے تو اس سے زیادہ ابتر حالات کا مشاہدہ کیا تھا اور رہنمائی کی تھی۔ علامہ اقبال نے اپنی کتاب "بالِ جبریل" کی نظم "نصیحت" میں ایک خوبصورت پیغام دیا کہ جب حالات مشکل ہوں تب ہی شباب کا رنگ واضع ہوتا ہے۔ اور جوانی تو شاید اس طرح ہی سے اپنا خراج ادا کرتی ہے۔
ہے شباب اپنے لہو کي آگ ميں جلنے کا نام
سخت کوشي سے ہے تلخ زندگاني انگبيں
جو کبوتر پر جھپٹنے ميں مزا ہے اے پسر!۔
وہ مزا شايد کبوتر کے لہو ميں بھي نہيں
اختتامی کلمات
پاکستان آج ابتلا اور آزمائش کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جو ملک کے کل کی نوجوان نسل کی پیداکردہ ہے؛ اور وہ نسل آج اقتدار اعلی پر قائم ہے۔ اور شاید فکری انحطاط کا شکار ہے۔ یہ اغیار کی دہلیز پر سجدہ ریز ہیں اور قوم کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ خود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں؛ اور جدید ڈیجیٹل ہنر اور قابلیت کے حصول کو لازم کریں۔ قومِ پاکستان کی نوجوان نسل صرف دس سال کی محنتِ شاقہ سے اپنے بزرگوں کی غفلتوں کا کفارہ ادا کرسکتی ہے؛اور ایک باوقار قوم کا تاج سر پر سجا سکتی ہے۔ اور کل روز حشر اللہ تعالی اور آقا کریم محمدﷺ کے آگے سرخرو ہوسکتے ہیں۔
NOTE: یہ تحریر آزاد ویب نیٹ پر موجود مختلف ذرائع سے دستیاب مواد کی مدد سے مرتب کی گئی