Sir Syed Public School Tipu Road Rawalpindi is a prime educational Institution of the city, since its establishment in 1956. Then it was the only private English Medium school of the area. It was established by Aligarh University Old Boys Association of Pakistan for the purpose of instigating and cultivating "Aligarh Spirit". This write up in Urdu "پرنسپل شفیع منصوراور قوم سازی کا معرکہ" is about the iconic Principal Sir Shafi Mansoor and his contribution towards uplifting educational standards and personality grooming of students.
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
پرنسپل شفیع منصوراور قوم سازی کا معرکہ
یہ آزادی سے قبل کا دور ہے؛ ۱۲ مئی ۱۹۱۴ کو لدھیانہ کی مٹی سے جنم لینے والا ایک بچہ، جس نے آگے چل کر 'منصور' کے قلمی نام سے ادب اور زندگی کے کئی معرکے سر کیے؛ انکی شاعری کی کتاب "غمِ رائگاں" کے نام سے چھپی تھی۔ تقسیمِ ہند سے قبل دہلی اور شملہ کی گلیوں میں ملازمت کرتے ہوئے انہوں نے بدلتی تاریخ کو بہت قریب سے دیکھا۔ جب ۱۹۴۷ کا طوفان تھما، تو تقدیر انہیں راولپنڈی لے آئی، جہاں پاک فوج کے شعبۂ ترجمہ کی اہم ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی۔ لیکن قدرت نے ان سے ایک اور بڑا کام لینا تھا—ایک ایسا کام جو دفتری فائلوں سے نہیں، بلکہ انسانی روحوں سے جڑا تھا۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد، جب لوگ آرام کی زندگی چنتے ہیں، شفیع منصور صاحب نے شعبۂ تعلیم کا کانٹوں بھرا مگر مقدس راستہ چنا۔ وہ سرسید پبلک اسکول، ٹیپو روڈ، راولپنڈی کے پرنسپل بنے۔
ایک تاریخی درسگاہ اور عظیم ورثہ
یہیں سے شروع ہوا ایک انوکھا اور تاریخی سفر۔۔۔ یہ محض ایک عام اسکول نہیں تھا، یہ علی گڑھ تحریک کے اس نظریے اور یادگار کا تسلسل تھا جو برصغیر کے مسلمانوں کی بقا کی ضامن بنی تھی۔ اس عظیم ورثے کو اس کے اصل رخ پر آگے بڑھانا کسی عام استاد کے بس کی بات نہ تھی، یہ سفر صرف شفیع منصور جیسا کوئی 'نابغہ ہی طے کر سکتا تھا۔
عصرِ حاضر کا چیلنج اور مادی دوڑ
پرنسپل شفیع منصور کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ معاشرہ مادی دوڑ کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں ماں باپ کو اپنے بچوں کے لیے صرف چمکتی ہوئی "ڈگریاں" اور نوکریوں کے لیے "اعداد و شمار" چاہیے تھے۔ لیکن شفیع منصور کی نظریں مستقبل پر تھیں؛ انہیں ڈگریاں نہیں، ایک "اعلیٰ نسل" تیار کرنی تھی۔ وہ ایک ایسا مہنگا اسکول نہیں بنانا چاہتے تھے جہاں امیروں کے بچے آ کر غرور سیکھیں، بلکہ وہ ایک مضبوط قوم کی ایسی سچی درسگاہ اور "مادرِ علمی" قائم کرنا چاہتے تھے جو آنے والی نسلوں کے کردار کو سنوار سکے۔
پرنسپل شفیع منصور جانتے تھے کہ تبلیغ کرنا آسان ہوتا ہے اور جامع مثال بننا مشکل۔۔ انہوں نے مشکل راستہ چنا۔۔۔ ہر روز کئی میل کا سفر کرکے پیدل اسکول آنا اور شام کو واپس جانا۔۔۔ اسکول کی صبح کی اولین گھنٹی سے پہلے پہنچنا۔۔ دسویں جماعت کو خود انگلش پڑھانا۔۔۔ سارا دن مختلف کلاسز کا جائزہ لینا۔۔۔ بے شمار تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیاں منعقد کرنا اور بہت کچھ ان کا روزمرہ کا معمول تھا، جس نے اسکول کے پورے ماحول کو ایک نئی روح پھونک دی۔
سقوطِ ڈھاکہ کا پس منظر اور دو متضاد تعلیمی ماڈل
پرنسپل شفیع منصور نے سرسید اسکول کی سربراہی سقوطِ ڈھاکہ کے بعد سنبھالی تھی۔ ان کے سامنے وہ بحث دوبارہ جاگ گئی جو آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں ہو رہی تھی کہ۔۔۔ اسکول کیسے ہوں؟ ان کے سامنے تاریخ کے دو بالکل واضح اور متضاد ماڈل تھے:۔
• پہلا ماڈل: اشرافیہ کا چمکدار اسکول
یہ وہ ماڈل تھا جس پر پاکستان کے نام نہاد بڑے پبلک اسکول اور کیڈٹ کالجز چل رہے تھے۔ جیسے سینٹ میری، اچیسن کالج، گھوڑا گلی، اور ملٹری کالج جہلم وغیرہ۔ انگریزی زبان کا خبط، مغربی تہذیب کی اندھی چھاپ، اور خود کو عام عوام سے برتر اور 'اعلیٰ' سمجھنے کی نشانی۔ آزادی سے قبل اور بعد بھی ایسے ہی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل طلباء نے پاکستان کی حکومت سنبھال رکھی تھی۔۔۔ جو ملک ٹوٹا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ نے یہ تلخ حقیقت ثابت کر دی تھی کہ صرف چمکدار ڈگریاں، کلف لگے ہوئے یونیفارم اور انگریزی بولنے والے 'اعداد و شمار' کسی قوم کو ٹوٹنے سے نہیں بچا سکتے۔ اگر تعلیم میں روح اور اخلاقیات نہ ہوں، تو وہ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں میں بھی اقرباء پروری، خود غرضی اور طبقہ واریت پیدا کرتی ہے۔ والدین کے پاس چوائس تھی کہ وہ ان چمکدار اداروں کا رخ کریں جو مادی کامیابی تو دیتے تھے مگر پورے معاشرے کو اشرافیہ کے غرور میں جکڑ دیتے تھے۔
• دوسرا ماڈل: سر سید احمد خان کا مشن
دوسری طرف وہ ماڈل تھا جس کے لیے علی گڑھ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ایک ایسی درسگاہ جو مڈل کلاس اور غریبوں کے عام بچوں کو گلے سے لگائے۔ پرنسپل شفیع منصور نے اسی مشن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور سرسید اسکول کو علاقے کے تمام والدین کے بچوں کے لیے ایک سچی مادرِ علمی بنا دیا۔ ان کا ہدف بہت واضح تھا؛ انہیں اپنے اسکول سے ایسے نوجوان نکالنے تھے جو صرف ڈگری ہولڈر نہ ہوں، بلکہ ایک اچھا انسان اور ایک قابل مسلمان ہوں۔ ایک ایسا ذمہ دار اور فرض شناس شہری جو اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ٹوٹتی ہوئی قوم کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کر سکے۔
اساتذہ کا استاد اور روایات کا امین تسلسل
پرنسپل شفیع منصور علم کا بحرِ ذخار تھے؛ جس سے طالبعلم اور اساتذہ فیض پاتے تھے۔ ایک عہد تھا جس کی انہوں نے بنیاد رکھی تھی۔ اور وہ دور تمام ہوا اور سنہ ۱۹۸۵ء میں انکا انتقال ہو گیا۔ اس طرح انہوں نے محض پندرہ سال ہی اسکول کی سربراہی کی، لیکن یہ پندرہ سال ایک پگھلتی ہوئی قوم کے لیے پندرہ صدیوں کے برابر وزنی اور گہرے تھے۔ اس قلیل عرصے کے دوران انہوں نے نہ صرف بچوں کو پالا، بلکہ اسکول کے دیگر اساتذہ کی بھی ایسی فکری تربیت کی کہ خود اس وقت کے استاد انہیں بلا مبالغہ "اساتذہ کا استاد" کہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے جانے کے بعد بھی یہ شمع گل نہیں ہوئی۔ ان کے بعد ان کی نائب مس خالدہ پروین نے اسکول کی سربراہی سنبھالی اور ۲۰۰۷ء تک اپنے انتقال تک اس منصب پر رہیں۔ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے پرنسپل شفیع منصور کی قائم کردہ سچی روایات، اخلاص اور انسان سازی کے مشن کو اسی تڑپ کے ساتھ جاری رکھا۔
اجتماعی کامیابی کا وہ تاریخی مشن
پرنسپل شفیع منصور صاحب بچوں کے درمیان زیرو-سم مقابلہ (ایک دوسرے کو گرانے کی دوڑ) ختم کرنے کے لیے ایک انوکھا مشن دسویں جماعت کے طلباء کو دیا کرتے تھے۔ ان کی شرط ہوتی تھی کہ اگر پوری کلاس فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہو گئی، تو پوری کلاس کو ایک شاندار الوداعی کھانا دیا جائے گا۔ یہ محض لالچ نہیں تھا، یہ بچوں کو ایک دوسرے کا بازو بنانا سکھانے کا ایک نفسیاتی گر تھا، جہاں لائق بچہ کمزور بچے کو پیچھے چھوڑنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھاتا تھا۔ یہ حیرت انگیز اور تاریخی شرط ۱۹۸۳ء کی کلاس نے پوری کر کے دکھائی جب پوری کی پوری کلاس [ 39 طلباء تھے؛ اس جماعت میں کوئی طالبہ نہیں تھی] فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی۔ اور اگلے ہی سال یعنی ۱۹۸۴ء کی کلاس نے بورڈ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ سچی تعلیمی فضیلت اکیلے بھاگنے میں نہیں، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ملتی ہے۔
یہ تمثیلی کہانی 1970ء کی دہائی کے اواخر کے راولپنڈی کی ہے، جہاں دو بچوں، کامران اور نوید کے سفر کا آغاز ہوا۔ دونوں ذہین تھے، متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کے تعلیمی راستوں نے ان کے اندر دو الگ انسانوں کو جنم دیا۔
کامران کا داخلہ اس دور کے ایک انتہائی چمکدار، مہنگے اور اشرافیہ کے پبلک اسکول میں کروا دیا گیا۔ یہ وہ ماڈل تھا جہاں انگریزی زبان کا خبط اور مغربی چھاپ اعلیٰ ہونے کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔ وہاں کا پورا نظام ایک بے رحم مادی دوڑ کے گرد گھومتا تھا۔ کامران کو سکھایا گیا کہ کامیابی کا واحد معیار بہترین ڈگری، اعلیٰ ترین گریڈز اور نوکری کا حصول ہے۔ اسے بتایا گیا کہ کلاس کا ہر بچہ اس کا دوست نہیں بلکہ ایک رقیب ہے، جسے پچھاڑ کر اسے آگے نکلنا ہے۔ اسکول کا نظم و ضبط مشروط اور تعزیری تھا، جہاں ناکامی ایک مٹ مٹنے والا داغ تھی اور اساتذہ صرف "اعداد و شمار کے مینیجرز" تھے۔ کامران امتحانات کے کاغذ پر کتابیں اگلنے میں تو ماہر ہو گیا، مگر اس کی روح اندر سے خالی ہوتی گئی۔
دوسری طرف، نوید کا داخلہ سرسید پبلک اسکول، ٹیپو روڈ میں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب اسکول کی سربراہی پرنسپل شفیع منصور کے پاس تھی، اور ان کی نائب مس خالدہ پروین اس نظام کی روح تھیں۔ یہاں نوید کا سامنا عمارت کی چکا چوند سے نہیں، بلکہ اساتذہ کی محبت اور وژن سے ہوا۔ نوید کو یہاں علم کی قدر سکھائی گئی، بیدار ذہن سے سوال اٹھانا سکھایا گیا۔ پرنسپل شفیع منصور نے اسکول میں صرف انگریزی نہیں سکھائی جاتی تھی؛ زندگی برتنا بھی سمجھایا جاتا تھا۔ بے شمار تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیاں میعقد کی جاتی تھیں؛ صرف اس لیے کہ بچوں مین شعور اجاگر کیا جائے۔ نوید کے اسکول میں غلطی کرنا جرم نہیں، بلکہ سیکھنے کا ایک سنگ میل تھا۔ یہاں اسے صرف ایک "پروڈکٹ" نہیں بنایا جا رہا تھا، بلکہ ایک اچھا انسان، ایک قابل مسلمان اور ایک ذمہ دار فرض شناس شہری بنایا جا رہا تھا—بالکل سر سید احمد خان کے مشن کے مطابق۔
تیس سال بعد: عملی زندگی کا میدان
وقت کا پہیہ گھوما۔ 1975ء کے بعد کا وہ فکری ورثہ اب دونوں کے عملی کردار میں کھل کر سامنے آ رہا تھا۔
کامران اشرافیہ کے اسکول سے نکل کر، اپنی مہنگی ڈگری اور سفارشی اثر و رسوخ کے بل بوتے پر شہر کا ایک انتہائی نامور اور بڑا کارڈیک سرجن (دل کا ڈاکٹر) بن چکا تھا۔ اس کے پاس بڑی گاڑی تھی، بنگلہ تھا، اور ہسپتال میں اس کی فیس سب سے زیادہ تھی۔ لیکن اس کے دل میں جذبات نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ایک شام، ایک غریب بوڑھا باپ اپنے مرتے ہوئے جوان بیٹے کو لے کر کامران کے پاس آیا۔ اس کے پاس ہسپتال کی فیس کے پورے پیسے نہیں تھے۔ کامران نے، جسے بچپن سے صرف "نمبر، منافع اور اقرباء پروری" کا حساب سکھایا گیا تھا، فائل دیکھی اور سرد لہجے میں کہا: "پہلے کاؤنٹر پر پوری فیس جمع کروائیں، پھر آپریشن ہوگا، یہاں جذبات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔" اس کے لیے وہ مریض ایک انسان نہیں، محض ایک کیس اور ہسپتال کا ایک اور "ڈیٹا" تھا۔
اسی شام، وہ غریب بوڑھا باپ روتا ہوا ہسپتال کے باہر بیٹھا تھا کہ وہاں سے نوید کا گزر ہوا۔ نوید، جو سرسید اسکول کی اسی مڈل کلاس مٹی سے اٹھا تھا، اب ایک بڑا کامیاب کاروباری بن چکا تھا۔ نوید کے پاس بھی اختیار تھا، رتبہ تھا، لیکن اس کے شعور میں "سرسیدین کا مشن" ایک قومی اثاثہ بن کر دھڑک رہا تھا۔ شفیع منصور کے ڈھالے ہوئے اس انسان نے جب بوڑھے کے آنسو دیکھے، تو اس کا مڈل کلاس کا شعور اور اساتذہ کی دی ہوئی تربیت تڑپ اٹھی۔
نوید نے آگے بڑھ کر بوڑھے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس نے یہ نہیں سوچا کہ یہ مریض اس کا رشتہ دار ہے یا اس کا اس سے کوئی مادی فائدہ ہے۔ اس نے فوراً اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا، ہسپتال کی انتظامیہ سے خود بات کی، اور اس غریب بچے کے آپریشن کا نہ صرف انتظام کروایا بلکہ خود وہاں کھڑا رہا جب تک اس بچے کی جان نہیں بچ گئی۔ نوید کے لیے وہ بچہ کوئی عدد یا ڈیٹا نہیں تھا، وہ ایک زندگی تھا، ایک تقدیر تھی، اور اس کا قومی فریضہ تھا۔
رات گئے، جب کامران اپنی مہنگی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے بینک بیلنس کے "اعداد و شمار" دیکھ رہا تھا، تو اسے اپنے اشرافیہ کے اسکول کی طرح ایک گہرا اور تلخ خالی پن محسوس ہو رہا تھا، جہاں سے وہ ایک قیدی کی طرح فرار ہوا تھا اور کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ دوسری طرف، نوید اپنے پرانے پرنسپل شفیع منصور اور مس خالدہ پروین کو شکرگزاری کے ساتھ یاد کر رہا تھا، جن کی بدولت آج وہ زندگی کی دوڑ میں محض ایک کامیاب نوکری پیشہ نہیں، بلکہ معاشرے کا ایک حقیقی قائد اور معمار بنا تھا۔
آج کے والدین کے نام ایک آخری سوال
پرنسپل شفیع منصور اور محترمہ خالدہ پروین نے تاریخ کے صفحات پر یہ ثابت کر دکھایا کہ تعلیمی فضیلت کا تعلق اونچی دیواروں، بھاری فیسوں یا مراعات یافتہ اشرافیہ کی اجارہ داری سے نہیں ہے۔ حقیقی فضیلت اس وقت جنم لیتی ہے جب ایک ماہرِ تعلیم متوسط طبقے کے بچوں کے خام اور ناتراشیدہ ذہنوں کو خالص محبت اور بصیرت کے ساتھ کندن بنا کر ایک مضبوط اور توانا قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔
آج، والدین کی حیثیت سے، آپ بھی بالکل اسی دوراہے پر کھڑے ہیں۔ جدید کارپوریٹ اکیڈمیوں کی چکاچوند پہلے سے کہیں زیادہ خیرہ کن ہے، جو سماجی رتبے، محض کاروباری کامیابی اور مشینی مستقبل کے وعدے کرتی ہیں۔ لیکن خود سے سوال کیجیے: آپ اپنے بچوں کے لیے کس قسم کے اسکول کا انتخاب کریں گے؟ کیا آپ انہیں کسی ایسی 'ڈیٹا فیکٹری' کے حوالے کر دیں گے جو ان کی انسانیت سلب کر کے انہیں محض بے روح اور سرد اعداد و شمار میں ڈھال دے؟ یا پھر آپ کسی ایسی حقیقی درس گاہ (مادرِ علمی) کی تلاش کریں گے جو ان کے کردار کی تعمیر کرے، ان کے ذہنی تحفظ کی ضمانت دے اور انہیں ہمدرد اور باوقار رہنماؤں کے روپ میں ڈھالے؟
آج آپ کا کیا گیا فیصلہ محض کسی رپورٹ کارڈ کا تعین نہیں کرے گا؛ بلکہ یہ آپ کے بچے کی تقدیر سنوارے گا اور آنے والے کل میں قوم کی روح کا تعین بھی کرے گا۔
نوٹ: یہ مضمون پرنسپل شفیع منصور کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے غرض سے لکھا گیا ہے؛ اور ہرگز بھی سر پرنسپل پہ مضمون نہیں ہے۔۔ قارئین سے درخواست ہےکہ سر شفیع منصور کے بارے میں جو معلومات ہیں؛ یہاں لکھ ڈالیں؛ تاکہ ایک مفصل تحریر ضبط قلم لایا جائے۔ شکریہ
Planning to clean your home this weekend or remove old rubbish from your property? You don...