پھر چلا خامہ قصیدہ کی طرف بعد غزل

God Al-Mighty ALLAH is the creator and sustainer of the all and He has created us the humans as special creation. He has bestowed special faculties and responsibilities upon the progeny of prophet Adam(AS). This write up in Urdu is about those humans who err and find solution to salvation.

Jan 21, 2026 - Muhammad Asif Raza

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے


پھر چلا خامہ قصیدہ کی طرف بعد غزل

 

اللہ سبحان تعالی کے نام سے ابتداء کہ جس کی لامنتہاء رحمت کے سمندر کا کوئی کنارا نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہر تعریف صرف اسی کو روا ہے کہ سارے عالمین میں ساری مخلوقات کا پالنہار ہے۔ سراپا رحم اور کرم اور حساب کتاب کے دن کا مالک و مختار۔ وہ ہر شے کا خالق اور مالک ہے اور جیسا چاہتا ہے کر گذرتا ہے؛ کہ اسے کسی کی سفارش اور ہمنوائی نہیں چاہیے؛ کیونکہ وہ ایک اکیلا ہی کافی ہے۔ اور اتنا بے نیاز ہے کہ ساری مخلوقات کی خبر گیری رکھتے ہوئے بھی کسی باغی کی طنابیں نہیں کھینچتا ہے؛ کہ وقت موعود تک کی چھوٹ سب کے لیے ہے۔ حیرت ہے کہ ایک لمحے قلیل کی زندگی والے بغاوت کرتے ہیں اور فنا ہوجاتے ہیں مگر آس پاس رہنے والے اور دیکھنے والے کوئی سبق نہیں سیکھتے۔ ہائے افسوس کہ وہ کسی ان دیکھی دیوار میں مقید ہوتے ہیں؛ کہ گونگے؛ بہرے اور اندھے ہی رہتے ہیں۔

 

اللہ سبحان تعالی نے سارے عالمین میں ساری مخلوقات کو جب چاہا اور جیسا چاہا اور جس مقصد سے چاہا، پیدا کا۔ اس نے فرشتے پیدا کئے، جنوں کو بنایا اور انسان بھی پیدا کیا اور پھر آدم کا پتلا بنا کر اس میں اپنی روح پھونک کر ساری مخلوقات سے افضل بنا کر اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس تاج میں فنِ کمال سوچ و فکر کا حامل دماغ؛ افئدا کا مرکز دل اور نطق کی صلاحیت ہے۔ اللہ تعالی نے خود اپنے قرآن میں کہا ہے "لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ " ( سورۃ التین- 4) "بیشک یقینا ہم نے آدمی (انسان) کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا "۔ لیکن ابن آدم کی کہانی بہت تکلیف دہ ہے کہ وہ اپنے کھلے اور بڑے دشمن "ابلیس / شیطان" کی راہ چل پڑا اور بڑے فخر سے شیطان کی پیروی میں خدا کی بغاوت میں عظمت تلاش کرنے لگا۔ ابن آدم کا عمل خیر تو یہ ہے کہ غلطی کے بعد توبہ کرلیتا ہے۔ لیکن کچھ ابلیس کی ذریعت ہوتے ہیں؛ فخریہ گناہگار رہتے ہیں۔

تمام انسان جو ابنِ آدم ہیں؛ ماں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور مجبور محض ماں کی عنایات اور رحمتوں کے محتاج رہتے ہیں؛ اور پھر اس کی گود سے اترتے ہیں اور لڑکپن، نوجوانی اور جوانی کی عمر سے گذر کر سنجیدگی کی دہلیز چالیس سال تک پہنچتے ہیں۔ ہر انسان اس چالیس سال کے دورانیے سے مختلف طور پرگذرتے ہیں۔ پروردگارِعالم؛ ابنِ آدم سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بچپن سے بڑا ہوکر توانائی، رعنائی، حسن وعشق اور دنیا کےعہدوں اور مقام سے گذر کر سنجیدگی سے مقصدِ حیات کے اصل جوہر اور اپنی قدر کو پہچان لے اور اخروی زندگی کی کامیابی کے لیے جڑجائے۔

نفسِ مضمون کا مصرعہ معروف شاعر محسن کاکوروی کے ایک قصیدے کے نعتیہ حصے کا ابتدائی مصرع ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ غزل لکھنے کے بعد شاعر کا قلم دوبارہ قصیدے کی طرف مائل ہو گیا ہے، کیونکہ اس کا ذہن (مختار دماغ) اب نعت یا مدح جیسے بلند موضوعات کے لیے تیار ہے، جس میں شمعِ فکر کے گرد گھومتے ہوئے خیالات کا نشہ (گُلرنگ شراب) غالب ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ انسان کو دنیا کی تغزل سے لطف اندوز ہونے کے بعد اصل مقصدِ حیات قصیدہ (آقا کریم محمدﷺ کی غلامی اور پیروی) کی طرف مائل ہو؛ جو کہ ایک حقیقی بلند پایہ موضوع ہے؛ مگر اس سفر میں جیسے ہی انسان چلتا ہے؛ اس کے ارد گرد ابلیسی نظام کے چیلے ایک دنیا کے جاہ و حشم اور لذات والے خیالات کا ہجوم کھڑا کردیتا ہے۔

  یہ مضمون اس دنیا میں ہر ابنِ آدم؛ جو کسی نوع کے تخلیقی عمل اور ذہنی اور جسمانی جدوجہد سے نبرد آزما ہے؛ کی ترجمانی کرتا ہے اور حوصلہ افزائی کرتا ہے؛ جو ایک راہ [ یعنی دنیا کی طلب ] پر چلتا ہوا ایک دوسری اعلیٰ منزل [ طلب عشق آقا محمد ﷺ اور اللہ تعالی کی بندگی ] کی طرف بڑھتا ہے؛ جو اصل تخلیقی عمل ہے۔ یہ عمل فرشتوں کی عمر شیرخواری سے اشرف المخلوقات تک کا سفر ہے۔

 

اللہ سبحان تعالی نے ایک جنس فرشتہ پیدا کیا؛ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نورانی اور غیر مرئی مخلوق ہیں، جنہیں مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں؛ جیسے وحی لانا، اعمال لکھنا، رزق پہنچانا اور روحیں قبض کرنا، یہ ہر قسم کے گناہوں سے پاک اور اللہ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہیں۔ انہیں نور سے پیدا کیا گیا ہے اور یہ انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوتے ہیں، لیکن قدرتِ الٰہی سے کسی بھی شکل میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ فرشتے اللہ کے احکامات کی نافرمانی نہیں کرتے اور ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں سے پاک ہیں۔ انہیں کھانے پینے یا جسمانی ضروریات سے پاک رکھا گیا ہے۔

جنات بھی اللہ سبحان تعالی کی ایک مخلوق ہیں، جو انسانوں سے مختلف ہیں۔ یہ جنس 'جن' انسانی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، لیکن عقل اور خیر و شر کے انتخاب میں انسانوں کے ساتھ مشترک صفات رکھتے ہیں، وہ آگ کے شعلے سے پیدا کئے گئے ہیں؛ اور ان کی اپنی دنیا اور فطرت ہے، وہ دیکھ سکتے ہیں اور دیکھائے جا سکتے ہیں۔ وہ پوشیدہ مخلوق ہیں جو انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ "وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے"۔ جنوں میں شیاطین (شیاطین- ابلیس کی ذریعت) والے انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں جبکہ دیگر ایمان والے اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں۔ جنوں کا وجود انسانوں کی طرح اللہ کی بندگی کے لیے ہے، لیکن ان کا کردار اور زندگی کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔

اور ھم نے جن اور انسان کو پیدا کیا ہے تو صرف اپنی عبادت کے لیے۔ (سورۂ الذاریات-56)     

 

سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :-۔

يٰٓـاَ يُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (21)

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔

اور مزید کہا ہے کہ

بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضے میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی عزت والا، بخشش والا ہے۔ (سورۃ الملک:۱،۲)

 سورہ یٰسین میں ارشادِ الٰہی ہے:-۔

اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا، یہ سیدھا راستہ ہے۔ (61-60)

اللہ سبحان تعالی نے ہمیں پیدا کیا اور ہماری بشری کمزوریوں سے کما حقہ واقف ہے؛ جیسے ہمارے جد حضرت آدم سےخطا ہوئی؛ سو ہم جو ابن آدم ہیں؛ خطا کے پتلے ہیں؛ اور کوئی بشر ہر لمحہ ایمان کی بلند ترین حالت میں نہیں رہ سکتا۔ سو ایمان کے کمزور لمحات میں ہر بشر خطا کرسکتا ہے؛ جو شرک کی حدوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس لیے اللہ پاک الغفور الرحیم نے توبہ کا در کھلا رکھا ہے؛ سو اعلان کیا؛ دیکھیے قرآن المجید کی سورۃ الزمر کی آیت 53 ہمیں کیا پیغام دیتی ہے۔ فرمایا ہےکہ؛

" تم کہہ دو: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ،بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے"۔

اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں اُن کو خوشخبری سنادو. البقرۃ 155

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جنت میں سو درجے ہیں، جنہیں الله نے الله کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے. جب تم الله سے (جنت کا) سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ افضل و اعلی جنت ہے". بخاری

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے " عقلمند وہ ہےکہ جواپنےنفس کومطیع رکھے اور موت کےبعدکی تیاری کرے، اور بےوقوف وہ ہےکہ جواپنےنفس کی پیروی کرے اور اللہ پر امیدیں باندھے". (ترمذی، ۲۴۵۹)

سرورِ کائناتؐ آقا محمدﷺ کا فرمان "جس آدمی نے اپنی قدر پہچان لی وہ کبھی برباد نہ ہوگا"۔



اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا تیرے علم نے احاطہ کیا ہے، اور ہر اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کا تیرے علم نے احاطہ کیا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنی تمام تر معاملات میں عافیت کا سوال کرتا ہوں، اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

اے ایمـان والـوں کـی آخـری اُمـید ہمـاری اُمـیدوں کومنقطــع نـہ کیجیـے۔ اے فـریـادیـوں کے فــریاد رسـی کرنـے والـے ہمـاری فـریاد رسی فرما۔ اے مـومنـــوں کـے مـــددگار ہمـــاری مـدد فـرمـــا۔ اے تـوبـہ کـرنے والـوں کـو محبـوب رکھنـے والـے ہمـاری توبـہ کـو قــبول فـرمـا۔ اللہ رب العالمین؛ ہمیں آقا محمدﷺ کی غلامی عطا فرمائے؛ اللّٰہ کریم ہمیں غور و فکر کرنے والا اور اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا ، مصائب و مشکلات پر صبر کرنے والا اور باھم مددگار بنائے۔ آمین ثم آمین

نفسِ مضمون کا مصرعہ محسن کاکوروی کے ایک مشہور قصیدے کا ہے، اور شعر مکمل یوں ہیں:-۔

"پھر چلا خامہ قصیدہ کی طرف بعدِ غزل"

"کہ ہے چکر میں سخن گو کا دماغِ مختل"

 

یہ شعر شاعر کے فنکارانہ سفر اور خیالات میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں غزل کے بعد وہ قصیدے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ جس میں شاعر غزل کے بعد اپنے قلم کا رخ قصیدے کی طرف موڑنے کا ذکر کر رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ شاعر کا دماغ مختلف خیالات میں گھوم رہا ہے اور قلم چلتے چلتے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ یہ قصیدہ ان گناہگاروں کے لیے ہے جو دنیا کے حصول میں کہیں دور بھٹک جاتے ہیں؛ مگر پھر اللہ تعالی کی رحمت کے سبب لوٹ جاتے ہیں؛ اور رجوع کرلیتے ہیں۔ ایسے مسافروں کا ٹھکانہ در نبویﷺ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے رحمت العالمینﷺ کو خطا کاروں کا آسرا جو بنا رکھا ہے۔ اور آقا محمدﷺ اپنا دامنِ رحمت پھیلائے رکھتے ہیں اور پناہ گیر ابنِ آدم کی جون بدل دیتے ہیں۔ پھر خطار کار وہ کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں کہ دنیا انگشت بہ دنداں رہ جاتی ہے۔ سرزمین پاک و ہند و بنگلہ دیش کی آخری دو سو سال کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔

 

آئیے اب جناب محسن کاکوروی کا قصیدہ پڑھتے ہیں۔

 

سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل

برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل

گھر میں اشنان کریں سرو قدان گوکل

جا کے جمنا پہ نہانا بھی ہے اک طول عمل

 

خبر اڑتی ہوئی آئی ہے مہابن میں ابھی

کہ چلے آتے ہیں تھیرتھ کو ہوا پر بادل

تہ و بالا کیے دیتے ہیں ہوا کے جھونکے

بیڑے بھادوں کے نکلتے ہیں بھرے گنگا جل

 

کبھی ڈوبی کبھی اچھلی مہ نو کی کشتی

بحر اخضر میں تلاطم سے پڑی ہے ہلچل

شب دیجور اندھیرے میں ہے بادل کے نہاں

لیلیٰ محمل میں ہے ڈالے ہوئے منہ پر آنچل

 

آتش گل کا دھواں بام فلک پر پہنچا

جم گیا منزل خورشید کی چھت میں کاجل

جس طرف سے گئی بجلی پھر ادھر آ نہ سکی


قلعۂ چرخ میں ہے بھول بھلیاں بادل

 

آئینہ آب تموج سے بہا جاتا ہے

کہیے تصویر سے گرنا نہ کہیں دیکھ سنبھل

آج یہ نشو و نما کا ہے ستارہ چمکا

شاخ میں کاہکشاں کہ نکل آئی کوپل

 

خضر فرماتے ہیں سنبل سے تری عمر دراز

پھول سے کہتے ہیں پھلتا رہے گلزار امل

دیکھتے دیکھتے بڑھ جاتی ہے گلشن کی بہار

دیدۂ نرگس شہلا کو نہ سمجھو احول



لہریں لیتا ہے جو بجلی کے مقابل سبزہ

چرخ پر بادلا پھیلا ہے زمیں پر مخمل

ہمزباں وصف چمن میں ہوئے سب اہل چمن

طوطیوں کی ہے جو تضمین تو بلبل کی غزل

 

جگنو پھرتے ہیں جو گلبن میں تو آتی ہے نظر

مصحف گل کے حواشی پہ طلائی جدول

شاخ پر پھول ہیں جنبش میں زمیں پر سنبل

سب ہوا کھاتے ہیں گلشن میں سوار و پیدل

 

آہ قمری میں مزا اور مزے میں تاثیر

سرو میں دیکھیے پھول آنے لگے پھول میں پھل

خندہ ہائے گل قالیں سے ہوا شور نشور

کیا عجب ہے جو پریشان ہے خواب مخمل

 

شاخ شمشاد پہ قمری سے کہو چھیڑے ملار

نونہالان گلستاں کو سنائے یہ غزل

طرفہ گردش میں گرفتار عجب پھیر میں ہے

سرمہ ہے نیند مری دیدۂ بے دار کھرل

 

سمت کاشی سے گیا جانب متھرا بادل

تیرتا ہے کبھی گنگا کبھی جمنا بادل

سمت کاشی سے گیا جانب متھرا بادل

برج میں آج سر کشن ہے کالا بادل

 

شاہد گل کا لیے ساتھ ہے ڈولا بادل

برق کہتی ہے مبارک تجھے سہرا بادل

خوب چھایا ہے سر گوکل و متھرا بادل

رنگ میں آج کنہیا کے ہے ڈوبا بادل

 

سطح افلاک نظر آتی ہے گنگا جمنی

روپ بجلی کا سنہرا ہے روپہلا بادل

چرخ پر بجلی کی چل پھر سے نظر آتا ہے

سبزہ چمکائے ہلاتا ہوا برچھا بادل

 

بجلی دو چار قدم چل کے پلٹ جائے نہ کیوں

وہ اندھیرا ہے کہ پھرتا ہے بھٹکتا بادل

جب تلک برج میں جمنا ہے یہ کھلنے کا نہیں

ہے قسم کھائے اٹھائے ہوئے گنگا بادل

 

چشمۂ مہر ہے عکس زر گل سے دریا


پرتو برق سے ہے سونے کا بجرا بادل

مری آنکھوں میں سماتا نہیں یہ جوش و خروش

کسی بے درد کو دکھلا یہ کرشمہ بادل

 

تپش دل کا اڑایا ہوا نقشہ بجلی

چشم پر آب کا دھویا ہوا خاکہ بادل

دل بے تاب کی ادنیٰ سی چمک ہے بجلی

چشم پر آب کا ہے ایک کرشمہ بادل

 

اپنی کم ظرفیوں سے لاکھ فلک پر چڑھ جائے

میری آنکھوں کا ہے اترا ہوا صدقہ بادل

کچھ ہنسی کھیل نہیں جوشش گریہ کا ضبط

یہ مرا دل ہے یہ میرا ہے کلیجا بادل

 

راجہ اندر ہے پری خانہ مے کا پانی

نغمہ مے کا سر کشن کنہیا بادل

دیکھتا گر کہیں محسنؔ کی فغان و زاری

نہ گرجتا کبھی ایسا نہ برستا بادل

 

پھر چلا خامہ قصیدہ کی طرف بعد غزل

کہ ہے چکر میں سخن گو کا دماغ مختل

مئے گل رنگ ہے کیا شمع شب فکر کا پھول

چلتے چلتے جو قلم ہاتھ سے جاتا ہے نکل

 

ہے سخن گو کو نہ انشا کی نہ املا کی خبر

ہو گئی نظم کی انشا کی خبر سب مہمل

دل میں کچھ اور ہے پر منہ سے نکلتا ہے کچھ اور

لفظ بے معنی ہیں اور معنی ہیں سب بے اٹکل

 

کتنا بے قید ہوا کتنا یہ آوارہ پھرا

کوئی مندر نہ بچا اس سے نہ کوئی استل

کبھی گنگا پہ بھٹکتا ہے کبھی جمنا پر

گھاگھرا پر کبھی گزرا کبھی سوئے چمل

 

چھینٹے دینے سے نہ محفوظ رہی قلزم و نیل

نہ بچا خاک اڑانے سے کوئی دشت و جبل

ہاں یہ سچ ہے کہ طبیعت نے اڑایا جو غبار

ہوئی آئینہ مضموں کی دو چنداں صیقل

 

اک ذرا دیکھیے کیفیت معراج سخن

ہاتھ میں جام زحل شیشۂ مہ زیر بغل


گرتے پڑتے کہاں مستانہ کہاں رکھا پاؤں


کہ تصور بھی جہاں جا نہ سکے فرق کے بل

 

یعنی اس نور کے میدان میں پہنچا کہ جہاں

خرمن برق تجلٰی کا لقب ہے بادل

تار باران مسلسل ہے ملائک کا درود

بہر تسبیح خداوند جہاں عز و جل‌‌

 

کہیں طوبیٰ کہیں کوثر کہیں فردوس بریں

کہیں بہتی ہوئی نہر لبن و نہر عسل

کہیں جبریل حکومت پہ کہیں اسرافیل

کہیں رضواں کا کہیں ساقیٔ کوثر کا عمل

 

کنز مخفی کے کسی سمت نہاں تہ خانے

اک طرف مظہر قدرت کے عیاں شیش محل

عاشق جلوہ طلب گار کہیں چشم قبول

ناز محبوب کے پردے میں کہیں حسن عمل

 

گل بیرنگی مطلق سے لہکتے گلزار

بے نیازی کے ریاحیں سے مہکتے جنگل

باغ تنزیہ میں سرسبز نہال تشبیہ

انبیا جس کی ہیں شاخیں عرفا ہیں کوپل

 

گل خوش رنگ رسول مدنی عربی

زیب دامان ابد طرۂ دستار ازل


نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر

نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل

 

اوج رفعت کا قمر نخل دو عالم کا ثمر

بحر وحدت کا گہر چشمۂ کژت کا کنول


مہر توحید کی ضو اوج شرف کا مہ نو

شمع ایجاد کی لو بزم رسالت کا کنول

 

مرجع روح امیں زیب دہ عرش بریں

حامیٔ دین متیں ناسخ ادیان و ملل

ہفت اقلیم ولایت میں شہ عالی جاہ

چار اطراف ہدایت میں نبی مرسل

 

جی میں آتا ہے لکھوں مطلع برجستہ اگر

وجد میں آ کے قلم ہاتھ سے جائے نہ اچھل


منتخب نسخہ وحدت کا یہ تھا روز ازل

کہ نہ احمد کا ہے ثانی نہ احد کا اول

 

دور خورشید کی بھی حشر میں ہو جائے گی صبح

تا ابد دور محمد کا ہے روز اول

شب اسریٰ میں تجلی سے روئے انور کی

پڑ گئی گردن رفرف میں سنہری ہیکل

 

سجدۂ شکر میں ہے ناصیہ عرش بریں

خاک سے پائے مقدس کی لگا کر صندل

افضلیت پہ تری مشتمل آثار و کتب


اولیت پہ تری متفق ادیان و ملل

 لطف سے تیرے ہوئی شوکت ایماں محکم

قہر سے سلطنت کفر ہوئی مستاصل

جس طرف ہاتھ بڑھیں کفر کے چھٹ جائیں قدم

جس جگہ پاؤں رکھیں سجدہ کریں لات و ہبل



 ہو سکا ہے کہیں محبوب خدا غیر خدا

اک ذرا دیکھ سمجھ کر مری چشم احول

رفع ہونے کا نہ تھا وحدت و کثرت کا خلاف

میم احمد نے کیا آ کے یہ قصہ فیصل


 

نظر آئے مجھے احمد میں اگر دال دوئی

روز محشر ہوں الٰہی میری آنکھیں احول

پھر اسی طرز کی مشتاق ہے مواجی طبع

کہ ہے اس بحر میں اک قافیہ اچھا بادل

 

کیا جھکا کعبے کی جانب کو ہے قبلہ بادل

سجدے کرتا ہے سوئے طیبہ و بطحا بادل

چھوڑ کر بت کدہ ہند و صنم خانۂ برج


آج کعبہ میں بچھائے ہے مصلیٰ بادل

 

سبزۂ چرخ کو اندھیاری لگا کر لایا


شہسوار عربی کے لیے کالا بادل

بحر امکاں میں رسول عربی در یتیم

رحمت خاص خداوند تعالٰی بادل

 

قبلۂ اہل نظر کعبہ ابروئے حضور


موئے سر قبلے کو گھیرے ہوئے کالا بادل

رشک سے شعلۂ رخسار کے روتی ہے برق



برق کے منہ پہ رکھے ہوئے پلا بادل

 دور پہنچی لب جاں بخش نبی کی شہرت

سن ذرا کہتے ہیں کیا حضرت عیسائی بادل

چشم انصاف سے دیکھ آپ کے دندان شریف



در یکتا ہے تیرا گرچہ یگانہ بادل

 تھا بندھا تار فرشتوں کا در اقدس پر

شب معراج میں تھا عرش معلیٰ بادل

آمد و رفت میں تھا ہم قدم برق براق

مرغزار چمن عالم بالا بادل

 ہفت اقلیم میں اس دیں کا بجا ہے ڈنکا

تھا تری عام رسالت کا گرجتا بادل

آستانے کا ترے دہر میں وہ رتبہ ہے

کہ جو نکلا تو جھکائے ہوئے کاندھا بادل

 

تو وہ فیاض ہے در پر ترے سائل کی طرح

فلک پیر کو لایا دیے کاندھا بادل

تیغ میدان شجاعت میں چمکتی بجلی

ہاتھ گلزار سخاوت میں برستا بادل

 

محسنؔ اب کیجیے گلزار مناجات کی سیر

کہ اجابت کا چلا آتا ہے گہیرا بادل

سب سے اعلیٰ تری سرکار ہے سب سے افضل

میرے ایمان مفصل کا یہی ہے مجمل

 

ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی

نہ مرا شعر نہ قطعہ نہ قصیدہ نہ غزل

دین و دنیا میں کسی کا نہ سہارا ہو مجھے

صرف تیرا ہی بھروسہ تری قوت ترا بل

 

ہو مرا ریشہ امید وہ نخل سر سبز

جس کی ہر شاخ میں ہو پھول ہر اک پھول میں پھل

آرزو ہے کہ ترا دھیان رہے تا دم مرگ

شکل تیری نظر آئے مجھے جب آئے اجل

 

روح سے میری کہیں پیار سے یوں عزرائیل

کہ مری جان مدینے کو جو چلتی ہے تو چل

دم مردن یہ اشارہ ہو شفاعت کا تری

فکر فردا تو نہ کر دیکھ لیا جائے گا کل

 

یاد آئینہ رخسار سے حیرت ہو مجھے

گوشۂ‌ قبر نظر آئے مجھے شیش محل

میزباں بن کے نکیرین کہیں گھر ہے ترا

نہ اٹھانا کوئی تکلیف نہ ہونا بیکل

 

رخ انور کا ترے دھیان رہے بعد فنا

میرے ہمراہ چلے راہ عدم میں مشعل

حذف ہوں میرے گناہان ثقیل اور خفیف

آئیں میزاں میں جب افعال صحیح و معتل

 

میری شامت سے ہو آراستہ گیسوئے سیاہ

عارض شاہد محشر ہو اگر حسن عمل

صف محشر میں ترے ساتھ ہو تیرا مداح

ہاتھ میں ہو یہی مستانہ قصیدہ یہ غزل

 

کہیں جبریل اشارے سے کہ ہاں بسم اللہ

سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل


More Posts