پاکستان کا نسل وار افسانہ
The human story from generation to generation refers to the continuity of human life journeys, heritage, and experiences, values, and challenges passed down from one generation to the next. This write up in Urdu "پاکستان کا نسل وار افسانہ" is an attempt to summarize the generational story of Pakistan established in 1947 to reach current happenings; especially the spark ignition of gen zee.
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
پاکستان کا نسل وار افسانہ
یہ دنیا کی زندگی کا مستقل نسخہ ہے کہ ہر قوم کے نوجوان اس کے مستقبل کا سرمایہ، امید اور فخر ہوتے ہیں اور آج کے بچے کل کے بڑے اور فیصلہ ساز ہوتے ہیں؛ اس لیے سمجھ دار قومیں اپنے کل کی ضمانت کے لیے اپنے بچوں کی صحت، تعلیم و تربیت پر توجہ دیتے ہیں؛ اور اس کے لیے کوئی دَقِیقَہ فَروگُزاشْت نہیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سے دنیا تیز رفتار ترقی کے سفر پر نکلی ہے؛ دنیائے فانی میں نسلی تفاوت (جنریشن گیپ) کا جھگڑا کچھ شدت سے ابھرا ہے؛ لیکن اگر ذرا غور سے دیکھیں کہ یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔
عصری دور جدید میں کچھ زیادہ تیز ترقی ہوئی؛ جو ساری کی ساری ٹیکنولوجی کے مرہون منت ہے؛ اور جس کے نتیجے میں انسانی نسلوں کے درمیان فرق جلد از جلد واضع ہونا شروع ہوا؛ اور ایک نسل سے دوسری نسل کا تفاوت کم مدت میں جلد از جلد دکھنے لگا؛ تو ایک جنریشن سے دوسری جنریشن کا ٹائم لائن پیدائش کے سالوں سے بیان کیا جانے لگا؛ اس جنریشن ٹائم لائن کو نسلی ناموں سے ایک نقشہ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:-۔
سنہ 1928 سے پہلے کی نسل کو باضابطہ طور پر کوئی ایک نام نہیں دیا گیا، لیکن سنہ 1900 سے قبل کی نسل "لوسٹ جنریشن" (کھوئی ہوئی نسل - جو پہلی جنگِ عظیم کے وقت جوان تھی اور لڑی) اور "گریٹسٹ جنریشن" (عظیم ترین نسل - 1900 سے 1928 کے درمیان پیدا ہونے والے) شامل ہیں۔
سائلنٹ جنریشن (1928-1945)؛
بےبی بومرز (1946-1964)؛
جنریشن ایکس (1965-1980)؛
جنریشن وائی (میلینئلز) (1981-1996)؛
جنریشن زی (1997-2012)؛
اور اب جنریشن الفا جو 2012 کے بعد پیدا ہونے والے ہیں۔
یہ تسلسل مختلف دہائیوں میں پیدا ہونے والے لوگوں کے گروپس کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ غور کیجیے کہ اس درجہ بندی کو پہلی جنگی عظیم کے بعد شروع کیا گیا ہے؛ یعنی سو سال پرانا رواج ہے یہ؛ اورایک نسل سے دوسری نسل کو پندرہ سال کے فرق سے نیا درجہ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ سب درجہ بندی تو شاید مغربی ممالک سے متعلق درست ہوں؛ مگربرصغیر ہند و پاک و بنگلہ دیش میں اوپر کی درجہ بندی زیادہ معنی خیز نہیں ہوں۔ اور اس کی مثبت وجوہات بھی ہیں۔
نسلی لیبلز - بومرز، جنرل ایکس، ملینئیلز وغیرہ بڑی حد تک مغربی تہذیب ساختہ ہیں اور پاکستان جیسے ممالک کے تناظر میں مناسب معلوم نہیں ہوتیں۔ مغرب میں، بےبی بومرز کے دور نے جنگ کے بعد کے امن اور خوشحالی کی تعبیر کی؛ جس سے عالمی اداروں کی تعمیر، توسیع اور اختراعی کوششیں فعال ہوئیں۔ آج کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا آغاز انہی افراد کی بدولت ممکن ہوا۔
اس مضمون کا مقصد پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں نسل وار درجہ بندی پر گفتگو کرنا ہے؛ چنانچہ اس درجہ بندی کو ذرا مختلف طریقے سے بیان کرنا ضروری ہے۔ ذیل میں ایک تقسیم یوں کی جاسکتی ہے۔
خالق جنریشن (ما قبل آزادی سنہ1947)؛
پہلی آزاد نسل (1947-1971)؛
نیا پاکستان نسل (1971-1988)؛
گمنام نسل (کھوئی ہوئی نسل) (1988-1999)؛
جنریشن زی (باغی جنریشن) (1999-2018)؛
اور اب جنریشن الفا جو 2018 کے بعد پیدا ہونے والے ہیں؛ اور ابھی زیرِ تعلیم ہیں مگر دنیا کی تازہ ترین معلومات سے باخبر ہیں ۔ اور ٹیکنولوجی نے انکا بچپن چھین لیا ہے؛ کیونکہ انکے والدین نے انہیں موبائل فون کا رسیا بنا دیا ہے۔
یہ افسانہ عمر یا سالوں کا نہیں بلکہ ذہنیت کا ہے
پاکستان اب تقریبا" اسی سال کا ہونے والا ہے اور آٹھ دہائیوں میں تاریخ پاکستان محض تجربات کو ملغوبہ ہے؛ جو بنیادی طور پر تمام مغربی ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ کہانی انتہائی مختلف رہا ہے۔ اس ساری تاریخ میں جو عوامل واضع طور پر ابھرتے ہیں وہ سیاسی عدم استحکام؛ کمزور معیشت؛ ترقی معکوس زدہ ادارے؛ رکاوٹ در رکاوٹ معاشرتی ترقی کا سفر اور بار بار کے فوجی مداخلت کے جھٹکے۔ ہماری ساری ہی نسلیں زیادہ تر آگے بڑھ کر قیادت فراہم کرنے کے بجائے جمود کے ماحول کو بڑھاوا دیتی رہی ہیں۔ جو میراث زدہ سوچ اور انجانے خطرے سے بچنے کی جدوجہد میں استقامت کی وضاحت کرتی ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان نے علاقائی زمینی آزادی تو حاصل کرلی تھی؛ مگر بحیثیت انسان غلامی ہماری قوم کی روح اور رگوں میں سرایت کی ہوئی ہے؛ اور ہم نسل در نسل غلام ابن غلام ہیں۔اسکے لیے نسل در نسل درجہ بندی پر ذرا تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔
خالق جنریشن (ما قبل آزادی سنہ1947) پیشرو نسل کی دو مزید درج بندی کرتے ہیں؛ ایک جو سنہ 1930 سے قبل پیدا ہوئے اور دوسرے جو اس کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ پیشرو نسل کئی دھائیوں تک پاکستان کے اقتدار پر حاوی رہی۔ مگر وہ کبھی بھی آزاد نہی تھے؛ کیونکہ انکے فیصلے ایک آزاد روح کی نمائندگی نہی کرتے تھے؛ اور شاید وہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ اور اس کی وجہ دور غلامی کی تاریخ ہے۔ ذرا مختصرا" اس پر نظر ڈال لیتے ہیں۔
سنہ 1857 عیسوی کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل تاجدار کو شکست دے کر دہلی پر حکمرانی حاصل کرلی۔ اور پھر تسلسل سے اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے اقدامات کئے۔ سب سے پہلے اہل ہند کی جنگِ آزادی کو بغاوت قرار دیا اور اس بغاوت کے الزام میں کئی دھائیوں تک ہزاروں افراد کو قتل کیا اور اس طرح برصغیر ہندوستان کے طول و عرض میں حق حکمرانی کےقابل قیادت کو مٹا دیا گیا اور پھر تاجِ برطانیہ کے وفادار افراد کو سرکاری عہدوں پر بٹھایا گیا۔ جب پاکستان بنا تو ہر نوع کی قیادت کا طوق انہی افراد کے وارثوں کے گلے میں ڈالا گیا۔ یہ غلام ابن غلام کا اقتدار تھا جنکو آزاد پاکستان کے حکمران کہا گیا۔
تاجِ برطانیہ نے اہل ہند سور خاض طور پر مسلمانوں پر سیاست اور حقِ حکمرانی کے دروازے بند کردیے تھے؛ لیکن اس کے باوجود انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) 28 دسمبر 1885 کو بمبئی (ممبئی) میں برطانوی سرکاری ملازم ایلن آکٹیوین ہیوم اور دادا بھائی نوروجی اور سریندر ناتھ بنرجی جیسے ہندوستانی قوم پرست رہنماؤں کے ذریعہ قائم کی گئی تھی۔ ابتدائی طور پریہ پارٹی تعلیم یافتہ ہندوستانیوں (جو انگریزی نظام تعلیم سے حاصل کی گئی ہو) شہریوں کو گورننس پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا؛ تاکہ ایک "سیفٹی والو" ہو اور سلطنت کے اندر رہتے ہوئے آئینی ترمیم تجویز کئے جائیں۔ یہ تابع فرمان سیاست کا اعلان تھا اور سیاست فرمانبرداری سے کی گئی۔
ہندوستان میں برطانوی تعلیمی پالیسی انگریزی زبان اور تہذیب کی تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دینے کی کامیاب کوشش تھی؛ جو نسلی طور پر ہندوستانی ہو لیکن ثقافتی طور پر یورپی ہو؛ یعنی مغربی تہزیب کی نقل ہوں؛ جیسے ناریل؛ باہر سے براون اور اندر سے سفید۔ اس پالیسی کا مقصد ایسے پڑھے لکھے ہندوستانیوں کو بھرتی کرنا تھا جو انگریزوں کے وفادار اپنے دفاتر میں بطور کلرک ہوں اور ایسے ہی کلرک بعد از آزادی افسران بن گئے۔ پاکستانی بعد از آزادی بھی انگریزی نظام تعلیم سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے اور مسلسل ایک غلام ذہنیت کی پیداوار جاری ہے۔
آل انڈیا مسلم لیگ (جو بعد میں قائد اعظم کے تحت پاکستان کی خالق جماعت بنی) کا قیام 30 دسمبر 1906 کو ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ کی قیادت میں آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس میں کیا گیا تھا (یہ قابل غور ہے کہ یہ بیٹھک ایجوکیشنل کانفرنس کے تحت ہوئی تھی) تاکہ برطانوی ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ، ان کی پسماندگی کو دور کرنے، ہندو اکثریتی کانگریس کے تسلط کا مقابلہ کرنے اور الگ الگ انتخابی حلقوں کی طرح علیحدہ سیاسی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے پہلے صدر سر آغا خان تھے۔ اس کی تشکیل سنہ 1905 میں بنگال کی تقسیم پرلارڈ منٹو سے ایک مسلم وفد سے ملاقات کے بعد ہوئی؛ جس نے مسلم سیاسی شناخت کو مستحکم کیا اور اپنی برادری کے تحفظات کے لیے برطانوی ولی عہد کے ساتھ وفاداری کی وکالت کی۔ (غور کیجیے کہ یہاں بھی آزادی کا ذکر نہیں ہے؛ بلکہ تاجِ برطانیہ سے وفاداری ہے)۔
ہندوستانیوں کو سب سے پہلے سنہ 1853 کے چارٹر ایکٹ کے ذریعے باوقار انڈین سول سروس (آئی سی ایس) میں داخلے کی اجازت دی گئی، جس نے کھلے مسابقتی امتحانات کا قیام عمل میں لایا؛ اور پہلا امتحان 1855 کو لندن میں منعقد ہوا تھا؛ جس میں پہلے ہندوستانی، ستیندر ناتھ ٹیگور کا 1863 میں انتخاب ہوا تھا۔ ہندوستان میں بھرتی بعد میں شروع ہوئی، 1922 سے ہندوستان میں ہونے والے امتحانات کے ساتھ، مگر خاص طور پر 1939 کے بعد ہندوستانی افراد کی شرکت میں اضافہ ہوا۔
برٹش انڈین سروس میں "مقامیوں" (ہندوستانیوں) کے لیے، انڈین سول سروس (آئی سی ایس) کے تحت محکموں کا ڈھانچہ بنایا گیا تھا، ابتدائی طور پر تاج برطانیہ سے وفاداری کا حلف بردار (زیادہ تر برطانوی) اور اور غیر حلف بردار (ہندوستانی نچلی سطح پر)، بعد میں ایچی سن کمیشن کے ذریعے امپیریل، صوبائی اور ماتحت خدمات میں تقسیم ہو گئے، جن میں اضلاع (کلیکٹر، پولیس، مجسٹریٹ)، پولیس، تکنیکی اور فنی امور شامل ہیں۔ بالاخر حکومت ہند ایکٹ 1919 اور 1935 جیسے اصلاحات کے تحت آل انڈیا اور مرکزی خدمات میں توسیع کرتے ہوئے اعلیٰ انتظامیہ میں زیادہ ہندوستانی شہریوں کی شمولیت کی گئی؛ اگرچہ بڑی حد تک برطانوی ولی عہد کے زیر کنٹرول تھے۔
آزادی کے بعد یہی انتظام جاری ساری رہا اور یہ سارے محکمے اور انکے ملازمین ایک خاص ذہنی رویے کا حامل تھے اور قیام پاکستان کے بعد بھی وہ ذہنی رویے تبدیل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ اگر پاکستان ایک آزاد ریاست تھی تو اس کے حکمران اشرافیہ نے مملکت کے امور کو آزاد بنانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کینونکہ وہ زیادہ تر ذہنی غلاموں کی پود تھی؛ جو کبھی مرجھائی نہیں اور خوب پھل پھول رہی ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ریاستِ پاکستان حضرت قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے سبب معرض وجود میں آیا۔ جو ایک طوفانی جدوجہد کے آخر میں حقِ انتخاب کے باعث ممکن ہوا۔ انگریز حکومت نے اعلان کیا کہ سنہ 1946 میں الیکش ہونگےاور اگر الیکشن کے نتاج نے مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نماندہ جماعت ثابت کیا تو قائد اعظم محمد علی جناح کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے پاکستان بنا دیا جائے گا۔ مسلم لیگ بھاری اکثریت سے یہ الیکشن جیت گئی اور یوں پاکستان قام کیا گیا۔
اس1946 کے الیکشن میں ووٹنگ جائیداد کی ملکیت کی اہلیت پر ہوئی تھی۔ عالمی حق رائے دہی کے مقابلے میں حق رائے دہی کافی محدود رکھی گئی تھی؛ چنانچہ صرف دس فیصد سے بھی کم آبادی ووٹ دے سکتی تھی۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد اس الیکشن کے کامیاب لوگ آئین و قانوں ساز اسمبلی رکن قرار پائے اور آئین بننے میں نو سال لگے۔ کمال یہ کیا گیا کہ وہ آئین بھی تاج برطانیہ کے انڈین ایکٹ کا چربہ تھا۔ ایک آزاد ریاست کی روح کو آئینی غلامی کا طوق پہنایا گیا جس نے مسلسل غلام ذہنیت کو سرکاری سطح پر پروان چڑھایا۔
قصہ رنج و الم
حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح کی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ نے ہندوستان کے مسلماںوں کی آزادی کے لیے دو قومی نظریہ (ٹو نیشن تھیوری) کو اپنا مرکزی سیاسی نظریہ بنایا تھا۔ دو قومی نظریہ یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں، جن کی تہذیب، ثقافت، تاریخ، اور مذہبی اقدار ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور یہ صرف مذہب کی بنیاد پر الگ شناخت نہیں بلکہ ایک مکمل قومیت ہے، جس کی وجہ سے برصغیر میں دو الگ ریاستوں کی ضرورت تھی اور اسی نظریے کی بنیاد پر پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ مگر بابائے قوم کی وفات کے بعد قائد ملت لیاقت علی خان کو قتل کردیا گیا کہ اس کے بعد کسی کو اس نظریہ پر کام کرنے کی جرات نہیں رہی؛ چنانچہ وطن عزیز ایک تجربہ گاہ بنادیا گیا؛ جو اب تک جاری ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد سے ریاست کے تینوں ستونوں کو آئینی اور قانونی طور پر غلامی کا طوق پہنایا گیا تھا؛ چنانچہ پھر معاملات قانون سازی کے تھے یا قانون کی انتظامی عملداری کے یا نظامِ انصاف کےعدالتی فیصلوں کے؛ سب غلام ذہنیت کے تحت ہی کئے گئے۔ ظلم یہ ہوا کہ قوم کی ایک کثیر تعداد علم سے بے بہرا تھی اور مستقبل کے خواب حکمران اشرافیہ سے الگ دیکھتی تھی۔ لیکن آئین اور قانون کے تحت قائم سارے ادارے جن کا مقصد تو شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا تھا؛ انہوں نے خود کو براوں صاحب اور بابو شاہی بنالیا اور قوم کو عوام کا طوق غلامی پہنا دیا گیا۔ مملکتِ خداداد پاکستان کے شہری خاص و عام کی تفریق میں چن دیے گئے؛ اور قوم کے وسائل محدود تھے سو خاص تک ہی فائدہ پہنچاسکے۔
اب چلتے ہیں نفسِ مضمون کی جانب؛ قیام کے وقت پاکستان کی آبادی کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ شہری آبادی؛ جو پوری آبادی ساڑھے تین کروڑ کا محض دس فیصد تھا؛ یعنی صرف تیس پینتیس لاکھ لوگ۔ اور باقی سارے دیہاتی لوگ تھے۔ اس آبادی کا محض پندرہ فیصد تعلیم یافتہ تھا؛ جس کی اکثریت شہری تھی۔ لیکن شہر تھے ہی کتنے؟ اس وقت شہر صرف چند تھے؛ یعنی لاھور؛ ملتان؛ سیالکوٹ؛ پشاور؛ کوئٹہ؛ کراچی اور حیدرآباد۔ اس آبادی کی ہیت میں قیام پاکستان کے بعد ہونے والی ہجرت سے کافی تبدیلی ہوئی۔ یہ تقریبا" 65-70 لاکھ افراد کا معاملہ تھا۔ کراچی جو دارالحکومت بنا تھا ہجرت کی وجہ سے سب سے زیادہ بڑا شہر بن گیا۔ اور واحد بندرگاہ اور بڑے تجارتی اور صنعتی شہر ہونے کی وجہ سے آج تک ملک کا سب سے بڑی آبادی والا شہر ہے۔
پاکستان کی نسل در نسل کہانی میں ایک اہم کردار سنہ 1946 عیسوی کا الیکشن ہے۔ مسلم لیگ نے اس الیکشن میں دو قومی نظریہ کو محرک بنایا تھا؛ جس کی مقبولِ عام تشریح ان نعروں سے کی گئی؛ "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ"؛ "بٹ کے رہے گا ہندوستان؛ بن کے رہے گا پاکستان"؛ پاکستان کا مطلب کیا؛ لا الہ الا اللہ"۔ ان نعروں نے ایک نظریاتی الیکشن کی طرح ڈالی تھی اور پاکستان کی خالق نسل اسی نظریہ سے متاثر تھی اور پنجاب کی تقسیم اور فسادات نے اس نظریہ کو مستحکم کردیا تھا۔ مہاجر آبادی میں تعلیم کا معیار بلند تھا اور ہجرت کے فسادات نے انکو کافی متحرک بھی بنا دیا تھا۔ لیکن یہ نظریہ پاکستان سے جڑے ہونے کے باوجود حکومتی اشرافیہ کا حصہ نہیں بن سکے۔ جس کی وجہ سے ایک طبقاتی کشمکش نے جنم لیا۔ اس کشمکش نے عجب رنگ دکھایا کہ شہری دنیاوی چاہتوں کی طلب میں گاڑی، بنگلہ اور بینک پیلنس کی دوڑ میں شامل ہوگئے۔ یہ استعاراتی"چوہوں کی دوڑ" کی طرح ایک مسلسل، مسابقتی، اور اکثر تناؤ بھرا چکر ہے؛ جو کہ ادھورے خواب ہی جنم دیتے ہیں؛ جو صرف بقا اور مادی املاک کے لیے پیسہ کمانے کی دوڑ رہی؛ جو ہمیشہ حقیقی تکمیل یا آزادی حاصل کیے بغیر ہی رہتی ہے۔
پاکستان کی خالق نسل کے حکمران اشرافیہ کے دونوں حصوں نے بالآخر اپنی عافیت مغربی دنیا میں ڈھونڈی؛ اور وہیں اپنے مستقر بنایا؛ ریاست پاکستان انکی چراہگاہ تھا؛ جہاں سے دولت لوٹنا اور سمیٹ کر لیجانا آسان تھا۔ لیکن آبادی کا جو بڑا حصہ سنہ 1930 سے قبل پیدا ہوا تھا اور پاکستان چھوڑ کر جا نہ سکا؛ " بقا کے لیے کچھ بھی" کا سبق پڑھ لیا اور کرپشن ناسور کی طرح عام کردی۔ اس نسل نے بنگلہ گاڑی اور بینک بیلنس بنا لیا اور اپنے بچوں کو بھی اسی راہ پہ لگایا؛ جو 1930 کے بعد پیدا ہوئے۔ پاکستان کے قیام سے لیکر پہلے پچاس سال تک یہی خالق نسل حکمران رہے۔ ملک تقسیم ہوا اور ہر گذرتے دن کے ساتھ وطن کمزور اور غریب ہوتا گیا؛ لیکن خالق نسل کا ملک اور بیرونِ ملک جائداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستانیوں کا بیرون ملک اربوں ڈالر کا خزانہ ہے اور وطن عزیز اربوں ڈالر کا مقروض۔ یہ خالق نسل اب اپنی قبروں میں ہے اور اپنے اخلاف سے گالیاں کھا رہی ہے۔ جس زمین پر اسلاف کو سرعام دشنام اور لعنت کا سامنا ہو؛ اس زمین کے نیچے اسلاف اپنی قبروں میں کیسے سکون سے ہونگے؟
قصہ ابھی ختم نہیں ہوا
اب قصہ ہے پاکستان کی پہلی آزاد نسل (1947-1971) کا جو 14 اگست سنہ 1947 عیسوی کے بعد پید ہوئی اور ملک کے ٹکڑے ہونے یعنی دسمبر 1971 تک پروان چڑھے۔ اس نسل کی کہانی "کبھی خوشی کبھی غم" کی کہانی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جسے ہوش سنبھالنے پر بتایا گیا کہ تم خوش نصیب ہو کہ آزاد وطن میں پیدا ہوئے۔ اس نسل کو مطالعہ پاکستان میں تحریک پاکستان کی کہانی پڑھائی گئی۔ اسے دو قومی نظریہ سمجھایا گیا؛ کیونکہ خالق پاکستان نسل کو تو براہِ راست حضرت قائد اعظم سے سیکھنے کا موقع ملا تھا۔ انہیں بتایا جاتا تھا کہ ملک قانونی جمھوری جدوجہد کے ذریعے آزاد ہوا تھا؛ مگر انہوں نے خود کو مارشل لاء کے تحت پایا۔ اور ملک میں نظریہ ضرورت کا راج تھا۔ انکو سکھایا گیا کہ "خاموش رہو، برداشت کرو اور سکھ پاو"۔ ایک شعوری منافقت انکے رگوں میں اتار گیا۔ ہونٹوں پہ آنسو اور آنکھوں میں آنسو اس نسل کا طرہ امتیاز رہا۔
پہلی آزاد نسل (1947-1971) نے ختم نبوت کی تحریک میں حصہ لیا؛ "ایوب کتا ہائے ہائے" کا نعرہ لگایا، صنعتی خوشحالی اور ذرعی انقلاب دیکھا اور تاریخی جی ڈی پی کی چھ فیصد ایورج ترقی کے باوجود ملک کے مشرقی بازو کو افلاس اور ننگ کی وجہ سے کٹتا دیکھا۔ اسی نسل نے جنرل ایوب کے منہ بولے بیٹے زلفی بھٹو کا سوشلسٹ اسلام دیکھا اور حد سے بڑھی خود نمائی کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی چڑھتے بھی دیکھا۔ پھر مرد مومن مرد حق؛ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء بھگتا۔ اسی نسل نے "ایشیاء سرخ ہے؛ ایشاء سبز ہے" کا نعرہ لگایا۔ اور پھر وہ سب مضبوط دیواریں زمین بوس ہوتی دیکھِیں جب جنرل ضیا کا طیارہ "ہوا میں پھٹ" گیا اور دیوار برلن گرادی گی۔
پاکستان کی پہلی آزاد نسل (1947-1971) کی زندگی میں کئی آسانیاں بھی تھیں؛ ان میں سے ایک تعلیم کی واجبی حصول کے بعد بھی نوکری مل جاتی تھی؛ خواہ سرکاری ہو یا پرائویٹ؛ لیکن ملتی تعلق داری یا سفارش سے تھی۔ ڈگری ہولڈر اور اعلی تعلیم یافتہ کو مناسب نوکری نا ملتی تھی تو باپر چلا جاتا تھا اور کچھ نہ کچھ سلسلہ روزگار پالتا تھا۔ اس نسل نے ایک اور کمال حاصل کیا کہ اپنے اسلاف کا براون صاحب کا طعنہ اتار پھینکا اور صاحب بہادر کا چولا پہن لیا۔ اس نے پینٹ کوٹ کی جگہ شلوار قمیض پر ویسٹ کوٹ پہن لیا اور خود کو بدل لیا؛ اب یہ ناریل کی طرح باہر سے براون اور اندر سے سفید نہیں رہا؛ بلکہ باہر سے سفید بھیڑ یا میمنا بن گیا مگر اندر سے کالا کتا ہو گیا۔ ہڈی ملی ہوتو دم ہلاتا ہے اور نہیں تو غراتا ہے اور کاٹ بھی لیتا ہے۔
پاکستان کی پہلی آزاد نسل (1947-1971) نے ہاکی کا ورلڈ کپ اور اولمپک گولڈ میڈل جیتا؛ کرکٹ کا ورلڈ کپ بھی جیتا؛ اور میچ فکسنگ یا جوئے کی لعنت میں بھی نام کمایا۔سکواش کی کھیل میں جہانگیر خان اور جانشیر خان بھی اسی نسل کا حصہ ہیں؛ جنہوں نے پوری ایک دھائی سکواش کا اعزاز پاکستان کے نام قائم رکھا۔ اسی نسل نے ڈاکٹر قدیر خان کی سنگت میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور میزائل ٹیکنولوجی میں بھی مہارت دلوائی۔ لیکن اسی نسل نے "چاروں صوبوں کی زنجیر؛ مشرق کی بیٹی؛ بے نظیر بھٹو" کا ہاتھ بٹایا اور صلاحیتوں کے بٹوارے کے لیے "پلیسمنٹ بیورو" کے ذریعے سفارش کے ساتھ رشوت کا چلن عام کیا؛ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ سفارش کے ساتھ رشوت کا آغاز "مردِ مومن مرد حق" کے دور سے شروع ہوا تھا۔
پاکستان کی پہلی آزاد نسل (1947-1971) آج ریاست کے سیاہ و سفید کی مالک ہے اور ریاست کے سارے مقامات اور عہدوں پر انہی کا قبضہ ہے۔ اور تاریخ شاید وقت موجود پر رائے قام کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اس نسل کے انجام کے بارے میں تاریخ کیا رائے قائم کرتی ہے؛ یہ تو آنے والے وقت بتائے گا۔ لیکن یہ بات قطعیت سے کہی جاسکتی ہے کہ اخلاف اپنے اسلاف کے بتائے اور راسخ کئے ہوئے راستوں پر ہی چلتے ہیں؛ اور پاکستان کی پہلی آزاد نسل (1947-1971) پچاس سال سے زیادہ تجربہ کار ہوگئی ہے؛ اور ان کے بعد آنے والی "نیا پاکستان نسل" (1971-1988) کا چلن آج ہی سے دکھ رہا ہے۔ اس "نیا پاکستان نسل" کے نس نس میں شروع ہی سے منافقت کا زہر اتارا گیا ہے اور یہ دو سے زیادہ چہرے والے لگتے ہیں۔ ان سے اپنے اسلاف کے لیے خیر کا کلمہ مشکل ہی لگتا ہے۔ لیکن کچھ بھی ہو یہ قصہ اب ختم ہونے والا ہے؛ کہ یہی فانی دنیا کا اصول فطرت ہے۔
پارٹی ابھی شروع ہوئی ہے
پاکستان کی "نیا پاکستان نسل" (1971-1988) پاکستان کے خالق نسل کی دوسری سیڑھی کا حصہ زلفی بھٹو کے "نیا پاکستان" کی نشانی ہیں۔ زلفی بھٹو کی کہانی، پاکستان کی نسل در نسل تاریخ، ایک ذہنیت کی کہانی ہے، کو واضع کردیتی ہے۔ "ادھر ہم، ادھر تم"؛ کی واردات والے زلفی بھٹو جب دولخت پاکستان کے اقتدار پر فائز ہوئے تو قوم کو خوشخبری سنائی کہ ٹوٹا ہوا پاکستان جناح کا پاکستان تھا؛ اب یہ "نیا پاکستان" ہے؛ جسے وہ ترقی کے آسمان پر پہنچا دیں گے۔ اس ترقی کے لیے انہوں نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا۔ انہوں نےاعلان کیا تھا کہ خدا مسجد میں ہے اور مندر میں بھی؛ اور بندے کے دل میں بھی؛ سو اسے کاروبار اور عنانِ حکومت میں کیوں شامل کیا جائے۔ انہوں نے قوم کو بتایا تھا کہ ترقی کے سفر کی وہ بنیاد ڈال دی کہ آسمان تک اس کی بلندی جائے گی؛ اور ابھی بنیادیں ہی بن رہی تھیں کہ موصوف اپنے چنیدہ معصوم جنرل ضیا الحق کے ہاتھوں تختہ دار پرلٹکا دیے گئے۔ زلفی بھٹو نے اس دو قومی نظریہ کو دفن کیا تھا؛ جسے بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے خلیجِ بنگال میں ڈبو دیا تھا۔
ہم پڑھتے سنتے رہے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؛ چنانچہ دو قومی نظریہ پھر زندہ ہوگیا اور "مردِ مومن، مردِ حق" نے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کے لیےنظام مصطفے کے نفاذ کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے افغان جہاد کیا اور نماز و صلوۃ کو لازم کرکے حدود آرڈیننس کو لازم کیا۔ اب ذرا غور کیجیے کہ "نیا پاکستان نسل" کو عجب مخمصے کا سامنا تھا؛ یہ اسلامی سوشلزم سے ابھرے تھے اور نفاذ نظامِ مصطفے میں پھنس گئے تھے۔ اس نسل نے شروع ہی سے بقا کے فلسفے کے تحت خود کے بچاو کے لیے مضبوط ذرہ اور خود پہن لیا تھا؛ اور اپنے چہرے پر کئی چہرے چڑھا لیے۔ جہاں جیسے چہرے کی ضرورت ہوتی، پیش کردیتے ہیں؛ دین پرست، لبرل، آزاد خیال، بنیاد پرست ایماندار، ورکاہولک، چالو / مہا حرامی، یعنی یہ نسل ہر طرح کا لباس پہن لیتی ہے۔ یہ نسل آج اقتدار اور ریاست کی راہداریوں میں ماتحت کے درجے میں ہیں اور بڑی طمانت سے پاکستان کی پہلی آزاد نسل کی ہمنوائی میں بڑھ رہے ہیں۔ ریاست پاکستان میں انکا حقیقی رنگ اگلی دھائی میں معلوم پڑے گا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انکے لیے پارٹی ابھی شروع ہونے والے ہے؛ ہاں اگر ایکسٹینشن اور توسیع کا سلسلہ دراز اور طویل نہ ہوتا رہا تو۔ اس نسل کے کچھ چہرے اب پارٹی شروع کرچکے ہیں لیکن انکی محفل اپنے شباب پر نہیں پہنچی ہے۔ یہ محفل کس بام پر چڑھتی ہے اور کیا رنگ دکھاتی ہے؛ کچھ انتظار کرنا پڑے گا؟۔
ہم کہ ٹہرے اجنبی؛ گمشدہ راستوں کے مسافر
پاکستان کی چوتھی نسل کو گمنام نسل (کھوئی ہوئی نسل) (1988-1999) کہا جاسکتا ہے۔ اس نسل نے صدرِ پاکستان کے طیارہ پھٹنے کے بعد دنیا میں قدم رکھا؛ اور پاکستان میں "جمہوریت کی کھوئی ہوئی دہائی" میں ہوش سنبھالا۔ یہ ایک ایسا دور ہے جس کی نشاندہی شدید سیاسی عدم استحکام، کمزور طرز حکمرانی، اور 1988 کے بعد سویلین حکمرانی کی واپسی کے باوجود فوج کے مسلسل اثر و رسوخ سے ہوتی ہے۔ یہ دیوار برلن کے گرنے اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بڑے ہوئے اور 9/11 کے دلدوز سانحے کے بعد نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے ہیں۔ یہ چوتھی نسل اب آج جوانی کے دور سے گزر کر شعور و خرد کی دہلیز پر براجمان ہونے والے ہیں۔ لیکن دنیا بھر میں نوجوانی اور جوانی کی عمروں سے منسوب جو کامیابیاں منسلک کی جاتی ہیں ؛ یہ پاکستانی چوتھی نسل اسے حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان نے پہلا اور آخری کرکٹ ورلڈ کپ 1992 میں جیتا تھا؛ جس کے سارے کھلاڑی آزادی کے بعد کی پہلی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ہاکی جو پاکستان کا قومی کل بھی ہے اور جس میں متعدد اولمپک گولڈ میڈل جیتے گئے؛ مگر اس میں آخری اولمپک تمغہ 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں جیتا ہوا کانسی کا تمغہ تھا اور آخری گولڈ تمغہ لاس اینجلس1984 کا اولمپک تھا؛ جو سب پہلی آزاد نسل کا کارنامہ تھا۔ اسکواش کا کھیل کا آخری گولڈ جانشیر خان کا 1996 میں تھا اور آخری ٹیم گولڈ میڈل 1992 میں جیتا گیا تھا۔ اس نسل کا واحد کارنامہ ارشد ندیم ہے جس نے 2024 کے پیرس اولمپک میں جیولین تھرو میں پاکستان کا آج تک کا واحد تمغہ جیتا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی چوتھی نسل دنیا میں ایک اجنبی جنس ہے اور شاید کسی گمشدہ راستے کی مسافر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقت میں یہ نسل کیا کارہائے نمایاں انجام دے پاتے ہیں؛ لیکن کھیلوں کی دنیا میں انکا سمے ختم ہوگیا ہے؛ مگر دوسرے مقامات جوانمردی بہت ہیں اور انکے منتظر ہیں۔
ہنگامہ ہے کیوں برپا؛ تھرتھلی کیوں مچی ہے؟
پاکستان کی پانچویں نسل جنریشن زی (1999-2018) کو باغی نسل قرار دیا جارہا ہے۔ اس جنریشن کے ایک نمائندے زورین نظامانی کے ایک اخبار میں چھپے مضمون " اٹس اوور/ یہ ختم ہو گیا ہے" نے ایک راگ چھیڑ دیا ہے؛ کیونکہ اس تحریر نے اس نوجوان نسل کی ذہنیت کو آشکارہ کیا ہے؛ اور اس بدلی ذہنیت نے بڑی نسلوں کی صفوں میں ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ یہ تحریر اس نسل کا غصہ ہے جسے بغاوت سمجھا گیا ہے؛ مگر جو زیادہ گہری چیز واضع ہوئی ہے اور تھرتھلی مچی ہے؛ وہ اسلاف کی پکڑی ہوئی ذہنی غلامی سے آزادی کا اظہار ہے۔ یہ جنرل زیڈ بمقابلہ بومرز کی دلیل نہیں ہے۔ یہ غلامانہ سوچ، حکمرانی کرنے کا طریقہ کار اور قوم یا عوام کی سوچ کو کنٹرول کرنے کے فرسودہ طریقوں کا رد ہے؛ جو آج کے زندہ زمینی حقائق کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔
آج کے زندہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کی یہ نسل دنیا بھر کی جنریشن زیڈ یا زی کے مدمقابل ہے اور ہمسر ہے؛ اور خود کو انکے مقابلے کے قابل جانتی ہے اور بلا خوف و کھلم کھلا کررہی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی تندیلی ہے۔ اس نسل کو جاننے کے لیے ہمیں جنریشن زی کے متعلق جاننا ہوگا۔ جنریشن زی تکنیکی روانی، ذہنی صحت، تنوع، اور مقصد سے جڑی اقدار پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اسے مزید اختراعی اور جامع بناتے ہیں۔ ان کو چیلنجز کا سامنا ہے جیسے زیادہ بے چینی، ڈیجیٹل لت، سیل فون پر انحصار، اور معاشی دباؤ اور لچک کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ جنریشن زی ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن، جدت ڈرائیونگ کے ساتھ انتہائی آرام دہ ماحول کی نسل ہے۔ یہ نسل کام اور زندگی میں مقصد، صداقت، جامعیت، تنوع اور ذہنی تندرستی کو ترجیح دیتی ہے۔
زی نسل خود مختار، موافقت پذیر، اور تیزی سے سیکھتے ہیں؛ اکثر آن لائن معلومات کی تلاش کرتے ہیں۔ سماجی انصاف، مساوات، اور نظام بدلنے کے مضبوط حامی ہیں۔ ایک بڑھتی ہوئی تعداد فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار بنانے کے ذریعے اپنی راہیں متعین کر رہی ہے۔ جنریشن زی کی طاقت ان کی ڈیجیٹل روانی اور زیادہ منصفانہ، مستند دنیا کی خواہش سے جڑی ہوئی ہیں، جب کہ ان کے چیلنجز اسی ماحول سے جنم لیتے ہیں جس میں وہ پروان چڑھے ہیں — ایک انتہائی منسلک، معاشی طور پر غیر مستحکم ڈیجیٹل دور انکا منتظر ہے؛ مگر یہ اس سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
دنیا کی جنریشن زی (1997-2012) کے بڑے ہونے سے دنیا کے معاملات بگڑنے لگے ہیں؛ یہ نسل ابھی نوجوان ہے اور دنیا کے معاملات کے نظام میں ابھی کسی طور پر مقتدر عہدوں تک نہیں پہنچی ہے؛ مگر اس کا بغاوت کا عنصر کھلنے لگا ہے۔ اور اس کی وجہ صرف ڈیجیٹل دور کا متحرک ہونا ہے۔ یہ تیزرفتار انٹرنیٹ کا دور ہے اور ہر نوجوان کے ہاتھ میں ایک عدد موبائل / سیل فون ہے۔ جو اسے ساری دنیا سے جوڑ دیتی ہے؛ اور خاص طور پر بلا کسی تفریق اور نفرت کے۔ اور پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم بات اس نسل کا ساتھ ساتھ ہونا ہے۔
دنیا کی جغادروں نے اقوام متحدہ اور مغربی اقوام کے تحت ساری دنیا کو جمھوریت کا سبق پڑھایا؛ اور انسانی حقوق، آزاد ی (ذات، اظہار، ابلاغ)، اور فروغ انسانیت کی افضلیت کا یقین دلایا۔ اور امن اور بہبود کے لیے سارے انسانوں کا مل جل کر کام کرنا اہم بتایا گیا۔ یہ پیغام دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے خوب دھرایا گیا۔ زی نسل کسی خاص ملک یا قوم کی برتری کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ ایک سیل فون پہ موصول تیز رفتار معلوماتِ عامہ نے پچاس سال سے جاری پروپیگنڈا کو بے نقاب کردیا ہے۔
جنریشن زی (دنیا بھر کی طرح پاکستانی بھی) ایک نئے طرزِ زندگی گذارنے والی نسل ہے اور صحیح معنوں میں گلوبل ویلیج کے شہری ہیں؛ جو کسی نوع کی سرحدوں سے مارورا سوچ کے ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ شاید وہ نسل ہیں جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی مناسب عکاسی کرتے ہیں؛ ایک بین الاقوامی انسان کا تصور جو شاید یوٹوپیا سےباہر نہیں آسکا مگر اس جنریشن زی کے خیالات میں بسا ہوا ہے۔ جنریشن زی شاید آج انسان کو انسان کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اس عکس میں کوئی رنگ، زبان یا علاقہ رکاوٹ نہیں بن رہا۔ یہ پیدا ایک ملک میں ہوئے ہیں، بسے کسی اور ملک میں ہیں اور شہریت لے رکھی ہے؛ مگر کام کسی اور ملک میں کررہے ہیں؛ یہ ڈیجیٹل دور کے شہری ہیں اور سیل فون کے ذریعے سانس لیتے ہیں؛ کھاتے ہیں؛ پیتے ہیں اور زندگی کو برتتے ہیں۔ یہ صحیح معنوں میں انسان کی عزت و تکریم کے قائل ہیں اور سیاسی تفریقوں سے پرے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی غیر انسانی حملے کے خلاف جنریشن زی نے دنیا بھر میں یونیورسٹیز میں احتجاج کیا۔ یہ احتجاج جنریشن زی کا انسان کا انسان کے لیے ہمدردی کا اور ظلم کرنے والوں کے لیے نفرت اور غصے کا اظہار تھا۔
اب کوئی سیلیبریٹی، کوئی نقاد، کوئی دانشور کسی واقعے کو ڈھونگ نہیں بنا سکتا۔ اور جن اصولوں کے تحت یہ جنریشن زی (دنیا بھر کی طرح پاکستانی بھی)، تعلیم اور تربیت کے مراحل سے گزری ہے اور جس کسوٹی کا انہیں پابند کیا گیا تھا؛ اس کے تحت وہ سچ کو جان گئے ہیں؛ اور جس کا وہ کھل کر اظہار بھی کررہے ہیں؛ اور یہ بےبی بومرز اور جنریشن ایکس کے لیے شدید جھٹکا ہے اور یہ خیال کہ انہوں (جنریشن بومرز اور ایکسرز) نے ساری زندگی ایک دھوکے میں گذار دی، زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ایک اچھی خاصی طربیہ فلم کا اچانک الم ناک انجام جان لیوا بھی تو ہوتا ہے؛ اور شاید بے بی بومرز اور ایکسرز جنریشن کا جنریشن زی کو باغی قرار دینے کا سبب بھی یہی ہے۔
اختتامی کلمات
زورین نطامانی کا مضمون اوپر بیان کردہ بین الاقوامی سوچ کی عکاسی کرتا ہے؛ لہٰذا، یہ نوجوانی کی بے صبری نہیں بلکہ سڑے ہوے بوسیدہ ساخت سے دوری ہے۔ آج کے نوجوان زیادہ باخبر، زیادہ جڑے ہوئے ہیں؛ اور ایسے بیانیے کو قبول کرنے کے لیے بالکل بھی آمادہ نہیں ہیں؛ جو موقع پرستی کے نعروں اور مفاد پرستی کے لیے اعتبار کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا عدم اطمینان عقل وشعور کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔ اور تاریخی طور پر، اس طرح کا عدم اطمینان اکثر تجدید کا نقطہ آغاز رہا ہے، نہ کہ اس کا دشمن۔ یہ کسی قوم کے لیے مستقبل کے بہترین ضمانت کا استعارا بنتا ہے۔
زندہ معاشرے آگے بڑھتے ہیں؛ اور ہمیشہ بہتری کی جستجو کرتے ہیں؛ اور کوئی جستجو تجسس سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس عمل میں سزا اور رکاوٹ کے بجائے سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انکے سوالوں کا پوری ایمانداری اور خوش دلی سے جواب دیا جائے۔ پاکستان کی پانچویں نسل جنریشن زی (1999-2018) موروثی غلام زدہ مفروضوں اور عزائم کو چیلنج کررہی ہے تو یہ اچھی بات ہے اور قوم کی سب اسلاف نسلوں کو اس کی اجازت دینا چاہیے۔ یہ پاکستان کے روشن مستقبل کی امید اور سرمایہ ہوگا۔ اور شاید اس کے نتیجے میں ہمارے بچے کل دنیا میں سر اٹھا کر فخر سے زندگی بسر کریں گے۔
امجد اسلام امجد کی ایک نظم "علی ذیشان کے لیے"
اب آخر میں ممتاز شاعرجناب امجد اسلام امجد کی ایک نظم پیش کی جاتی ہے؛ جو ہمیشہ سے کسی والد کا اپنے بیٹے کے پیغام ہونا چاہیے۔
"علی ذیشان کے لیے"
مرے بیٹے نے آنکھیں اک نئی دُنیا میں کھولی ہیں
اُسے وہ خواب کیسے دوں
جنہیں تعبیر کرنے میں مری یہ عمر گزری ہے
مری تعظیم کی خاطر وہ ان کو لے تو لے شاید
مگر جو زندگی اُس کو ملی ہے، اُس کے دامن میں
ہمارے عہد کی قدریں تو کیا یادیں بھی کم کم ہیں
انوکھے پھول ہیں اُس کے نرالے اُس کے موسم ہیں
خود اپنی موج کی مستی میں بہنا چاہتا ہے وہ!
نئی دُنیا ، نئے منظر میں رہنا چاہتا ہے وہ
سمجھ میں کچھ نہیں آتا اُسے کیسے بتاؤں میں
زمیں پر آج تک جتنے بھی آدم زاد آئے ہیں
اسی مشکل سے گزرے ہیں
انہی رستوں میں اُلجھے ہیں
اسی منزل سے گزرے ہیں
ازل سے آج تک جتنے محبت کرنے والے ہیں
سبھی کی اک کہانی ہے
نئی لگتی تو ہے لیکن حقیقت میں پُرانی ہے
اُسے کیسے بتاؤں کہ میرے باپ کی باتیں
مجھے بھی ایک ایسے وقت کا احوال لگتی تھیں
جو اک بھولا فسانہ تھا
میں اُس کی جیب کے متروک سکوں کو کہاں رکھتا
کہ یہ میرا زمانہ تھا
نئے بازار تھے میرے ، کرنسی اور تھی میری
وہ بستی اور تھی میری
مگر پھر یہ کُھلا مجھ پر نیا کچھ بھی نہیں شاید
ازل سے ایک منظر ہے فقط آنکھیں بدلتی ہیں
مری نظروں کا دھوکہ تھا کہ یہ چیزیں بدلتی ہیں
اُسے کیسے بتاؤں میں
کہ یہ عرفان کا لمحہ ابھی تک اُس تک نہیں پہنچا
مگر جس وقت پہنچے گا
اُسے بھی اپنے بیٹے کو یہی قصہ سُنانے میں
یہی دُشواریاں ہوں گی
کہ وہ بھی تو کچھ اپنی بات کہنا چاہتا ہو گا
نئی دُنیا نئے منظر میں رہنا چاہتا ہو گا
بس اپنی ذات کی مستی میں بہنا چاہتا ہوگا